جاپان میں بارش وسیلاب کاقہر،141 افراد ہلاک

japan
جاپان کے مغربی علاقہ میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری موسلادھار بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے مرنے والوں کی تعداد141ہوگئی ہے اوربتایاجارہاہے کہ ابھی ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔سرکارکے ذریعہ جاری اعدادوشمارکے مطابق، پولس اورفوجیوں سمیت درجنوں افراداب بھی لاپتہ ہیں۔بچاؤ اہلکارکے لوگ متاثرین خاندانو ں اورلاپتہ لوگوں کوڈھونڈنے کی کوشش میں لگے ہیں۔اس بیچ بارش سے آئے سیلاب کے پانی میں گراوٹ آنی شروع ہوگئی ہے۔ اگرچہ بارش کی شدت میں بھی تھوڑی کمی آئی ہے اور ریلیف اور ریسکیو ٹیم ملبے میں پھنسے ہوئے لوگوں کی تلاش کر رہے ہیں۔
بتایاجارہا ہے کہ جاپان میں 1982 کے بعد سے یہ سب سے بڑا قدرتی واقعہ ہے جس میں 20 ملین سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ اس کی شدت کوودیکھتے ہوئے وزیر اعظم شنزو آبے نے اپنا غیر ملکی دورہ ملتوی کر دیا ہے۔مرکزی کابینہ سکریٹری نے بتایا کہ بارش کی وجہ سے مسٹر آبے نے بیلجیم، فرانس، سعودی عرب اور مصر کا اپنا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے ہو نے والے اقتصادی نقصان کا ابھی کوئی اندازہ نہیں لگایا ہے. سیلاب کی وجہ سے مذکورہ علاقے کے 11,220 مکانوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور سینکڑوں لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا ہے۔بارش کے بعد سیلاب سے صنعتی دنیا بھی کافی متاثر ہوئی ہے اور ہیروشیما میں مزدا موٹر کمپنی نے ہیڈ آفس بند کر دیا ہے۔ اس کمپنی نے گزشتہ ہفتے کئی پلانٹوں میں کام کاج کو روک دیا تھا اور آج بھی دو مزید پلانٹوں کو بند کرنے کی بات کہی جا رہی ہے۔بہرکیف سیلاب اورلینڈسلائڈ میں پھنسے لوگوں کی مددکیلئے 70ہزارسے زیادہ ایمرجنسی ملازمین واہلکاروں کوتعینات کئے گئے ہیں۔سرکارکے ترجمان یوشی ہدے سوگا نے بتایاکہ پولس ، فائربرگیڈ اورفوج کے قریب 73ہزارجواب راحت اوربچاؤ کاموں میں لگے ہیں اوربچاؤ مہم میں 700ہیلی کاپٹروں کی مددبھی لی جارہی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *