جموں و کشمیر ٹوٹا غیر فطری اتحاد

یکم مارچ2015ء کو جب جموں وکشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی نے مشترکہ طور حکومت قائم کی تو وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے دو مختلف نظریات کی حامل پارٹیوں کے اس اتحاد کو ’’سائوتھ پول اور نارتھ پول کا سنگم ‘‘ قرار دیا۔ حالانکہ بعض سنجیدہ فکر مبصرین نے اسی وقت کہا تھا کہ قطبین کو ملانے کی یہ کوشش تباہی مچا دے گی ۔تین سال سے تھوڑا زیادہ وقت گزرا ، بی جے پی نے یک لخت پی ڈی پی کی حمایت واپس لیکر حکومت گرادی ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ آخری لمحے تک وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور ان کی پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کو اس بات کی بھنک تک بھی نہیں لگی کہ اتحادی پارٹی یک لخت ان کا ساتھ چھوڑدے گی۔
18جون کی شام کو ہی بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے جموں وکشمیر کی بی جے پی ٹیم کو میٹنگ کے لئے نئی دہلی طلب کیا تھا ۔ یہ افواہیں پھیلنی شروع ہوگئی تھیں کہ بی جے پی حکومت کی حمایت واپس لے گی لیکن یہ سب کچھ آناً فاناً ہوگا، اس کا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ حد تو یہ ہے کہ بی جے پی نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو رسمی طور پر اپنے فیصلے سے آگاہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی ۔ خود پی ڈی پی کے بیشتر وزراء 19جون کی بعد دوپہرسرینگر کے سول سکریٹریٹ میں واقع اپنے دفتروں میں بیٹھے تھے ، جب راج بھون سے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو فون آیا۔ انہیں بتایا گیا کہ گورنر صاحب انہیں یاد کررہے ہیں۔ در اصل بی جے پی نے تب تک گورنر کو اپنے ارادے سے تحریری طور آگاہ کرلیا تھا۔ حقیقت کا پتہ چلنے پر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے پاس اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا، سو انہوں نے ایسا ہی کیا۔
اپنا استعفیٰ گورنر کو سونپنے کے بعد محبوبہ نے پارٹی لیڈران کی ہنگامی میٹنگ بلائی ۔ اسکے بعد ایک پر ہجوم پریس کانفرنس ہوئی جس میں محبوبہ مفتی نے حکومت ختم ہوجانے کی باضابطہ اطلاع دی ۔ ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑرہی تھیں۔ ان کے لہجے میں پہلے جیسا اعتماد نہیں تھا۔ بے خیالی میں انہوں نے کئی ایسے جملے بھی کہے ، جو اُنہیں حکومت چھننے کے بعد زیب نہیں دیتے تھے ۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ ’’کشمیر میں طاقت کا استعمال نہیں چلے گا۔‘‘ یعنی فوجی قوت کے ذریعے کشمیر یوں کو زیر نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ خود محبوبہ مفتی نے اپنے تین سالہ دور اقتدار میں عوام کو صرف اور صرف طاقت کے ذریعے ہی زیر کرنے کی کو ششیں کیں۔

 

 

 

 

 

 

غیر یقینی صورتحال
بہر حال حکومت ختم ہوگئی ۔ ریاست میں گورنر راج نافذ ہوگیا ۔ اگلے انتخابات کب ہوں گے، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہاں کے حالات اس قدر خراب ہیں کہ پی ڈی پی ۔بی جے پی حکومت دو سال کے عرصے میں اننت ناگ پارلیمانی سیٹ کا ضمنی انتخاب بھی نہیں کراسکی ۔ یہ سیٹ محبوبہ مفتی کے وزیر اعلیٰ بننے کی وجہ سے خالی ہوگئی تھی ۔ویسے بھی جموں وکشمیر میں گورنر راج کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران یہاں 8بار گورنر راج نافذ ہوا ہے۔ 1990ء میں جب یہاںملی ٹینسی شروع ہوئی تو ریاست میں گورنر راج نافذ کردیا گیا ۔ اسکے بعد 6 سال تک مرکزی حکومت جموں وکشمیر میں الیکشن کرانے میں ناکام ثابت ہوئی ۔ممکن ہے کہ اب کی بار بھی ریاست میں کافی وقت تک گورنر راج قائم رہے گا۔
2014 کے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی تھی ۔ اسے 87ممبران پر مشتمل اسمبلی میں 28سیٹیں ملیں۔جبکہ بی جے پی کو 25، نیشنل کانفرنس کو 15اور کانگریس کو 12سیٹیں حاصل ہوئیں، باقی ماندہ نشستیں آزاد اُمید واروں اور دیگر چھوٹی پارٹیوں کے حصے میں آگئیں۔ پی ڈی پی اور بی جے پی نے حکومت بنانے میں کئی ماہ کا وقت لگادیا۔دونوں پارٹیوں نے ’’ایجنڈا فار الائنس‘‘ کے نام سے ایک دستاویز بھی تیار کیا ۔حالانکہ حکومت بننے کے چند ہی دنوں بعد پی ڈی پی کے بانی لیڈر ان میں شامل مظفر حسین بیگ نے کھلے عام یہ اعتراف کیا کہ ’’ ایجنڈا آف الائنس‘‘ نامی اس دستاویز کی حیثیت ’’محض کاغذ کے ایک ٹکڑے جیسی ہے‘‘بعد کے حالات نے ان کا یہ فقرہ درست ثابت کیا۔کیونکہ اس دستاویز میں شامل ایک بھی بات کوعملی جامہ نہیں پہنایا گیا ۔ بی جے پی شروع سے ہی ضد پر اڑی رہی اور پی ڈی پی محض اقتدار پر قابض رہنے کے لئے بی جے پی کی ضد برداشت کرتی رہی ۔ ایجنڈا فار الائنس میں دونوں پارٹیوں نے طے کیا تھا کہ مرکزی سرکار کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے بات چیت کا سلسلہ شروع کرانے پر راضی کیا جائے گا۔ بلکہ یہ بات چیت صرف حریت سے ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ بھی ہوگی۔ایجنڈے میں طے پایا تھا کہ نیشنل ہائیڈرو پاور کارپوریشن ( این ایچ پی سی )کے پاس ریاست کے پاور پروجیکٹس کے مالکانہ حقوق جموں وکشمیر کو دلائے جائیں گے ، قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ وغیر ہ وغیرہ۔
لیکن حکومت بننے کے بعد پہلے ہی ہفتے میں جب وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو طلب کرکے انہیں جیل میں قید حریت لیڈر مسرت عالم کو رہا کرنے کی ہدایات دیں اور آئی جی نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان کی رہائی عمل میں لائی تو بی جے پی نے اس پر ادھم مچادی ۔ مفتی کو اس قدر دبائو میں لایا گیا کہ مسرت عالم کو دوبارہ گرفتار کرنا پڑا۔ کچھ دن بعد وزیر اعلیٰ نے ایک اور حکم صادر کرتے ہوئے تمام وزراء اوربیوروکریٹوں کے نام ہدایات جاری کردیں کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے قومی جھنڈے یعنی ترنگے کے ساتھ ساتھ جموںو کشمیر کے اپنے جھنڈے کو بھی اپنے دفتروں میں اور گاڑیوں پر لگا کر رکھیں۔ لیکن اس پر بھی بی جے پی نے بوال کھڑا کردیا اور مفتی کو محض 24 گھنٹے کے اندر اندر یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔ اسکے بعد بی جے پی نے پی ڈی پی کو عوام کی نظروں میں ذلیل کرنے کا کوئی موقعہ نہیں گنوایا اور پی ڈی پی اقتدار کو بچائے رکھنے کے لئے زہر کے گھونٹ پیتی رہی ۔ تین سال کے دوران نہ حریت سے بات ہوئی ، نہ پاکستان سے، نہ پاور پروجیکٹس واپس ملے اور نہ ہی قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی ۔غرض دونوں پارٹیوں کے درمیان طے شدہ ’’ایجنڈا آف الائنس‘‘کی دھجیاں اڑا ئی گئیں۔

 

 

 

 

 

 

مخلوط سرکار میں انسانی حقوق کی مسلسل پامالیاں
پی ڈی پی ۔ بی جے پی کے تین سالہ دور اقتدار میں وادی میں انسانی حقوق کی بے دریغ خلاف ورزیاں دیکھنے کو ملیں۔خاص طور سے اس صورتحال میں اضافہ جوالائی 2016کے بعد دیکھنے کو ملا ، جب معروف ملی ٹینٹ کمانڈر برہان وانی جنوبی کشمیر کے ایک گائوں میں جھڑپ کے دوران ہلاک کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد وادی میں عوامی ایجی ٹیشن بپا ہوگیا ۔ فورسز نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنوں کا آزادانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں سینکڑوں نوجوان جزوی یا مکمل طور پر ہمیشہ کے لئے آنکھوں کی بینائی کھو بیٹھے ۔ گزشتہ دو سال کے دوران سینکڑوں نوجوان فورسز کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں ۔نیشنل کانفرنس کے دور اقتدار میں جب وادی کے کسی علاقے میں فورسز کے ہاتھوں کوئی شہری مارا جاتا تھا تو حزب اختلا ف کی لیڈر محبوبہ مفتی اس ہلاکت پر واویلا کرتی نظر آتی تھیں لیکن حیران کن طور پر اپنے دوراقتدار میں وہ کئی بار کھلے الفاظ میں ہلاکتوں کو جواز بخشتی نظر آئیں۔ تاہم وزارت اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد انہوں نے پر یس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں ’’طاقت کا استعمال نہیں چلے گا۔‘‘
گزشتہ دو سال کے دوران وادی میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے پی ڈی پی کی مقبولیت کا گراف کافی حد تک گر گیا۔ اگر حکومت اپنی مدت قائم کرلیتی تو شاید پی ڈی پی کو کچھ اچھے کام کرنے اور عوام میں اپنی ساکھ بحال کرنے کا موقعہ مل جاتا لیکن اچانک حکومت چھن جانے کی وجہ سے یہ پارٹی گھر کی رہی نہ گھاٹ کی۔ آج نہ اس سے نئی دہلی خوش ہے اور نہ ہی وادی میں وہ رائے دہند گان ، جنہوں نے ان کی پارٹی کو ووٹ دیا تھا۔
گورنر راج کا نفاذ
ملک کی دوسری ریاستوں کے برعکس جموں وکشمیر میں صدر راج کے بجائے گورنرز رول نافذ ہوجاتا ہے۔ اگر کسی دوسری ریاست میں جمہوری حکومت اچانک ختم ہوجائے اور آئینی بحران پیدا ہوجائے تو وہاں صدر راج نافذ کیا جاتا ہے ۔ لیکن جموں وکشمیر میں ریاست کے اپنے آئین کے سیکشن 92کے تحت گورنر راج نافذ کیا جاتا ہے۔تاہم اسکی منظوری صدر جمہوریہ ہند دیتے ہیں۔ گورنر راج کی مدت چھ ماہ کی ہوتی ہے لیکن اس میں توسیع کی جاسکتی ہے ۔1990میں جموں وکشمیر میں ملی ٹینسی شروع ہوجانے کے ساتھ ہی گورنر راج نافذ ہوا ، جو مسلسل ساڑھے چھ سال سے زائد عرصے تک جاری رہا ۔ریاست میں پہلی بار 1977 میں گورنر راج نافذ ہواتھا۔تب سے اب تک ریاست میں 8 بار گورنر راج نافذ ہوا ہے۔موجودہ گورنر این این ووہرا گزشتہ 10 سال سے جموں وکشمیر میں بحیثیت گورنر اپنی خدمات دے رہے ہیں۔ صرف ان دس سالوں اس بار چوتھی مرتبہ ریاست میں گورنر راج نافذ ہوگیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا نئے انتخابات عنقریب ہو پائیں گے یا نہیں ۔ وادی میں ویسے فی الوقت انتخابات کے لئے ماحول سازگار نہیں ہے ۔ مفتی محمد سعید کی وفات کے بعد جب محبوبہ مفتی نے پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دیکر وزار اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا تو اُس وقت بھی اندازہ تھا کہ حکومت خالی ہونے والی اننت ناگ پالیمانی سیٹ کا ضمنی انتخاب عنقریب کرائے گی لیکن دو سال سے یہ الیکشن التوا میںہے۔ کیونکہ انتخابات کے لئے حالات ساز گار نہیں ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھ کر فی الوقت وثوق سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن جلد ہوں گے۔ممکن ہے کہ ریاست میں گورنر راج ایک دو سال تک جاری رہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *