کیا پی ڈی پی روبہ زوال ہے؟

بی جے پی کی جانب سے مخلوط سرکار کی حمائت واپس لیکر جموں کشمیر کی حکومت کو یک لخت گرانے اور اسکے بعد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے اندر پھوٹنے والی بغاوت کے نتیجے میںپارٹی صدر اور سابق وزیر محبوبہ مفتی ان دنوں بے حد پریشان ہیں۔ مایوسی انکے چہرے سے جھلکتی ہے اور احساس ندامت اُنکی آنکھوں میں صاف دیکھا جاسکتا ہے۔13جولائی کو ’’یوم شہدا‘‘ پر سرینگر کے خواجہ بازار میں مزار شہدا پر حاضری دینے کے بعد انہوں نے وہاں موجود صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ اگر نئی دہلی نے اُن کی پارٹی توڑنے کی کوشش کی تو وادی میں حالات 1987ء کی طرح خراب ہوجائیں گے ، جب سید صلاح الدین اور محمد یٰسین ملک جیسے لوگ پیدا ہوگئے تھے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر میں 1987ء کے اسمبلی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہوئی تھیں۔ یہ مانا جاتا ہے کہ نئی دہلی نے اس وقت کشمیر کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل مشترکہ فورم ’’ مسلم متحدہ محاذ‘‘(مسلم یونائٹیڈ فرنٹ) کو ہرانے کے لئے نیشنل کانفرنس کو کھلے عام دھاندلیاں کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی تھی ۔ عام تاثر یہ ہے کہ اگر یہ انتخابات شفاف طریقے سے منعقد کرنے دیئے گئے ہوتے تو مسلم متحدہ محاذ سیٹوں کی بھاری اکثریت سے جیت سکتا تھا اور نیشنل کانفرنس کوشکست سے دوچار ہونا پڑتا۔کیونکہ اُس وقت عام کشمیریوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مسلم متحدہ محاذ سے جڑ چکی تھی ۔ لیکن انتخابات میں کھلے عام دھاندلیوں کے نتیجے میں نوجوان بددل ہوئے اور انہوں نے بندوق کا راستہ اپنا یا۔ صرف دو سال بعد جموں کشمیر میں مسلح تحریک شروع ہوئی ، جو آج تیس سال گزرنے کے بعد بھی جاری ہے۔انہی انتخابات سے بددل ہوکر یٰسین ملک اور صلاح الدین نے بندوق اٹھائی ۔ یٰسین ملک جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے کمانڈر انچیف بن گئے اور سید صلاح الدین آج بھی حزب المجاہدین کے سربراہ ہیں۔
غالبا ً محبوبہ مفتی نے 1987ء کا تذکرہ کرکے یہ کہنا چاہا کہ اگر دہلی نے پی ڈی پی کو توڑنے کی کوشش کی تو کشمیری عوام کا جمہوریت پر رہا سہا اعتبار اٹھ جائے گا۔ لیکن محبوبہ کی اس بات پر جہاں نئی دہلی میں بی جے پی اور نیوز چینلز نے شدید ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے اسے ایک کھلی دھمکی قرار دیا ، وہیں کشمیر میں اس بیان کا خوب مذاق اڑایا گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر محبوبہ مفتی کے اس بیان پر مذاق اڑایا گیا۔ پی ڈی پی کے باغی ممبران نے بھی اس پر شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ ’’ چوتھی دنیا ‘‘ نے محبوبہ کے اس متنازعہ بیان پارٹی کے ایک سابق لیڈرطارق حمید قرہ ، جو پارٹی کے بانی لیڈروں میں رہے ہیں ، سے پوچھا کہ محبوبہ مفتی کے اس بیان کا مقصد کیا ہوسکتا ہے؟ قرہ نے کہا، ’’محبوبہ مفتی نے اس طرح کا بیان دیکر خود کو مزید بے عزت کردیا ہے۔محبوبہ اور انکی پارٹی کی کی اعتباریت اس حد تک ختم ہوگئی ہے کہ اگر آج وہ کشمیر میں آزادی کی تحریک بھی چلاے گی تو لوگ اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ پی ڈی پی ٹوٹنے پر صلاح الدین اور یٰسین ملک جیسے لوگ پیدا ہونا تو دور کی بات ہے ، لوگ اس پارٹی کے ٹوٹنے پر خوش ہیں کیونکہ اس نے عوامی مینڈیٹ کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ 2014ء میں پی ڈی پی نے یہ کہہ کر لوگوں سے ووٹ لئے کہ وہ بی جے پی کو جموں وکشمیر میں اقتدار سے دور رکھے گی لیکن بعد میں بی جے پی کے ساتھ ہی حکومت بنالی۔‘‘ پارٹی کے باغی ممبران نے محبوبہ مفتی کے اس متنازعہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ یہ سمجھتی ہیں ، کہ پارٹی کو نئی دہلی توڑ رہی ہے۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ ہم پارٹی سے الگ نئی دہلی کے کہنے پر ہورہے ہیں؟ پانچ باغی ممبران نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں محبوبہ مفتی کو اس بیان پر لتاڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس بیان کے ذریعے محبوبہ مفتی نے ہمیں دلی کا ایجنٹ قرار دیا ہے اور یہاں اس الزام کے تحت اب تک بہت لوگ جنگجوئوں کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے اس طرح کا بیان دیکر ہم سب کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔

پی ڈی پی کے اندر بغاوت
19جون کو جموں وکشمیر میں مخلوط حکومت گرنے چند دن بعد ہی پی ڈی پی کے اندر خلفشار شروع ہوا۔اب تک پارٹی کے پانچ اراکین اسمبلی کھل کر پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت کا اعلان کرچکے ہیں ، جبکہ مانا جارہا ہے کہ باغیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔سب سے پہلے علم بغاوت بلند کرنے والوں معروف شیعہ لیڈر اور رکن اسمبلی عمران رضا انصاری تھے ۔ انہوں نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارٹی قیادت کے خلاف اس لئے بغاوت کی ہے کیونکہ اس پارٹی میں خاندانی راج چل رہا ہے۔انہوں نے الزام عاید کیا کہ محبوبہ مفتی نے پارٹی کے اہم عہدے اپنے رشتہ داروں کو سونپ دیئے ہیں جبکہ حکومت میں بھی انہوں نے سارا اختیار محض چند لوگوں کے ہاتھوں میں رکھا ہوا تھا۔ عمران رضا نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں کہا، ’’پارٹی کا سارا کنڑول محض تین چار لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں لے رکھا تھا، جن کی نظر میں اراکین اسمبلی کی کوئی وقعت نہیں تھی۔بہت سارے کام ایسے بھی ہوتے تھے کہ ہمیں ان کی بھنک بھی نہیں لگتی تھی۔ ہمیں بعد میں پتہ چلتا تھا۔ کبھی کبھی بعض باتوں سے ہم شسدر رہ جاتے تھے۔ان ہی لوگوں کی وجہ سے محبوبہ مفتی حکومت کی بھاگ دوڈ بھی ٹھیک طرح سے نہیں سنبھال پائیں۔ مجھے پارٹی کے اندر گھٹن سی محسوس ہوتی تھی ۔ اسلئے ہم نے سوچا کہ محبوبہ مفتی کو ان دو چار لوگوں کے ساتھ رہنے دیتے ہیں اور ہم ہی اپنی راہ الگ سے چن لیں گے۔‘‘ان کا کہنا ہے کہ جب تک مفتی صاحب زندہ تھے ، سب ٹھیک ٹھاک تھا۔وہ سب کے ساتھ مشورہ کرتے تھے۔انہیں پتہ تھا کہ ایک منتخب شخص کی اہمیت کیا ہوتی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ ایک سیاسی اور غیر سیاسی آدمی میں کتنا فرق ہے۔عمران نے مزید کہا، ’’ محبوبہ جی اپنے والد سے یہ بات سیکھنے میں چوک کرگئی ہیں۔محبوبہ جی کو پارٹی کے اندر صرف وہی لوگ پسند تھے ، جو اُن کی خوش آمد کرتے تھے ۔ جو لوگ اُنہیں ( محبوبہ مفتی کو) حقائق بتانے کی کوشش کرتے تھے ، وہ انہیں اگنور کرتی تھیں۔‘‘ عمران رضا کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی کے اندر ہی نہیں بلکہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس میں بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے ، جو اس ریاست کو خاندانی راج سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا ،’’ ہمیں ان دو خاندانوں ( مفتی اور عبداللہ خاندان) سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔ یہ آئیڈیا ہمارے کچھ باشعور لوگوں ، جن میں بعض چنے ہوئے نمائندے بھی شامل ہیں اور اسمبلی کے باہر کچھ سنجیدہ فکر لوگ بھی، کا ہے۔ان دو خاندانوں نے کشمیر یوں کا خوب استحصال کیا ہے۔‘‘

  ضرور پڑھیں

جیو انسٹی ٹیوٹ وجود میں آنے سے پہلے نامور بن گیا

 

 

پی ڈی پی کا وجود خطرے میں
مرحوم مفتی محمد سعید نے 1999میں کانگریس چھوڑ کر ایک علاقائی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انکے ہمراہ انکی بیٹی محبوبہ مفتی کے علاوہ طارق حمید قرہ، مظفر حسین بیگ جیسے لوگ تھے۔ جولائی 1999میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) قائم کی گئی ۔ مفتی واقعی ایک منجھے ہوئے سیاستدان تھے ۔ انہوں نے نئی پارٹی لانچ کرتے ہوئے کشمیریوں کے نبض پر ہاتھ رکھا تھا۔ انہوں نے ’’زخموں پر مرحم‘‘ رکھنے کا نعرہ بلند کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نئی پارٹی کو بہت کم عرصے میں عوامی مقبولیت حاصل ہوئی ۔ سال 2002میں اس پارٹی کے16ممبران اسمبلی میں پہنچ گئے بلکہ مفتی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے ۔ لیکن جس تیزی سے پی ڈی پی کو عروج ملا تھا، آج اسی تیزی سے یہ زوال پذیر ہوتی نظر آرہی ہے۔ طارق حمید قرہ کا کہنا ہے کہ در اصل 2014ء کے الیکشن کے بعد بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے اور پھر حکومت بنانے کے بعد لوگوں کی قتل و غارتگری کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے اور فورسز کی ذیادتیوں کو جواز بخش کر در اصل پی ڈی پی نے خود اپنی قبر کھود دی ہے۔ ان کا ما ننا ہے کہ آج پی ڈی پی کی عوامی مقبولیت کا گراف جس حد تک گر گیا ہے ، اسے ابھرنے کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا ہے۔ انہوں نے’’چوتھی دُنیا ‘‘ کو بتایا،’’محبوبہ مفتی کو میری صلاح ہوگی کہ انہیں اب سیاست چھوڑ دینی چاہیے کیونکہ وہ عوام میں اپنی اعتباریت مکمل طور کھو چکی ہے۔آج نہ عوام اس کے ساتھ ہیں اور نہ ہی ان کی اپنی پارٹی کے لوگ۔‘‘
کیا پی ڈی پی دو لخت ہونے جارہی ہے؟ اس سوال جواب تو شائد آنے والے چند ہفتوں میں ملے گا لیکن سچ تو یہ ہے کہ پی ڈی پی آج اپنی 19سال کی تاریخ میں پہلی بار بدترین حالات سے جھوجھتی نظر آرہی ہے اور اسکی لیڈر یعنی محبوبہ مفتی اس صورتحال کی وجہ سے حواس باختگی کا شکار لگ رہی ہیں۔کیونکہ اقتدار حاصل کرنا تو فی الحال اسکے لئے اب بہت دور کی بات ہے ، محبوبہ کے لئے فی الوقت سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ پارٹی کو کیسے بچا پائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *