ہندوستانی اسٹارٹ -اَپ کی ناکامی کا سبب اینوویشن کا فقدان ہے

ہندوستان کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی اسٹارٹ – اَپ معیشت مانا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے ساتھ ایک لعنت بھی جڑی ہوئی ہے۔ آئی بی ایم انسٹی ٹیوٹ فار بزنس ویلیو اور آکسفورڈ اکانومکس کے ذریعہ جاری 2016 کی ایک رپورٹ میںبتایا گیا ہے کہ 90فیصد ہندوستانی اسٹارٹ -اَپ پانچ سال کے اندر ہی ناکام ہوجاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ناکامیوں کو کم کرنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟ ہندوستان کے ابھرتے ہوئے انٹرپرینئرز اور ان کے اسٹارٹ -اَپ کی کامیابی کا راز کیا ہوسکتا ہے؟ اس کا جواب ہے، اس کے کئی راز ہوسکتے ہیں۔ مختلف ریسرچ کے نتائج اوراپنے خود کے تجربہ کی بنیاد پر میںکامیابی کے کچھ اہم اسرار کو اجاگر کروںگا۔
آئی بی ایم / آکسفورڈ رپورٹ نے اینوویشن کے فقدان کو اسٹارٹ -اَپ کی ناکامی کا اہم سبب بتایا تھا۔ کے ایم پی جی انڈیا اور کنفیدریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) نے 2017 کی رپورٹ میںاینوویشن کے ساتھ ساتھ اسکیلبلٹی اور ڈجٹائزیشن کو مستحکم تجارت کے لیے تین ستون قرار دیا تھا۔ تو سوال یہ ہے کہ کوئی انٹرپرینئر کیسا اینوویشن اپنائے؟ اس سوال کا ایک حیرت انگیز جواب وویک وادھوا نے دیا۔ وادھوا ایک اکادمک، مصنف، انٹرپرینئر اور ایک مشہور امریکی آئی ٹی محقق ہیں۔ انھوںنے 30 اپریل کو واشنگٹن پوسٹ میں شائع اپنے مضمون میںکہا تھا کہ ’’انڈین اسٹارٹ -اَپ ویب سائٹ انک 42 کے ذریعہ منعقد ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ انڈین انٹرپرینئرز کو دی گئی میری صلاح پر سب چونک گئے تھے۔ میںنے ان سے کہا تھا کہ کچھ نیا کرنے کے بجائے انھیںچین ، سلیکون ویلی اور باقی دنیا کے سبھی خیالات کی نقل اور چوری کرنی چاہیے۔ ‘‘
وادھوا آگے کہتے ہیںکہ سلیکون ویلی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا گلوبل لیڈر اور ایک بڑا مرکز اس لیے بنا ہے کہ جب وہاںانجینئرز کمپنی کی ادلا بدلی کرتے تو اس سے علم اشتراک کرنے کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ فیس بک اور ایپل جیسے تکنیکی دگجو ں نے دوسروں کے خیالات ادھار لے کر اپنی کمپنی کو ترقی دی ہے۔ کے پی ایم جی / سی آئی آئی رپورٹ میںاینوویشن پر اس سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیاگیا ہے۔ کے پی ایم جی /سی آئی آئی رپورٹ میںکہا گیا ہے : ’’یہ ضروری نہیںکہ ہر اینوویشن ایک دم سے کامیاب ہوجائے۔ اس میں دھیرے دھیرے ترقی کے ساتھ ساتھ موجودہ آپریٹنگ ماڈل یا پروڈکٹس یا سروسز میںچھوٹے چھوٹے لیکن ضروری بدلاؤ کیے جاسکتے ہیں۔ ‘‘

 

 

 

میںاس میںتھوڑی توسیع کرتے ہوئے یہ کہوںگا کہ انٹر پرینئرشپ میں اینو ویشن کے لیے سدھار کے ساتھ ممکنہ نکات پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ اسے میں -7پی کہوںگاجو اس طرح ہیں؛ پروڈکٹ ، پرائسنگ، پلیس، پروموشن، پیپل ، پروسیس اور فزیکل ایویڈینس۔
اس کے علاوہ ایک انٹرپرینئر کے طور پر میرے اپنے تجربے ہیں۔ میںنے 1994 میںایک انفارمیشن ٹیکنالوجی فرم، کیو ایس ایس گروپ، 45,000 ڈالر میںخریدی تھی۔ اس وقت اس کمپنی کے اسٹاف کی شکل میںصرف میںہی تھا۔ لیکن جب 2007 میںمیںنے پیروٹ سسٹم کو اس سے بیچا تو اس وقت کیو ایس ایس گروپ کی سیل 300 ملین ڈالر سے زیادہ تھی اور اس میں3000 ملازم کام کر تے تھے۔ ایک انٹرپرینئر کی بنیاد پر میںمندرجہ ذیل صلاح دیتا ہوں جو میں نے فروری 2017 میںامریکن بازار اِن ممبئی کی سرپرستی میںمنعقد یو ایس انڈیا اسٹارٹ -اَپ فورم میںشرکاء کو کرتے ہوئے دی تھی:
-1اپنے آپ اور اپنے بزنس میںیقین رکھیں اور کام کی طاقت، مضبوط عزم اور کامیاب ہونے کے جنون کے ساتھ آخری ہدف کا تعاقب کریں۔
-2اپنا سب سے اہم بازار تلاش کریں اور اس پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ شروعات میںہی یہ پتہ لگا لیںکہ آپ کا ٹارگیٹ کسٹمر کون سا ہوگا اور اس سیگمنٹ میں اہم کسٹمرز(صارفین) کون ہوںگے اور اسی بنیاد پر اپنا بزنس ماڈل تیار کریں۔
-3معیاری مصنوعات اور خدمات فراہم کریں جو صارفین کی توقعات سے بھی زیادہ ہو۔ صارفین کو صرف مطمئن کرنا کافی نہیںہوگا ۔ وفادار کسٹمر بنانے کے لیے انھیںغیر متوقع خدمات فراہم کرنی پڑیںگی۔ یہ بات پڑوس کی کراناکی دکان اور ایپل و گوگل پر بھی نافذ ہوتی ہے۔
-4 باصلاحیت لوگوںکی ٹیم بنائیں، انھیںاچھی تنخواہ دیں، ان کی باتیںسنیں، ان سے سیکھیں اور ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔ یاد رہے کہ بزنس ایک اجتماعی کام ہے نہ کہ انفرادی۔
-5 ناکامی کا ڈر دل سے نکال دیں۔ ہندوستان ایک ایسا بازار ہے جہاں سرمایہ کار کی ناکامی کم برداشت کی جاتی ہے لیکن ڈر کمزور کردیتا ہے۔ اپنے منصوبے اور اپنے آپ میںاپنا اعتماد رکھیں اور آگے بڑھیں۔
حکمت عملی بزنس کے مزاج کے حساب سے بدلتی رہتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اینوویشن کے ساتھ ساتھ مذکورہ پانچ مشوروں پر عمل ایسا ماحول تیار کرسکتا ہے جس کا استعمال کوئی بھی انٹرپرینئر ایک کامیاب اسٹارٹ -اَپ بزنس کا اسٹرکچر بنانے میںکر سکتا ہے۔ کامیابی کے لیے ایک فارمولہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مستقبل بتا سکتا ہے۔ اس لیے میںاپنی بات درج ذیل بات پر ختم کروں گا۔ اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے کانووکیشن کو مخاطب کرتے ہوئے اسٹیون جابس نے گریجویٹ لوگوں کو صلاح دی:’’آپ کا وقت محدوس ہے، اس لیے اسے کسی اور کی زندگی جینے میں برباد نہ کریں۔‘‘
ابھرتے انٹرپرینئرز اور اسٹارٹ -اَپ کے مالکوں کے لیے میںجابس کی صلاح میں اس طرح ترمیم کروں گا: ’’آپ کا وقت محدود ہے تو کسی کے بزنس کی تقلید کرنے کی کوشش میںبرباد نہ کریں۔ کوئی نقال یا کلون مت بنئے۔ اپنے اندر کے انٹرپرینئر کو تلاش کیجئے۔ اپنا راستہ خود بنائیے۔ اپنے انٹرپرائز کے لیے ایک مشن، ایک ویژن اور قدروں کی یک تالیف تیار کیجئے۔ دوسر ے الفاظ میں، اپنے سفر کاحصہ بنالیں ۔ ایسا کرکے آپ کامیابی سے ان اسرار کو واضح پائیں گے اسے جو کہ آپ کے چھوٹے بزنس کو کل کے بڑے بزنس میں بدل دیںگے۔‘‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *