ہندوستان اپنا ہے اور اس کا سب کچھ بہت خوبصورت ہے

گزشتہ دنوں جب پورا یوروپ فٹبال ورلڈ کپ کے بخار میںتھا ،اس دوران میںلندن میں تھا۔ لندن کی ہرگلی، آکسفورڈ اسٹریٹ، ریجنٹ اسٹریٹ، پکیڈلی، آرچر روڈ، پیڈنگٹن، ساؤتھ ہال، ایلنگ،براڈوے، ہر جگہ ، جہاںبھی اچھے ریستوراں ہیں یا پب ہیں، سب میںبڑے بڑے ٹی وی سیٹ لگے ہوئے تھے۔ کچھ جگہوںپر ویڈیو وال بھی لگا تھا۔ وہاںپر میچ دیکھنے کے لیے لوگ کھچا کھچ بھرے ہوتے تھے۔ جیسے ہی کوئی ٹیم گول داغتی، لوگ شور مچانے لگتے۔ ناظرین اچھے کھیل کو دیکھ کر آپس میںہی بٹ جاتے تھے۔ اپنی ٹیم چن لیتے تھے اور اس کی حمایت میںشور مچانے لگتے۔ لندن کے اس سفر میںمیںنے فٹبال کے بخار کو بخوبی محسوس کیا۔ ایک مقابلے میں، جس میںانگلینڈ کی ٹیم جیتی، میںایک پب کے سامنے تھا۔ میںنے کنفرم کرنے کے لیے کسی سے پوچھا کہ کون جیتا؟ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، مجھے کس کر گلے لگاکر بولا، بردر، لندن۔ میںنے سوچا یہ لندن کیوں بول رہا ہے، انگلینڈ کہنا چاہیے۔ شاید اس نے جوش میںلندن کہا ہوگا اس طرح کا فٹبال کا بخار تھا وہاں ۔
30 جون کو فٹبال عالمی کپ میںبڑا الٹ پھیر ہوا۔ میسی (ارجینٹینا ) اور رونالڈو (پرتگال) کی ٹیم کا دوسری ٹیموںکے ساتھ اس دن میچ تھا۔ میسی کے مداح دعاکررہے تھے کہ اسی دن ہونے والے دوسرے میچ میں رونالڈو کی ٹیم ہار جائے۔ وہیں،رونالڈو کے مداح میسی کی ٹیم کی ہار کے لیے دعا کر رہے تھے تاکہ رونالڈو کا دنیا میںنام ہوجائے۔ میسی کی ٹیم کا مقابلہ فرانس سے ہونے والا تھااور رونالڈو کی ٹیم کا مقابلہ اوروگوے سے۔ مزے کی بات یہ رہی کہ میسی کی ٹیم فرانس سے ہار گئی اور رونالڈو کی ٹیم اوروگوے سے ہار گئی۔ میسی اور رونالڈو کا عالمی کپ کا سفر یہیںپر ختم ہوگیا۔ اس کے بعد ایک نئی چیز دکھائی دی۔ لندن کے بازاروں میںمیسی اور رونالڈو کی تصویر والی ٹی شرٹ اور موبائل کور بک رہے تھے۔ وہ سب اس ہار کے بعد اگلے ہی دن بازار سے غائب ہوگئے۔ یہی بازار ہوتا ہے جو بتا دیتا ہے کہ جیتے ہوئے شخص کے ساتھ دنیا رہتی ہے اور جو ہارجاتا ہے،اس کا نام و نشان مٹانے میںبھی بازار سب سے آگے رہتا ہے۔
اس وقت یوروپ میںخاص طور سے انگلینڈ میں’ہیٹ ویو‘ آئی ہوئی ہے۔ ہمارے یہاں جس طرح مارچ میںگرمی ہوتی ہے، ویسی ہی گرمی یہاں اس وقت ہے۔ تقریباً 24 ڈگری کا نارمل ٹمپریچر ہے۔ ہم لوگ گرمی میںاپنے ملک میں جتنی احتیاط رکھتے ہیں، ویسی ہی احتیاط ابھی یہاںلندن میںرکھی جارہی ہے۔ جگہ جگہ نوٹس لگ گئے ہیں کہ آپ اپنے ساتھ پانی کی بوتل ضرور لے کر چلیں۔ بہت سالوں بعد انگلینڈ میں، خاص طور سے لندن میں اتنی گرمی محسوس کی گئی ۔

 

 

 

دراصل میرا لندن کا سفر ’ہندی مہوتسو 2018‘ کے سلسلے میںہوا۔ یہاںکئی ساری چیزیںدیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا۔ سب سے پہلے میںآپ کو’ ہندی مہوتسو‘ کی اہم باتوں کے بارے میںبتاتا ہوں۔ ’ہندی مہوتسو 2018‘ کا انعقاد لندن کے چار اہم شہروں میںہوا۔ 28 جون کو آکسفورڈ میں،29 جون کو لندن میں، 30 جون کو برمنگھم میںاور 1 جولائی کو شیلوہ میں’ہندی مہوتسو‘ ہوا۔ لندن سے تقریباً 30 کلو میٹر دور ایک چھوٹی سی جگہ ہے شیلوہ۔ یہ ہندی مہوتسو کسی سرکار نے نہیں منعقد کیا تھا او رنہ ہی اس کا ا نعقاد کرنے میںلندن میںواقع انڈین ہائی کمیشن کا رول رہا۔ اس کے ایک افسر ترون پہنچے تو ہر جگہ لیکن انعقاد لوگوںنے اپنے آپ کیا۔ اس میںسب سے بڑا رول رہا ہندوستان کے بڑے پبلیشر ارون مہیشوری کا۔ ارون مہیشوری ہر سال یا دوسرے سال ’ہندی مہوتسو‘ کا انعقاد کرتے ہیں۔ اسے لے کر ان میںایک پاگل پن ہے۔ وہ چاہتے ہیںکہ ہندی کو لے کر غیر ممالک میںبیداری آئے اور جو ہندی لکھتے ہیں، پڑھتے ہیں، ادب گھڑتے ہیں، ان سب کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے۔ اس لیے انھوںنے ا س بار کا ’ہندی مہوتسو‘ لندن میںرکھا تھا۔ پہلے بھی وہ یہاں’ہندی مہوتسو‘ منعقد کرچکے ہیں۔ اس بار کے’ ہندی مہوتسو‘ میںنیلما آدھارڈالمیا، دویا ماتھر، شکھا وارشنے، للت جوشی، یتندر مشر، اجے جین، کرشن کمارگور، پدمیش گپت، میرا کوشک، انل شرماجوشی، ششانک پربھاکر، مشتاق احمد،ویریندرشرما جیسے لوگ شامل ہوئے۔ ان لوگوں نے ’ہندی سملین‘ کو کامیاب بنانے میںکوئی کسر نہیںچھوڑی۔ کتابوں کے اجراء بھی ہوئے، جن میںدویا ماتھر کی’ سیا-سیا‘،ششانک پربھاکر کی’ لفظوں کے گاؤں‘، کسم انسل کی ’میری درشٹی تو میری ہے‘ ، جیسی کتابیں لوگوںکے سامنے آئیں۔ میںارون مہیشوری کا شکریہ اداکرتا ہوں ۔ انھوں نے جس طرح سے ہندی کو لے کر اپنی کاوشیںدکھائی ہیں، جس طریقے سے ہندی کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیںاور اس کے لیے ’ہندی مہوتسو‘ کا انعقاد کر رہے ہیں،اس میںکوئی دو رائے نہیں ہے کہ ایسے لوگ اس وقت ہندوستان میںبہت ہی کم ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت ہند ارون مہیشوری کی مدد کرتی لیکن حکومت ہند تو حکومت ہند ہے۔ سرکار چار سال میںایک بار عالمی ہندی کانفرنس کرکے ہندی کے تئیں اپنی ذمہ داری ادا کرلیتی ہے۔ لیکن ہندی کو لے کر کتنا کام کیا جاسکتا ہے، سرکار اس کے بارے میں تھوڑا کم سوچتی ہے۔
غیر ممالک میںہندی کی تشہیر کی اہمیت تب کم ہوجاتی ہے جب بیرونی ملک کے لوگ ہندوستان آتے ہیں۔ یہاںوہ دیکھتے ہیں کہ لوگ انگریزی میںبولنا نہ صرف فیشن سمجھتے ہیں بلکہ اسے ہی صحیح سمجھتے ہیں۔ غیر ممالک سے جو لوگ ہندوستان گئے اور ہندی کو لے کر لوگوںسے بات چیت کرنی چاہی تو انھیں مایوسی ہاتھ لگی۔ ہندی سے کتنی روزی روٹی کمائی جاسکتی ہے، یہ بھی یہاںکے لوگوں کی تشویش کا ایک بڑا موضوع تھا۔ لندن میںمنعقد’ ہندی مہوتسو‘ میںمسلم، انگریز او ردنیا کے دسرے حصوں کے لوگ شامل ہوئے۔ ان لوگوںنے اپنی تشویشات کا اظہار کیا ۔ہندی کو لے کر اپنا سروکار ظاہر کیاا ور عزم کا بھی اظہا ر کیا۔ شیلوہ میں ہندی پڑھانے والی ٹیچر اور ہندی پڑھنے والے طلبہ اختتامی تقریب میںشامل ہوئے۔ ہندی کا نصاب کیسا ہو؟ اس پر بھی بات ہوئی۔ سب تشویشات سامنے آئیں۔ ایک مزے دار بات یہ ہوئی کہ اس دوران 70 فیصد لوگوںنے انگریزی زبان میںہندی کی حمایت کی اور 30 فیصد لوگوں نے ہندی زبان میںہندی کی حمایت کی۔ میںنے مہوتسو کے منعقد کرنے والوں سے کہا بھی کہ یہ تو انگلش کانفرنس آن ہندی ہے۔ لیکن یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ ہمارے ہی ملک کے لوگوں نے کم سے کم انگریزی میں ہی بول کر’ ہندی مہوتسو‘ کی اہمیت بڑھائی۔
ہمارے ملک کے لوگوںکے ذریعہ لندن میںانگریزی بولنا ان کی مجبوری نہیں ہے بلکہ لندن میںانگریزی بولنا اس تہذیب کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہے، جس ملک میںوہ رہ رہے ہیں۔ مجھے دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ ہندی کے تئیںجتنی ہندوستان میںفکر ہے،اس سے زیادہ ہندی کو لے کر بیرونی ملک میںہے۔ بات چیت میںمسلم سماج سے آنے والی ایک لڑکی نے ایک مزے دار بات کہی کہ میںیہاںاردو سیکھنا چاہتی ہوں لیکن کوئی صحیح ٹیچر نہیں ملا۔ پھر میںنے ہندی سیکھنا شروع کی اور میںبہت اچھی ہندی سیکھ رہی ہوں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اردو خراب زبان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی کوشش بیرونی ملک میںاردو سکھانے کی کرنی چاہیے، شاید اتنی نہیںہو رہی ہے۔ حالانکہ یہ صرف ایک لڑکی کا تبصرہ تھا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ پورا سچ نہ ہو لیکن وہ ہندی سیکھ رہی ہے۔ یہی ہندی والوںکے لیے بہت فخر کی بات ہے۔

 

 

 

بیرونی ممالک میںجو ہندی بولنے والے ہیں، وہ ہندوستان کی سیاست سے رشتہ تو رکھتے ہیں لیکن کسی کا ساتھ نہیںدینا چاہتے۔ دوسری طرف لندن کو ورلڈ سٹی کہا جاتا ہے۔ یہاںپر ایسے بہت لوگ ہیںجو بالکل ایک طرح کی ’مت‘ کے حامی ہیں۔ اس’ مت ‘ کا سیدھا راستہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وشو ہندو پریشد کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ بہت چھوٹے سے گروپ، بائیں بازو کی طرف جاتا ہے۔ لیکن ان دونوںکے بیچ میں بڑی تعداد ان کی ہے جو نہ ادھر جانا چاہتے ہیں اور نہ اُدھر جانا چاہتے ہیں۔ بس وہ ہندوستان کی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس ترقی کا مطلب اقتصادی ترقی سے ہے۔ اقتصادی ترقی کو لے کر سب نے فکر ظاہر کی۔ انھوںنے بتایا کہ ہمارے خاندان (ہندوستان میں رہ رہے) کے لوگ جو حالت بیان کرتے ہیں،وہ حالت ابھی ہندوستان کو ترقی کے تیز راستے پر لے جانے کے لائق ماحول نہیںبناتی ہے۔
یہاںپر رہنے والے ہندوستانی اور پاکستانی کمیونٹی کے بیچ بہت میل جول نہیں ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے ہندوستان میںہم پاکستان کو اپنا دشمن مانتے ہیں اور پاکستان کے لوگ ہندوستان کو دشمن مانتے ہیں۔ اسی طرح لندن میں ہندوستانی یا پاکستانی ایک دوسرے کو دشمن تو نہیںمانتے لیکن کم گھلتے ملتے ہیں۔ وہ جب کہیںمل جاتے ہیں تو بہت پیار سے ایک دوسرے سے باتیںکرتے ہیں اور یہ فکر ظاہر کرتے ہیںکہ کاش ہمارے ملکوںکے بیچ سرحدی لائن ختم ہو جائے،ویزا کا سسٹم ختم ہوجائے اور ہم ایک دوسرے کے ملک جاسکیں۔ خاص طور سے پڑھائی اور علاج کے شعبے میںہم ایک دوسرے کا تعاو ن کرسکیں۔ یہ فکر صحیح تو ہے لیکن اس کا کوئی حل نہیںہے۔
یہاںکے میڈیا کے لوگوںسے میری بات چیت ہوئی اور ان سب نے ہندوستان کے اقتصادی ماحول کو لے کر تشویش کا اظہار کیا۔ لندن کے میڈیا اہلکار مانتے ہیںکہ جس طرح سے ڈالر اور روپے کا توازن بگڑ رہا ہے،وہ ہندوستانی معیشت کے تئیںعالمی معیشت کا عدم اعتماد ہے۔ انھیںلگتا ہے کہ اسے سدھارنے کی جگہ حکومت ہند غلط طریقے سے اس کے لیے عالمی پوزیشن کو ذمہ دار بتانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسے لے کر میری کوئی رائے نہیں ہے لیکن مجھے یہ سب دیکھ کر اور سن کر اچھا لگا۔
آپ دنیا میںکہیںبھی جائیں، کتنے بھی اچھے ہوٹل میںرہیں،کتنے بھی اچھے لوگوںسے بات چیت کریں،کتنے بھی کلبوںمیںجائیں،کتنے بھی سیاستدانوں سے ملیں،مختلف ثقافتوں سے جڑے لوگوںسے ملیں لیکن اپنا ملک ہمیشہ یاد آتا ہے۔ اس کی خوشبو، رنگ، محبت، نفرت،غصہ، پیار ہمیشہ اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ میں بھی لگاتار ہندوستان جلدی سے جلدی پہنچنے کے ادھیڑ بن میںلگا رہتا تھا۔ ہندوستان اپنا ہے اور ہندوستان کا سب کچھ بہت خوبصورت ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *