ہندوستان دنیا میں جمہوریت کا چراغ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے

’فارن افیئرس جرنل‘ کے مئی -جون شمارہ میں شائع اپنے مضمون ’دی اینڈ آف دی ڈیموکریٹک سینچوری‘ میں یشا مونک اور رابرٹو اسٹین فوا اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ 21 ویں صدی میں پوری دنیا میں جمہوریت زوال کی طرف بڑھ رہی ہے اور تاناشاہی ابھار کی طرف گامزن ہے۔
بیسویں صدی کے ایک بڑے حصے میں امریکہ عالمی سطح پر جمہوریت اور جمہوری اقدار کی تشہیر کا قائد تھا ۔لیکن ٹرمپ دور میں داخل ہونے کے بعد امریکہ کی یہ قیادت لگ بھگ ختم ہو گئی ہے۔
امریکہ کیذریعہ’ امریکہ فرسٹ ‘پر بہت زیادہ زور ، اتحادیوں کے ساتھ باہمی تعاون میں آنا کانی، عالمی سمجھوتوں سے علاحدگی اور کاروباری جنگ کو ہوا دینے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ امریکہ اکیلا اور آخر میں کھڑا ہوگا۔ لہٰذا کوئی ملک پیچھے سے دنیا کو قیادت فراہم نہیں کرسکتا ہے۔
اگر جمہوریت کو موجودہ صدی کا سمت طے کرنے والا بننا ہے تو جمہوریت میں پید اہوئی خلاء کو بھرنا ضروری ہے۔ ہندوستان دنیاکا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے۔ 2019 میں ہونے والے عام انتخابات میںیہاں 90 کروڑ سے زیادہ شہری ووٹ دینے کے اہل ہوں گے۔ ہندوستان کے بعد جو سب سے بڑا جمہوری ملک ہے وہ ہے امریکہ،جہاں صرف 24 کروڑ کے آس پاس اہل ووٹر ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان جمہوریت کی اس خلاء کو بھرنے کے لئے جمہوری اقدار اور اس کے بنیادی سوالوںکے ساتھ آگے آنے کی شروعات کر سکتاہے؟تو اس کا جواب یہ ہو سکتاہے کہ موجودہ وقت میں جو اشارے ہیں ، اس سے نہیں لگتاہے کہ ہندوستان یہ کام کر سکتاہے۔
پیو ریسرچ سینٹر کے ذریعہ 2017 میں 38 ملکوں میں کرائے گئے سروے میں پایا گیا کہ ہندوستان میں ایک ایسے مضبوط لیڈر کے تئیں سب سے زیادہ حمایت ظاہر کی گئی، جس پر عدالت یا پارلیمنٹ کا زور نہ چلے۔ شروعات میں 55 فیصد شرکاء نے کہا کہ مضبوط لیڈر کا انتظامیہ اچھا انتظامیہ ہے۔سروے میں صرف 8 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ نمائندگی پر مبنی جمہوریت کے لئے پوری طرح پابند ہیں، جبکہ 67 فیصد نے کہاکہ وہ نمائندگی پر مبنی جمہوریت کے لئے کم پابند ہیں۔ 9 فیصد نے غیر جمہوری متبادل کو ترجیح دی، جبکہ بقیہ نے کوئی متبادل نہیں چنا۔
مونک اور فوا اپنے مضمون میں ہندوستان سے دنیا میں جمہوریت کے معاملوں میں اور زیادہ سرگرم کردار کی توقع نہیں کرتے۔ ان کے مطابق اس کے کئی وجوہات ہیں۔ جیسے آزاد جمہوریت کا تحفظ ہندوستان کی غیر ملکی پالیسی کا اہم حصہ نہیں ہونا، کریمیا پر روسی قبضے کے خلاف اقوام متحدہ میں مذمتی تجویز پر ہندوستان کا ووٹنگ میں حصہ نہیں لینا اور انٹر نیٹ پر سرکاری کنٹرول کی وکالت کرنے والے تاناشاہی حکمرانوںکے ساتھ ہندوستان کا کھڑا ہونا۔
یہ جمہوریت کے چمپئن کی شکل میں ہندوستان کے ممکنہ کردار کے لئے اچھی خبر نہیں ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ اس کے برعکس کچھ مضبوط اشارے بھی ہیں،جن میں سے دو اہم اشارے یہ ہیں ۔پہلا جس طرح ہندوستانی جمہوریت کا قیام ہوا تھااور دوسرا 2014 کے عام انتخابات میں جس طرح سے لوگوں نے حصہ لیا تھا۔

 

 

 

ہائفا یونیورسٹی کی اسکالر آرنیٹ سنی نے اپنی نئی کتاب ’ہائو انڈیا بیکم ڈیموکریٹک: سیٹیزن شپ اینڈ میکنگ دی یونیورسل فرنچائز ‘ میں تفصیل سے بتایا ہے کہ کیسے ہندوستان نے شروعات میں ہی اپنی مختلف آبادی کو ووٹ کی شکل میں طاقتور بنادیا تھا ۔’ دی ہندو‘ میں شائع اس کتاب کی انالائس میں مینی کپور کہتی ہیں کہ چونکہ آزادی کے بعد آئین کی تشکیل سے پہلے ووٹنگ لسٹ کا مسودہ تیار کیا جارہا تھا، لہٰذا سنی نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہہندوستان کے لوگ، شہری ہونے سے پہلے ووٹر بن گئے تھے۔ ملک کے قیام کے وقت الگ الگ حالات اور خیالات کو دیکھتے ہوئے، اس وسیع جمہوری کارروائی کو چمتکاری ہی کہا جاسکتاتھا۔
حالانکہ 2014 کے عام انتخابات میں لوگوں کی حصہ داری طلسماتی نہیں تھی لیکن یقینی طور سے یہ ایک بہت بڑی بات تھی۔ آئیے مندرجہ ذیل نکات پر غور کریں:
اس انتخاب کے لئے 2009 کے انتخابات کے مقابلے 10 کروڑ نئے ووٹر شامل ہوئے، یعنی پچھلے انتخابات کے مقابلے میں ووٹروں کی تعداد میں لگ بھگ 15 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس انتخاب کے لئے 9 مراحل میں ووٹنگ ہوئی۔93000 پولنگ سینٹروں میں 14 لاکھ ای وی ایم مشینوں پر 11 لاکھ سرکاری ملازمین اور لاکھوں غیر سرکاری ملازموں کی مدد سے انتخابات ہوئے۔ اس الیکشن میں 66 فیصد سے زیادہ ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا جو اب تک کا ریکارڈ تھا۔
ان فیکٹرس کے علاوہ اقتصادی ترقی میں تیزی کو دیکھتے ہوئے، میرا ماننا ہے کہ ہندوستان عالمی سطح پر جمہوریت کے لئے ایک مثال بننے کے لئے تیار ہورہا ہے۔ یہ بات میں اس اعتراف کے بعد بھی کہہ رہا ہوں کہ ہندوستان ایک قومیت اور جمہوریت کی شکل میں کامل نہیں ہے۔یہاں بہت سے مسائل ہیں اور اگرہندوستان کو دنیا میں جمہوریت کی قیادت کرنی ہے تو ان مسائل کا حل ضروری ہے۔
میرے خیال میں اگر ہندوستان کو جمہوریت کے لئے قائد بننا ہے تو تین اہم نکات پر دھیان دینا ضروری ہے۔ پہلا کام یہ ہے کہ شمولیاتی سماج ، اقتصادی مساوات اور سب کے لئے مساوی مواقع کا ایجنڈ الاگو کرنا۔ دوسرا طلباء ، خاص طور پر چھوٹی عمر کے طلباء کے لئے موثر تعلیم مہیا کرنا اور تیسرا یہ کہ پریس کی مکمل آزادی یقینی کرنا۔
ایک پرانی کہاوت ہے کہ صبح ہونے سے پہلے ہمیشہ اندھیرا گہر اجاتاہے۔ پچھلے کچھ سالوںسے یہاں اور دنیا کے دیگر ملکوں میں جمہوریت اندھیرے کی طرف جارہی ہے ۔حال کے مہینوں میں جمہوریت کے لئے اندھیرا اور گہر اہو گیا ہے۔ فی الحال ہم گہرے اندھیرے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ہندوستان اس اندھیرے سے نمٹنے اور دنیا میں جمہوریت کا چراغ بننے کی صلاحیت رکھتاہے۔ اگر ہندوستان نے اپنی صلاحیت کو پہنچان لیا تو یہ 21ویں صدی میںنئی جمہوریت کے طلوع ہونے میں معاون ہو سکتاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *