امریکہ اور چین میں انسانی حقوق کے شکاری

دنیا میں کئی ایسے ملک ہیں جو انسانی حقوق کی پاسداری کا دعویٰ تو بڑے زوروشور سے کرتے ہیں مگر سب سے زیادہ خلاف ورزی وہیںہوتی ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کو لے سکتے ہیں جو پوری دنیا میں حقوق انسانی کے نفاذ کی باتیں کرتا ہے مگر خود اس ملک کے اندر کیا ہورہا ہے؟ اس کا اندازہ ریاست اوریگان کی وفاقی جیل میں بند ہندوستانی قیدیوں کی بدتراور غیر انسانی حالت سے لگایا جاسکتا ہے۔
لیگل ایڈوکیسی گروپس کے مطابق ، ریاست اوریگان کی وفاقی جیل میں 50 سے زائد غیر قانونی ہندوستانی امیگرنٹس کے ساتھ مجرموں جیسا برتائو کیاجارہا ہے اور ان میں جو سکھ برادری سے تعلق رکھتے ہیں ان کی پگڑیوں کو نکال پھینکا جارہا ہے۔یہ صورت حال اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن معاملہ میںمتنازعہ زیرو ٹالیرنس پالیسی اپنائی ۔ ٹرمپ کی اس سخت پالیسی کے نتیجہ میں رواں برس 19 اپریل تا 31 مئی کے دوران تقریباً 2 ہزار بچوں کو اپنے والدین اور سرپرستوں سے علاحدہ ہونے پر مجبور ہوناپڑا۔
بہر حال ملک گیر سطح پر سخت احتجاجوں کے بعد ٹرمپ کو اپنے اس فیصلہ پر نظر ثانی کرنی پڑی تھی ۔ایک کمیونٹی کالج پروفیسر نونیت کور کا کہنا ہے کہ جیل میںبند ان افراد نے کوئی جرم نہیں کیا۔انہوں نے محض سرحد عبور کیا ہے اور وہ اس ملک کے قانون کے دائرہ میں رہ کر سیاسی پناہ کے خواہاں ہیں۔ نونیت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اوریگان میں واقع وفاقی جیل میں قید تقریباً 52 ہندوستانی قیدیوں سے ملاقات کی۔ ایک غیر منافع بخش قانونی ادارہ ان قیدیوں کو قانونی مدد فراہم کررہا ہے جبکہ نونیت کور رضاکارانہ طور پر ان قیدیوں کی مترجم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔

 

 

انہوں نے کہا کہ اس وقت جیل میں کل 123 ہندوستانی تارکین وطن قید ہیں اور نہایت بری حالت میں ہیں۔ ان میں پنجابیوںکی اکثریت ہے۔ جیل میںانہیں 24 گھنٹے ہتھکڑیوں میںباندھے رکھا جاتا ہے۔یہاںتک کہ کھانا کھاتے وقت بھی ان کے ہاتھ نہیں کھولے جاتے۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ انگریزی نہیں بول سکتے۔ کور کے مطابق یہ ایک غیر انسانی حرکت ہے۔ سکھوں کے لئے صورت حال اس وقت مزید ناقابل برداشت ہوجاتی ہے جب جیل میں ان کی پگڑیاں نکال کر پھینک دی جاتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں سب کو مذہبی حقوق حاصل ہیں، اس طرح کا رویہ اختیار کرنا کس زمرے میں آتا ہے؟ اس صورت حال پر جیل میں قید سکھ صدمہ سے دو چار ہیں۔ ان تمام حالات کے باجوو د کوئی بھی ہندوستانی وطن واپسی کا خواہاں نہیں ہے بلکہ وہ امریکہ میں سیاسی پناہ کاحصول چاہتے ہیں۔
انسانی حقوق کی پامالی امریکہ ہی نہیں، چین جیسے ملک میں بھی دھڑلے سے ہورہا ہے۔چین کے زنچیانگ صوبہ میں مسلم اقلیتوں کے ساتھ ظلم وزیادتی کی طویل فہرست ہے جس پر’ چوتھی دنیا‘ بارہا لکھتا رہا ہے ۔ زنچیانگ صوبہ کے ایغور مسلم اقلیت کے خلاف سرکاری سطح پر بھید بھاؤ میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہا ہی میں چین کے اس حصہ میں اسکولی طلبہ پر کسی بھی طرح کے مذہبی پروگرام میں شرکت کرنے سے روک لگادی گئی ہے اور اب چینی پولیس بیچ راستے پر روک کر مسلم خاتون کے لباس کاٹ رہی ہے۔
یہاں پر مسلم خواتین کے کپڑے اس لئے بھی کاٹے جارہے ہیں کیونکہ ان کپڑوں کی لمبائی زیادہ ہے۔ڈی او ایم نامی تنظیم کے مطابق چین انتظامیہ ایسا اس لئے کررہاہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ایغور مسلم خواتین کا لباس کافی لمبا ہوتا ہے۔خواتین کے کپڑے کاٹنے کی کئی تصویریں سامنے آئی ہیں جس میں دیکھا جارہا ہے کہ جن خواتین کے کپڑے کمر کے نیچے تک ہیں، وہی کپڑوں کی کاٹ کی جارہی ہے۔ غور طلب ہے کہ مشرقی ترکستان وسطی ایشیاء کا ایک تاریخی مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔یہاں ترک قوم کے ایغور نسل کے لوگ رہتے ہیں۔ اس علاقے کو زنچیانگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔چین تو خود کو جمہوریت کا حامل کہتا ہے مگر جمہوریت کا مذاق کس طرح اڑیا جارہا ہے ،وہ اس مضمون سے واضح ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *