امت شاہ کا پٹنہ دورہ کتنی متحد ہوئی این ڈی اے؟

سیاست میںبہتر پالیسی ساز اسے مانا جاتا ہے جو اپنے حریف کی چالوں کو وقت رہتے سمجھے اور اپنا مشن پورا کرنے کے لیے ایسا جال بچھائے کہ مخالف خیمہ بس دیکھتا رہ جائے۔ پچھلے مہینے سے بہار میںدو طرح کا چرچا عام تھا۔ پہلا یہ کہ این ڈی اے ٹوٹ جائے گا۔ خاص طور سے یہ بات جے ڈی یو اور آر ایل ایس پی کو ملنے والی لوک سبھا سیٹوں کو لے کر کہی جارہی تھی۔ دوسرا چرچا یہ تھا کہ کون ہوگا بڑا بھائی؟ ایک دفعہ لگنے لگا کہ کہیںایک بار پھر بہار سیاسی بحران کے جال میںتو نہیں پھنسنے جا رہا ہے۔
اپوزیشن آر جے ڈی اور کانگریس نے ایسا ماحول بنانا شروع کیا کہ بس اب این ڈی اے میںمہا بھارت شروع ہونے والا ہے۔ چونکہ آر جے ڈی اور کانگریس کے پالیسی سازوںکو یہ اچھی طرح پتہ ہے کہ موجودہ این ڈی اے میںٹوٹ ہی ان کی جیت کی بہتر گارنٹی ہے۔ کوئی بھی ایک اتحادی این ڈی اے سے باہر آتا ہے تو یہ طے ہے کہ مہا گٹھ بندھن کی راہ آسان ہوگی۔ ملک بھر میں یہ پیغام جائے گا کہ مہا گٹھ بندھن کے حق میںہوا ہے اور این ڈی اے جلد ہی ٹوٹ کر پوری طرح بکھرنے والا ہے۔ جب تک آر ایل ایس پی اور ایل جے پی کی پینترا بازی چل رہی تھی،تب تک تو بی جے پی نے تحمل برتا لیکن جب جے ڈی یو نے 25 سیٹ اور بڑے بھائی جیسے راگ الاپنا شروع کیے تو بی جے پی کو لگا کہ اب کچھ کرنا ہی ہوگا۔
پٹنہ میںامت شاہ
بی جے پی صدر امت شاہ کو 12 جولائی کو پٹنہ آنا تھا۔ یہ کافی پہلے سے ہی طے تھا لیکن اس میں نتیش کمار کے ساتھ ناشتہ اور کھانے کا مینو بعد میںجوڑا گیا۔ بی جے پی کی دہلی قیادت کا پہلے صاف ماننا تھا کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ ابھی سیٹ بٹوارے کو لے کر کوئی بات نہیںکرنی ہے۔ ایسا اس لیے بھی مانا گیا کہ ریاست میںسیٹوں کا بٹوارہ آسان نہیں ہے۔ بی جے پی کی 22 سیٹنگ سیٹ ہیں اور اس میںوہ ایک دو سیٹوںکا اضافہ ہی چاہتی ہے۔ ایسے میںابھی سے ہی اس پر اتحادی جماعتوں سے چرچا کرنے میںخطرہ زیادہ ہے۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ الیکشن سے دو سے تین مہینے قبل ہی اتحادی جماعتوں سے سیٹ بٹوارے پر چرچا ہو اور چٹ منگنی پٹ شادی والے انداز میںفیصلہ سنا دیا جائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اتحادی جماعتیںچاہ کر بھی بہت پینترے بازی نہیںکر پائیںگی۔
اس کے برعکس بی جے پی کی اتحادی جماعتیں جی جان سے اس کوشش میں جٹی ہیں کہ سیٹوںپر جلد سے جلد فیصلہ ہو جائے تاکہ انھیںتیاری یا پھر مستقبل کی حکمت عملی بنانے کا مناسب وقت مل جائے۔ اس کے لیے اتحادی پارٹیوںنے بی جے پی پر دباؤ بنانا شروع کردیا۔ اچانک نتیش کمار کی رہائش گاہ پر رام ولاس پاسوان اور اوپیندر کشواہا کا آنا جانا شروع ہو گیا۔ خاص طور سے رام ولا س پاسوان کی نزدیکیاں اس دوران نتیش کمار سے کافی بڑھ گئیں۔
ان ہی نزدیکیوں کو دیکھ کر کچھ لوگوںنے اندازہ لگانا شروع کردیا کہ نتیش کمار بہار میں غیر آر جے ڈی اور غیر بی جے پی مورچہ بنانے میںلگ گئے ہیں۔ اگر کانگریس نے ہامی بھر دی تو یہ مورچہ شکل اختیار کر لے گا۔دلیل یہ تھی کہ کانگریس کا ساتھ ہو جانے سے بی جے پی سے ناراض سورن طبقے کے علاوہ مسلمانوں کا بھی ایک بڑا طبقہ نتیش کامر کے چہرے پر ساتھ آسکتا ہے۔ رام ولاس پاسوان کا ساتھ دلتوں کو لبھائے گا اور اوپیندر کشواہا کے رہنے سے ’لو -کش‘ اتحاد کو بھاری بل ملے گا۔
یہ خیال ابھی مرا نہیںہے، بس کانگریس کی ہری جھنڈی نہ ملنے کے سبب ٹھنڈے بستے میںچلا گیا ہے۔ اگر کسی وجہ سے کانگریس آر جے ڈی سے ناراض ہو اور بی جے پی سے جے ڈی یو کی دوری بڑھ جائے تو اس تیسرے مورچے کے تصور کو حقیقت بننے میںزیادہ دیر نہیںلگے گی۔ لیکن ابھی ان باتوںکا کوئی مطلب نہیں ہے کیونکہ امت شاہ نے اپنے تقریباً 30 گھنٹے کے پٹنہ کے قیام میں اتحادی جماعتوں کے لیے ایسا جال بچھا دیا ہے کہ اس سے نکل پانا بہت آسان نہیں ہوگا۔
بدلے حالات میںامت شاہ کی ٹیم کے سامنے دو ٹاسک تھے۔ پہلا یہ کہ یہ چرچا بند کرادی جائے کہ سیٹوںکے بٹوارے کو لے کر این ڈی اے میںکوئی درار ہے۔ دوسرا ٹاسک یہ تھا کہ جے ڈی یو نے بڑے بھائی والا جو میزائل داغا ہے، اسے بے اثر کردیا جائے۔ ان ہی دو سوالوں کو دھیان میںرکھتے ہوئے امت شاہ کے پٹنہ دورے کا تانا بانا بنا گیا۔

 

 

 

 

گیسٹ ہاؤس میںمیٹنگ کے معنی
امت شاہ کے استقبال کے لیے ایسی تیاری کی گئی کہ جیسے لگا کہ پٹنہ میںبی جے پی کوئی بہت بڑی فتح کا جشن منا رہی ہو۔ پورے شہرکو بینر اور پوسٹروں سے پاٹ دیا گیا۔ شہر کا کوئی ایسا کونہ نہیںبچا جہاںامت شاہ کی تصویر نہ لگی ہو۔ ریاستی بی جے پی کو یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ نتیش کمار کو اس بات کے لیے تیار کر لے کہ انھیں امت شاہ سے ملنے سرکاری گیسٹ ہاؤس میںآنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی امت شاہ ڈنر کے لیے نتیش کمار کی رہائش گاہ پر جائیںگے۔ بی جے پی کی ریاستی ٹیم کے لیے یہ کام آسان نہیںتھا لیکن امت شاہ کی ٹیم اس سے کم پر تیار نہیںتھی۔ بڑے بھائی والے میزائل کو بے اثر کرنے کے لیے یہ ضروری تھا۔ لہٰذا ریاستی ٹیم نے اس کام کے لیے جم کر پسینہ بہایا اور آخر کار نتیش کمار اس بات کے لیے راضی ہوگئے کہ وہ امت شاہ سے مل کر انھیںکھانے کی دعوت دیںگے۔
بتایا جارہا ہے کہ امت شاہ کی ٹیم نتیش کمار کو سرکاری گیسٹ ہاؤس میںبلاکر یہ پیغام باہر دینا چاہتی تھی کہ جہاں تک قد کا سوال ہے تو امت شاہ ہی بیس ہیں۔ نتیش کمار کو جاننے والے کہتے ہیںکہ ان کا امت شاہ سے ملنے سرکاری گیسٹ ہاؤس جانا بڑی بات ہے۔ لیکن کوئی بڑی سیاسی مجبوری انھیںوہاںتک لے گئی۔ اس ملاقات میںامت شاہ میزبان کے کردار میںبھی رہے اور نتیش کمار کو چھوڑنے باہر تک آئے۔ دونوں لیڈروں کی ساتھ مسکراتی ہوئی تصویر یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ این ڈی اے میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ اس کے ساتھ ہی امت شاہ کی ٹیم نے اپنا پہلا مرحلہ پورا کر لیا۔ اب باری امت شاہ کے بولنے کی تھی۔ اپنے پارٹی کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے صاف کردیا کہ بہار میںاین ڈی اے پوری طرح متحد ہے اور بہار کی سبھی چالیس میںسے چالیس سیٹیں این ڈی اے کو جیتنی ہیں۔ الزاموں پر طنز کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ وہ لار ٹپکانا بند کردیں کیونکہ نتیش کمار اب ہمیںچھوڑ کر کہیںجانے والے نہیںہیں۔ امت شاہ نے کشمکش میںپھنسی اپنی پارٹی کو یہ صاف کردیا کہ سبھی اتحادی جماعتوںکو ساتھ میںلے کر الیکشن میں جانا ہے اور سبھی سیٹوںپر جیت درج کرنی ہے۔
سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ باپو آڈیٹوریم میںامت شاہ کے اس خطاب کے بعد این ڈی اے میںاتحاد کا سنچار ہوا۔ این ڈی اے میں ٹوٹ کا جو ماحول بنایا جارہا تھا ،وہ ختم ہوگیا ۔ بچی کھچی کسر رات میںنتیش کمار کے گھر ڈنر میںپوری کر لی گئی۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک امت شاہ اور نتیش کمار کے بیچ ون ٹو ون بات چیت ہوئی۔ ون ٹو ون بات ہونے سے یہ میسیج چلا گیا کہ سیٹوں کے بٹوارے کو لے کر دوسرے لیڈر کیا کہتے ہیںاور کیا سوچتے ہیں، اس کی کوئی اہمیت نہیںہے کیونکہ اس معاملے میںآگے بھی امت شاہ اور نتیش کمار کے بیچ ون ٹو ون ہی بات چیت ہوگی۔
کیا پڑا اثر؟
اس ون ٹوون بات چیت کا اتنا اثر ہوا کہ اگلے دن سے نہ تو کوئی بی جے پی کا لیڈر اور نہ ہی جے ڈی یو کا لیڈر اتحاد اور سیٹ بٹوارے کو لے کر بولنے کے لیے تیار ہورہا ہے۔ اگلے دن صبح امت شاہ جنوبی ہند روانہ ہوگئے لیکن اپنے تقریباً 30 گھنٹے کے قیا م میںانھوںنے ایسا جال بن دیا کہ بی جے پی کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن آر جے ڈی اور کانگریس کے لیڈر دیکھتے رہ گئے۔ فی الحال یہ چرچا بند ہے کہ کون کتنی سیٹوں پر لڑے گا اور کس کے چہرے پر لڑے گا۔ آر جے ڈی اور کانگریس کے لیڈر اب این ڈی اے کے جلد سے جلد ٹوٹنے کی پیش گوئی نہیںکر رہے ہیں۔ امت شاہ کے پٹنہ دورے کے آغاز سے ہی یہ لگنے لگا تھا کہ انجام بہتر ہوگا۔
یہ پورا شو امت شاہ کا تھا اور پورے دور میںوہ چھائے رہے۔ اب لاکھ ٹکے کا سوال یہ رہ گیا کہ آخر بند کمرے میںامت شاہ اور نتیش کمار کے بیچ کیا بات چیت ہوئی؟ اخباروں اور چینلوں میںاس بات چیت کو لے کر الگ الگ قیاس لگائے جارہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ لفظ در لفظ اس بات چیت کے بارے میںصرف دو ہی لوگ جانتے ہیں اور وہ ہیں امت شاہ اور نتیش کمار۔ باقی لوگ جو بھی کہہ رہے ہیں، وہ محض اٹکل بازی ہی ہے۔ لیکن ہمارے ذرائع بتاتے ہیںکہ جب دونوں لیڈر بند کمرے سے نکلے تو ان کی باڈی لینگویج بہت ہی مثبت تھی اور چہرے پر ایک دوسرے کے تئیںبھروسے کا احساس تھا۔اسی بنیاد پر محض اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دونوںلیڈروں کے بیچ سیٹ بٹوارے کو لے کر موٹے طور پر کچھ نہ کچھ طے ہوگیا ہوگا۔ بھلے ہی وہ تعداد کی سطح تک نہیںپہنچا ہو لیکن ایک موٹاخاکہ ضرور کھینچ لیا گیا ہوگا۔ مجموعی طور پر امت شاہ نے اپنے دورے میںملاقات اور بیانوںسے این ڈی اے کو متحد کردیا ہے۔ اب یہ کب تک رہے گا ، یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن فی الحال تو خطرہ ٹل گیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *