مردم شماری 2011 کا زبان سے متعلق ڈاٹا دم توڑ رہی ہے اردو

گزشتہ 3 جولائی 2018 کو سات برس کی لمبی تاخیر کے بعد مرکزی حکومت نے 2011 کی مردم شماری کا زبان سے متعلق ڈاٹا بالآخر جاری کردیا۔ دیر آید درست آید۔ ہندوستان میں22 سرکاری زبانیںموجود ہیں۔ علاوہ ازیں 41 زبانوں کا آئین ہند کے 8 ویںشیڈول میںشمولیت کا مطالبہ ہے جس سے کسی زبان کو سرکاری حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔
دستیاب ڈاٹا کی روشنی میں44 فیصد ہندی داں ہیں، جن میںالگ حیثیت کا مطالبہ کرنے والی بھوجپوری زبان کے بولنے والے بھی شامل ہیں۔ ویسے یہ صحیح ہے کہ ملک کی بڑی دس زبانوںمیںہندی ہی واحد زبان ہے جس کو بولنے والوں کا تناسب مستقل بڑھ رہا ہے۔ اس ڈاٹا سے یہ معلوم ہو اکہ محض 24 ہزار 821 کی زبان سنسکرت، جس میںہندوازم کی کئی قدیم ترین مقدس کتابیں موجود ہیں، ملک کی 22 سرکاری زبانوں میںسب سے چھوٹی ہے جبکہ سرکاری حیثیت کے بغیر عربی 54 ہزار 947 افراد کے ذریعہ بولی جاتی ہے۔ ویسے حیرت کی بات تو یہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان میںبولی جانے والی پشتو کے بولنے والوںکی تعداد 2001 کی نسبت 2011 کی مردم شماری کے وقت دوگنی ہوکر 21ہزار 677 ہوگئی ہے۔ پشتو جموں و کشمیر میں83 فیصداور دہلی میں8 فیصد ہے۔ جہاںتک انگریزی کا معاملہ ہے، یہ ہندوستان میںمادری زبان زیادہ افراد کی نہیںہے مگر برطانوی راج کے وقت سے یہ زبان ملک کی مختلف زبانوں کے درمیان لنک لینگویج یعنی رابطے کی زبان بنی ہوئی ہے۔
مسئلہ اردو کا
ہندوستان کی سرکاری زبانوںمیں صرف اردو دانوں اور کونکنی دانوں کی تعداد میںکمی واقع ہوئی ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے ڈاٹا کی روشنی میں2001 کی مردم شماری کی نسبت 1.5 فیصد کی کمی ہوئی ہے اور یہ کمی اترپردیش اور بہار میںہی زیادہ ہے۔ فی الوقت ملک میں5 کروڑ 7 لاکھ 72ہزار 631 اردو داں پائے جاتے ہیں، جس میںسکھوں اور سندھیوں کی تعداد بھی قابل ذکر ہے۔ اردو کا سب سے کثیرالاشاعت اردو اخبار’ہند سماچار‘ پنجاب سے نکلتا ہے۔
پنجاب کو چھوڑ کر دیگر ریاستوں اور دکنی علاقوں میںاردو مسلم کمیونٹی میںہی زیادہ بولی جاتی ہے۔ دیگر ریاستوں میںاترپردیش اور بہار اردو کا اصل گڑھ رہا ہے مگر اردو تعلیم کے نظم کا زیادہ تر مقامات میںبرقرار نہ رہنے کے سبب مسلمانوں کی نئی نسل ان ریاستوںمیںہندی کی جانب رجوع کرنے پر مجبور ہے اور اس لحاظ سے ملک میںبہت اہم اور لازمی بن گئی ہے۔
مختلف ریاستوں کے سرکاری اسکولوں بشمول کیندریہ ودیالوں (کے وی) میںاردو اساتذہ کا نظم نہیںہے جس کے سبب شدید خواہش کے باوجود والدین اپنے بچوں کو ان کی مادری زبان اردو میںتعلیم دلانے کی پوزیشن میںنہیںآپاتے ہیں۔ عیاںرہے کہ کیندریہ ودیالیہ میںمختلف سرکاری علاقائی زبانوں بشمول اردو کی تعلیم کا پروویژن تو ہے مگر کم از کم گیارہ اردو پڑھنے کی خواہش رکھنے والے بچوں کے متعلقہ اسکول میںرہنے کی صورت میں۔ اس تعلق سے خود راقم الحروف متاثر رہا ہے۔ 1960میںغیر منقسم ریاست بہار کے سنتھال پرگنہ ضلع میںواقع کنڈہت میںبنگلہ زبان دانوںکی تعداد غالب رہنے کے سبب اردو کا کوئی استاد نہیں تھا جس کے سبب راقم الحروف مادری زبان اردو کی تعلیم چاہتے ہوئے بھی سرکاری مڈل اسکول میںنہیںلے پایا۔ حالانکہ وہاںبنگالی مسلم قاضی عبدالمنان ان دنوں ہیڈ ماسٹر تھے۔ چاہتے ہوئے بھی برائے نام ہندی داں طلباء کی مانند وہ اردو استاد کا مطالبہ ضلعی حکام سے نہ منواسکے۔ پھر یہی حال راقم الحروف کے تینوں بچوں کا 1990 کی دہائی میںدہلی میںکیندریہ ودیالیہ میںپڑھتے وقت ہوا۔ کیندریہ ودیالیہ کی گیارہ بچوں کی موجودگی کی شرط کو پورا کرنا کسی کے لیے ممکن نہیںتھا۔ ایک شخص ایک اسکول میںمادری زبان اردو کے بچوں کو کیسے تلاش کرتا؟ اور وہ بھی دہلی جیسے کاسمو پولیٹن شہر میں؟

 

 

 

 

بہار و جھارکھنڈ کی صورت حال
اب آئیے ذرا 16 اگست 1989 کو دوسری سرکاری زبان قرار دیے جانے والے غیر منقسم ریاست بہار کا جائزہ لے لیں۔ اب غیر منقسم ریاست کی دونوں نئی ریاستوں بہار اور جھارکھنڈ میںکل 85.42 فیصد اردو داں ہیں ۔ دوسری سرکاری زبان کے بننے کے بعد ان ریاستوں میں جو باتیںلازمی طور سے ہوجانی چاہیے تھیں، وہ سرکاری دفاتر میںکسی درخواست کا اردو میںقبول کرنا اور اس کا اسی زبان میںجواب دینا تھا۔ اس کے ساتھ ہی رجسٹریشن آفسوں کے ذریعہ اردو میںڈاکیومنٹس قبول کرنا اور اہم قوانین و ضابطوں کی اردو میں اشاعت، مفاد عامہ کے احکامات اور نوٹیفکیشن کے جاری کرنے ، اہم سرکاری ڈاکیومنٹس اور ڈسٹرکٹ گزٹ کی اشاعت کے علاوہ سائن بورڈوں کو لگانے کا اہتمام کرنا تھا۔ جائزہ لینے پر اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا اہتمام عمومی طور پر نہیںہو پایا ہے۔ اس معاملے میں جھارکھنڈ تو بہار سے بھی پیچھے ہے۔ اردو آبادی کے لحاظ سے بھی یہ فرق ان دونوںریاستوں میںپایا جاتا ہے جبکہ ان دونوںریاستوں کے دیہی علاقوں میںاردو آبادی شہری علاقوںکی نسبت زیادہ ہے۔ ریاست بہار کے دیہی علاقوں میں85فیصد اور جھارکھنڈ کے دیہی علاقوں میں64 فیصد اردو داں پائے جاتے ہیں۔ امریکہ کی کورنیل یونیورسٹی کے وزیٹنگ سینئر فیکلٹی اے آر فتحی (Email: arf26@cornell.edu)کی تحقیق کے مطابق بہار میںشہری علاقوں میں15 فیصداور جھارکھنڈ میں36 فیصد اردو داں فی الوقت موجود ہیں۔
نتیش کے راج میںاردو
یہ تو ہوئی دوسری سرکاری زبان اردو کی عمومی حیثیت ان دونوں ریاستوں میں۔ سرکاری طور پر ان دونوں ریاستوں میںفی الوقت اردو عدم توجہی کا بری طرح شکار ہو رہی ہے۔اس سے زیادہ حیرت کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ اردو کا دوسری سرکاری زبان کے طور پر دم بھرنے والی نتیش کمار کی سربراہی والی موجودہ جے ڈی یو اور بی جے پی حکومت کے دور اقتدار میںقانون ساز کونسل (لیجسلیٹو کونسل) میںاردو خود انصاف کی محتاج بن گئی ہے۔ اس کا کھلا ثبوت ابھی حال میںحکومت بہارکا کونسل کے اردو شعبہ کے منظور شدہ عہدوںکو ختم کرنے کا فیصلہ ہے۔ کونسل کی بحالی کے نئے ضابطہ نامہ کے مطابق اسسٹنٹ کے صرف تین عہدوں کو چھوڑ کر ’اردو شعبہ‘ اور ’اردو طباعت‘ کے سبھی عہدوںکو ختم کردیا گیا ہے۔ یہ اطلاع 15 جون 2018 کو محکمہ پارلیمانی امور کے نوٹیفکیشن کے طور پر جاری بہار گزٹ میںشائع ہوئی ہے۔ اس کے مطابق تین اسسٹنٹ کے علاوہ اردو کے عہدوں پر بحال ملازمین کی سبکدوشی یا موت ہوجانے کے بعد یہ سبھی عہدے از خود ختم ہوجائیںگے اور اس پر دوبارہ بحالی نہیںکی جائے گی۔ اس سلسلے میںکوئی واضح وجہ نہیںبتائی گئی ہے ۔
واضح رہے کہ 1990 کی دہائی میںلیجسلیٹو کونسل کے چیئرمین پروفیسر جابر حسین نے دوسری سرکاری زبان اردو کے عملی نفاذ کے لیے ایک فعال اردو شعبہ قائم کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔ اس وقت انھوںنے ایک ضابطہ کے تحت اردو کے عہدوں کی منظوری دلواکر اردو کے عہدوں کو پُر کیا تھا۔ اس کی تقرری کے لیے باضابطہ اشتہارات بھی جاری کیے گئے تھے اور سبھی عہدوں پر تقرری بھی عمل میںآئی تھی۔ اب جبکہ برسوں گزرنے کے بعد قانون ساز کونسل کی کارروائیاں بھی اردو میںکی جاتی ہیں، اردو شعبے میں نئی تقرری نہ ہونے کی وجہ سے یہ کارروائیاں بھی متاثر ہوں گی اور نئی بحالی کا عمل بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا ۔ اس سلسلے میںیہ بھی سوال اٹھنا فطری ہے کہ کونسل کے متعدد اردو جریدوں کا کیا ہوگا؟
یہ تمام سوالات حکومت بہار سے ہے کہ آخر یہ دوسری سرکاری زبان اردو کو جب قانون ساز کونسل میں زندہ نہیں رکھ پارہی ہے تو پھر اسے ریاست میںکیسے زندہ رکھ پائے گی جہاں سرکاری اسکولوں میںاردو اساتذہ اور دیگر محکموں میںاردو مترجمین کی بحالی کا مسئلہ پہلے سے کھڑا ہے؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *