جیو انسٹی ٹیوٹ وجود میں آنے سے پہلے نامور بن گیا

گوگل گیان میں جیو انسٹی ٹیوٹ کا نام تک نہ ہونے کے باوجود اسے امنینٹ انسٹی ٹیوٹ کا درجہ دیے جانے کو لے کر طرح طرح کے سوال کھڑے ہورہے ہیں۔یو جی سی اور وزارت برائے فروغ انسانی وسائل نے جن6 اداروں کو انسٹی ٹیوٹ آف امینینس (نامور انسٹی ٹیوٹ ) کا درجہ دیاہے، ان میں سے جیو انسٹی ٹیوٹ کا تو زمین پر اصل میں وجود ہی نہیں ہے۔ یعنی نہ تو ادارے کی عمارت ہے، نہ طلباء ہیں اورنہ ہی اساتذہ ہیں۔پھر بھی ٹیگ ورلڈ کلاس ادارے کا۔
الزام یہ لگ رہا ہے کہ غیر موجود جیو کو عالمی سطح کے ادارے کا درجہ دیئے جانے کے لئے منتخب کرنا نریندر مودی اور مکیش امبانی کے گہرے رشتوں کی پختہ مثال ہے۔سرکار نے جن 6 تعلیمی اداروں کو انسٹی ٹیوٹ آف امینینس کا درجہ دیا ہے، ان میں آئی آئی ٹی ممبئی، آئی آئی ٹی دہلی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس بنگلور جیسے تین سرکاری اور پبلک سیکٹر کے ادارے ہیں، جبکہ بقیہ تین میں بٹس پیلانی، منی پال یونیورسٹی اور جیو یونیورسٹی پرائیویٹ سیکٹر کے ہیں۔جیو یونیورسٹی کا انتخاب گرین فیلڈ کیٹیگری میں کیا گیاہے۔ اس بارے میں سرکار کا کہنا ہے کہ اگلے تین برسوں میں یہ وجود میں آجائے گی۔
مقصد
انسٹی ٹیوٹ آف امینینس کا درجہ دراصل عالمی سطح کی تعلیمی خوبیوں والے ادارے ڈیولپ کرنے کے مقصد سے دیا گیاہے۔ اس اسکیم کی چرچا تو یو پی اے 2 کے زمانے میں ہی شروع ہو گئی تھی۔لیکن اس کا قانونی طور پر اعلان 2016 میں کیا گیا۔ وز یر برائے فروٖغ انسانی وسائل پرکاش جائوڈیکر کا کہنا ہے کہ ابھی ملک میں لگ بھگ 800 پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیز ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی دنیا کی ٹاپ 100 یونیورسٹیز میں نہیں آتی۔ سرکار کا نظریہ امیننٹ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ عالمی سطح کی خوبیوں والے ادارے ڈیولپ کرنے کا ہے۔ جس سے ہم انڈین ٹالنٹ کا دنیا میں لوہا منوا سکیں۔ اصولی طور پر وزیر برائے انسانی وسائل کی یہ بات دلکش لگ سکتی ہے، لیکن جس طرح ایک غیر موجود ادارے کو بہترین عالمی ادارے کا درجہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے، اس سے سیاسی حلقے میں سوال کھڑے ہونا لازمی ہے۔
کانگریس نے سرکار کے اس فیصلے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی جی نے اس بہانے مکیش امبانی سے اپنی دوستی نبھائی ہے۔ دوسری طرف، سرکار کا کہنا ہے کہ جیو انسٹی ٹیوٹ کو ابھی انسٹی ٹیوٹ آف امینینس کا درجہ نہیں دیا گیاہے،بلکہ اسے صرف لیٹر آف انٹینٹ(ارادے کا خط)جاری کیا گیا ہے۔ جیو کو انسٹی ٹیوٹ آف امینینس کا مکمل درجہ تبھی دیا جائے گا جب اگلے تین برس کے اندر ادارہ اس سلسلے میں یو جی سی کے ذریعہ مقرر تمام شرطیں پوری کر لے گا۔
ریلائنس فائونڈیشن کا دعویٰ ہے کہ انسٹی ٹیوٹ کے لئے نوی ممبئی کے قریب کرجت میں 800ایکڑ زمین خریدی جاچکی ہے۔ جیو انسٹی ٹیوٹ میں10 اسکول ہوں گے۔ لگ بھگ 9 ہزار 500 کروڑ کی شروعاتی لاگت سے بننے والے اس ادارے کے لئے دنیا بھر کے 500 بہترین یونیورسٹیوں سے فیکلٹی چنی جائیںگی۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے جیو انسٹی ٹیوٹ کو عالمی سطح کے ادارے کا درجہ ملا ہے۔ سرکار کی یہ بھی دلیل ہے کہ جیو انسٹی ٹیوٹ کو گرین فیلڈ کیٹیگری کے تحت چنا گیاہے۔ اس کے لئے یو جی سی نے چار معیار طے کئے ہیں۔ان مین زمین کی فراہمی، وسائل، اعلیٰ تعلیمی اہلیت اور تجربات والے اساتذہ اور واضح نقطہ نظر والے ورک اسکیم شامل ہیں۔
گرین فیلڈ کیٹیگری کے تحت کل 11 اداروں نے درخواستیں دیئے تھے۔ان میں ریلائنس کے جیو انسٹی ٹیوٹ کے علاوہ ایئر ٹیک کی دہلی میں مجوزہ بھارتیہ یونیورسٹی، اڑیسہ کی بیدانتا یونیورسٹی ، انڈین اسکول آف بزنس حیدرآباد، انڈس ٹیک یونیورسٹی دہلی ، اچاریہ انسٹی ٹیوٹ بنگلور اور ریزرو بینک کے سابق گورنر رہے رگھو رام راجن کی رہنمائی میں مجوزہ کریا یونیورسٹی مدراس کے نام شامل تھے لیکن صرف جیو انسٹی ٹیوٹ ہی یو جی سی کے ذریعہ مقرر ہ شرطوں کے پیمانے پر کھری اتری۔

 

 

 

کیسے ہوا انتخاب؟
وزارت برائے انسانی وسائل کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف امینینس کے انتخاب کے لئے فروری 2018 میں یو جی سی نے سابق چیف الیکشن کمشنر این گوپال سوامی کی صدارت میں چار رکنی ایکسپرٹ کمیٹی کی تشکیل کی تھی۔ اس کے دیگر ممبروں میں ہائی ورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ترون کھنہ، ہسٹن یونیورسٹی کی چانسلر رینو کھٹور اور پروفیسر پریتم سنگھ شامل تھے۔ اس کمیٹی نے سبھی درخواست کنندگان کے تجاویز پر باضابطہ غور کرنے کے بعد ہی گرین فیلڈ کٹیگری میں جیو انسٹی ٹیوٹ کو چنا۔ سوشل میڈیا میں یہ چرچا بھی ہو رہی ہے کہ جیو انسٹی ٹیوٹ کا انسٹی ٹیوٹ آف امیننس کے لئے چنا جانا صرف مودی -امبانی کی دوستی کا ہی نتیجہ نہیں ہے اور نہ یہ کوئی کامیڈی آف ایررس ہے ، بلکہ اس کے پیچھے نوکر شاہی اور سرمایہ داروں کے نئے گٹھ جوڑ کی ایک کہانی بھی ابھر کر سامنے آرہی ہے۔ دراصل انسٹی ٹیوٹ آف امیننس کا آئیڈیا یو پی اے 2 کے زمانے میں آیا تھا۔ تب ونے شیل اوبرائے وزارت برائے انسانی وسائل میں ہائی ایجوکیشن سکریٹری تھے۔ اوبرائے نے کانگریس کے زمانے میں بھی امبانی کو یونیورسٹی کھولنے کی صلاح دی تھی۔ اس دوران اسے امینینٹ انسٹی ٹیوٹ کا درجہ دلانے کی کوشش بھی کی گئی لیکن اوبرائے اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اب یہی اوبرائے ریٹائر ہونے کے بعد ریلائنس جیو فائونڈیشن کے ایجوکیشن ایڈوائزر ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن ایم آر مشیلکر کو جیو انسٹی ٹیوٹ کا چانلسر بنایا گیاہے، وہ ہندوستانی سرکار کی وزارت برائے سائنس اینڈ ٹکنالوجی کے تحت تشکیل شدہ نیشنل انوویشن فائونڈیشن کے چیف ہونے کے ساتھ ہی ریلائنس انڈسٹریز کے بھی ڈائریکٹر ہیں۔پھر تو جیو انسٹی ٹیوٹ کو وہ درجہ ملنا ہی تھا۔
اب ذرا اس کھیل کو سمجھنے کے لئے مودی اور مکیش امبانی کے قریبی رشتوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 25 اکتوبر 2014 کو وزیر اعظم مودی کی مکیش -نیتا امبانی کے ساتھ ایک فوٹو سوشل میڈیا میں وائرل ہوا تھا۔ موقع تھا ممبئی میں سر ایچ این ریلائنس ہاسپیٹل کی نو تعمیر شدہ عمارت کے افتتاح کا۔1925 میں قائم اس اسپتال کی 19 منزلہ نئی عمارت کی تعمیر ریلائنس فائونڈیشن نے کرائی ہے۔ اس فوٹو میں مودی اپنے بائیں ہاتھ سے نیتا امبانی کا ہاتھ اور دائیں ہاتھ سے مکیش امبانی کا ہاتھ تھامے انتہائی خوش ماحول میں دکھ رہے ہیںجبکہ مکیش امبانی کا ایک ہاتھ مودی کی پیٹھ پر ہے ۔ آزادی کے بعد کے سیاسی تاریخ میں شاید ہی کسی صنعتکار نے کسی وزیر اعظم کی پیٹھ پر اس طرح عوامی طور پر ہاتھ رکھ کر بات کرنے کی ہمت کی ہو۔ اسی طرح پانچ ستمبر 2016 کو ملک کے سارے اہم اخباروں میں جیو 4جی سروس کے لانچ کے موقع پر چھپے ایک اشتہار نے بھی میڈیا میں خوب سرخیاں بٹوری۔ریلانس جیو کے اس اشتہار میں وزیر اعظم مودی کی مسکراتی ہوئی تصویر چھپی تھی۔ کسی پرائیویٹ کمپنی کے ذریعہ ملک کے وزیر اعظم کو برانڈ امباسڈر کی شکل میں استعمال کرنے کا یہ واقعہ جمہوریت کی تاریخ کا بے مثال واقعہ تھا۔اپوزیشن نے اس پر کافی شور بھی مچایا لیکن وزیر اعظم اور ان کی سکریٹریٹ نے اس پر خاموشی اختیار کرلی۔بدلے میں ڈیجیٹل انڈیا کے بہانے امبانی نے مودی کے نوٹ بندی کے فیصلے کی کھل کر حمایت کی۔مودی اور مکیش امبانی کی یہ جگال بندی آج بھی جاری ہے۔
بہر حال اس معاملے میں ہوئی زبردست فضیحت کے بعد سرکار اب سیاسی بچائو کے طریقے تلاش کرنے میں لگ گئی ہے۔ بتایا جارہاہے کہ سرکار 10 عوامی اور10 پرائیویٹ اداروں کو انسٹی ٹیوٹ آف امینیسن کا درجہ دینے جارہی ہے۔ ان میں سے ابھی صرف 6 ناموں کا ہی اعلان کیا گیاہے۔ زیر غور اداروں میں آئی آئی ٹی مدراس، آئی آئی ٹی کھڑک پور، دہلی یونیورسٹی، جادھو پور یونیورسٹی اور انا یونیورسٹی جیسے بڑے نام بھی ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ ملک بھر میں لیول ایجوکیشن کے لئے معروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کا نام اس لسٹ کے لئے شارٹ لسٹ ہی نہیں کیا گیا۔ یہ بھی جانکاری میں آیا ہے کہ گرین فیلڈ کٹیگری کے علاوہ اسپیشل کٹیگری کے تحت آئی آئی ایم احمد آباد، آئی آئی ایم کولکتاتہ، ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ ممبئی، پنجاب ایگریکلچر یونیورسٹی لدھیانہ اور ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز ممبئی کا انتخاب ایکسپرٹ کمیٹی کے ذریعہ کیا گیا تھا لیکن ان کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ پھرآدھے ادھورے ناموں کا اعلان کرنے کی ہڑبڑی کیا تھی؟سوال یہ بھی ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے چار سالہ ڈگری کورس کو سرکار نے 2014 میں غیر قانونی بتا کر بند کرنے کا حکم دیا تھا،اب جیو انسٹی ٹیوٹ کو اسی طرح کا کورس چلانے کی منظوری کیسے دے دی گئی؟اس کا جواب تو سرکار ہی دے سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *