فیفاعالمی کپ 2018:فرانس 20 سال بعد پھر سے فٹ بال کا بادشاہ

fifa-cup-2018
فیفاعالمی کپ میں اتوارکوفرانس نے لجنیکی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے دلچسپ مقابلے میں پہلی بارش عالمی کپ میں کھیل رہی کروشیاکو4-2سے شکست دی۔بہرکیف فرانس نے توقعات کے مطابق شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی بار فائنل کھیلنے والے کروشیا کو اتوار کے روز 4۔2 سے شکست دے کر 20 سال بعد 21 ویں فیفا عالمی فٹ بال ٹورنامنٹ کا خطاب جیت لیا۔ فرانس کے جیت حاصل کرتے ہی صدر امیونل میکرون بھی بے حد پرجوش ہو گئے۔ وہ وی وی آئی پی گیلری میں کھڑے ہو کر ہی ڈانس کرنے لگے۔ پھر میدان میں اتر آئے اور کھلاڑیوں کو گلے لگا کر مبارک باد دی۔ میکرون نے کروشیا کی صدر کولنڈا گرابر کتارووک کو بھی گلے لگایا۔ روس کے صدر ولادمیر پوتن بھی فائنل میچ دیکھنے پہنچے تھے۔
فائنل میچ کے ختم ہوتے ہی روس سے لے کر فرانس تک ہر فٹ بال شائق جشن میں ڈوب گیا۔ فرانس کے صدر بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پائے۔ انہوں نے کبھی ڈانس کر کے جشن منایا تو کبھی کھلاڑیوں کے ساتھ تصاویر کھنچوا کر خوشی کا اظہار کیا۔ میکرون نے تمام کھلاڑیوں کو گلے لگا کر مبارک باد دی۔ اس درمیان بارش ہوتی رہی، لیکن میکرون بارش میں بھیگتے رہے۔
فرانس نے 1998 میں اپنی میزبانی میں پہلی بار فیفا ورلڈ کپ جیتا تھا اور اس کامیابی کے 20 سال بعد اس نے ایک بار پھر عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ اس شکست کے ساتھ کروشیا کا اپنے اولین فائنل میں تاریخ بنانے کا خواب ٹوٹ گیا۔ کروشیا کو خودکش گول کرنے کا نقصان اٹھانا پڑا۔فرانس کا یہ دوسرا عالمی خطاب ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ دو بار عالمی اعزاز جیتنے والے ارجنٹائن اور یوراگوئے کے زمرے میں آ گیا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *