افریقی و مسلم کھلاڑیوں کی بدولت جیتا فرانس ورلڈ کپ

france-muslim-football-player
فرانس نے گزشتہ 15 جولائی کو روس میں کھیلے جانے والے فائنل میچ میں کروشیا کو دو کے مقابلے چار گول سے شکست د ے کر عالمی کپ اپنے نام کرلیا۔ فرانس کی ٹیم اور اہل فرانس نے عالمی کپ جیتنے پر خوب جشن منایا اور اب تک منارہے ہیں لیکن ایک امریکی مصنف خالد بیدون نے فرانس کی جیت پر ایک ٹویٹ کرکے نسل پرستی اور امیگریشن پر بحث چھیڑ دی ہے۔
دراصل فرانس کی فاتح ٹیم کو سب سے زیادہ کثیرالثقافتی ٹیموں میں سے ایک کے طور پر پہچانا جارہا ہے۔ فرانس کی قومی ٹیم کے 23 کھلاڑیوں میں سے 15 کھلاڑی افریقی نژاد ہیں ، جن میں زیادہ تر وہ ممالک ہیں جو فرانسیسی کالونیاں رہی ہیں ۔چونکہ فرانس کی فٹبال ٹیم میں7 مسلم کھلاڑی بھی شامل ہیں، اس لیے امریکی مصنف خالد بیدون نے ٹویٹ کیا:
ڈیر فرانس ،
ورلڈ کپ جیتنے پر مبارکباد۔
آپ کی ٹیم کا 80 فیصد افریقی ہے، نسل پرستی اور زینوفوبیا کو کاٹ لیں۔
آپ کی ٹیم کے 80 فیصد مسلمان ہیں، اسلامو فوبیا کو کاٹ لیں۔
افریقیوں اور مسلمانوں نے آپ کو دوسرا ورلڈ کپ دیا، اب انھیں انصاف فراہم کریں۔
امریکی مصنف کی اس پوسٹ کے بعد سے اس ٹویٹ کو مضمون لکھے جانے تک ایک لاکھ 63 ہزارسے زیادہ بار ریٹویٹ اور تین لاکھ70 ہزار بار پسند کیا جاچکا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ 2018 ٹورنامنٹ 14 جون سے روس میں شروع ہوااور 15جولائی کو اختتام پر پہنچا ۔ دنیا کے سب سے مقبول کھیل فٹبال کے عالمی کپ ٹورنامنٹ میں دنیا کی 32 ٹیموں نے حصہ لیا، جس میں مجموعی طور پر 736 کھلاڑی اپنے اپنے ملک کی ٹیم کے لیے میدان میں کھیلے ۔ ان 736 کھلاڑیوں میں155 مسلم کھلاڑیوں نے بھی اپنے کھیل کے جوہر دکھائے۔یہ مسلم کھلاڑ ی مسلم ممالک کی ٹیموں کے علاوہ دوسری ٹیموں کی طر ف سے بھی کھیلے۔
ورلڈ کپ جیتنے والی فرانس کی ٹیم میں سات مسلم کھلاڑی درج ذیل ہیں:
بینجامن میندی:میندی افریقی ملک سینیگل سے یہاں آکر بسے ہیں۔ میندی کے پاس فرانس اور سنینگل دونوں ملکوں کے شہریتہے۔ میندی ہندوستان میں انڈین سپر لیگ میں بھی کھیل چکے ہیں۔
عادل رامی: عادل کی پیدائش فرانس میں ایک مورکن خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کا خاندان فریجس آکر بس گیا تھا۔
عثمان ڈینبلے: عثمان ڈینبلے فرانس ٹیم کے اسٹرائیکر ہیں۔ عثمان کی پیدائش 15 مئی 1997 میں فرانس کے ورنون میں ہوئی تھی ۔ ان کے پاس تین ملکوں کی شہریت ہے۔ عثمان کی ماں کا تعلق سینیگل سے ہے جبکہ ان کے والد مالی سے تعلق رکھتے ہیں۔
پال پوگبا: پول بوگبابنیادی طور پر افریقی ملک گنی کے ہیں۔ پوگبا کی پیدائش فرانس میں ہوئی لیکن ان کے والدین گنی سے یہاںآکر بسے۔ پوگبا کے دو بڑے جڑواں بھائی فلورینٹن اور ماتھیاس گنی میں پیدا ہوئے اور دونوں ہی فٹ بالر ہیں اور وہ گنی کی قومی فٹ بال ٹیم کے ممبر ہیں۔ پوگبا کے پاس فرانس اور گنی دونوں ملکوں کی شہریت ہے۔ فرانسیسی مڈ فیلڈ کی مضبوط دیوار مانے جانے والے پوگبا اپنے ملک کے لیے 10 گول کرچکے ہیں۔ عالمی کپ میں ان ہی کی بدولت فرانس نے 3-1 سے سبقت حاصل کی تھی۔ فرانس نے عالمی کپ کے 7 میچوں میں محض 6 گول کھائے، جن میں سے 3 ارجینٹینا اور 2 کروشیا کے خلاف تھے۔ چار میچوں میں تو مخالف ٹیم ایک بھی گول نہیں کرسکی اس کے پیچھے کی وجہ پوگبا کی قیادت والی مضبوط مڈ فیلڈ تھی۔
نغولو کانتے: نگولو کانتے مڈ فیلڈر ہیں۔ ان کا خاندان 1980 میں مالی سے فرانس میںآکر بس گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب نغولو فرانس کی کسی بھی سطح کی ٹیم میں نہیں کھیلے تھے، تب مالی نے انھیں2015میں افریقن کپ آف نیشنس میں ان کی ٹیم سے کھیلنے کی دعوت بھیجی تھی لیکن کانتے نے منع کردیا۔17 مارچ 2016 کو انھیں فرانس کی ٹیم سے کھیلنے کا موقع ملا۔
جبریل سدیبے: سدیبے فرانس کی ٹیم میں ڈفینڈر کا رول ادا کرتے ہیں ۔ ان کی پیدائش 29 جولائی 1992 کو ہوئی تھی۔ ان کے والد ین کا آبائی وطن مالی ہے۔
نبیل فقیر : نبیل فقیر اپنی ٹیم کے ڈفینڈر کھلاڑی ہیں۔ ان کا آبائی وطن الجیریا ہے۔ فقیر اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب انھوں نے مارچ 2015 میں فرانس کی ٹیم کی طرف سے کھیلنے سے انکار کرکے الجیریا کی ٹیم کی طرف سے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ الجیریا کو تب عمان اور قطر کے خلاف دوستانہ میچ کھیلنے تھے جبکہ فرانس کو برازیل اور ڈنمارک سے کھیلنا تھا۔
ان مسلم کھلاڑیوں کے علاوہ بھی اور کئی ایسے فٹبال کھلاڑی ہیں، جن کا تعلق افریقی ملکوں سے ہے۔ فرانس کی جیت میں مجموعی طور پر23کھلاڑیوں میں سے 15 کھلاڑیوں کا تعلق افریقہ سے ہے۔ان ہی کھلاڑیوں نے فرانس کو 1998 کے بعد پھر سے دوبارہ چمپئن بنادیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *