غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام منعقدہ پانچ روزہ اردو ڈرامہ فیسٹول اختتام پذیر

urdu-darama
نئی دہلی:غالب انسٹی ٹیوٹ کی ثقافتی تنظیم’’ہم سب ڈرامہ گروپ‘‘ کے زیرِ اہتمام اردو ڈرامہ فیسٹول کا اختتام’’چند روز اور میری جان‘‘ نامی ڈرامے سے ہوا۔6جولائی سے 10جولائی تک چلنے والے اس ڈرامے کاافتتاح سابق چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا ڈاکٹر ایس۔وائی۔قریشی نے کیااور مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے جمّوں اینڈ کشمیر کے سابق چیف جسٹس بدر دُرریز احمد موجود تھے۔ 6؍جولائی کی افتتاحی تقریب کے بعد سب سے پہلا ڈرامہ معروف ہدایت کار اور فن کار دانش حسین نے ابنِ انشاء کی تحریر کو بنیاد بناکر نہایت ہی خوبصورت اندازمیں ڈرامہ’’قصہ اردو کی آخری کتاب کا‘‘ پیش کیااس ڈرامے میں دانش حسین اور ان کے ساتھیوں نے ابنِ انشاء کی تحریر اور کچھ اپنی تخلیق کو ملاکر حالاتِ حاضرہ اور ملک کے بدلتے ماحول پر طنز و مزاح کے ساتھ ڈرامے کواسٹیج کیا۔ منشی پریم چند کا مشہور افسانہ ’’کفن‘‘کے تناظر میں ایم۔کے۔رینا نے اپنی تخلیق ’’کفن چور‘‘ کا اضافہ کرکے افسانہ کفن کے کرداراور کفن چور میں کشمیرکی صورت حال کو ڈرامے میں پیش کرنے کی کوشش کی۔
فیسٹول کا تیسرا ڈرامہ جو ’’اینٹی نینشل غالب‘‘ کے نام سے پروفیسر دانش اقبال نے تحریر کیاتھااُسے بڑی ہی خوبصورتی کے ساتھ فن کاروں نے پیش کیااس ڈرامے کی خاص بات یہ تھی کہ غالب کو عدالت میں ملزم بناکر پیش کیاگیاتھااور طویل بحث کے بعد ڈرامے میں جج کا کردار نبھارہی اداکارہ نے غالب کو باعزّت بری کیا۔ جواہر لعل نہرو یونیوسٹی کے طلبہ کی ثقافتی تنظیم بہروپ آرٹس گروپ نے فیسٹول کاچوتھا ڈرامہ ’’آدمی نامہ‘‘ پیش کیا۔ اس ڈرامہ میں دلّی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے استاد ڈاکٹر محمد کاظم نے استاد کا قابلِ تعریف کردار اداکیااور اس ڈرامے میں اردو کے ایک اور استاد ہادی سرمدی کے کردار کوبھی سامعین نے خوب پسند کیا۔یہ ڈرامہ بھی حالاتِ حاضرہ کو مدِّ نظر رکھ کر اسٹیج کیا گیا۔فیسٹول کا آخری ڈرامہ ’’چند روز اور میری جان‘‘ جوکہ فیض احمد فیض اور ایلس فیض کے خطوط کو بنیاد بناکر سلیمہ رضانے پیش کیا تھاجسے بھی بے حد پسند کیاگیا۔ سلیمہ رضانے ایلس فیض کے اُن خطوط کو بڑے ہی خوبصورت اور ڈرامائی اندازمیں پڑھاجسے فیض نے اپنی قید کی زندگی میں تحریر کیاتھا۔ اِن تمام ڈراموں کی خاص بات یہ تھی کہ ان میں ادب اور تاریخ کا بہت ہی خوبصورت امتزاج تھا۔
تمام ڈرامہ نگاروں اور ہدایت کاروں کو پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، ڈاکٹر رخشندہ جلیل اور ڈاکٹر رضاحیدر نے مومنٹو اور غالب انسٹی ٹیوٹ کی مطبوعات کا تحفہ پیش کیا۔ فیسٹول کو کامیاب بنانے میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے ایڈمنسٹیٹوآفیسر ڈاکٹر ادریس احمد اور فیسٹول کے کوارڈینیٹر عبدالتوفیق نے اہم کردار ادا کیا۔ پانچ دنوں تک چلنے والے اس جشنِ ڈرامہ میں مختلف علوم و فنون کے افراد کثیر تعداد میں موجود تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *