دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ضرورت ہے سخت احتیاط کی

دارالعلوم دیوبند کے فتوے کو ایشو بنا کر غلط فہمی پھیلانے کا عمل پرانا ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ یہاں سے جاری ہونے والے فتاویٰ میں کچھ فتوے کے اصل متن پر کم اور افواہوں پر زیادہ توجہ دی گئی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورے ملک میں ایک بے چینی سی پیدا ہوگئی۔کچھ دنوں پہلے یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ دارالعلوم دیوبند تبلیغ جماعت کے مخالف ہے۔ اس افواہ نے تبلیغ سے جڑے لوگوںکو بہت تکلیف پہنچائی اور کئی مساجد میں تو اسے لے کر ہنگامہ بھی ہوا۔بعد میں دارالعلوم سے اس بات کاخلاصہ کیا گیا کہ ادارہ جماعت کے مخالف نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح کا کوئی فتویٰ جاری کیا گیا ہے۔البتہ جماعت کے تعلق سے کچھ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
حالیہ دنوں دارالعلوم کے تعلق سے ایک نئی خبر آرہی ہے ۔وہ ہے شیعہ کے یہاں دعوت یا افطار کرنے کے تعلق سے۔ اس افواہ نے اتنی بھیانک شکل اختیار کرلی کہ خود دیوبندی مکتبہ فکر کے جید عالم اور جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کو اس فتویٰ کے خلاف اپنے موقف کو عوام کے سامنے لانا پڑا۔دراصل دارالعلوم دیوبند نے ایک فتویٰ میں سنی مسلمانوی کوشیعوں کے یہاں افطار یا شادی وغیرہ کی دعوت کھانے سے بچنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ شیعوں کے یہاں دعوت و افطار وغیرہ میں شرکت کرنے سے سنیوں کو پرہیز کرنا چاہئے۔
محلہ بڑضیاء الحق کے باشندہ سکندر علی گوڑ نے دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام سے سوال کرتے ہوئے معلوم کیا تھاکہ شیعہ حضرات رمضان المبارک میں افطار کی دعوت کرتے ہیں، کیا سنی مسلمانوں کا اس میں شریک ہونا جائز ہے؟ شیعہ حضرات کے یہاں شادی وغیرہ کے موقعوں پر جانا اور وہاں کھانا کیسا ہے؟۔
مذکورہ سوال کے جواب میں دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام نے کہاکہ دعوت چاہے افطار کی ہو یا شادی بیاہ کی ہو، شیعوں کی دعوت میں سنیوں کو کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ دارالعلوم دیوبند کے مفتی وقار علی ،مفتی فخر الاسلام اور مفتی زین الاسلام قاسمی کے دستخط سے جاری فتویٰ میں پرہیز کرنے کا مشورہ دیاگیا ہے۔

 

 

 

اس فتویٰ پر عوامی سطح پر خوب ہنگامے ہوئے اور چونکہ وہ رمضان کے آخری ایام چل رہے تھے جب یہ فتویٰ آیا تھا تو کئی جگہوں پر فتویٰ کی تردید اور باہمی اظہار یکجہتی کے لئے شیعہ -سنی نے مل کر افطار پارٹی کا اہتمام بھی کیا۔چنانچہ نئی دہلی میںبھی ایک افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ اس پارٹی میں دونوں برادری کے سماجی کارکنان او رصحافیوں کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔اس میں دہلی اقلیتی کمیشن کے چیر مین ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کے علاوہ مولانا جنان اصغر بھی شامل ہوئے۔اس موقع پر سنی اور شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والوں نے ایک ساتھ مل کر افطار کیااورخاص بات یہ رہی کہ افطار کے بعد سنی مسلمانو ں نے شیعہ عالم دین کی امامت میں نماز بھی ادا کی۔
فتویٰ کی حقیقت کو جاننے کے لئے ’’چوتھی دنیا‘‘ کے نمائندہ نے سب سے پہلے فتویٰ لینے والے سکندر علی سے موبائل فون پر رابطہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا واقعی یہ فتویٰ صحیح ہے اور اس نے دارالعلوم دیوبند سے ہی لیا ہے تو اس نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ فتویٰ دارالافتا ،دارالعلوم دیوبند سے ہی جاری کیا گیا ہے۔اس تصدیق کے بعد ’’چوتھی دنیا ‘‘ نے دیوبندی مکتبہ فکر کے علماء سے اس سلسلہ میں بات کی ۔ مولانا ارشد مدنی کا بیان تو پہلے ہی آچکا تھا۔ انہوں نے صاف لفظوں میں یہ کہہ دیا تھا کہ وہ شیعہ کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں اور اس سے انہیں پرہیز نہیں ہے۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد،شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر مفتی محمد سراج الدین قاسمی نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کے مفتی نے مستفتی کے سوال کا جو جواب دیا ہے، وہ نہ فتوی ہے اور نہ ہی اس میں کوئی حکم شرعی بیان کیا گیا ہے۔ بلکہ اس میں سنیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اہل تشیع کے یہاں کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اس مشورہ کی بنیاد یہ ہے کہ عموماً ایسا سننے میں آتا ہے کہ شیعہ حضرات سنیوں کے سامنے کھانے یا پینے کے لیے کوئی چیز پیش کرتے ہیں تو اس میں کوئی نجاست یا تھوک ملادیتے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر یقینی طور پر ایسی جگہ کھانے یا پینے سے پرہیز کرنی چاہئے اور اگر یہ بات درست نہیں ہے تو پھر پر ہیز کی ضرورت نہیں ہے۔ مفتی سراج الدین قاسمی نے یہ بھی کہا کہ دارالعلوم دیوبند کے جواب میں جس فتوی کی کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے، اس میں اسی بات کو بنیاد بنایا گیا ہے‘۔
بہر کیف فتویٰ کا یہ ایک رخ ہے جس کو بنیاد بنا کر جابجا مخالفت ہوئی اور دونوں مکتبہ فکر کے علماء کرام نے اپنے اپنے طور پر اتحاد باہمی کے لئے بیانات جاری کئے اور فتویٰ کی تردید میں بیانات دیئے گئے ۔مگر جو اصل بات ہے اسے چھپا دیا گیا۔ فتویٰ کے الفاظ پر کسی نے غور نہیں کیا۔ اس میں شیعہ کے یہاں افطار کرنے یا پھر دعوت کھانے کو ناجائز یا حرام قرار نہیں دیا گیا ہے بلکہ پرہیز کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کھانے والے کو اختیار ہے کہ وہ چاہے تو شیعہ کے یہاں کھائے اور چاہے تو نہ کھائے ۔ اسے کھانے پر گنہگار قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔یہ صورت حال اتنی سنگین نہیں تھی ،جتنا سنگین بنا کر پیش کیا گیا ہے۔

 

 

 

اس سلسلہ میں ایک انگریزی میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ فتویٰ ہی فیک ہے۔اس نے دیوبند کے کئی اسکالر سے رابطہ کیا اور اس فتویٰ کے تعلق سے بات کی تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔خود دارالعلوم دیوبند کے سائٹ پر جہاں تمام فتاویٰ اپ لوڈ ہوتے ہیں، اس فتویٰ کا کہیں ذکر نہیں ہے۔مشہور عالم دین مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے مذکورہ اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دارالعلوم اس طرح کا فتویٰ دے ہی نہیں سکتا ۔ محض قوم کے اتحاد کو توڑنے کی سازش کے تحت افواہ پھیلائی گئی ہے۔
اس سلسلہ میں نئی دہلی میں شیعہ و سنی نے مل کر ایک میٹنگ کی اور اس میں اس بات پر زور دیا کہ فتویٰ کے نام پر پروپیگنڈہ کرکے مسلم اتحاد کو توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ایسے پرپیگنڈوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔مشہور شیعہ عالم دین مولانا یعسوب عباس نے بھی اس فتوی کو فیک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ دارالعلوم کے بارے میں ایسی افواہیں پھیلاتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔
دراصل کچھ لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے کہ وہ فیک نیوز کے سہارے ملک میں بد امنی اور بے اعتمادی کی ہوا پھیلاتے ہیں ۔ چونکہ سوشل میڈیا فیک نیوز کے لئے ایک بہترین ہتھیار ہے ۔لہٰذا جب بھی کسی فرد کو کسی شخصیت یا ادارے کے بارے میں غلط فہمی پھیلانی ہوتی ہے تو وہ سوشل میڈیا کا سہارا لے کر فیک نیوز کو وائرل کردیتا ہے۔ جب تک اس کی تحقیق ہوتی ہے تب تک افواہ بہت پھیل چکی ہوتی ہے اور شر پسند عناصر کا مقصد پورا ہوچکا ہوتا ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری طور پر فیک نیوز کی روک تھام کے لئے کوئی مضبوط قدم اٹھایا جائے تاکہ کسی فرد یا ادارے کے بارے میں غلط فہمی پھیلاکر اس کی شناخت کو خراب نہ کیا جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *