اترپردیش میں تعلیم اور روزگار کی بدحالی جاگ اٹھے ہیں طلباء ونوجوان

اتر پردیش میںتعلیم اور روزگار کی بدحالی کو دیکھتے ہوئے نوجوان بھارت سبھا، دِشا چھاتر سنگٹھن اور جاگروک ناگرک منچ کی ریاست گیر ’حق تعلیم – روزگار مہم‘ چل رہی ہے۔ اس مہم کے تحت 10 نکاتی ڈیمانڈ لیٹر پر ریاست بھر میں لاکھوں دستخط کرائے جارہے ہیں۔ بھگت سنگھ کے یوم شہادت 23 مارچ سے شروع ہوئی اس مہم کے تحت بھگت سنگھ کے 111 ویں یوم پیدائش 28 ستمبر کو ہزاروں طلبہ ، نوجوان اور شہری تعلیم و روزگار سے جڑے مطالبات کو لے کر سرکار کے درواز ے پردستک دیںگے ۔
نئی نسل کی بیداری
ملک کی سوا سوکروڑ آبادی کا چھٹا حصہ اترپردیش میںبستا ہے اور اس کا قریب دو تہائی حصہ بچوں، نوجوانوں اور جوانوں کا ہے۔ مگر جو بات کسی سماج کی طاقت ہونی چاہیے، وہ مسئلہ بن گئی ہے۔ نوجوان آبادی کی سب سے بڑی ضرورت ہے، اچھی تعلیم اور قابل عزت محفوظ روزگار۔ لیکن ریاست کے عام گھروں کے بچے اور نوجوان اس سے محروم ہیں۔ اتر پردیش میںتعلیم کی حالت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست بھر کے سرکاری اسکولوں میںاساتذہ کے پونے تین لاکھ عہدے برسوںسے خالی پڑے ہیں۔ پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک اندھا دھند پرائیویٹائزیشن نے تعلیم کا ایسا بازار بنا دیا ہے جہاںعام گھروںکے بچوںکے لیے اچھی تعلیم پانا ناممکن ہوتا جارہا ہے۔
روزگار محکمے کے افسروں کے مطابق اترپردیش میںبے روزگاروں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ روزگار دفتروں کے دائرے سے باہر، سال میںکچھ ہی دن یا برائے نام روزگار کرنے والوںکو بھی جوڑ لیںتو یہ ا عدادوشمار چار کروڑ سے اوپر چلے جائیں گے۔ 70 لاکھ نوکریاںدینے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئی بی جے پی سرکار کی جو رفتار ہے، اس سے آج کے بے روزگاروں کو اگلے 50 سال میں بھی روزگار نہیںمل پائے گا۔ نئے روزگار پیدا کرنا تو دور کی بات ہے۔
ریاست میںسرکاریں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن آبادی کے تناسب میں روزگار کے مواقع بڑھنے کے بجائے کم ہوتے جارہے ہیں۔ سرکاری نوکریاں برائے نام نکل رہی ہیں۔ ریگولر عہدوں پر ٹھیکے سے کام کرائے جارہے ہیں اور خالی عہدوں کو بھرا نہیںجارہا ہے۔ پبلک سیکٹر کی انڈسٹریز کو بند کرنے یا نجی ہاتھوں میںبیچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بھاری دباؤ میںجو بھرتیاںہوتی بھی ہیں تو انھیں طرح طرح کے بہانوں سے سالوںتک لٹکا کر رکھا جاتا ہے۔ بھرتی کے امتحانوں میں پاس ہونے والے امیدواروں کی تقرریاںنہیںکی جاتیں۔ کروڑوں نوجوانوں کی زندگی کا سب سے اچھا وقت بھرتیوں کے لیے اپلائی کرنے، کوچنگ ا ور تیاری کرنے، امتحان اور انٹرویو دینے میںچوپٹ ہو رہا ہے۔ مالی بوجھ سے خاندان کی کمر ٹوٹ رہی ہے۔ ہزاروں نوجوان ڈپریشن کا شکار ہورہے ہیںاورمایوسی میں خودکشی کررہے ہیں۔ مارچ 2018 میں پارلیمنٹ میںجانکاری دی گئی تھی۔ سال 2014-16کے بیچ ملک میں 26,500نوجوانوں نے خود کشی کی تھی۔ لیڈروں، وزیروں اور نوکرشاہوں کی سیکورٹی اور عیاشی پر خرچ ہونے والے اربوں روپے ٹیکس کی شکل میںوصول کیے جاتے ہیں۔ بدلے میں عوام کو تعلیم اور روزگار کی بنیادی سہولیات بھی نہیںدی جاتیں۔

 

 

 

 

 

اترپردیش میںتعلیم و روزگار کی حالت خوفناک
سبھی اہم پارٹیوںکی سرکاریں ریاست میں راج کرچکی ہیں لیکن تعلیم و روزگار کی دو بنیادی ضرورتوںکی حالت بدتر ہوتی چلی گئی ہے۔ سرکاری اعداد شمار کے مطابق (جو حقیقی صورت حال سے بہت پیچھے رہتے ہیں) بے روزگاری کی شرح 6.5 فیصد ہے جو کہ قومی شرح 5.8 فیصد سے کافی زیادہ ہے۔ لیبر منسٹری کے اعداد و شمار کے مطابق 2015-16 میں قومی سطح پر ہر فی ہزار افراد میں37 افراد بے روزگار تھے جبکہ اترپردیش میں1000 لوگوں میں 58 بے روزگار تھے۔ 18 سے 29 سال کے لوگوں میںیہ عدد قومی سطح پر 102 تھا تو اترپردیش میں 148 تھا یعنی روزگار کی تلاش کرنے کی عمر میںہر چھٹا شخص بے روزگار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 15 سال میںروزگار کی تلاش میںقر یب ایک کروڑ لوگ ریاست سے باہر جاچکے ہیں جن میںسے زیادہ تر بے حد کم تنخواہ پر تارکین وطن مزدورکی زندگی گزار رہے ہیں۔
اسکول جانے والے ریاست کے قریب 2.74 کروڑ بچوںمیںسے آدھے سے زیادہ سرکاری اسکول میں جاتے ہیں۔ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں تقریباً دو لاکھ 75ہزار ٹیچروں کی اسامیاں خالی پڑی ہیں ۔ 10,187 پرائمری اور4895 اَپر پرائمری اسکول تو ایسے ہیںجو صرف ایک ٹیچر کے بھروسے چل رہے ہیں۔ اسکولوں کی حالت اتنی خستہ ہے کہ 55 فیصد طلبہ اسکول جاتے ہی نہیںہیں۔ اسکولوں کی حالت سدھارنے کے بجائے سرکار اب ہزاروںسرکاری اسکولوںکو ہی بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اوپر کی کچھ فیصد آبادی، جو سال بھر میں50 ہزار سے لے کر 5 لاکھ روپے صرف ایک بچے کی فیس پر خرچ کر سکتی ہے، اس کے لیے ساری سہولیات سے لیس پرائیویٹ اسکول موجود ہیںلیکن باقی لوگ نجی اسکولوںمیںاپنے کو لٹوانے کے بعد بھی بچوں کو ڈھنگ کی تعلیم نہیںدے پاتے۔ ان اسکولوں میں ٹیچروں کا استعمال بھی اپنے عروج پر ہے۔ امتحانوںمیںدھاندلی ، پرچے لیک ہونے کے بڑھتے واقعات جرجر اور سڑے ہوئے تعلیمی نظام کے پھوٹ رہے کوڑھ کے ہدف بھر ہیں۔ ان واقعات کی جانچ کرکے سدھار کی ٹھوس کارروائی کرنے کے بجائے ان کے خلاف آواز اٹھار ہے طالب علموں اور نوجوانوںپر ہی جگہ جگہ لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں۔
ریگولر ٹیچروں کی تقرری کرنے کے بجائے پہلے تو بے حد کم تنخواہ پر ’شکشا متر‘ اور ’شکشا پریرک‘ مقرر کئے گئے اور پھر کئی کئی سال تک کام کرنے کے بعد ایک جھٹکے میںایک لاکھ ’شکشا پریرکوں‘ کو بے روزگار کردیاگیا اور ہزاروں’شکشا متروں‘ کی بھرتی میںایڈجسٹمنٹ کو رد کردیا گیا۔ ریاست کی سوا تین لاکھ آنگن باڑی کارکن اور سہائیکائیں سالوںسے ریاستی ملازمین کے درجے اور اعزازیہ کی مانگ کر رہی ہیں لیکن کسی سرکار سے جھوٹے وعدوں اور لاٹھیوں کے سوا انھیںکچھ نہیںملا ہے۔ اتنی بری حالت کے باوجود ریاست میںتعلیم کے خرچ میںلگاتار کٹوتی کی جارہی ہے۔
غلط دلیل
بے روزگاری کی بات اٹھنے پر اقتدار میںبیٹھے لوگوںکی طرف سے اکثر دلیل دی جاتی ہے کہ سرکار سبھی کو روزگار دے ہی نہیںسکتی۔ اکثر آبادی کی دلیل دے کر بھی کہا جاتا ہے کہ سب کو نوکری دینا ممکن نہیںہے ۔ ایسی دلیلوںکا جواب سرکار کے اعداد و شمار ہی دیتے ہیں۔ مرکز میںکارمک معاملوںکے وزیر مملکت جتندر سنگھ نے راجیہ سبھامیںمانا ہے کہ ملک میںکل 4,20,547 عہدے اکیلے مرکز میںخالی پڑ ے ہیں۔ ملک بھر میںپرائمری اور اَپر پرائمری ٹیچروں کے قریب 10 لاکھ عہدے، پولیس محکمے میں5,49,025 عہدے، 47سینٹرل یونیورسٹیوں میںاساتذہ کے 6 ہزار عہدے ، 363 ریاستی یونیورسٹیوں میں اساتذہ کے 63 ہزار عہدے خالی ہیں۔ 36 ہزارسرکاری اسپتالوںمیں 2 لاکھ سے زیادہ ڈاکٹروں کے اور 11,500سائیکٹرسٹس کے عہدے خالی پڑے ہیں۔ آئے دن حادثے جھیل رہے ریلوے میں قریب 22,500 عہدے خالی ہیں۔ وزارت مالیات کے مطابق مرکز میںکل 36.34میں 11.36 فیصد عہدے خالی ہیں۔ یہی حال سبھی ریاستوںکے مختلف محکموںکا ہے۔ سرکار کی منشا ہی نہیں ہے نوکری دینے کی۔
گزشتہ تین دہائیوںسے پرائیویٹائزیشن- لبرلائزیشن کی پالیسیوں کے چلتے روز گار کی حالت اور بھی بگڑ تی گئی ہے۔ ان ہی پالیسیوں نے ہیلتھ، ٹرانسپورٹ، بجلی، پانی جیسے بنیادی حق کے ساتھ ہی تعلیم کو بھی پوری طرح بازار میںخریدے بیچے جانے والے مال میںتبدیل کردیا ہے۔ کئی تجزیوںکے مطابق، ہر سال دو کروڑ روزگار دینے کے وعدے کے ساتھ ہی اقتدار میںآئے مودی کے راج میں آرگنائزڈ-اَن آرگنائزڈ شعبے میںالٹے دو کروڑ روزگار چھن گئے ہیں۔ اس کی بہت بڑی مار اترپردیش کے لوگوںپر پڑی ہے اوریہ مار صرف کم تنخواہ والے روزگاروںپر نہیںپڑی ہے۔2014 سے 2016 کے بیچ ٹیکنیکل کالجوںمیںکیمپس ریکروٹمنٹ میں45 فیصد کی کمی آگئی ہے۔ اس کا ایک بڑا سبب بے شمار کھل رہے نجی میڈیکل ، ڈینٹل، انجینئرنگ اور مینجمنٹ کالج ہیں، جو موٹی فیس وصول کرنے کے بعد بھی ایسی گھٹیا تعلیم دیتے ہیں جو کسی کے کام کی نہیںہوتی۔
کیا واقعی تعلیم و روزگار لوگوںکا پیدائشی حق؟
اکثر لوگ خود ہی سوچ لیتے ہیںکہ سبھی کو تعلیم اور روزگار دیا ہی نہیںجاسکتاکیونکہ یہ سرکار کی ذمہ داری ہی نہیںہے۔ دراصل لوگوںکے دماغ میںاس دلیل کو بٹھا دیا گیا ہے تاکہ وہ تعلیم و روزگار کو اپنا حق سمجھ کر اس کی مانگ نہ کریں۔ مگر سچائی کیا ہے؟ کسی بھی جمہوری سماج میںکھانا، کپڑا، صحت وتعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہوتا ہے۔ہندوستان سے کم وسائل والے کئی ملک اپنے شہریوں کو مفت تعلیمدیتے ہیں۔ سبھی کوروزگار دینے کے لیے تین چیزیںچاہئیں۔ کام کرنے کے اہل لوگ، ترقی کے امکانات اور قدرتی وسائل۔ ہمارے یہاںیہ تینوں چیزیںبہت زیادہ تعداد میںموجود ہیں۔ سوال سرکاروں کی نیت کا ہے۔روزگارسے خالی ترقی کی بات کرنے والی ساری پارٹیاں سرمایہ پرست اور عوام مخالف ہیں۔ لو گ تعلیم، روزگار،مہنگائی جیسے اصلی سوالوں پر متحد ہوکر آواز نہ اٹھا سکیں،اسی لیے سیاسی پارٹیاں لوگوںکو آپس میںلڑانے اور بانٹنے کا کام کرتی ہیں۔
آج ملک بھر میںطلبہ- نوجوان تعلیم اور روزگار سے جڑی مانگوںپر اقتدار سے ٹکرا رہے ہیں۔ اسی مقصد سے اترپردیش میںحق تعلیم و روزگار مہم شروع کی گئی اور تمام طلبہ- نوجوانوں اور بیدار شہریوںسے اس مہم سے جڑنے کی اپیل کی جارہی ہے۔ اس کے تحت پوری ریاست میںدستخط مہم چلا کر لاکھوں دستخط اکٹھے کیے جارہے ہیں۔ ریاست کے نو ضلعوں، لکھنؤ، الہ آباد، وارانسی، گورکھپور، غازی آباد، مئو، امبیڈکر نگر، جالون اور چترکوٹ میںحق تعلیم و روزگار مہم شروع کی جاچکی ہے اور دیگر ضلعوں میںبھی اس کی توسیع کی جارہی ہے،۔

 

 

 

 

 

حق تعلیم -روزگارمہم کے اہم مطالبے
کام کرنے کے اہل ہر ایک شہری کو مستقل روزگار اور سبھی کو یکساں اور مفت حق تعلیم کو بنیادی حقوق میںشامل کیا جائے۔ ریاستی سرکار اس بارے میںاسمبلی میںتجویز پاس کرکے مرکز کو بھیجے۔
ریاست میںجن عہدوںکے لیے امتحانات ہوچکے ہیں، ان میںپاس ہونے والے امیدواروں کا فوری طور پرتقرر کیا جائے۔ اسامی کے اعلان سے لے کر تقرری نامہ دینے کی مدت میعاد طے کرکے اسے سختی سے نافذ کیا جائے۔ امتحان کے نتائج ڈکلیئر ہونے کے چھ ماہ میںاپوائنٹمنٹ لیٹر دینا لازمی کیا جائے۔ ریاست میںمختلف محکموں میںخالی پڑے لاکھوںعہدوں کو بھرنے کا عمل جلد سے جلد شروع کیا جائے۔ روٹین کے نیچرل کاموںمیںٹھیکے کے رواج پر روک لگائی جائے۔سرکای محکموں میںباقاعدگی سے کام کر رہے سبھی ملازمین کو مستقل کیاجائے اور ایسے سبھی عہدوںپر مستقل بھرتی کی جائے۔ ریاست میںشہری اور دیہی بے روزگاروں کے رجسٹریشن کا انتظام کیا جائے اور روزگار نہیںملنے تک کم سے کم 10,000روپے بے روزگاری بھتہ دیا جائے۔ اسے یقینی بنانے کے لیے ریاستی سرکار ’بھگت سنگھ روزگار گارنٹی قانون‘ منظور کرے۔ ریاست میںسرکاری اسکولوں کی خستہ حالت کو ٹھیک کیا جائے۔ سبھی اسکولوں میںٹیچروں کے خالی پڑے عہدے بھرے جائیں اور طے شدہ معیار کے مطابق پڑھائی کا بندوبست کیا جائے۔ تعلیم پر خرچ بڑھا کر جی ڈی پی کا کم سے کم چھ فیصد کیا جائے۔ پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک تعلیم کے بڑھتے پرائیویٹائزیشن اور مارکیٹنگ پر روک لگائی جائے۔ نجی اسکولوں-کالجوں، میڈیکل-ڈینٹل، انجینئرنگ اور مینجمنٹ کالجوں میںفیس، سہولیات اور اساتذہ کی تنخواہ کے معیار طے کرنے کے لیے قانون بنایا جائے۔
بے روزگار نوجوانوںسے ہر سال کی جانے والی ہزاروںکروڑ روپے کی کمائی بند کی جائے۔ نوکر یوںکے لیے درخواست کی بھاری فیسوںکو ختم کیا جائے اور انٹر ویو اور امتحان کے لیے سفر کو فری کیا جائے۔ پرائیویٹ ٹیوشن اور کوچنگ سینٹروں کی منمانی اور لوٹ کو روکنے کے لیے دستورالعمل بنایا جائے۔ ریاست میںروز گار اور خالی عہدوں کی صورت حال پر سرکار وہائٹ پیپر جاری کرے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *