فلاحی اسکیموں کے باوجود ہندوستان میں بھکمری بڑھتی جارہی ہے

جہاں غریبی ہے، وہاں بھوک اور جہاں بھوک ہے وہاں ناقص غذائیت کی پریشانی پائی جاتی ہے۔ بھوک اور ناقص غذائیت سے موت بھی ہو سکتی ہے۔ ترقی کے تمام دعووں کے باوجود یہ کڑوی سچائی ہے کہ فلاحی ملک ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہندوستان میں اب بھی بھوک سے موتیں ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں جھارکھنڈ کے گریڈیہہ ضلع کے منگرگڈی گاؤں کی اٹھاون سال کی ساوتری دیوی اور چترا ضلع میں پینتالیس سال کے مینا موسہر کی بھوک سے تڑپ کر ہوئی موت نے ثابت کر دیا ہے کہ خوردنی ایشیاء کی تقسیم کے نظم میں سدھار اور زیادہ پیداوار کے باوجود بھک مری کا خطرہ ٹلا نہیں ہے۔
گزشتہ سال ستمبر میں اسی صوبہ کے سمڈیگھا ضلع کے کریمتی گاؤں کی سنتوش اور دھنباد کے جھریا علاقے میں چالیس سال کے رکشہ پولر کی بھوک سے موت ہوئی تھی۔ 2015 کے ’گلوبل ہنگر انڈیکس‘ کے مطابق ہندوستان میں ہر سال تین ہزار سے زیادہ لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں۔ مرنے والوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بھوک سے ہونے والی اموات سرکار، انتظامیہ کی خامیوں اور ناکامیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ سماج کی بے حسی بلکہ بے حسی کو بھی نشان زد کرتی ہیں۔

 

 

 

 

دنیا کی آدھی آبادی کو خطرہ
اقوام متحدہ کی مانیں تو بے حسی کی وجہ سے بھوک اور عدم غذائیت کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ وقت رہتے اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو 2035 تک دنیا کی آدھی آبادی بھوک اور ناقص غذائیت کی زد میں ہوگی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کہتی ہے کہ بھک مری کے شکار زیادہ تر لوگ ترقی پذیر ممالک میں رہتے ہیں۔ ان میں بھی بڑی تعداد ایشیاء اور افریقہ میں۔ دنیا کے 7.6 بلین فاقہ کشوں میں سے 23 فیصد کا بسیرا بھارت میں ہے۔ غیر سرکاری بین الاقوامی ادارے’انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ کی رپورٹ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ ایشیائی ممالک میں ہندوستان کی حالت صرف پاکستان اور بنگلہ دیش سے ہی بہتر ہے جبکہ اس کے پڑوسی ملک نیپال اور میانمار ہندوستان سے بہتر حالت میں ہیں۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں فاقہ کش لوگوں کی تعداد کم ہونے کے بجائے لگاتار بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2015 میں 77 کروڑ لوگ بھوک سے متاثر تھے جو 2016 میں بڑھ کر 81 کروڑ ہو گئے۔ اسی طرح 2015 میں انتہائی بھوک سے پریشان لوگوں کی تعداد 8 کروڑ 2016 میں 10 اور 2017 میں بڑھ کر یہ 12.4 کروڑ ہو گئی ہے۔
بھک مری کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے بلکہ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں غریبی، سماجی نابرابری، بے روزگاری، وسائل پر چند لوگوں کا قبضہ، خوردنی اشیاء کی تقسیم کے نظام میں خرابی اور اناج کی بربادی اہم ہیں۔ بھارت غذا کی بربادی کے معاملے میں دنیا کے امیر ممالک سے بھی آگے ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ملک میں ہر سال کھانے کی اتنی اشیاء برباد ہوتی ہیں جتنی برطانیہ سال بھر میں استعمال کرتا ہے۔
ہندوستان کی کل پیداوار کا رکھ رکھاؤ کا معقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے چالیس فیصد حصہ برباد ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو اس بربادی سے ملک کو ہر سال تقریباً پچاس ہزار کروڑ روپے کی چپت لگتی ہے۔ ساتھ ہی برباد خوردنی اشیاء کو اگانے میں پچیس فیصد صاف پانی کا استعمال ہوتا ہے۔ کھیتی کے لئے جنگل کاٹے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ برباد کھانے کو پیدا کرنے کے لئے 30 کروڑ بیرل تیل کی بھی کھپت ہوتی ہے۔ اس سے ماحول میں کثافت بڑھ رہی ہے۔جس کا نتیجہ عوام کو مہنگائی اور بیماریوں کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
ہوا، پانی اور زمین کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بڑھنے سے آلودہ ہو رہے ہیں۔ اس کا سیدھا اثر کھانے پر پڑ رہا ہے۔ خوردنی اشیاء میں پروٹین اور آئرن کی مقدار لگا تار کم ہو رہی ہے۔ کھاد سائنسدانوں کی مانیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی زیادتی سے کھانے میں موجود غذائیت کے اجزاء برباد ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے چاول، گیہوں اور جو جیسے اناج میں بھی پروٹین کی کمی ہونے لگی ہے۔ ریتا سنگھ کے ذریعہ فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق چاول میں 7.6 فیصد، جو میں 14.1 فیصد، گیہوں میں 7.8 فیصد اور آلو میں 6.4 فیصد پروٹین کی کمی درج کی گئی ہے۔ اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے پیدا ہونے کی یہی رفتار رہی تو 2050 تک دنیا بھر میں پندرہ کروڑ لوگ اس نئی وجہ سے پروٹین کی کمی کا شکار ہو جائیں گے۔ اندازہ یہ بھی ہے کہ 2050 تک ہندوستانیوں کی خوراک سے 5.3 فیصد پروٹین غائب ہو جائے گا اور سوا پانچ کروڑ لوگ پروٹین کی کمی کا شکار ہوں گے۔ یہ صورتحال بھارت کے علاوہ افریقی ممالک کے لئے اور بھیانک ہوگی کیونکہ وہ پہلے سے ہی غذائیت کی کمی سے جوجھ رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا اور شمالی افریقہ سمیت دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے 35.4 کروڑ بچوں اور 1.06 کروڑ خواتین کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ کیونکہ ان کے کھانے میں 3.8 فیصد آئرن کم ہو جائے گا جس کی وجہ سے خون کی کمی کے شکار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔

 

 

 

 

 

بھکمری بڑھ رہی ہے
سرکار نے بھک مری پر قابو پانے کے لئے فوڈ سیکورٹی بل کی منظوری، من ریگا کے تحت کام کی فراہمی، اسکولوں میں مڈ ڈے میل، تغذیہ کی کمی کے شکار بچوں کے لئے اسپتالوں میں کوپوشن وارڈ وں کا قیام، حاملہ خواتین کیلئے تغذیہ بخش خوراک کی دستیابی، بزرگوں کو پینشن، وغیرہ اقدامات کئے ہیں لیکن ان فلاحی اسکیموں کے باوجود بھارت میں پچھلی ایک دہائی میں بھک مری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
ملک میں آج بھی تیس کروڑ لوگ ہر روز بھوکے پیٹ سونے کو مجبور ہیں اور 19 کروڑ لوگوں کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی جبکہ سرکاری گوداموں میں ہر سال ہزاروں کروڑ روپئے کا اناج سڑ جاتا ہے۔ اگر گوداموں میں اسٹور کرنے کی گنجائش سے زیادہ اناج کو غریبوں میں بانٹ دیا جائے تو اس سے بھوک اور تغذیہ کی کمی سے نبٹنے میں مدد ملے گی۔ سپریم کورٹ نے بھی اس سے جڑے ایک معاملہ میں سرکار کو یہی مشورہ دیا تھا۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہر سال بھوک اور کوپوشن کی وجہ سے مرنے والے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے، 38 فیصد بچوں کو صحیح غذا نہیں مل پاتی جس کا اثر ان کی جسمانی و دماغی نشو ونما پر پڑتا ہے۔ کوپوشن کے معاملے میں بھارت جنوبی ایشیاء میں سب سے بری حالت میں ہے۔
روزی روٹی حقوق مہم نے پچھلے ایک سال میں بھوک سے ہونے والی بیس موتوں کا حال ہی میں جائزہ پیش کیا ہے۔ اس سے تشویش ناک صورتحال سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فوڈ سیکورٹی، سماجی تحفظ نظام میں نامناسب پالیسیوں کے نفاز کی وجہ سے کچھ نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ پہلے سے کمزور یہ نظام اتنا درہم برہم ہوگیا ہے کہ راشن و پینشن سے محروم کئی لوگ بھوک سے موت کی دہلیز پر پہنچ رہے ہیں۔
مہم کی ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بھوک سے مرنے والے 20 میں سے 12 جھارکھنڈ کے ہیں۔ کرناٹک میں تین، اترپردیش میں تین اور اڑیسہ میں دو موتیں بھوک سے ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں ان اموات کی تین وجہ سامنے آئی ہیں۔ راشن کارڈ کا آدھار سے لنک نہ ہونا، وقت پر پینشن کا نہ ملنا یا پھر پینشن کا بینک کی غلطی سے کسی دوسرے کے کھاتے میں چلا جانا اور راشن ڈیلر کی من مانی۔
سرکار کو اپنی پالیسی پر عملدرآمد کراتے وقت عام آدمی کی پریشانی اور مجبوری کو دھیان میں رکھنا چاہئے۔ ساتھ ہی لوگوں کو حساس بنانے کی ضرورت ہے۔ اچھی سے اچھی اسکیم بھی عام لوگوں کی حصہ داری کے بغیر ناکام ہو جاتی ہے۔ خوردنی اشیاء کو بربادی سے بچانے کیلئے آنگن واڑی کارکنوں اور سماجی رضاکاروں کے ساتھ عوام کو بیدار کیا جائے۔ راشن اور بزرگوں کی پینشن صحیح ہاتھوں تک پہنچے اس کو یقینی بنانے کیلئے سرکاری نگرانی کے ساتھ محلہ کمیٹیوں، پنچایتوں اور فرنٹ لائن ورکروں کو ذمہ داری دی جائے۔ اکیسویں صدی میں کوئی بھوک سے مر جائے، یہ صرف سرکار اور سماج کی ناکامی نہیں بلکہ انسانیت کی بھی ناکامی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *