اقلیتی اداروں میں دلتوں کے کوٹا کا مطالبہ سیاسی ہے

ان دنوںاقلیتی تعلیمی اداروں میںدلتوں کے کوٹا کا سوال گرم ہے۔ سب سے پہلے وزیر اعلیٰ اترپردیش آدتیہ ناتھ یوگی نے قنوج میں ایک عوامی جلسہ میںتقریر کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ ’’ایک سوال یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ جو کہہ رہے ہیں کہ دلت کی بے عزتی ہو رہی ہے۔۔۔کہ آخر دلت بھائیوںکو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ یونیورسٹی میںبھی ریزرویشن دینے کا فائدہ ملنا چاہیے، اس بات کو اٹھانے کا کام کب کریںگے؟‘‘ انھوںنے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر بی ایچ یو اسے (ریزرویشن کو) اور دیگر پسماندوں دلتوںکو دے سکتا ہے تو پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میںیہ کیوںنہ ہو؟
وزیر اعلیٰ اترپردیش کے اس سوال کے اٹھائے جانے کے چند دنوں بعد 4 جولائی کو اترپردیش شیڈیولڈ کاسٹ /شیڈولڈ ٹرائب کمیشن نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ایک نوٹس جاری کرکے یہ وضاحت طلب کی یہ ایس سی /ایس ٹی کمیونٹیوں کو ریزرویشن کیوں نہیںدیتا ہے؟ریاستی کمیشن کے چیئرمین برج لال سے ایک روز قبل نیشنل کمیشن فارشیڈولڈ کاسٹس رام شنکر کھتریا نے بھی علی گڑھ جاکر اے ایم یو سے شیڈولڈ کاسٹ کمیونٹی کے لیے ریزرویشن پر اپنے موقف کو صاف کرنے کی ہدایت دی تھی جس کے نہ کرنے پر یہ ادارہ مرکز سے فراہم کی جار ہی فنڈنگ سے محروم کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کمیشن نے مذکورہ یونیورسٹی کو یہ معلوم کرنے کے لیے لکھا ہے کہ آخر یہ کمزور طبقات کو ریزرویشن فراہم کرنے کی آئینی ذمہ داریوں کو کیوں پورا نہیںکر رہا ہے؟ کھتریا نے اس سے آگے بڑھ کر یہاںتک کہہ دیا کہ اگر یونیورسٹی کے ذمہ داران اے ایم یو کو ایک اقلیتی ادارہ ثابت کرنے کے تعلق سے ایک ماہ کے اندر جواب نہیںدیتے ہیںتو ان کا کمیشن یو جی سی سے اے ایم یو کی دیے جارہے تمام فنڈس کو بند کرنے کا حکم دے گا۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ میںاے ایم یو کی اقلیتی حیثیت سے متعلق معاملہ سب جوڈیس رہتے ہوئے اترپردیش کے ریاستی وزیر اعلیٰ اور ریاستی ایس سی /ایس ٹی کمیشن کے چیئرمین کے ساتھ ساتھ قومی کمیشن برائے شیڈولڈ کاسٹس کے چیئرمین نے بھی یہ ایشو کیسے اٹھادیا ہے؟ عیاںرہے کہ مرکز کی کانگریس قیادت والی سابق یوپی اے حکومت نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اے ایم یو کو اقلیتی ادارہ نہ ماننے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میںعرضی پیش کی تھی۔ تب عدالت نے اے ایم یو سے جوںکی توں حالت کو حتمی فیصلہ ہوجانے تک برقرار رکھنے کو کہا تھا۔ اس کے مطابق اے ایم یو میںانٹرنل کوٹا کے مختص نصف کی بنیاد پر داخلہ تمام شعبوںمیںہوتا ہے۔ دریںاثناء مرکز میںبی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے سابق حکومت کے ذریعہ دائر کی گئی عرضی کو واپس لیتے ہوئے کہا کہ یہ اقلیتی ادارہ نہیںہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ عدالت میںاس معاملے کے چلتے اے ایم یو ذمہ داران داخلہ پالیسی میں کیسے کوئی تبدیلی کرسکتے ہیں؟ اس لحاظ سے یہ معاملہ یقینا گمبھیر ہے۔

 

 

 

جہاںتک اے ایم یو کے موقف کی بات ہے،اس نے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میںکہا ہے کہ اس نے مذہب یا ذات و برادری کی بنیاد پر سیٹوں کو ریزرو کرنے کی پالیسی کبھی نہیںاپنائی ہے بلکہ یہ مذہب یا ذات و برادری سے ہٹ کر انٹرنل طلباء کے لیے 50فیصد سیٹ ریزرو کرتا ہے۔ اس کا واضح طور پر یہ کہنا ہے کہ یونیورسٹی 1981 کے اے ایم یو ایکٹ کے ذریعہ چلائی جار ہی ہے، جس نے اسے اقلیتی ادارے کی حیثیت دے رکھی ہے اور اقلیتی تعلیمی ادارے آئین کی دفعہ 15(5)کے ذریعہ آئینی ریزرویشنوں کو نافذ کرنے سے بچے ہوئے ہیں یا محفوظ ہیں۔
ظاہر سی بات ہے کہ پورے مسئلے کی جڑ اس سوال پر ہے کہ سرکاری فنڈ فراہم کیے جارہے تعلیمی اداروں کو اقلیتی حیثیت دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ جو لوگ تعلیمی اداروں کی اقلیتی حیثیت کے ایشوز کے ماہرین ہیں، انھیںچاہیے کہ آئین اور مختلف عدالتی فیصلوں کی روشنی میںیہ بتائیںکہ اس معاملے میںواقعی قانونی پوزیشن کیا ہے؟ اسی سے جڑا ایک اور اہم سوال جو ہے، وہ یہ ہے کہ ایک تعلیمی ادارے کی حیثیت کیسے طے ہوگی؟ کیا اس کی حیثیت اس بات سے طے نہیں ہوگی کہ اسے کس نے قائم کیا تھا؟
جہاںتک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا سوال ہے، اس کی اساس 24 مئی 1875 کو سرسید کے ذریعہ قائم کیے گئے علی گڑھ میںایم اے او (محمڈن اینگلو اوریئنٹل) اسکول میں پائی جاتی ہے جو کہ دوبرس بعد ترقی کرکے کالج سطح تک پہنچ گیا اور جس نے 1920 میںسرسید کے انتقال کے 21 برس بعد برطانوی پارلیمنٹ کے ذریعہ یونیورسٹی کا درجہ حاصل کیا۔ پھر آزادی کے بعد اسے سینٹرل یونیورسٹی کی حیثیت سے نوازا گیا۔
اس طرح 1920 میںیونیورسٹی کا درجہ حاصل کرنے کے بعد سے یہ سرکاری فنڈ سے باضابطہ مستفیض ہوتا رہا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس کی اساس 24 مئی 1875 کو ملکہ وکٹوریہ کے یوم پیدائش کے موقع پر رکھی گئی تھی۔ اس کا اس وقت اردو میںنام مدرستہ العلوم مسلمانان ہند رکھا گیا تھاجو کہ انگریزی میںایم اے او اسکول کہلایا۔ اس کی اس وقت کی سرکاری حیثیت اور سرکار سے تعاون کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جب سرسید نے 6مئی 1872 کو مسلم تعلیم کے فروغ کے لیے ایک سلیکٹ کمیٹی بناکر مالی مدد کی درخواست کی تو اس وقت انگریز وائسرائے اور گورنر جنرل سرلارڈ نارتھ بروک نے 10 ہزار روپے اور نارتھ ویسٹرن پروونسز کے گورنر نے ایک ہزار روپے کی سرکاری فنڈ سے مالی معاونت کی۔ تاریخی ریکارڈ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کالج کے پاس مارچ 1874 تک یہ رقم بڑھ کر ایک لاکھ 53ہزار 492 روپے اور آٹھ آنے ہوگئی تھی۔ ایم اے او کالج سے 1882 سے لے کر 1902 تک 220مسلم گریجویٹ فارغ ہوئے جبکہ اس کے اولین گریجویٹ ایک ہندو طالب علم تھے۔ ایم اے او اسکول میںتعلیم یکم جون 1875 کو صرف گیارہ طلباء سے شروع ہوئی تھی۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اے ایم یو کا رشتہ 1875 میںاس کی اساس ایم اے او اسکول اور 1877 میںایم اے او کالج سے منسلک کرنے کے بجائے 1920 میںتسلیم کیا جاتا ہے اور اس سلسلے میںاے ایم یو ایکٹ کا وہ جز حوالہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ ’’اے ایم یو 1920 میں پارلیمنٹ کے ایک قانون کے ذریعہ وجود میںلایا گیا۔‘‘
لہٰذا ضرور ت اس بات کی ہے کہ سرسید کے ذریعہ قائم کردہ اے ایم یو کو 1875 اور1877 میں بنائے گئے ایم اے او اسکول اور ایم اے او کالج سے جوڑ کر دیکھنا چاہیے۔ یہ 1920 میںبنایا گیا کوئی نیا ادارہ نہیںہے بلکہ45 اور 43 سال قبل بنے اسکول اور کالج کی توسیع ہے۔ اس لحاظ سے اس کی اقلیتی حیثیت ناقابل چیلنج ہے۔ لہٰذا اسے اسی حیثیت میںلینا چاہیے اور یہ اس طرح آئین ہند کی متعدد دفعات سے کور بھی ہوتا ہے ۔
یہ تو ہوئی اس کی اقلیتی حیثیت کی دلیل مگر جہاںتک اے ایم یو کے تعلق سے آدتیہ ناتھ یوگی کے ذریعہ اٹھائی گئی بحث کا تعلق ہے، وہ مکمل طور پر سیاسی ہے اور اس کا استعمال 2019 کے انتخابات کے تناظر میںلیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند ماہ قبل جناح کے پورٹریٹ کو لے کر اے ایم یو کو تنازعہ میںلایاگیا اور اب اس میںدلت طلباء کے کوٹا کی بات کو اٹھایا جارہا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ملک کے ووٹرز ان سب باتوںکو سمجھتے ہیں اور وہ اس طرح کے ایشوز سے قطعی گمراہ نہیںہوں گے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *