’دلت ‘اب بھی ’اچھوت ‘کیوں؟

دنیا کے جن انسانی طبقوں کو استحصال اور ظالمانہ سلوک کا شکار ہونا پڑا ، وہ ہیں قدیم روم اور جدید امریکہ کے غلام اور ہندوستان کے دلت ۔ لیکن قدیم روم کے غلام جہاںتاریخ کے صفحات کی چیز بن کر رہ گئے ہیں،وہیںامریکہ کے نیگرو غلاموں کے لیے وہاںکے گورے ’پربھو ورگ‘ کے ذریعہ استحصال بھی ماضی کا موضوع بن کر رہ گیا ہے۔ کل کے کالے غلام آج سپلائر، ڈیلر، ٹھیکیدار، مینو فیکچرر وغیرہ بن کر صنعت و تجارت کے شعبے میں نیا باب رچ رہے ہیں۔ وہ ہالی ووڈ میںبڑے رائٹرز،اسٹارز، ڈائریکٹر، پروڈیوسر کی شکل میںاپنی مضبوط موجودگی درج کرا چکے ہیں، تو کھیل کود ، میوزک وغیرہ میںا مریکہ کی خاص پہچان ان ہی سے ہے۔
لیکن غلاموںکے غلام ہندوستان کے اچھوتوں کے معاملے میں یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ انسانی تہذیب کی ترقی اور تمام آئینی سیکورٹی کے باوجود آج بھی ہندوؤں کے استحصال جھیلنے کی لعنت میںہیں۔ بہرحال جن لوگوں کا حیوانی استعمال کرکے انسانیت کو شرمسار کیا گیا،ان میںواحد کم بخت دلت ہیں، جن کے استحصال اور تنزلی میںمذہب کا سب سے زوردارکردار رہا ۔ ایسا ڈاکٹر امبیڈکر کا ماننا ہے ۔ اس کے حق میںجو انھوں نے ڈیوائس کھڑی کی ہے،اسے بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر سمپورن وانگمے میںحصہ 9- کے صفحہ 141-148 پر پڑھا جاسکتا ہے۔
امبیڈکر کے خیالات
اپنی بات کی شروعات کرتے ہوئے ڈاکٹر امبیڈکر لکھتے ہیں ’جن حالات میں ہندوؤں نے اچھوتوںکے خلاف تشدد کا سہارا لیا ہے، وہ حالات سبھی کو یکساں آزادی کی چاہت کے رہے ہیں ۔ اگر اچھوت اپنا جلوس نکالنا چاہتے ہیں، تو انھیں ہندوؤں کے ذریعہ جلوس نکالنے پر کوئی اعتراض نہیںہوتا۔ اگر اچھوت سونے اور چاندی کے زیورات پہننا چاہتے ہیں، تب ہندوؤں کو بھی ویسا ہی اختیار رہے، اس پر وہ کوئی اعتراض نہیںکرتے۔ اگر اچھوت اپنے بچوںکو اسکولوںمیںداخلہ کرانا چاہتے ہیں، تب وہ ہندوؤںکے بچوںکو تعلیم کی پوری آزادی دینے کی مخالفت نہیںکرتے ۔ اگر اچھوت کنویںسے پانی بھرنا چاہتے ہیں تو ہندوؤں کے ذریعہ پانی بھرنے کا حق استعمال کیے جانے پر انھیںکوئی اعتراض نہیںہوتا۔
ان سب کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ یہاںانھیںگنانے کی ضرورت نہیںہے۔ سیدھی سے بات ہے،وہ یہ ہے کہ اچھوت جو آزادی چاہتے ہیں، وہ صرف اپنے لیے نہیںہے اور وہ ہندوؤں کی یکساں آزادی کے حق سے بھی نہیںہے۔ تب ہندو ایسی خواہشات کو جو کسی کو نقصان نہیںپہنچاتیں اور جو پوری طرح منصفانہ ہیں، عمل میںنہ آنے دینے کے لیے تشدد پر کیوںاتر آتے ہیں؟ ہندواپنی ناانصافی کو منصفانہ کیوںمانتے ہیں؟ کون یہ انکار کرسکتا ہے کہ اچھوتوں کے ساتھ ہندوؤں کے رویے میںجو کچھ ’اَپکرم‘ ہوتا ہے،ا سے سماجی جرائم کے علاوہ اور کوئی نام نہیںدیا جاسکتا۔
یہ انسان کی انسان کے تئیں غیر انسانیت ہے۔ اگر کسی ڈاکٹر کے ذریعہ مریض کا اس لیے علاج نہ کرناکہ مریض اچھوت ہے: اگر ہم ہندوؤں کے ایک گروہ کے ذریعہ اچھوتوں کے گھروںکو جلا ڈالنا، اگر اچھوتوں کے کنووں میں میلا ڈلوادینا غیر انسانی کام نہیںہے تو میںسوچتا ہوںکہ یہ اور کیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ ہندوؤں میںضمیر کیوںنہیںہے؟

 

 

 

معیار سماجی و معاشی ہو
ان سوالوںکا ایک ہی جواب ہے۔ دیگر ملکوںمیںطبقے مالی اور سماجی نقطہ نظر کی بنیاد پر بنے۔ غلاموں اور کسان غلاموںکا مذہب میںکوئی نظام نہیںتھا۔ اس کی بنسبت چھوت چھات خاص طور سے مذہب پر مبنی ہے۔ حالانکہ اس سے ہندوؤں کو مالی فائدہ ہوتا ہے۔ جب کبھی مالی یا سماجی مفاد کی بات ہوتی ہے تو کچھ بھی پاک یا ناپاک نہیںہوتا۔ ’غلام پرتھا‘ اور’ کسان غلام پرتھا‘ کیونکر مٹ گئی اور چھوا چھوت کیونکر نہیںمٹی، اس کایہی واضح سبب ہے۔
دو دیگر سوالوں کابھی یہی جواب ہے ۔ اگر ہندو چھواچھوت پر عمل کرتے ہیں تو اس لیے کہ ان کا مذہب انھیںایسا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اگر اس قائم نظام کے خلاف اٹھانے والے اچھوتوں کا وہ ظالمانہ اور ناانصافی کے ساتھ دمن کرتا ہے ، تو اس کا سبب اس کا اپنا مذہب ہے جو اسے صرف اس بات کی ہی تعلیم نہیںدیتا کہ یہ قائم نظام’ دیویہ ودھان‘ ہے اور اس لیے پاک ہے، بلکہ اس پر یہ یقینی بنانے کی ذمہ داری بھی الزام لگاتا ہے کہ اسے اس قائم نظام کو ہر ممکن طور پر قائم رکھنا ہے۔
اگر وہ انسانیت کی پکار کو نہیںسنتاتو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا مذہب اچھوتوں کو انسان سمجھنے کے لیے اسے مجبور نہیںکرتا۔ اگر اچھوتوںکو مارنے پیٹنے ، ان کے گھروں کو لوٹنے اور جلانے اور ان پر ظلم ڈھاتے وقت اسے اپنے ضمیر کا کچھ بھی نہیںدھیان رہتا۔ تب اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا مذہب اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اس سماجی نظام کی حفاظت کرنے کے لیے کیا گیا کوئی بھی کام گناہ نہیںہے۔
حقیقت میںاس بارے میںزیادہ طول دینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ غیر متنازع ہے کہ اچھوتوں کی بدبختی کی اہم وجہ ہندو مذہب اور اس کی تعلیمات ہیں ، غلام پرتھا کا تعلق غیر عیسائی دھرم او ر عیسائی دھرم اور چھواچھوت کا تعلق ہندو دھرم سے ہے۔ ان دونوں کے بیچ موازنہ کرنے سے یہ پتہ چل جائے گا کہ ان دونوں مذاہب کا انسانی اداروں پر کتنا مختلف اثر پڑا ہے۔اگر پہلے دھرم سے انسانی سماج کا ابھار ہواتو ہندو دھرم کی وجہ سے انسانی سماج کا کتنا زیادہ زوال ہوا۔ جو لوگ اکثر غلام پرتھا کے ساتھ چھوا چھوت کا مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیںسوچتے کہ وہ مخالف حالات کا باہمی مقابلہ کر رہے ہیں۔
قانون کے مطابق غلام آزاد لوگ نہیں تھے تو بھی سماجی نقطہ نظر سے انھیںوہ ساری آزادی حاصل تھی جو ان کی شخصیت کی ترقی کے لیے ضروری تھی۔ ان کی بنسبت ایک اچھوت شخص قانون کے مطابق آزاد شخص تو ہے، پھر بھی سماجی طور پر اسے اپنی شخصیت کی ترقی کے لیے کوئی بھی آزادی حاصل نہیں۔
یہ یقینی طور پر مخالف حالت ہے جو صاف نظر آتی ہے۔ اس مخالف صورت حال کا کیاسبب ہے؟ اس کا ایک ہی سبب ہے اور وہ یہ کہ وہاں مذہب غلاموں کے حق میںتھا جبکہ یہاںیہ اچھوتوں کے خلاف ہے ۔ روم کے قانون میںیہ اعلان کیا گیا کہ غلام کاکوئی ذاتی اقتدار نہیںہے لیکن روم کے مذہب نے اس اصول کو کبھی بھی قبول نہیںکیا اور اس اصول کو کسی بھی حالت میںسماجی شعبے میں نافذ کرنا قبول نہیںکیا۔ اس نے غلام کو دوست ہونے کے قابل سمجھ کر اس کے ساتھ انسانی سلوک کیا۔ ہندو قانون میںیہ اعلان کیا گیا کہ اچھوت کی کوئی شخصیت نہیں ہے۔ غیر عیسائی دھرم کے برعکس ہندو دھرم نے اس اصول کو قبول ہی نہیںکیا بلکہ اسے سماجی شعبے میںنافذ بھی کردیا۔ چونکہ ہندو قانون نے اچھوت کی کوئی شخصیت قبول نہیںکی، اس لیے مذہب نے اسے انسان نہیںمانا کہ وہ دوستی کے قابل ہوسکتا ہے۔

 

 

 

 

مذہب کا کردار
اچھوتوں کی حالت زار کی بنیاد میںہندو دھرم کی سرگرمی کو ثابت کرنے کے بعد ڈاکٹر امبیڈکر آگے بتاتے ہیں کہ کس طرح مذہب نے روم اور امریکہ کے غلاموں کی شخصیت کی ترقی میںمدد کی۔ اتنا سب بتانے کے بعد باقی میںنتیجہ نکالتے ہوئے کہتے ہیں: اختصار میںکہا جا سکتا ہے کہ قانون او ر مذہب دو ایسے ایلیمنٹ ہیںجو شخصیت کے رویے کو کنٹرول کرتے ہیں ۔ کبھی کبھی تو ان کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اور کبھی وہ ایک دوسرے کی خامیوںکو سدھارنے کا کام بھی کرتے ہیں۔ ان دونوںایلیمنٹ میںقانون کا تعلق شخصیت سے ہے جب کہ مذہب غذا ہوتا ہے۔
قانون چونکہ شخص پر مبنی ہے، اس یے وہ ناانصافی اور نابرابری کا سبب ہوسکتا ہے لیکن مذہب کے ساتھ یہ بات نہیںہے، اس لیے وہ غیر جانبدار رہ سکتا ہے۔ اگر مذہب غیر جانبدار ہوگا تو وہ قانونی نابرابری کو دور کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ روم میںغلاموںکے تعلق سے ایسا ہی ہوا۔ اسی وجہ سے مذہب کیبارے میںکہا جاتا ہے کہ وہ انسان کو شاندار بنانے کے لیے ہے نہ کہ اسے گریڈ ڈاؤن کرنے کے لیے۔ ہندو مذہب ایک استثناء ہے۔ اس نے ا چھوتوںکو ’ادھ پرانی ‘ بنا دیا۔ اس نے ہندو کو غیر انسان بنا دیا۔ اس ’ادھ پرانی ‘ کے قائم نظام سے اور نہ غیر انسانیت سے ہی چھٹکارہ پانے کا کوئی طریقہ دکھتا ہے۔
ڈاکٹر امبیڈکر نے دلتوں کے استحصال اور زوال کے صفحہ میںہندو مذہب کی سر گرمی کی مندرجہ بالا حقیقت بیسویںصدی سے قبل پیش کی تھی۔ لیکن اچھوتوں کو آزاد کرنے کی سمت میںامبیڈکر کی تاریخی کوششوں کے باوجود اکیسویںصدی میںبھی حالت میںکوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ آج بھی ان آزادیوںکا استعمال صحیح ڈھنگ سے نہیںکرسکتے جن کا استعما ل ہندو کرتا ہے۔ وہ آج بھی امریکہ کے کالے غلاموں کی طرح سپلائر،ڈیلر، میڈیا ملازم، فلمساز وغیرہ بننے کا خواب نہیںدیکھ سکتے۔
ان کے خوابوں کی راہ میںہر بار ایوریسٹ بن کر کھڑی ہوجاتی ہے ہندو مذہب کی تیار کردہ ’پربھو ورگ‘ کی ذہنیت۔ لیکن ہندو مذہب کا اتنا ہی جرم نہیں ہے کہ اس نے غیر دلتوں میںانسان مخالف سوچ کوٹ کوٹ کر بھردی ہے: اس کا سب سے بڑا جرم تو یہ ہے کہ اس نے دلتوں کے ساتھ آدیواسی، پسماندہ اور خواتین کے روپ میںآدھی آبادی کو ہمیشہ کے لیے سورس آف پاورز (اقتصادی- سیاسی – تعلیمی -مذہبی وغیرہ) سے دور دھکیل کر انھیںغلاموں سے بھی بدتر حالات میں پہنچادیا۔ اس کے ایسے کرنے سے ملک تقریباً 93 فیصد انسانی وسائل سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگیا اور ہم ڈیڑھ ہزار سال تک غیر ملکیوں کی غلامی جھیلنے کے لیے مجبور ہوئے۔ بھاری حیرانی کا موضوع ہے کہ ایسے ہندو مذہب کی ٹھیکیدار بنی ایک سیاسی پارٹی سے جڑنے کے لیے ڈھیروں بہوجن ٹیلنٹس ایک دوسرے سے ہوڑ لگا رہے ہیں۔
(مصنف بہوجن ڈائیورسٹی مشن کے قومی صدر ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *