گؤرکشاکے نام پرتشددبرداشت نہیں :سپریم کورٹ

Supreme-Court
ملک کے کئی حصوں میں گؤرکشاکے نام پرہجومی تشددکولیکرآج سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کیاہے۔چیف جسٹس آف انڈیادیپک مشرا نے کہاکہ گؤرکشاکے نام تشددکوبرداشت نہیں کیاجاسکتاہے۔ریاست یہ یقین دلائے کہ اس طرح کے واقعات نہ ہو۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہاکہ ہجومی تشددکے شکاربنے متاثرین کومذہب یاذات سے نہیں جوڑاجانا چاہئے،مظلوم مظلوم ہوتاہے۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکراورجسٹس ڈی وائی چندرچوڑکی بنچ نے کہاکہ ’’کسی کوبھی قانون کی دھجیاں اڑانے کا حق نہیں ہے۔اس طرح کے واقعات کوروکنے کی ذمہ داری ریاستی حکومت کی ہے‘‘۔ کورٹ نے کہا کہ ماب لنچنگ ایک جرم ہے۔ کورٹ نے سخت الفاظ میں کہا کہ کوئی بھی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا ہے ۔کورٹ نے کہاکہ اس طرح کے حادثات پر قابو پایا جانا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔بنچ نے کہاکہ قانون وانتظام کا صورتحال ریاست کا معاملہ ہے اور اس کے لئے ریاستی حکومتیں ذمہ دارہیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے پایا کہ گؤرکشا کے نام پر بھیڑ تشدد پر آمادہ ہوچکی ہے، جو کہ ایک جرم ہے۔
ایڈیشنل سا لسٹر جنرل پی ایس نرسمہا نے کہا کہ مرکزی حکومت کو حالات کی جانکاری ہے اور وہ اس سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون وانتظام کو بنائے رکھنا اہم مسئلہ ہے۔کورٹ میں مرکزی حکومت نے کہا کہ ماب لنچنگ کیلئے الگ سے قانون بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مرکز نے کہا کہ لوگوں کا تحفظ ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ مرکز نے کہا کہ ریاستوں کے قانون وا نتظام کو بنائے رکھنے کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہے۔
سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو احکامات دیئے کہ اس طرح کے حادثات سے نمٹنے کے لئے وہ ریاستی حکومتوں کو احکامات جاری کریں۔
سپریم کورٹ میں گؤرکشاکے نام پردیش بھرمیں ہجومی تشددکے خلاف عرضی داخل کی گئی تھی۔اس عرضی پرآج عدالت عظمیٰ نے سنوائی پوری کی۔معاملے میں سپریم کورٹ بعدمیں فیصلہ سنائے گا۔عدالت نے راجستھان ، ہریانہ اوراترپردیش سرکاروں کے خلاف توہین عدالت کارروائی کیلئے دائرعرضی ان ریاستوں سے جواب بھی مانگاتھا۔یہ توہین عدالت عرضی مہاتماگاندھی کے پرپوتے تشارگاندھی نے دائرکی تھی۔عرضی میں الزام لگایاگیاتھاکہ ان تین ریاستوں نے عدالت کے 6ستمبر2017کے احکامات پرعمل نہیں کیاہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *