بہار کی تال میل سیاست میں کانگریس سرگرم

بہار کانگریس میں ان دنوں کچھ زیادہ ہی چہل پہل ہے۔ پٹنہ کے صداقت آشرم سے لے کر دہلی میں کانگریس دفتر تک لیڈروں کی سرگرمی کافی بڑھی ہوئی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ ان سب کے پیچھے راہل گاندھی کا بہارکے معاملے میں بڑھی دلچسپی ہے۔ راہل گاندھی کے پاس جو فیڈ بیک ہے ، وہ یہ اشارہ کرتا ہے کہ اگر راشٹریہ جنتا دل ، ہم اور رالوسپا کا مہاگٹھ بندھن بنا کر بہار کے انتخابی میدان میں اترا جائے تو نریندر مودی کی فوج کو شکست دیا جاسکتاہے۔ اگر اس بھروسے کو سیٹوں کی تعداد کے لحاظ سے کہا جائے تو 20سے 25 سیٹوں کا اندازہ راہل خیمہ کررہا ہے۔اگر جنتا دل یو الگ ہوکر الیکشن میں اترتا ہے تو یہ تعداد 30 تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
نتیش کی شبیہ
دراصل اس اندازے کا پس منظر یہ ہے کہ نتیش کمار کی شبیہ کو مہا گٹھ بندھن کے ٹوٹ جانے سے زبردست جھٹکا لگا ہے۔ ان کی گڈ گورننس کی شبیہ اب پہلے جیسے نہیں رہ گئی ہے۔ خاص طور پر یادو اور مسلمانوں میں زیادہ تر لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ نتیش کمار نے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔یہ ووٹ پہلے سے ہی راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ تھا لیکن مہاگٹھ بندھن ٹوٹنے کے واقعہ کے بعد یادئوں اور مسلمانوں کا بہت بڑا طبقہ پوری طاقت کے ساتھ لالو پرساد کے پیچھے آکر کھڑا ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس خود یہ مانتی ہے کہ اعلیٰ ذات اور دلت ووٹوں میں تقسیم کرانے میں وہ کامیاب ہو گئی ہے اور انتخابات میں اس طبقے کا کافی ووٹ مہا گٹھ بندھن کے پالے میں آئے گا۔ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہونے کو پارٹی سونے پر سہاگہ مان رہی ہے۔
کانگریس کا اب پورا دھیان این ڈی اے کی تقسیم پر ہے۔ کانگریس یہ مان کر چل رہی ہے کہ سیٹوں کی تقسیم این ڈی اے کے لئے آسان نہیں ہے۔ اگر این ڈی اے کا راستہ مشکل ہو گیا تو پھر کانگریس کے لئے نیا راستہ تیار ہو جائے گا۔رالوسپا یا لوجپا میں سے کوئی بھی اگر مہاگٹھ بندھن کا ساتھی بن جاتاہے تو پھر بہار میں نریندر مودی کے رتھ کو آگے بڑھانے میں این ڈی اے لیڈروں کے پسینے چھوٹ جائیں گے۔ کانگریس کے کارگزار صدر کوکب قادری بار بار دعویٰ کررہے ہیں کہ این ڈی اے کے کئی بڑے لیڈر ہمارے رابطے میں ہیں۔ قادری کا دعویٰ تو یہاںتک ہے کہ کم سے کم این ڈی اے کے6 موجودہ ارکان پا رلیمنٹ کانگریس کے ٹکٹ پر انتخابات لڑ سکتے ہیں۔
تیجسوی یادو بھی رالوسپا اور لوجپا کو مہاگٹھ بندھن میں آٓنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کانگریس ابھی پُر جوش ہے۔ جب سے شکتی سنگھ گوہل نئے انچارج بن کر آئے ہیں تبھی سے کانگریسیوں کو لگنے لگا ہے کہ اب پارٹی اپنے پرانے مرتبے کو حاصل کرنے کا سفر شروع کرنے ہی والی ہے ۔ گوہل نے آتے ہی یہ طے کیا کہ جو پرانے کانگریسی کسی نہ کسی وجہ سے روٹھ کر دوسری پارٹیوں میں چلے گئے ہیں ،انہیں ہر حال میں پارٹی سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی۔ گوہل کی اس کوشش کا کافی اچھا اثر پارٹی پر پڑ رہا ہے۔ کانگریس کے لحاظ سے ایک اور اچھی بات یہ ہوئی کہ پارٹی نے راشٹریہ جنتا دل کو لے کر اپنا موقف یکدم صاف کر دیا ہے۔ راہل گاندھی کی سطح پر اب یہ طے ہو گیا ہے کہ راشٹریہ جنتادل کا ساتھ نہیں چھوڑا جائے گا۔ لالو پرساد کو پارٹی نے اپنا فطری دوست بتایا ہے۔

 

 

 

 

 

راہل سے آر جے ڈی کی دوری ہوئی کم
راہل گاندھی خود لالو پرساد سے اسپتال میں ملنے گئے۔ لالو پرساد کو لے کر راہل کے دل میں جو کڑواہٹ تھی، اسے دور کیا گیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ تیجسوی یادو سے مہینے میں ایک سے دو بار راہل گاندھی کی ملاقات ہو رہی ہے۔ دونوں لیڈروں کے بیچ بہتر تال میل ہے اور نوجوان ہونے کے ناطے دونوں کی سوچ میں بھی ہم آہنگی بیٹھ رہی ہے۔ یہ تیجسوی یادو کی ہی درخواست تھی کہ بہار میں سیٹوں کی تقسیم جلد سے جلد کر لیا جائے تاکہ لوک سبھا انتخابات کے لئے بہتر تیاری کے لئے کافی وقت مل سکے۔ راہل گاندھی نے تیجسوی یادو کے جذبے کا احترام کرتے ہوئے بہار کے اپنے سبھی ایم ایل ایز اور سینئر لیڈروں کی دہلی میں میٹنگ بلائی اور ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ راہل گاندھی نے بہار کے کانگریسی لیڈروں کو صاف کر دیا کہ سیٹوں کی تقسیم کو لے کر بغیر وجہ کوئی بیان بازی نہیں کرنی ہے اور راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ تال میل کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنا ہے۔ اگر اس میں کوئی نئے اتحادی آتے ہیں تو اس حساب سے سیٹوں کی تعداد پر غور کیا جائے گا۔ راہل گاندھی نے صاف کیا کہ سیٹوں کی تقسیم پر پارٹی بہت ہی عملی رویہ اپنائے گی اور اپنی اتحادی پارٹیوں کے جذبے اور طاقت کا پورا احترام کرے گی۔ بدلے میں کانگریس بھی یہی چاہے گی کہ ان کی اتحادی پارٹی بھی کانگریس کی روایت ، جذبے اور طاقت کا پورا احترام کرے۔چونکہ انتخابات لوک سبھا کے ہونے ہیں، اس لئے کانگریس اپنی اتحادی پارٹیوں سے توقع رکھے گی کہ سیٹوں کی تقسیم کو لے کر پارٹی کے تئیں لچیلا رخ رکھے۔
کانگریس کی خواہش
کانگریس پچھلے بار کی 12سیٹوں کے علاوہ کھگڑیا، دربھنگہ اور مونگیر سیٹ راشٹریہ جنتاد دل سے مانگ سکتی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ دربھنگہ سے کیرتی آزاد، مونگیر سے سورج بھان سنگھ کی بیوی وینا دیوی اور کھگڑیاسے چودھری محبوب علی قیصر کو کانگریس اپنا امیدوار بنا سکتی ہے۔ اگر سیٹوں کی تقسیم میں کہیں پر بات اٹکی تو کانگریس نالندہ ، حاجی پور اور سمستی پور پر سے اپنا دعویٰ چھوڑ بھی سکتی ہے۔ لیکن پارٹی چاہتی ہے کہ کھگڑیا، دربھنگہ اور مونگیر سے ہر حال میں اس بار ان کے ا میدوار انتخابی اکھاڑے میں اتریں۔ پٹنہ صاحب سے کانگریس شتروگھن سنہا کو انتخاب لڑوانا چاہتی ہے۔ کیرتی آزاد اور شتروگھن سنہا اس وقت بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہیں اور یہ طے ہے کہ ان دونوں کو اس بار پارٹی اپنا امیدوار نہیں بنائے گی۔ دونوں لیڈر لگاتار کانگریس لیڈروں کے رابطے میں ہیں۔ قیصر صاحب کو بھی اس بار لوجپا سے ٹکٹ ملنے کی امید نہیں ہے۔ چونکہ پارٹی کو یہ سیٹ تال میل میں ملے گی ،اس کا امکان بہت کم ہے۔ اس لئے قیصر اپنی پرانی پارٹی میں لوٹ کر لوک سبھا انتخابات میں اپنے پرانے حلقہ کھگڑیا سے انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔یہی حال مونگیر میں وینا دیوی کا بھی ہے۔ جنتا دل یو سے تامل میل کے بعد اب وہاں للن سنگھ کا دعویٰ سب سے مضبوط ہے اور نتیش کمار کی یہ درخواست نہ تو لوجپا اور نہ ہی بی جے پی ٹھکرا پائے گی۔
بہار کانگریس کے لئے سب سے اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ تیجسوی یادو اور راہل گاندھی کے بیچ سیدھا رابطہ ہورہا ہے، اس لئے کہیں بھی بھرم کی گنجائش نہیں بن رہی ہے۔ پہلے میڈیا کے ذریعہ سے بات ہوتی تھی اور مطلب کچھ کا کچھ ہو جارہاتھالیکن اب تصویر الٹی ہے۔ راہل اور تیجسوی ملتے ہیں اور آمنے سامنے بات ہوتی ہے۔ اس لئے کہا جارہا ہے کہ سیٹوںکی تقسیم میں کوئی دشواری نہیں آئے گی۔ راہل گاندھی کو بھی قومی سیاست کرنی ہے اور تیجسوی کو اپنے آپ کو بہار میں ثابت کرنا ہے اور ایسے میں دو تین سیٹ کا پینچ کہیں رکاوٹ نہیں بنے گا۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ سیٹوں کی تقسیم ہوگی لیکن اسے ابھی عوامی نہیں کیا جائے گا۔ جسے جو سیٹ ملے گی اس پر اس پارٹی کی تیاری شروع ہو جائے گی اور مناسب وقت پر امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا جائے گا۔ ایسا اس لئے کیا جا رہا ہے کہ ابھی این ڈی اے میںٹوٹ کے امکانات بنے ہوئے ہیں اور اگر رالوسپا یا لوجپا مہا گٹھ بندھن کی طرف آتا ہے تو پھر نئے سرے سے سیٹوں کی تقسیم کرنی ہوگی۔ اس لئے فی الحال سیٹوں کی تعداد اور امیدواروں کے نام کو خفیہ ہی رکھا جائیگا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کانگریس کی گاڑی ابھی صحیح لائن میں دوڑ رہی ہے اور بھڑکائو نہیں ہوا تو کانگریس کو اچھی انتخابی جیت حاصل ہو سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *