نئی ورکنگ کمیٹی سے مایوس ہیں کانگریس کارکنان

اب کانگریس راہل گاندھی کی ہے۔ حالانکہ پچھلے دس سال سے راہل گاندھی کانگریس کے سینئرنائب صدر رہے اورجب کانگریس صدر کا بیٹا سینئر نائب صدر ہوتو پارٹی اسی کے ہاتھ میں ہوگی۔ سونیاجی نے راہل کے کسی بھی فیصلے پرانگلی نہیں اٹھائی ۔اب سات مہینے پہلے راہل گاندھی کانگریس کے مکمل صدر ہوگئے۔راہل گاندھی سے توقع تھی کہ وہ جب صدر بنیں گے تو جلدی سے جلدی اپنی ورکنگ کمیٹی کا اعلان کریں گے۔اپنی ورکنگ ٹیم کااعلان کریںگے، اپنے سیکریٹری، جنرل سکریٹری، جوائنٹ سکریٹری، سیکریٹری وغیرہ اعلان کریں گے۔ لیکن ابھی صرف 51رکنی ورکنگ کمیٹی کا اعلان ہواہے، جس میں 23اہم ممبران ہیں، 18مستقل مدعو اور 10خصوصی مدعو ممبربنائے گئے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی ورکنگ کمیٹی ہونے کے باوجود کئی ریاستوں میں انہیں کوئی ایسا رکننہیں ملا، جسے کانگریس کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا رکن بنایا جاسکے۔
اس ورکنگ کمیٹی کو لیکر مانسون سیشن کے دوسرے دن اورتیسرے دن جب ہم نے پارلیمنٹ میں موجود کانگریس کے کئی ارکان ، کئی سابق ارکان اور ملک بھر سے آئے کانگریس کے لیڈروں سے بات چیت کی اورخاص کر ان لیڈروں سے جوپارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں آسکتے ہیں، تومجھے یہ دیکھ کر تعجب ہواکہ سب نے لگ بھگ ایک ہی رائے ظاہرکی۔ انہو ںنے کہاکہ نئی ورکنگ کمیٹی بتاتی ہے کہ کانگریس صدر کے صلاح کار سیاسی لوگ نہیں ہیں۔ انہیں ملک کی صورتحال کا اندازہ نہیں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کس طرح کام کرتی ہے یا کس طرح کام کرنے والی ہے، اس کا اندازہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہاکہ کانگریس صدر اوران کے صلاح کاروں کویہ بھی اندازہ نہیں ہے کہ کانگریس کے کس کس لیڈر نے کتنے سال تک کانگریس کو زندہ رکھا، کیسے زندہ رکھا، اپنے ذرائع لگائے، اپنا خون پسینہ لگایا، اپنے پورے خاندان کو کانگریس کو زندہ رکھنے کیلئے بھٹی میں جھونک دیا۔ اس کا ذرابھی اندازہ نہ راہل گاندھی کوہے اورنہ وہ اس کا احساس بھی کرنا چاہتے ہیں۔ میرے لئے یہ ردعمل کافی حیرت کی بات تھی۔کیونکہ یہ ردعمل بتاتاہے کہ کیاکانگریس کارکنوں میں جوش وخروش کا پیمانہ کیاہے؟یہ ردعمل یہ بھی بتاتا ہے کہ کیاکانگریس مستقبل میں اپنی ان پالیسیوں پر چل پائے گی، جوپالیسیاں کانگریس نے جواہرلال نہرو کے دور میں قبول کی تھی یا اندراجی کے دور میں قبول کی تھی یا پھر راجیو گاندھی جی کے دور میں قبول کی تھی۔یااب نئی راہل کانگریس ان ضابطوں پرچلے گی جوبازارکے ضابطے ہیں، ان ضابطوں پر چلے گی جو ضابطے بھارتیہ جنتا پارٹی نے بنائے ہیں، یا پھر ان ضابطوں پر چلے گی جوراہل گاندھی کے آس پاس کے صلاح کار بنائیں گے۔
راہل گاندھی کے کانگریس میں آنے کے بعد ملک بھرکے ان نوجوانوں میں جذبات کا مواصلات ہوا، جوسیاست میں گھسنا چاہتے ہیں۔ ان نوجوانوں میں غریب طبقے، دلت طبقے، مسلم طبقے کے نوجوان نہیں ہیں۔ اس میں امیر خاندانوں سے جڑے نوجوان ہیں، جن کی عمر 30,32, 35سال ہے۔کانگریس کے موجودہ لیڈر اورموجودہ ارکان پارلیمنٹ ، پہلے مرحلے میں تو اپنے بیٹوں کوکانگریس پارٹی اور کانگریس تنظیم میں گھسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بیٹے قابل ہیں یا نہیں ہیں، شریف ہیں یا مجرم، اس میں سمجھ ہے یا نہیں ہے، وہ سماج کے تضادات کوجانتاہے یا نہیں جانتاہے، اب یہ کوئی پیمانہ نہیں رہا۔ ہر شخص اپنے 26, 27, 28سال کے بچوں کو کانگریس میں گھسانے کی کوشش کررہاہے، تاکہ اس کے خاندان کا غلبہ بنارہے۔

 

 

 

پہلے ورکنگ کمیٹی کی تنظیمی ڈھانچے کی بات کرتے ہیں۔ ابھی جو ورکنگ کمیٹی راہل گاندھی نے بنائی ، اس میں دگوجئے سنگھ، سی پی جوشی، جناردن دویدی، سشیل کمار شندے، بھوپیندر ہڈا اورآسکر فرنانڈس کونہیں لیا گیاہے۔ اسی طرح راہل گاندھی نے شکیل احمد، موہن پرکاش، ڈاکٹر کرن سنگھ، بی کے ہری پرساد اورکانگریس کے پسماندہ طبقہ کا چہرہ مانے جانے والے ویرپا موئلی کو اپنی ورکنگ کمیٹی میں جگہ نہیں دی۔اس کے علاوہ تینوں وزراء اعلیٰ ،کیپٹن امرندرسنگھ، وی نارائن سامی اورمیزورم کے للتھن ہولا ورکنگ کمیٹی میں جگہ پانے میں ناکام رہے۔ اس کی جگہ پرراہل گاندھی کے قابل اعتماد جیوتی رادتیہ سندھیا، جتن پرساد اور دیپندر ہڈا نئی ورکنگ کمیٹی میں شامل کئے گئے ہیں۔ مہاراشٹر کے پرتھوی راج چوہان اورہماچل کے سابق وزیراعلیٰ ویربھدرسنگھ کو اس ورکنگ کمیٹی میں شامل نہیں کیاگیا ہے۔ یہ حقائق چونکانے والے ہیں۔ ابھی ابھی مسلمانوں کے ڈیلی گیشن کولیکر راہل گاندھی سے ملنے والے سلمان خورشید اورجے رام رمیش، جوہمیشہ راہل گاندھی کے صلاح کارکا رول نبھاتے رہے ہیں، ان کا نام بھی اس ورکنگ کمیٹی میں نہیں ہے۔ سلمان خورشید کے ذریعے لے جائے گئے ڈیلی گیشن کی وجہ سے راہل گاندھی کوملک میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہاکہ کانگریس بتائے کہ کیا یہ صرف مسلم مردو ں کی پارٹی ہے یا مسلم عورتیں بھی اس کے دائرے میں آتی ہیں۔ایک اخبار نے جب یہ لکھ دیا کہ راہل گاندھی نے کہاہے کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے توبھارتیہ جنتا پارٹی نے اس کوفرقہ وارانہ طریقے سے کافی بھونایا۔ دوسری طرف کانگریس یہ ہمت نہیں کرسکی کہ ہاں ہم مسلمانوں کی اوردلتوں کی اورغریبوں کی پارٹی ہیں۔ لیکن اسے کہنے میں راہل گاندھی نے بہت دیر لگا دی۔
راہل کی نئی ٹیم میں مدھیہ پردیش کانگریس صدر ارون یادو اورہریانہ کے کلدیپ وشنوئی کوجگہ دی گئی ہے۔اسے ورکنگ کمیٹی میں ذات برادری کے توازن کوسادھنے کی کوشش کے طورپر دیکھا جارہاہے۔ کلدیپ وشنوئی آنجہانی بھجن لال کے بیٹے ہیں۔سابق وزراء اعلیٰ میں آسام کے ترون گگوئی ، دہلی کی شیلادکشت اور اتراکھنڈ کے ہریش راوت بھی ورکنگ کمیٹی میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔لیکن سب سے چونکانے والی بات یہ ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں بہار، بنگال ، آندھراپردیش، گوا اورتلنگانہ جیسی بڑی ریاستوں کاکوئی نمائندہ نہیں ہے۔ان ریاستوں سے لوک سبھا کی 121سیٹیں آتی ہیں۔
اب کانگریس لگاتار مانگ کررہی ہے اورراہل گاندھی نے ابھی ملک کے وزیراعظم کوخط لکھا ہے کہ خواتین کے 33فیصد ریزرویشن کیلئے مودی سرکار پارلیمنٹ میں پہل کرے۔اب 33فیصد خاتون ریزرویشن کی مانگ کرنے والی کانگریس کی ورکنگ کمیٹی میں صرف تین خاتون چہرے ہیں۔ان خاتون چہروں میں محترمہ سونیاگاندھی، امبیکاسونی اورکماری شیلجا ہیں۔ باقی دیگرچارممبروں میں سشمیتا دیوخاتون مہیلاکانگریس کی صدرہونے کے ناطے، آشا کماری اوررجنی پاٹل اے آئی سی سی انچارج ہونے کے ناطے اورشیلادکشت مستقل مدعو ہونے کے ناطے رکنہیں۔ کانگریس پر مستقبل میں بھارتیہ جنتاپارٹی کے ذریعہ اسی سوال پرحملہ ہونے والا ہے کہ آپ پارلیمنٹ میں 33فیصد خاتون ریزرویشن کی مانگ کرتے ہیں، لیکن آپ اپنی پارٹی میں کتنے فیصد خواتین کوورکنگ کمیٹی میں شامل کر رہے ہیں؟۔ دوسری جانب مسلم حقوق کیلئے لڑنے کا دعویٰ کرنے والی کانگریس کی قومی ورکنگ کمیٹی میں اقلیتوں کوبھی ان کا واجب حق نہیں ملا ہے۔نوتشکیل شدہ ورکنگ کمیٹی میں صرف تین مسلم لیڈروں احمد پٹیل ، غلام نبی آزاد اورطارق حمید کرا کورکھاگیاہے۔ طارق حمید کرا، غلام نبی آزاد سری نگر سے ہیں یعنی جموں وکشمیر سے ہیں اوراحمد پٹیل شاید اس روکنگ کمیٹی میں سونیاگاندھی کے دباؤ کی وجہ سے رکھے گئے ہیں۔ جموں وکشمیر کے جولیڈر ہیں، ان کا ملک کے دوسرے حصوں کے مسلمانوں پرکوئی اثر نہیں ہے۔ مسلمان یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لئے لڑنے والے کتنے مسلم لیڈروں کوورکنگ کمیٹی میں جگہ دی ہے؟۔ اس کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی والے اترپردیش، بہار، بنگال ، آسام ، آندھرا پردیش اورمہاراشٹر جیسی ریاستوں سے بھی مسلم چہرہ راہل گاندھی کی ورکنگ کمیٹی میں نہیں ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کی فہرست دیکھنے سے ایسالگتاہے کہ پارٹی کا دھیان لوک سبھا الیکشن کی جگہ آئندہ اسمبلی انتخابات پرہی زیادہ ہے۔شاید اسی وجہ سے مدھیہ پردیش سے جیوتیرادتیہ سندھیا کے علاوہ ارون یادو ، چھتیس گڑھ سے موتی لال وورا کے ساتھ تامردھوج ساہو کواورراجستھان سے اشوک گہلوت کے علاوہ جتندر سنگھ اوررگھوور میناکو ورکنگ کمیٹی میں جگہ دی گئی ہے۔اس سے بھی زیادہ حیرت یہ ہے کہ چھوٹی سی ریاست ہریانہ سے چار ممبر بنائے گئے ہیں جہاں لوک سبھا کی صرف دس سیٹیں ہیں۔جبکہ راہل -سونیاکو چھوڑ دیں تواترپردیش سے بھی اتنے ہی ممبرورکنگ کمیٹی میں رکھے گئے ہیں، جہاں تقریباً لوک سبھا کی 80سیٹیں ہیں۔ اب اس عدم توازن اورخرابی کے پیچھے کانگریس صدرکیاسوچتے ہیں، یہ تووہی جانیں، لیکن ان کے ذریعے اعلان کی گئی اس ورکنگ کمیٹی نے کانگریس کے زیادہ تر لیڈروں کوفکر مند کردیاہے۔لیڈروں کوفکرہے کہ گرہم پچاس یاپچپن سال کے ہوگئے توکیاہمارا کام کرنے کا مادہ بھی ختم ہوگیا۔ ہم نے کانگریس کیلئے انتی قربانی دی، کیا وہ پانی میں چلی گئی۔ کیا ہماری کانگریس میں وہ حالت بھی نہیں رہی کہ کانگریس اپنے پارٹی کے عام ممبروں سے لیکر ورکنگ کمیٹی کے یا ارکان پارلیمنٹ کے یا اسمبلیوں کے سابق ممبروں سے رائے لیں۔یہ سارے لوگ ، جورکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی نہیں ہیں، یا جوپارٹی میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوپائے ہیں، انہیں لگتاہے کہ ان کی سیاسی زندگی ختم ہوگئی۔ان کی صلاح تودور، وہ کبھی کانگریس میں تھے بھی، یہ بھی کانگریس پارٹی قبول کرے گی یانہیں کرے گی، انہیں نہیں پتہ۔زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ کوڈر ہے کہ راہل گاندھی ان کی جگہ اب کم عمر کے لوگوں کوٹکٹ دیں گے، چاہے لوک سبھا کا الیکشن ہو یاراجیہ سبھا کا۔ایسے لیڈر اپنی زندگی کوبرا ماننے لگے ہیں اورشاید یہی ذہنیت کسی پارٹی کیلئے بہت ہی زیادہ تشویش ناک ہوتی ہے۔
لیڈرکوہمیشہ ایسا دکھنا چاہئے کہ وہ جانبداری نہیں کررہاہے۔ لیڈر میں یہ ہنرہونا چاہئے کہ وہ ہرآدمی کوکام دے، جوپارٹی میں کام کرنا چاہتاہے۔ لیڈر میں یہ بھی ہنرہونا چاہئے کہ وہ سارے منتخب ہوئے ارکان پارلیمنٹ اورارکان اسمبلی کولگاتار پارٹی کے کام میں لگاتا رہے۔ لیڈر کوچاہئے کہ وہ پارلیمنٹ کے یا اسمبلی کے سابق ممبروں کوبھی یہ احساس نہ ہونے دے کہ وہ بیکار ہوچکے ہیں۔ جوکام کرسکتا ہے اس کیلئے کام نکالے، یہی توقیادت کی مہارت ہوتی ہے۔ ابھی لگتا ہے کہ اس مہارت کے گُر کوسمجھنے میں راہل گاندھی کو کچھ اوروقت لگے گا۔
اس ورکنگ کمیٹی میں کوئی ایساممبرنہیں ہے، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کی مستقبل حکمت عملی کوسمجھ سکے۔ اخبارو ںمیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزراء کے خلاف کافی خبریں چھپتی ہیں، لیکن کانگریس صدر یا کانگریس تنظیم سے جڑے ہوئے لوگ اپنی پارٹی کے لوگوں کومتاثر نہیں کرپاتے کہ وہ ان مسئلوں کو اٹھائیں، جوبھارتیہ جنتا پارٹی کوتھوڑا پریشان کرنے والے ہوں۔وہ توایسے ہی مسئلے اٹھاتے ہیں،جن مسئلوں سے بھارتیہ جنتاپارٹی کو اورخوراک ملے۔یہاں سوال یہ بتانے کا نہیں ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے کیاصحیح ہے یا کیا صحیح نہیں ہے۔یہاںیہ اہم ہے کہ اپوزیشن اورخاص کر مین اپوزیشن پارٹی ہونے کا دعویٰ کرنے والے لیڈرو ںکیلئے کیا سیکھنا -سوچنا-سمجھنا ضروری ہے۔ابھی توراہل گاندھی کویہی ثابت کرنا ہے کہ وہ ملک کے صحیح لیڈر ہیں۔ اگروہ اگلے تین مہینے میں اسے ثابت نہ کرپائیں تومجھے ڈر ہے کہ جولوگ بھی کانگریس کے تئیں سپورٹ کاجذبہ رکھتے ہیں، وہ واپس بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف چلے جائیں گے۔بھارتیہ جنتا پارٹی ہرموقع کافائدہ اٹھا رہی ہے۔

 

 

 

شجرکاری مہم، صاف ندی وغیرہ کا بھی فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب ایک نئے طریقے سے اٹھانے جارہی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی ہربڑی یونیورسٹی میں شجر کاری، صفائی اورندی کولیکر ایک سیمینار کرنے جارہی ہے۔ بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں خودوزیراعظم نریندرمودی جاکر خطاب کریں گے۔کچھ جگہوں پرامیت شاہ تقریرکریں گے۔ اس کا انعقاد ملک کے کئی بڑے سنت سامنے آکر کریں گے، جس میں وہ ان سارے لوگوں کوبلائیں گے، جو طاقتور ہیں، لیکن ابھی تک بھارتیہ جنتا پارٹی سے جڑے نہیں ہیں۔وہاں سے ان کے بی جے پی کے ساتھ جوڑنے کی پالیسی نکلے گی۔ لیکن اہم مدعا یہ نہیں ہے۔
اہم مدعا یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی پالیسی بنارہی ہے، کیااس پالیسی بھنک بھی راہل گاندھی کی ٹیم میں کسی کو ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ شاید نہیں ہے۔اسی لئے راہل گاندھی کی یہ ورکنگ کمیٹی کانگریس کے کارکنوں میں ، کانگریس کے لیڈروں میں، پردیش کے 45-50سال کے اوپرکے لوگوں میں جوش نہیں ڈال سکی ہے۔جن لوگوں نے اپنی ساری جوانی کانگریس کومنظم کرنے میں لگادی، ان لوگوں کو اس سے کتنی راحت ملے گی، ابھی تو نہیں کہاجاسکتا۔ لیکن اتنا ضرور کہاجاسکتا ہے کہ اگرجلدی سے ورکنگ کمیٹی کے لوگوں کوبنیادی مدعوؤں اورسوالوں پر جانکاری دینے کیلئے سیمینار نہیں کرایاگیا یا انہیں اس کے بارے میں نہیں سکھایا گیا تو پھر کانگریس جیت کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھا پائے گی۔ ایسے میں کانگریس بھارتیہ جنتا پارٹی سے بہت پیچھے رہ جائے گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے اس انتخاب میں یہی سب سے بڑی امید ہے کہ کانگریس اپنی حکمت عملی نہیں بنا پائے گی اوربی جے پی آسانی سے دو-تہائی اکثریت لیکر اکیلی پارٹی کے دم پرلوک سبھا میں پہنچ جائے گی۔ یہ حالت کانگریس کارکنان کے ذریعے بناکر ہمیں دی گئی ہے۔ ہم چاہیں گے کہ بی جے پی جتنی نہیں توکم سے کم کانگریس کچھ تو مضبوط دکھائی دے۔ کانگریس کے ساتھ اس کے سارے منتخب ہوئے لوگ چٹان کی طرح کھڑے ہیں، یہ بھی ابھی دیکھنے والی بات ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *