آر جے ڈی میں نئی قیادت کو درپیش چیلنج

لالو پرساد کے پٹنہ آنے اور یہاںآکر آسن جمالینے کا بہار کی سیاست میںجو بھی اثر ہولیکن راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈروںاور کارکنوں کے بیچ تو ممبئی سے ان کا پٹنہ آنا ناگزیر مانا جارہا تھا۔ صحت تھوڑی بہتر ہوتے ہی وہ پٹنہ آکر جم گئے ہیں۔ حالانکہ عدالت نے ضمانت کی شرطوں میں ان کی سیاسی سرگرمیوںکے ساتھ ساتھ میڈیا کے سامنے آنے پر بھی روک لگادی ہے لیکن بہار کی راجدھانی میںان کی موجودگی ہی بہت سے مسائل کا حل اور بہت سے سیاسی سوالوں کا جواب ہوتا ہے۔ امیدکی جاتی ہے کہ آر جے ڈی یا وسیع معنی میںکہیںتو مہا گٹھ بندھن کو لے کر سیاست کے بازار میںقیاسوںکی آمد اب بہت کم ہو جائے گی۔ لیکن آر جے ڈی کا بحران مہا گٹھ بندھن کی سیاسی نفع نقصان سے الگ ہے۔ پارٹی کا بحران کا ایک سرا اس کی قیادت میںدبدبے سے جڑا ہوا ہے تو دوسرا سپریمو کے گھر کی دہلیز کے باہر آتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے کئی کھلاڑی ہیں تو وہیںفائدے کی امید میںتیسرے فریق کے لوگوںکی تعداد بھی کم نہیںہے۔ ان مورچوں کے مختلف فریقوں میں تال میل بٹھاکر پارٹی و خاندان کو بحران سے نجات دلانا لالو پرساد کا بڑا چیلنج ہے۔
پہلا بحران
سپریمو لالو پرساد کے سزا یافتہ اور جیل میںبند ہوجانے کے بعد ان کی انفرادی اور خاندانی سیات کی فصل آر جے ڈی بحرانوںسے نبرد آزما ہے۔ اسے کولیشن کا بحران بھی کہہ سکتے ہیںاور یہ فطری بھی ہے۔ لالو پرساد کی جیل یاترا اور تیجسوی پرساد یادو کے ہاتھ میںاقتدار آنے کے بعد پارٹی کے اندر یہ عمل شروع ہوا اور یہ لگاتار تیز ہوتا جارہا ہے۔ تیجسوی کا سیاسی تجربہ کتنا بھی چھوٹا ہولیکن سپریمو کا بیٹا ہونے کا فائدہ تو انھیںقدم قدم پر ملتا ہی رہا ہے۔ چھوٹا بیٹا ہونے کے باوجود لالو پرساد نے انھیں اپنا سیاسی جانشین بنایا۔ اسمبلی انتخاب کے دوران انھیںآر جے ڈی کے سب سے محفوظ انتخابی حلقہ راگھوپور سے امیدوار بنایا گیااور الیکشن میں جیت دلانے کی ذمہ داری لالو پرساد نے خود اپنے اوپر لے لی۔
2015 میںمہا گٹھ بندھن سرکار کی تشکیل کے وقت آر جے ڈی کے کئی قدآور لیڈروں کی توہین کرکے لالو خاندان کی دوسری نسل کے اس ناتجربہ کار خون کو کابینہ میںدوسرا مقام و نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ ملا۔ اس کے بعد مہا گٹھ بندھن سے نتیش کمار کے پالابدلنے کے بعد اسمبلی میںانھیں اپوزیشن لیڈر کی کرسی ملی۔ رابڑی دیوی کی موجودگی کے باوجود آر جے ڈی میں عملی طور پر وہ سپریمو کے بعد سپریمو رہے۔ ریاست میںدو مرحلوں میں ضمنی انتخاب ہوئے اور آر جے ڈی کو بڑی کامیابی ملی۔ ارریہ کے پارلیمانی اور جہان آباد کے اسمبلی ضمنی انتخاب کے ساتھ ساتھ ارریہ اسمبلی ضمنی انتخاب میںاس کی جیت ہوئی۔ یہ الگ بات ہے کہ آر جے ڈی کے ووٹ میںکوئی اضافہ نہیںدکھائی دیا لیکن ضمنی انتخابات کی کامیابی تیجسوی کے کھاتے میںگئی۔ راجیہ سبھا کے الیکشن میںآر جے ڈی سے منوج جھا کی امیدواری بھی تیجسوی کے حصے میں ہی مانی گئی۔ اس لیے بہار کے سیاسی حلقوں میںمان لیا گیا کہ اب آر جے ڈی میںجو کچھ ہے، سب تیجسوی کے کنٹرول میںہے اور جو ان کے کنٹرول میں نہیں ہے، اس کی آر جے ڈی میں کوئی وقعت نہیں ہے۔ آر جے ڈی میں کس کی کیا وقعت ہے، یہ کہنا فی الحال مشکل ہے لیکن اتنا تو طے ہے کہ پا رٹی میںایسے لوگوں کی تعداد کم نہیںہے جو تیجسوی کی پسند نہ ہونے کے باوجود وہاںپورے رعب کے ساتھ ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ نئے لوگوں سے وہ ان پرانوں کو بے گھر کرنے کی جی جان سے کوشش میں ہیں۔ تیج پرتاپ یادو کی پارٹی کی صفائی مہم کے باوجود پارٹی کے ریاستی صدر رام چندر پوروے لالو کی مہربانی سے اپنے عہدے پر بنے رہے۔ اسی طرح ان کے پرانے ،بزرگ لیڈروں کی نظر اندازی کے بعد بھی وہ پارٹی میںطاقتور ہی بنے ہیںاور لالو رابڑی کی نظر میںاہم بھی ۔ تیجسوی یا ان کے حامیوں کا گروپ اپنی سیاسی ناکامی کے سبب ان لیڈروں کی اہمیت کو کہیںسے کمتر نہیںکر سکے ہیں۔ لالو یادو کی جسمانی طور پر موجودگی ان لیڈروں کے لیے راحت کی بات ہوگی تو تیجسوی کی ٹیم کے لیے پریشانی کا سبب۔ انتخابی سال میںان بزرگ لیڈروں کو لے کر امن اور بقائے باہمی کا ایسا ماحول حالانکہ آر جے ڈی کے لیے سیاسی فائدے کی بات ہوگی لیکن پارٹی کی نئی قیادت کو اپنی بساط پر گوٹی چلنے میں پریشانی ہوسکتی ہے۔ یہ دوسرا بحران پیدا کرسکتا ہے۔ اس لحاظ سے نئی قیادت کے لیے یہ چیلنج ہے۔

 

 

 

 

دوسرا بحران
آر جے ڈی یا سیدھے الفاظ میںکہیںتو لالو رابڑی کا دوسرا بحران زیادہ سنگین ہے۔ یہ بحران پورے لالو خاندان کو اپنی زد میںلے رہا ہے۔ یہ بحران ہے لالو- رابڑی خاندان کے اندر اقتدار پر کنٹرول کرنے کی غیر اعلانیہ ہوڑکا۔ اس کا اظہار ہونے بھی لگا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ابھی تک ایسا کچھ نہیںہے جس کا اثر خاندان کے بنیادی اتحاد پر پڑے اور ایسا ابھی ہو بھی نہیںسکتاہے۔ لیکن جو باتیںسامنے آرہی ہیں، ان کی سمت تو اچھی نہیں کہی جاسکتی۔ اس بحران کا چرچا اب سوشل میڈیا پر براہ راست اور بالواسطہ طور پر ہو رہا ہے ۔ اس اظہار کے باوجود سب کچھ پرسکون ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ پرسکون کب تک ہے اور یہ کب دھماکہ کرے گا۔ حالانکہ یہ بھی صحیح ہے کہ لالو پرساد کے رہتے ایسا ہونا بہت مشکل ہے اور تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن کب کس کی خواہش ہلورے لینے لگتی ہے، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ آر جے ڈی سپریمو کے بڑے بیٹے اور بہار کے سابق وزیر صحت تیج پرتاپ یادو نے گزشتہ ایک ڈیڑھ مہینے میں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر دو بار ایسے اشارے دیے جو خطرے کی جھلک دے رہے ہیں۔ ایک بار تو انھوںنے پارٹی کے اندرونی معاملوں میںاپنی نظراندازی کا الزام لگایااور ایسی نظراندازی کے ذمہ دار لیڈروں کو پارٹی سے باہر کرنے کا اعلان کردیا۔ دوسری بار انھوںنے فیس بک کے ذریعہ اپنے خلاف لالو رابڑی رہائش گاہ کے دو ملازموں کی سازش کا معاملہ اٹھایا۔ ان میں ایک تو بہار سرکار کے افسر ہیں اور رابڑی دیوی کے میکے سلار کلاں (پھلوریا، گوپال گنج) کے ہیں۔ اس فیس بک پوسٹ میںچرچا کی گئی ہے کہ عام لوگوںکے بیچ خاص طور سے مہوا کے ان کے ووٹروں کے بیچ کس توہین آمیز صفات کے ساتھ ان کی چرچا کی جاتی ہے، انھیںپاگل تک بتایا جاتا ہے۔ حالانکہ اس معاملے کو بھی لالو رابڑی کی پہل پر ختم کردیا گیالیکن ان باتوںکی چرچا کے ساتھ چنگاری تو ہوا میں اچھال دی گئی ہے۔ پارٹی کے تنظیمی اور اندرونی معاملوں میںاپنی نظراندازی کے ذریعہ لالو پرساد کے اس بڑے بیٹے نے پارٹی کے ریاستی صدر رام چندر پوروے پر نشانہ سادھا تھا۔ حالانکہ رام چندر پوروے سے تیج پرتاپ یادو کے رشتے اب بھی سہج سے کافی دور ہیں۔ آر جے ڈی کے کچھ بڑ ے لیڈروںپر بھروسہ کریںتو تیج پرتاپ کی اس مہم کو ان کے بھائی کے ساتھ ساتھ کچھ لیڈروں کی بھی بالواسطہ طور پر حمایت تھی لیکن رام چندر پوروے جیسے اپنے پرانے بھکت کو لالو رابڑی اس طرح بے عزت نہیںہونے دینا چاہتے تھے۔ دوسرے معاملے میںبہارکی اس جوڑی نے ایسا ہی رخ اختیار کیا۔ لالو رابڑی کی جوڑی نے ہوشیاری سے پور ے معاملے کو نتیش کمار، سشیل مودی کے خلاف موڑ دیا۔ اس معاملے میں تیج پرتاپ ایک بار پھر ہنسوڑ سیاست کے نمونے کے طورپر ابھر کر سامنے آئے ۔ یہ سابق وزیر صحت مانیںیا نہ مانیں ، ان کے حامی اور خیرخواہ تو ضرور مانتے ہیں۔
تیج پرتاپ کی خواہش
تیج پرتاپ یادو کو سیاسی طور پر مطمئن رکھنا لالو- رابڑی کے لیے فی الحال سب سے بڑا چیلنج ہے۔ تیجسوی میںکیا سیاسی مہارت ہے، یہ کہنا مشکل ہے لیکن تیج پرتاپ تو اپنا تعارف 26 نومبر 2015سے 27 جولائی 2017 تک لگاتار دیتے رہے ہیں۔ ان کی ناکامی کا پہلا نمونہ تو حلف برداری کے دوران ہی مل گیا تھاجب گورنر کی بار بار ہدایت کے باوجود وہ ڈھنگ سے حلف نامہ بھی نہیں پڑھ سکے ۔ آخر میںگورنر کو خاموش ہوجانا پڑا تھا۔ تیج پرتاپ ودھان منڈل کے ایوانوں میںاپنے محکموں کے جواب کے دن غیر حاضر رہتے اور یہ کام کبھی آلوک مہتہ اور کبھی چندریکا رائے جیسے وزیر کرتے۔ ان صلاحیتوںکے باوجود مہا گٹھ بندھن سرکار میںتیج پرتاپ بطور وزیر تیسرے نمبر پر تھے، عبدالباری صدیقی اور وجیندر پرساد یادو سے سینئر۔ ایسا محض اس لیے کہ وہ لالو پرساد یادو کے بیٹے ہیںاور ایک سیاسی سمجھوتے کے تحت نتیش کمار نے انھیںسرکار میں خاص حیثیت دی تھی۔ یہیںسے تیج پرتاپ کی سیاسی خواہش کی لہریں تیز ہوئیں اور اب تالاب سے نکل کر اقتدار کی سیاست کے سمندر میں جانے کو بیتاب ہیں۔
یہ سچ ہے کہ آر جے ڈی میںتیجسوی پرساد کی قیادت کی قبولیت بڑے پیمانے پر بڑھی ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ پارٹی کے پرانے اور سیاسی گروپوں میںقبولیت پرانے، معتمداور تجربہ کار لیڈروں کی بڑی جماعت اب بھی ان سے دور ہے یا وہ ان کے قریب نہیں پہنچ پارہے ہیں۔ لالویادو ان لیڈروں کی انتخابی اور حکمت عملی کی ضرورت کو سمجھتے ہیں لہٰذا وہ سبھی کو ساتھ رکھتے رہے ہیں۔ اب بیٹے کے لیے ان سبھی کو انھیں ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگا، یہ معمولی ٹاسک نہیںہے۔ لیکن ریاست کی نظر لالو رابڑی خاندان کی اندرونی سرگرمیوں پر ہے۔آرجے ڈی سپریمو کے لیے گھر، اس کے اتحاد اور موجودہ ڈھانچے کو سنبھال کر رکھنا آسان نہیںہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیسے آگے بڑھتے ہیں اور کیا حکمت عملی اپناتے ہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *