جموں و کشمیر میں بی جے پی کا نیا گیم پلان باغی ارکان اسمبلی کی صف بندی

جموں وکشمیر میں نئی حکومت سازی کے لئے کوششیں زور و شور سے جاری ہیں۔ پی ڈی پی عملاً ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے۔ تین اراکین اسمبلی پہلے ہی بغاوت کا اعلان کرچکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں باغیوں کی ایک بڑی تعداد سامنے آنے کی توقع ہے۔ اس سارے عمل میں ’’چت بھی میری اور پٹ بھی میری‘‘ کے مصداق بی جے پی کی جیت نظر آرہی ہے۔ کیونکہ ریاست میں نافذ دل بدلی مخالف قانون کی رو سے کسی بھی پارٹی کے ایک تہائی باغی ممبران دوسری جماعت میں شامل ہوجائیں تو وہ اسمبلی کی رکنیت سے نااہل نہیں ہوجائیں گے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر پی ڈی پی کے موجودہ 28ممبران میں سے دس یا اس سے زیادہ اراکین اسمبلی پارٹی چھوڑدیتے ہیں تو انہیں اپنی اسمبلی کی رکنیت بچانے کے لئے کسی دوسری پارٹی میں جانا پڑے گا۔ نیشنل کانفرنس اور کانگریس تو پہلے ہی حکومت سازی میں عدم دلچسپی کا اظہار کرچکی ہیں۔ ایسی صورتحال میں پی ڈی پی کے باغی اراکین اسمبلی کے لئے دو ہی راستے ہیں ۔ یا تو وہ بی جے پی میں شامل ہوجائیں یا پھر بی جے پی کی اتحادی جماعت پیپلز کانفرنس ، جس کی قیادت سجاد غنی لون کررہے ہیں ، میں شامل ہوجائیں۔87ممبران پر مشتمل جموں وکشمیر اسمبلی میں بی جے پی کے پاس 25سیٹیں ہیں۔اسکی اتحادی جماعت یعنی پیپلز کانفرنس کے پاس 2نشستیں ہیں۔ حکومت بنانے کے لئے کم از کم 44سیٹیں ہونا ناگزیر ہے۔ یعنی بی جے پی کو حکومت بنانے کے لئے مزید 17سیٹیں چاہیں۔ کیا پی ڈی پی کے باغی ممبران کی تعداد17ہوسکتی ہے، اس بارے میں کوئی بھی بات فی الحال وثوق سے نہیں کہی جاسکتی ہے۔
گیم پلان
لیکن اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ بی جے پی کا گیم پلان بہت بڑا ہے ۔ اسکی نظر صرف پی ڈی پی کے باغی ممبران پر ہی نہیں بلکہ وہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس سے بھی اراکین اسمبلی کو کھینچنے کا عمل شروع کرچکی ہے۔ پی ڈی پی میں سب سے پہلے علم بغاوت بلند کرنے والوں میں معروف شیعہ رہنما مولوی عمران رضا انصاری شامل ہیں۔ وہ پی ڈی پی کے سینئر لیڈران میں شمار کئے جاتے ہیں اور محبوبہ مفتی کی کابینہ میں وزیر تھے ۔ مولوی عمران رضا انصاری نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک مفصل بات چیت میں اس بات کی تصدیق کی کہ تینوں پارٹیوں یعنی پی ڈی پی ، نیشنل کانفرنس اور کانگریس سے ہم خیال لوگوں کو جمع کیا جارہا ہے۔ عمران رضا انصاری نے بتایا،’’ ہم مفتی اور عبداللہ خاندانوں کے خاندانی راج سے تنگ آگئے ہیں۔ ان دو خاندانوں نے عوام کا خوب استحصال کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سبھی پارٹیوں میں ایسے ممبران اسمبلی کی تعداد بہت بڑی ہے، جو جموں وکشمیر میں خاندانی راج ختم کرنا چاہتے ہیں۔ممکن ہے کہ یہ سب اکھٹے ہوجائیں اور ایک بڑی قوت بن کر سامنے آجائیں۔‘‘
پی ڈی پی کے جو ممبران اسمبلی باغی ہوکر بی جے پی کو حکومت سازی میں دے سکتے ہیں ۔ ان کے بارے میں فی الوقت صرف قیاس کیا جارہا ہے تاہم واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کم و بیش وہی اراکین اسمبلی ہوں گے ، جو مفتی محمد سعید کی وفات کے بعد محبوبہ مفتی کو الگ تھلگ کرکے حکومت سازی پر آمادہ ہوچکے تھے ۔یاد رہے کہ 7جنوری کو مفتی محمد سعید کی وفات کے بعد محبوبہ مفتی نے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے سے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ بی جے پی ایجنڈے آف الائنس کی پاسداری نہیں کررہی ہے۔ محبوبہ تقریباً اڑھائی مہینے تک ضد پر اڑی رہی اور اس دوران ریاست میں گورنر راج نافذ رہا۔لیکن جوں ہی یہ خبریں آنا شروع ہواکہ پارٹی کے بیشتر ممبران اسمبلی محبوبہ کو ایک طرف رکھ کر بی جے پی کے ساتھ مخلوط سرکار بحال کرنے پر تیار ہوگئے ہیں ، تو محبوبہ نے جھٹ سے اپنی ضد چھوڑ کر وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔ اس وقت پی ڈی پی کے باغیوں میں جو نام سامنے آئے تھے ، اُن میں عمران رضا انصاری جو شمالی کشمیر پٹن حلقہ انتخاب کی نمائندگی کررہے ہیں۔ ان کے چچا عابد انصاری جو سرینگر کے جڈی بل کی نمائندگی کررہے ہیں اورشمالی کشمیر میں ٹنگمرگ کے محمد عباس وانی اور جنوبی کشمیر کے نور آباد حلقے کے عبدالمجید پڈر شامل ہیں۔تاہم باوثوق ذرائع نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا کہ سید الطاف بخاری ، حسیب درابو، محمد اشرف میر اورعبدالرحمان ویری جیسے ممبران اسمبلی بھی پارٹی کو خیر آباد کرکے باغی اراکین اسمبلی سے جڑ سکتے ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 19جون کو پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار ختم ہوجانے کے ایک دن بعد ریاست میں گورنر راج نافذ ہوگیا۔ تاہم گورنر این این ووہرا نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے بجائے اسے التوا میں رکھا تاکہ نئی حکومت سازی کے امکانات کو بحال رکھا جاسکے ۔عمران رضا انصاری نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ خاندانی سیاست کے خلاف تینوں پارٹیوں پی ڈی پی ، نیشنل کانفرنس اور کانگریس سے ممبران اسمبلی کی ایک اچھی خاصی تعداد جمع ہوگی ، جو کھوکھلے نعروں کے بجائے اچھی حکمرانی فراہم کرنے میں یقین رکھتی ہو۔

 

 

 

 

بی جے پی کا ایک تیر سے دو شکار
باور کیا جاتا ہے کہ پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد توڑنا بی جے پی کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا اور اس کا مقصد ایک جانب جموں وکشمیر میں بی جے پی کی غلبے والی ایک نئی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرنا اور دوسری جانب آنے والے پارلیمانی انتخابات میں کشمیر مخالف جذبات ابھار کر ووٹروں کو لبھانا تھا۔ کیونکہ پی ڈی پی کے ساتھ مخلوط سرکار میں بی جے پی کئی ایسی باتوں کی پابند تھی ، جسکی وجہ سے لوک سبھا انتخابات کی مہم چلاتے ہوئے بی جے پی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ مثال کے طور پر پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان طے پائے ایجنڈا آف الائنس میں بی جے پی نے یہ بات مان لی تھی کہ وہ جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والی آئین کی دفعہ 370کو ختم کرنے کی بات نہیں دہرائے گی۔ حالانکہ دفعہ 370کو ختم کرنے کا وعدہ بی جے پی کے قومی منشور میں شامل ہے۔ اسی طرح ایجنڈا آف الائنس میں بی جے پی نے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے حریت لیڈروں اور پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی کوشش پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ اسکے علاوہ ایجنڈا آف الائنس میں جموں وکشمیر میں فوج کو غیر معمولی اختیارات دینے والے آر مڈ فورسز اسپیشل پائورس ایکٹ کو ختم کرنے اورریاست کے نیشنل ہائیڈرو پاور پروجیکٹوں کے مالکانہ حقوق جموں وکشمیر کو واپس دلانے جیسی باتیں شامل تھیں۔ اس ایجنڈے آف الائنس پر حالانکہ تین سال کے دوران زیادہ عمل نہیں ہوا تاہم دونوں پارٹیوں نے اس پر اپنے دستخط ثبت کئے تھے ۔ لیکن حکومت گرا کر بی جے پی نے خود کو ان بندشوں سے آزاد کرالیا ہے۔
کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے سابق سربراہ پروفیسر نور احمد بابا نے اس موضوع پر ’’چوتھی دنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ جموں وکشمیر میںمخلوط سرکار میں شامل رہتے ہوئے بی جے پی کے لئے یہ بات ممکن نہیں تھی کہ وہ لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران ووٹروں کے ساتھ یہ وعدہ دہراتی کہ وہ دفعہ 370کو ختم کرے گی ۔‘‘ حالانکہ بی جے پی کا محض ایک نعرہ ہے ، جس وہ صرف انتخابات کے موقعے پر استعمال کرتی ہے ۔ لیکن ایجنڈا آف الائنس کے رہتے ہوئے بی جے پی یہ کھوکھلا نعرہ بھی نہیں دے سکتی تھی ۔ لیکن اب اس نے خود کو اس بندش سے آزاد کرالیا ہے۔‘‘
سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا ، جنہوں نے کشمیر سے متعلق ، ’’سٹیزنز گروپ ‘‘ قائم کیا ہوا ہے، حال ہی میں وادی کے دورے پر تھے ۔ انہوں نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بی جے پی کشمیر مخالف اور پاکستان مخالف جذبات کو لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران استعمال کرئے گی ۔سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی نے جموں وکشمیر میں مخلوط سرکار توڑنے کے ساتھ ہی یہ کام شروع کردیاہے۔ حکومت گرنے کے صرف چار دن بعد 23جون کو بی جے پی صدر امیت شاہ نے جموں میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370کو ختم کرکے ہی دم لے گی ۔ یہ ریلی شاما پرساد مکھرجی کی برسی منانے کے لئے منعقد کی گئی تھی ۔ امیت شاہ نے اپنی تقریر میں ایک متنازعہ بات کہتے ہوئے کہا کہ شاما پرساد مکھرجی کا قتل جموں وکشمیر میں ہی ہوا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ آر ایس ایس شروع سے ہی یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ مکھرجی کو جموں وکشمیر کی جیل میں زہر دے کر ہتیا کی گئی ہے۔تاہم یہ الزام کبھی ثابت نہیں ہوا ہے۔ امیت شاہ بولی بسری یاد کو پھر تازہ کیا۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پی ڈی پی قیادت والی مخلوط سرکار میں( ہندو اکثریتی ) جموں اور (بودھ اکثریتی ) لداخ کو مکمل طور نظر انداز کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان دوخطوں کے ساتھ امتیار برتا گیا ہے۔جبکہ مرکز نے ان تین سالوں میں ریاست کو بھاری فنڈس مہیا کرائے ہیں۔امیت شاہ کی تقریر سن کر اندازہ ہورہا تھا کہ وہ صرف جموں کے لوگوں سے مخاطب نہیں تھے بلکہ لوک سبھاک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پورے ملک کے ووٹروں کو لبھانے کی کوشش کررہے تھے ۔ ظاہر ہے کہ پی ڈی پی کے ساتھ مخلو ط سرکار میں شامل رہتے ہوئے امیت شاہ جموں میں اس طرح کی تقریر کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی بے پی ڈی پی سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے لوک سبھا انتخابات میں کشمیر کے تئیں اپنی سخت گیر پالیسی کا پرچار کرنے اور کشمیر مخالف جذبات ابھار کرووٹروں کو لبھانے کے لئے راہ ہموار کردی ہے۔سی پی آئی (ایم ) کے لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے اس ضمن میں ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،’’ مجھے لگتا ہے کہ بی جے پی پارلیمانی الیکشن کی مہم چلاتے ہوئے کشمیراور پاکستان مخالف جذبات کا بھر پور استعمال کرے گی ۔کشمیر کو اس الیکشن میں بی جے پی ایک مہرے کے طرح استعمال کرے گی ۔‘‘
صاف ظاہر ہے کہ پی ڈی پی کو منجھدار میں چھوڑ کر اپنے پارٹی مفادات کے لئے بی جے پی نے یہ سارا گیم پلان تیار کیا تھا۔ اگر بی جے پی پی ڈی پی ، نیشنل کانفرنس اور کانگریس سے باغی امیدواروں کی ایک اچھی خاصی تعداد کو یکجا کرکے ان کی مدد سے نئی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئی تو یقینا آنے والے دو سالوں میں جموں وکشمیر میں بی جے پی اپنے من پسند انداز میں حکومت چلاسکتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس جیسی علاقائی جماعتوں کی کیا اسٹریٹجی ہوسکتی ہے۔ منہ پھٹ رکن اسمبلی اور عوامی اتحاد پارٹی کے لیڈر انجینئر رشید نے حال ہی میں پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بی جے پی کو ’’آئینہ ‘‘ دکھانے کے لئے متحد ہوجائیں اور حکومت قائم کریں ۔ آنے والے دنوں میں جموں وکشمیر کے مین سٹریم منظر نامے پر کئی غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *