بھیو جی مہاراج خود کشی یا قتل؟

اتوار ، سوموار اور منگل، ان تین دنوں کے اندر چھپی ہوئی ہے ،راشٹر سنت کہے جانے والے ملک کے مشہور سنت بھیو جی مہاراج کی خود کشی یا قتل کی کہانی ۔
بھیو جی مہاراج کم عمر میں ہی ملک میں ایک بڑا نام ہو گئے تھے۔ اتنا بڑا نام کہ گجرات کے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے جب نریندر مودی نے ایک دن کا اُپواس کیا تھا، تو اس اُپواس کو تڑوانے کے لئے بھیو جی مہاراج کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس وقت سارے ملک نے دیکھا کہ کس طرح یہ راشٹر سنت نریندر مودی کا اپواس تڑوا رہا ہے۔ انا ہزارے جب دہلی میں اپنا مشہور آندولن کررہے تھے، تو ان کی بھوک ہڑتال کو تڑوانے کے لئے بھی اس وقت کی سرکار نے بھیو جی مہاراج پراصرار کے ساتھ دبائو ڈالا تھا۔ انا ہزارے کے ساتھ بات چیت کر کے ایک مفاہمت کی یادداشت تیار کرنے کا کام بھی بھیو جی مہاراج کو سونپا گیا تھا۔ بھیو جی مہاراج کا تعلق تقریبا ًہر سیاسی پارٹیوں کے لوگوں سے تھا۔ ان کے یہاں ہر روز عام اور غریب لوگوں سے لے کر سیاست دانوں تک کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ان کے یہاں سنگھ چیف موہن بھاگوت ٹھہرتے تھے۔ اودھو ٹھاکرے بھی آتے تھے۔ مرکزی سرکار کے تمام وزیر ان کے پاس جاتے تھے، جن میں نیتین گڈکری اہم تھے۔ مہاراشٹر کے سبھی وزیر ان کے یہاں جاتے تھے۔ وزیر اعلیٰ کی شکل میں چاہے دیویندر فڑنویس ہوں، ولاس رائو دیشمکھ یا اشوک چوہان، سبھی کا ان کے یہاں آنا جانا رہا۔ جو بھی سیاست میں تھوڑا آگے بڑھا، وہ بھیو جی مہاراج کے یہاں ضرور جاتا تھا۔ لیکن بھیو جی مہاراج خود سیاسی آدمی نہیں تھے۔ انہوں نے عوامی خدمات کے اتنے کام کئے ہیں، جن کی پوری جانکاری بھی ابھی تک لوگوں کے پاس نہیں پہنچی ہے۔
بھیو جی مہاراج گرہست سنت تھے۔ ادھر ان کی موت کے بعد اکھاڑہ پریشد کہہ رہا ہے کہ بھیو جی مہاراج سنت ہی نہیں تھے۔ بھیو جی مہاراج کا قتل یا خود کشی کے بعد ان کی شبیہ خراب کرنے کا کام تیزی کے ساتھ شروع ہو گیا ہے۔بھیو جی مہاراج کے ساتھ کیا ہوا ،یہ جاننے یا بتانے کے بجائے طرح طرح کی کہانیاں لوگوں کے بیچ پیش کی گئیں اور یہ کام بھیو جی مہاراج کے خاندان والوں نے ہی کیا۔ سب سے پہلے انہوں نے بھیو جی مہاراج کی شبیہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد، جسے جیسا سمجھ میں آیا اس نے بھیو جی مہاراج کو لے کر ویسی کہانی گڑھی اور اسے اخباروں اور ٹیلی ویژن تک پہنچا دیا۔ بھیو جی مہاراج کی موت کے بعد سے اب تک، انہیں جاننے والے یا خاص طور پر ان سے صلاح لینے والے لوگ یہ نہیں مانتے ہیں کہ بھیو جی مہاراج خود کشی کر سکتے ہیں۔ کچھ دبی زبان میں اور کچھ لوگ صاف لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ بھیو جی مہاراج کی موت کی گہری جانچ ہونی چاہئے کہ آخر ان کے ساتھ ہوا کیا؟یا تنائو اتنا زیادہ کیسے بڑھ گیا کہ انہیں خود کو گولی مارنی پڑی۔ کیا بھیو جی مہاراج سچ مچ تنائو میں تھے؟ کیا وہ قرض میں تھے؟کیا بھیو جی مہاراج کا ٹرسٹ دیوالیہ ہو چلا تھا؟یہ سبھی ان کے تنائو کی وجہ بتائے جارہے ہیں، لیکن ان سوالوں پر بات کرنے سے پہلے ہم اتوار، سوموار اور منگل کے واقعات کا جائزہ لیتے ہیں۔

 

 

 

 

بھیو جی مہاراج اتوار کو اندور میں اپنی رہائش گاہ سے پونے جانے کے لئے نکلے ۔ بھیو جی مہاراج کی دو رہائش گاہیں تھے، ایک ان کا اپنا آبائی گھر جہاں ان کی بیمار ماں رہتی ہیں اور جہاں ان کے والد کی موت ہوئی تھی اور دوسرا گھر انہوں نے سلوراسپرنگ میں لیا تھا، جہاں وہ رہتے تھے اور لوگوں سے ملتے تھے۔ چونکہ یہ جگہ شہر سے دور ہے، اس لئے ان کے بھکتوں کو لانے کے لئے آشرم سے ایک بس لگاتار سلور اسپرنگ میں آتی تھی اور بھکتوں کو لے کر واپس لوٹتی تھی۔ اس بس کو اتنے چکر لگانے پڑتے تھے کہ جب تک بھیو جی مہاراج یہاں رہتے تھے، بھیڑ جمع رہتی تھی۔لیکن اتوار ، سوموار اور منگل کے لئے بھیو جی مہاراج نے کسی سے بھی ملنے کا پروگرام نہیں رکھا تھا۔وہ اتوار کی صبح پونے کے لئے نکلے۔ دراصل وہ پونے اس لئے جارہے تھے کیونکہ ان کی بیٹی کوہو وہاں رہتی ہے۔ بیوی کی موت کے بعد بھیو جی مہاراج نے کوہو کی پرورش اور اس کی نشو نما کے لئے اسے اندور کے تنائو سے دور پونے میںرکھنا ٹھیک سمجھا۔وہ اب کوہو کو لندن بھیجنا چاہتے تھے، تاکہ وہ یہاں کے مسائل سے دور ہوکر اپنی زندگی اور اپنی شخصیت کو مثبت شکل دے سکے۔
بھیو جی مہاراج پونے کے راستے میں اندور سے لگ بھگ 50 کلو میٹر دور سیندھوا پہنچے ہی تھے کہ ان کے فون کی گھنٹی لگاتار بجنے لگی۔ انہیں ان کی موجودہ بیوی ڈاکٹر آیوشی شرما نے پونے جانے سے منع کیا تھا اور اب وہ کوئی ضروری بات چیت کرنے کے لئے بھیو جی مہاراج کو فوراً واپس بلا رہی تھیں۔ بھیو جی مہاراج نے ڈاکٹر آیوشی سے کہا کہ میں پونے سے لوٹ کر آتا ہوں، لیکن بیوی نے اتنا دبائو ڈالا کہ بھیو جی مہاراج کو سیندھوا سے واپس اندور لوٹنا پڑا۔ بھیو جی مہاراج اندور لوٹ کر سلور اسپرنگ نہیں گئے اور نہ ہی اپنے پرانے گھر گئے۔ وہ ایک ریسٹورینٹ میں گئے، شاید ڈاکٹر آیوشی ان سے وہیں ملنا چاہتی تھیں۔ چونکہ بھیو جی مہاراج بہت مشہور چہرہ تھے، اس لئے جب وہ اندور کے اس ریسٹورینٹ میں پہنچے تو ان کے لئے ریسٹورینٹ کے مالک نے جگہ خالی کر دی۔ ریسٹورینٹ کے مالک نے بھی بھانپ لیا کہ بھیو جی کی مسکراہٹ اتنی فطری نہیں تھی ، وہ تنائو اور تھوڑے غصے اور جلدی میں تھے۔ بھیو جی مہاراج جب بھی کبھی کہیں کے لئے نکلتے، تو واپس نہیں لوٹتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ جب بھی آپ نکلیں،پوری تیاری کے ساتھ نکلیں۔ اگر آپ واپس آتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے سفر میں کوئی بڑا خلل آنے والا ہے۔ شاید اسی لئے بھیو جی مہاراج لوٹنا نہیں چاہتے تھے، لیکن ان کی بیوی نے دبائو ڈال کر انہیں واپس بلایا ۔ ان کے اس ریسٹورینٹ میں پہنچنے کے کچھ وقت بعد ڈاکٹر آیوشی وہاں پہنچیں اور جانکاری کے مطابق، دونوں کے بیچ تقریباً 40 منٹ سے ایک گھنٹے تک بات چیت ہوئی۔ اس کے بعد، بھیو جی مہاراج پونے جانے کے بجائے سلور اسپرنگ لوٹ آئے۔
سلور اسپرنگ میں آکر وہ اپنے کمرے میں چلے گئے اور خاموش ہو گئے۔ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ بھیو جی مہاراج سلور اسپرنگ میں ہیں، اس لئے وہاں صرف ان کے گھر والے تھے، کوئی ملنے والا نہیں تھا۔ میں صاف کردوں کہ ان کے گھر والوں سے میرا مطلب ان کی بیوی اور بیوی کے گھر والوں سے ہے۔ بھیو جی مہاراج جس گھر میں رہتے تھے، اس کے ٹھیک سامنے والے گھر میں ان کی سسرال والے رہتے تھے۔ اس لئے بھیو جی مہاراج کی بیوی نے ان پر دبائو ڈال کر، وہ گھر کرائے پر لیا اور اس میں اپنی ماں، بہن، بھائی وغیرہ کو رکھوا دیا۔ ان سبھی کاپورا کنٹرول بھیو جی مہاراج کے سلور اسپرنگ والے گھر پر تھا۔ پچھلے چھ مہینوں میںحالت یہ ہوگئی تھی کہ بیوی یا سسرال والوں کی اجازت کے بغیر بھیو جی مہاراج اپنے خدمتگار یا اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے بھی نہیں مل سکتے تھے۔ اتوار کا پورا دن کسی بحث میں گزرا۔ اس کے گواہ صرف گھر کے خدمتگار تھے، جنہیں سیوا دار کہتے ہیں۔ سوموار کا دن بھی بھیو جی مہاراج نے اسی طرح کاٹا۔ لیکن شاید انہوں نے فون کے ذریعہ اپنی بیٹی سے کہا کہ تم اندور چلی آئو۔ ان کی بیٹی منگل کو اندور آنے کے لئے پونے سے نکلی، اسے اندور لگ بھگ ایک یا دو بجے پہنچنا تھا۔ یہ منگل کی صبح تھی۔
منگل کو بھیو جی مہاراج کے کچھ نزدیکی لوگ سلور اسپرنگ میں تھے۔ نیچے صرف تین خدمتگار تھے اور کچھ لوگ بھی نیچے بیٹھے تھے، لیکن انہیں اوپر جانے کی اجازت ڈاکٹر آیوشی اور ان کے گھر والوں نے نہیں دی۔ان میں سے ایک آدمی بھیو جی مہاراج کے پاس اوپر گیا۔ بھیو جی مہاراج اپنی بیٹی کے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے، وہ آدمی ان کے پاس لگ بھگ 40 منٹ رہا، پھر اس سے نیچے جانے کے لئے کہا گیا۔ وہ نیچے آکر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد، لگ بھگ 12 سے ساڑھے بارہ بجے کے بیچ بھیو جی مہاراج نے خود کو گولی مار لی۔ یہ کہنا ہے بھیو جی مہاراج کے گھر والوں کا۔ بھیو جی مہاراج نے ایک سوسائڈ نوٹ لکھا، جس کے بارے میں بتایا گیاکہ انہوں نے خود کشی سے پہلے یہ لکھا تھا۔ گھر والوں کے مطابق ،بھیو جی مہاراج نے جب ایک گھنٹے تک کوئی نقل و حرکت نہیں کی اور نیچے نہیں آئے، تو گھر والوں نے دروازے پر دستک دی، دروازہ اندر سے بند تھا۔اس کے بعد دروازہ توڑا گیا اور وہ اندر گئے تو دیکھا کہ وہ پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے اور پورے کمرے میں خون ہی خون تھا۔ یہاں کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ اس گھر میں خدمتگار تھے، ان کی بیوی تھیں۔ نام نہاد خود کشی سے پہلے ان کی آخری بات چیت بیوی سے ہوئی تھی۔ بھیو جی مہاراج ہر 15-20 منٹ میں پانی مانگتے تھے، پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ انہوں نے پانی نہ مانگا ہو اور اسے لے کر کسی کو کوئی فکر بھی نہیں ہو۔ جو آدمی لگاتار لوگوں کے بیچ رہتا ہو، وہ ایک گھنٹے تک خاموش اکیلا رہے اور پھر کہا جائے کہ ایک گھنٹے بعد ہم نے دروازہ توڑا تو بھیو جی مہاراج بستر پر گرے ہوئے دکھائی دیئے اور پورے کمرے میں خون ہی خون تھا۔

 

 

 

 

 

گھر والوں کا رول مشتبہ
دروازہ ٹوٹنے کے 15 منٹ بعد وینائک وہاں پہنچے اور بھیو جی مہاراج سلور اسپرنگ سے بمبئی اسپتال کے لئے لے جائے گئے۔ سلور اسپرنگ اور بمبئی اسپتال کے بیچ تقریباً 20 کلو میٹر لمبا فاصلہ ہے ۔لیکن بھیو جی مہاراج تو اس گولی کے ساتھ ہی اپنا جسم چھوڑ چکے تھے، جو یا تو انہیں ماری گئی تھی یا انہوں نے خود مار لی تھی۔ یہاں ایک راز اور ہے۔ بھیو جی مہاراج کے ماتحت جتنے لوگوں سے ہماری ٹیم نے پوچھ تاچھ کی، اس سے ایک نئی بات کا پتہ چلا کہ بھیو جی مہاراج کبھی اپنا کمرہ بند نہیں کرتے تھے۔ آج تک ان کی عادت ہی نہیں رہی کمرہ بند کرنے کی۔ وہ اپنی بیٹی کے کمرے میں تھے، جوایک سے دو بجے کے بیچ ان سے ملنے کے لئے اندور پہنچنے والی تھی۔ بھیو جی مہاراج کی موت کے بعد، ان کی اور بیٹی کوہو کے بارے میں ساری کہانیاں ان کے سسرال والوں کے حوالے سے سامنے آئیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان سب کی جانچ ہو رہی ہے کہ کمرہ توڑا گیا یا نہیں توڑا گیا یا گولی کس نے چلائی؟کیا بھیو جی مہاراج کے یا کسی اور کے ہاتھ میں ریوالور تھی اور بھیو جی مہاراج نے کہا کہ آپ لوگ جو مجھ سے کروانا چاہتے ہو، اس سے اچھا ہے، آپ ہی گولی مار دو اور اس نے گولی چلا دی ہو؟سرکار چاہتی ہے کہ اسے خود کشی کہہ کر معاملے کو ختم کر دیا جائے۔ ایک اور راز ہے۔ بھیو جی مہاراج کی آخری رسوم اگلے دن ادا کردی گئی ۔لگ بھگ دس ہزار لوگ اس آخری رسومات میںشامل ہوئے اور اس کے اگلے ہی دن بھیو جی مہاراج کی یاد میں پرارتھنا سبھا ہوئی۔ اس میں نہ تو کسی بھجن گائک نے پرارتھنا کہی ،نہ ہی شردھانجلی دی اور نہ ہی اسمرتی سبھا ہوئی۔ایک ریکارڈ پلیئر بجا کر پانچ بجے شروع ہوئی پرارتھنا سبھا چھ بجے ختم ہو گئی۔ سب کچھ آخر اتنی جلدی جلدی کیوں؟
انسانی احساس کا اسکواڈ فیس
انسانی احساس کا ایک اسکواڈ فیس بھیو جی مہاراج کی موت کے بعد دکھائی دیا۔ ان کی صلاح کے لئے ، ان کی عنایتوں کے لئے ان کے یہاں آکر فیضیاب ہونے والے لیڈروں اور بڑی فلمی ہستیوں میں سے کوئی بھی بھیو جی مہاراج کی موت کے بعد ان کے یہاں تعزیت کرنے نہیں پہنچا۔ حالانکہ 14تاریخ کی رات میں 9 بجے کیلاش وجے ورگیہ ان کے گھر گئے۔ کئی اور لوگ بھی آئے گئے ہوں گے، لیکن کوئی بڑا نام بھیو جی مہاراج کو شردھانجلی دینے نہیں پہنچا ۔اب یہ حالات کہہ رہے ہیں کہ بھیو جی مہاراج کے آس پاس جتنے لوگ تھے، انہوں نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ جو بھیو جی مہاراج لگاتار لوگوں سے گھرے رہتے تھے اور جو ہر 15-20 منٹ کے بعد پانی پیتے تھے، وہ کہاں ہیں اور کیا کررہے ہیں۔ اخباروں میں جو کہانیاں چھپیں وہ سبھی بھیو جی مہاراج کے سسرال والوں کے حوالے سے تھیں۔ ان کہانیوں میں یہ بھی کہا گیا کہ بھیو جی مہاراج کی بیوی ان کی دبلی پتلی 17 سال کی بیٹی کوہو سے خوفزدہ رہتی تھیں کہ کہیں کوہو ان کا کچھ نقصان نہ کردے ۔اسی ڈر سے انہوں نے سلور اسپرنگ میں بھیو جی مہاراج کے گھر کے سامنے کے مکان کو کرائے پر لے کر اپنے گھر والوں کو وہاں رکھا تھا۔یہ عجیب کہانی ہے ۔کوہو کو تو بھیو جی مہاراج خاندانی اختلاف کی وجہ سے لندن بھیج دینا چاہتے تھے۔ اب کوہو کو ہی ویلن بنانے کی کوشش جن لوگوں نے کی، ان لوگوں نے کبھی بھیو جی مہاراج سے پیار کیا ہی نہیں ۔
دوسری شادی اور اختلاف کی شروعات
دراصل لگ بھگ سوا سال پہلے بھیو جی مہاراج نے دوسری شادی کی۔ انہوں نے دوسری شادی کی وجہ اپنے نزدیکی لوگوں کو یہ بتایا کہ میری بیٹی کی دیکھ بھال کوئی لڑکی ہی اچھی طرح کر سکتی ہے۔وہ دوسری شادی کوہو کے لئے ہی تھی لیکن وہ کوہو کی ہی زندگی کا جنجال بن گئی۔ کوہو ایک بار اندور آئیں تو انہوں نے دیکھا کہ پورے گھر سے ان کی ماں کی تصویریں غائب ہیں اور ان کا سامان ہٹا دیا گیا ہے۔ اس پر کوہو نے سخت اعتراض کیا۔ اس اعتراض کے بعد ہی بھیو جی مہاراج کی نئی بیوی ڈاکٹر آیوشی اور کوہو کے بیچ ایک تنائو شروع ہو گیا۔ نوکری تلاش کرنے کے لئے اندور آئی عام گھر کی ایک لڑکی، جب اتنی بڑی شخصیت کے نزدیک پہنچتی ہے اور اسے اس سے شادی کے امکانات نظر آتے ہیں تو صورت حال کیسے بدلتی ہے، شاید بھیو جی مہاراج کی زندگی اس کی مثال ہے۔ بھیو جی مہاراج پر لگاتار دبائو ڈالا جانے لگا کہ وہ اپنی ساری جائیداد کا وارث اپنی بیوی کو بنائیں اور ان کی بیوی کو یہ لگا کہ جتنا پیارو احترام وہ بھیو جی مہاراج کو دیتی ہیں، اتنا ہی پیارو احترام وہ انہیں بھی دیں۔ دراصل بھیو جی مہاراج کی دوسری بیوی آیوشی شرما وہ ڈاکٹر ہیں، جو ایک ایکسیڈنٹ کے بعد بھیو جی مہاراج کی دیکھ بھال کرنے والوں میں شامل تھیں اور انہیں ایکسرسائز کراتی تھیں۔ بعد میں دونوں کی شادی ہوئی۔ ڈاکٹر آیوشی بھیو جی مہاراج کی ان ساری جائیدادوں کو لے کر بھرم اور خوف میں تھیں، جن کے بارے میں لوگ اندازہ لگاتے تھے کہ وہ پانچ سو کروڑ کی ہیں، ہزار کروڑ کی ہیں یا دو ہزار کروڑ کی۔

 

 

 

 

 

بھیو جی مہاراج کی عوامی خدمت
بھیو جی مہاراج نے اپنی آبائی جائیداد میں سے کچھ زمینیں بیچ کر سماج سیوا میں بھی لگائی تھی۔ انہوں نے مجرمانہ رویے والے پاردی سماج کے بچوں کے لکھنے پڑھنے کے لئے اسپتال اور اسکول کا بندوبست کیا تھا۔ انہوں نے بہت ساری طوائفوں کے بچوں کے پڑھنے لکھنے کا انتظام کیا اور ان کے والد کی جگہ اپنا نام لکھوایا۔ دیو داسیوں کو ان کی بدترین زندگی سے نکالنے کی بھی انہوں نے لگاتار کوششیں کی، جس کے سبب ان پر دو بار جان لیوا حملہ بھی ہوا۔ ایک بار ان کے پاس آئے کچھ کسانوں نے کہا تھاکہ وہ خود کشی کرنے کو مجبور ہیں، تو بھیو جی مہاراج کا جواب تھا کہ خود کشی کیوں کروگے، اچھے سے زندگی جیو، تمہیں جو ضرورت ہوگی میں مدد کروں گا۔ اس کے بعد انہو ں نے کسانوں کے لئے مفت کھاد اور بیج کا انتظام کیا۔ کسانوں کو پانی رکھنے کے لئے انہوں نے پانی کی ٹنکیاں مفت تقسیم کرائی ۔آدیواسی علاقوں میں آدیواسیوں کے بچوں کے لئے انہوں نے اسکول کھولا ، بچوں کو اسکالر شپ دی۔ جو بھی پیسہ انہیں ملا، اس میں اپنا پیسہ ملا کر اپنی خاندانی جائیداد سے بھیو جی مہاراج نے غریبوںکے لئے کام کیا۔ سرکاروں کی وعدہ خلافی سے وہ بہت دکھی رہتے تھے۔ عصمت دری کے بعد مار دی گئی مراٹھی لڑکی کے خاندان کی بھیو جی مہاراج نے ہر طرح سے مدد کی جسے سرکار نے بھلا دیا۔ پورے مہاراشٹر میں اس لڑکی کی حمایت میں لاکھوں لوگوں کا جلوس نکلا تھا، وزیر اعظم نے اس کے لئے کافی وعدے کئے تھے، اسکے بھائی کو نوکری دینے کی بات کہی گئی تھی، لیکن کچھ نہیں ہوا۔ سرکار کی اس وعدہ خلافی کا بھیو جی مہاراج کو دکھ تھا۔ اس معاملے کے ملزم پکڑے گئے تھے، ان پر مقدمہ چلا لیکن سرکار نے مقدمے کی ٹھیک سے پیروی نہیں کی، اس کا بھی دکھ بھیو جی مہاراج کو تھا۔ بھیو جی مہاراج اپنے پیسوں اور وسائل سے اس خاندان کی مدد کرتے تھے۔ اس خاندان کو بھیو جی مہاراج کے پاس کئی بار دیکھا گیا۔ ایسے لوگوں کا آشرم صرف بھیو جی مہاراج ہی ہوتے تھے۔
بھیو جی مہاراج کے فلاحی کاموں کو اب کیسے جاری رکھا جائے گا؟ یہ کسی کو نہیں پتہ۔ وینائک پچھلے 15 سال سے بھی زیادہ وقت سے بھیو جی مہاراج کے رابطے میں تھا۔ وہ بھیو جی مہاراج کا انتہائی بھروسہ مند تھا۔ بھیو جی مہاراج اپنی بیٹی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اور اس کی دیکھ بھال کے لئے وینائک پر بھروسہ کرتے تھے۔ وینائک نے بھیو جی مہاراج کے والد کی جی جان سے خدمت کی اور اب وہ ان کی ماں کی بھی جی جان سے خدمت کررہا ہے۔ بھیو جی مہاراج اپنی ماں سے بہت پیار کرتے تھے۔ ان کی ماں بیمار ہیں، وہ بستر پر ہیں۔
سوسائڈ نوٹ پر سوال
ایک سوال بھیو جی مہاراج کے سوسائڈ نوٹ پر بھی کھڑا ہوتا ہے۔ سوسائڈ نوٹ میں کوہو کا کوئی ذکر نہیں ہے،جسے وہ جی جان سے چاہتے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو بیٹی ایک سے دو بجے کے بیچ اندور آکر ان سے ملنے والی تھی ، اس بیٹی کا انہیں خیال نہیں آیا اور انہوں نے خود کشی کرلی ۔ بھیو جی مہاراج اپنی ماں کے بھی بے حد قریب تھے، لیکن ان کے سوسائڈ نوٹ میں ماں کا بھی کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔ بھیو جی مہاراج اپنی چار مہینے کی بیٹی کو بھی بہت پیار کرتے تھے۔ اس کا نام انہوں نے دھارا رکھا تھا۔ 11,10اور 12 جون ان کے زندگی کی آخری تاریخیں ہیں۔ 10 تاریخ سے دو دن پہلے 8 جون کو انہوں نے اپنی بیوی ڈاکٹر آیوشی کا یوم پیدائش منایا تھا۔ بھیو جی مہاراج میں اتنی طاقت تھی کہ وہ اندر سے چاہے جتنے پریشان رہے ہوں،لیکن اپنے چہرے پر اس کا سایہ بھی نہیں آنے دیتے تھے۔
بھیو جی مہاراج کے جس خاندانی تنائو کی چرچا ہوتی ہے، وہ صرف اسے لے کر تھا کہ 48 سال کے شخص کی جانشیں ان کی بیوی بنے یا ان کی بیٹی۔یہ بھی سب کی سمجھ سے باہر ہے کہ 48 سال کی عمر کے آدمی کی جائیداد کی تقسیم کی بات کہاں سے شروع ہو گئی۔ بھیو جی مہاراج اگر لمبے وقت سے تنائو میں چل رہے ہوتے تو شیو نیری کے رینو ویشن پر جو انہوں نے تقریباً ایک کروڑ روپے خرچ کئے، وہ نہیں کرتے۔ انہوں نے اپنی موت سے لگ بھگ ایک مہینے پہلے بی ایم ڈبلیو کار بک کرائی تھی،جس کے لئے 23 لاکھ روپے کی ادائیگی ہو چکی تھی۔اب چاروں طرف یہ کہانی چل رہی ہے کہ بھیو جیمہاراج اتنے پریشان تھے کہ اس کار کو بیچنے کے لئے انہوںنے لوگوںکو ذمہ داری سونپی تھی۔ایک افواہ چل رہی ہے کہ بھیو جی مہاراج قرض کے بوجھ سے دب گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ تنائو میں رہتے تھے۔ اگر اس میں سچائی ہوتی تو ان کے ’سدگرو دت پرمارتھ ٹرسٹ ‘ پر قرض ہوتا، لیکن ان کے اس ٹرسٹ پر کوئی قرض نہیں ہے۔ٹرسٹ نے اس سال بھی 28 لاکھ روپے خرچ کر کے مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ میں پانی کے تحفظ کاکام کرایا ہے۔ وہ اگر تنائو میں ہوتے تو بیٹی کو غیر ملک میں سیٹل کرنے کا منصوبہ نہیں بناتے ۔بیوی اور بیٹی کے بیچ آئے تنائوں میں وہ بیٹی کو سمجھا رہے تھے، لیکن بیوی کو نہیں سمجھا پارہے تھے اور اسی لئے انہوں نے اپنی بیٹی کو غیر ملک بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔
راز سے پردہ اٹھنا ضروری
بھیو جی مہاراج کے کام کرنے کا طریقہ بہت خوبصورت ہوتا تھا۔ وہ جب بھی کوئی کام شروع کرتے، تو اپنے ساتھیوں کو، چاہے انہیں سیوا دار کہیں یا ان کے خوابوں کو پورا کرنے والی ٹیم، انہیں پورا خاکہ تیار کرنے کی ہدایت دیتے تھے۔ اگر بھیو جی اتنے زیادہ تنائو میں ہوتے، تو اپنا وصیت نامہ ضروربناتے اور اپنی پیاری بیٹی کوہو اور بیوی کے لئے سوسائڈ نوٹ میں ضرور کچھ لکھتے، لیکن ان کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں لکھنا سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ بھیو جی مہاراج کس طرح کی سازش ، دھوکہ اور مانگوں کے شکار ہوئے،یہ شاید کبھی بھی سامنے نہیں آپائے گا،کیونکہ سرکار اس معاملے کی مکمل طریقے سے جانچ کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ اس نے پہلے دن سے اسے خود کشی کی نظر سے دیکھا۔ لیکن اسے لے کر اتنے سوال ہیں کہ بھیو جی مہاراج کو جاننے والا کوئی بھی ان کا شناسا یا ان کا شاگرد اسے خود کشی نہیں مانتا۔یہ راز سامنے آنا چاہئے اور اس کے لئے اگر ضروری ہو تو ان کی بیوی اور ساس کا نارکو ٹیسٹ بھی کرانا چاہئے۔ ہمارے ملک سے کھوجی صحافت ختم ہو چکی ہے۔ پولیس کی جانچ کیسی ہوتی ہے؟ یہ ہمیں پتہ ہی ہے۔ بھیو جی مہاراج کا محض 48 سال کی عمر میں دنیا سے چلے جانا یاانہیں دنیا سے بھیج دینا ،ہمارے وقت کا سب سے افسوسناک باب ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہئے کہ سرکار اس معاملے میںسی بی آئی جانچ کرے گی۔ بھیو جی مہاراج کی موت کے اگلے دن اخباروں میں اور ٹیلی ویژن چینلوں میں یہ کہانی اہمیت سے دکھائی گئی کہ بھیو جی مہاراج اتوار کو ایک ریسٹورنٹ میں ایک پُراسرار خاتون سے ملے تھے۔ وہ خاتون کون تھی، اسے لے کر سوال اٹھائے گئے۔ ایسا لگا جیسے اس خبر کے ذریعہ بھیو جی مہاراج اور ان کی خاتون دوستوں کے بیچ کی کوئی چٹک دار کہانی لوگوں کو بتائی جارہی ہے۔ ریسٹورینٹ میں ملنے والی خاتون ان کی بیوی ڈاکٹر آیوشی تھیں، جو پونے کے راستے سے بھیو جی مہاراج کو بلاکر اس ریسٹورنٹ میں ملی تھیں۔ اب سوال یہ اٹھتاہے کہ میڈیا میں ایسی کہانی آنے کے بعد ڈاکٹر آیوشی نے سامنے آکر کیوں نہیں بتایا کہ جس پُر اسرار خاتون کی بات کی جارہی ہے، وہ وہی تھیں۔وہ نہیں چاہتی تھیں کہ بھیو جی مہاراج اپنی بیٹی سے ملیں۔ اس لئے انہوں نے دبائو ڈال کر بھیوجی مہاراج کو سیندھوا سے واپس آنے کے لئے مجبور کیا اور بھیو جی مہاراج کا یہ بھروسہ صحیح ثابت ہوا کہ سفر پر نکلنے کے بعد اگر ہم واپس آتے ہیں تو پھر کچھ نہ کچھ ایسا ہوگا، جو نہیں ہونا چاہئے۔ بھیو جی مہاراج کے ساتھ بھی وہی ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *