منا بجرنگی قتل اسٹیٹ اسپانسرڈ سازش

جھانسی سے باغپت جیل لاکر کرمنل گینگ اسٹار منا بجرنگی کو مار ڈالا گیا۔ اس آپریشن کیلئے بہو جن سماج پارٹی کے سابق ایم ایل اے لوکیش دیکشت سے ڈیل ہوئی۔ منا کے خلاف رنگداری مانگنے کا مقدمہ درج کرایا گیا اور پورا سسٹم اس معمولی کیس کے لئے منا کو باغپت جیل بھیجنے پر آمادہ ہو گیا۔ کاغذ پر باغپت جیل ہائی سیکورٹی جیل ہے، جہاں ایک بھی سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں ہے، ایک بھی جیمر نہیں ہے اور سیکورٹی کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ ہائی پروفائل قتل کے لئے نام نہاد ہائی سیکورٹی جیل مفید جگہ تھی۔ قتل کی تیاری کو انجام دینے کے لئے بہو جن سماج پارٹی کے سابق ایم ایل اے سے ہوئی ڈیل اتنی بھاری تھی کہ اس کا بوجھ مایاوتی برداشت نہیں کر پائیں اور بھنک ملتے ہی لوکیش دیکشت کو پارٹی سے نکال باہر کیا۔
منصوبہ بند آپریشن
باغپت جیل میں بدنام گینگ اسٹار منا بجرنگی کا مارا جانا اسٹیٹ اسپانسرڈ قتل ہے۔سیاق و سباق کے شواہد کی بنیاد پر قانون فیصلہ کن نتیجہ نکالتا ہے۔ لہٰذا منا بجرنگی کے قتل سے جڑی صورت حال کے حقائق کافی اہم ہیں جو قتل کے اسٹیٹ اسپانسرڈ سازش کو سامنے لاتے ہیں۔ منا بجرنگی کے قتل کے معاملے میں ’’چوتھی دنیا ‘‘کچھ ایسے حقائق سامنے لا رہا ہے جسے اب تک اندھیرے میں رکھا گیاہے۔ اس سے اسٹیٹ اسپانسرڈ سازش کے شبہات پختہ ہوتے ہیں۔ جانچ کوئی بھی ہو اور کسی بھی سطح کی ہو، اگر حادثہ اسٹیٹ اسپانسرڈ ہوتا ہے تو وہ کبھی بھی نتیجے تک نہیں پہنچتا، اسے گھال میل کرکے الجھا دیا جاتاہے اور بھلا دیا جاتا ہے۔ منا بجرنگی قتل معاملے میں بھی ایسا ہی ہونے والا ہے۔
ایک مجرم کا مارا جانا اہم واقعہ نہیں ہوتا، لیکن ایک مجرم کو مارنے کے لئے اگر حکومت اور انتظامیہ تانا بانا بنے اور اسے جیل میں مار ڈالے تو ایسے حادثے انتہائی اہم اور حساس بن جاتے ہیں۔ منا بجرنگی قتل کیس اسی لئے بے حد اہم ہے کیونکہ یہ اقتدار کے اس بنیادی شبیہ کو اجاگر کرتا ہے جو منا بجرنگی کے مجرمانہ شبیہ سے متفرق نہیں ہے۔منا بجرنگی کے قتل کے بعد جو ایف آئی آر لکھی گئی اور منا بجرنگی کی بیوہ سیما سنگھ نے جو تحریر دی، اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔یہ ایسا قتل ہے جس میں متاثر کے رشتہ داروں کی سنی نہیں جا رہی ہے۔ بجرنگی کی بیوی پچھلے 10 دنوں سے کہہ رہی تھی کہ ان کے شوہر کو جیل میں قتل کئے جانے کی سازش چل رہی ہے، لیکن انتظامیہ اور حکومت نے جیسے کچھ سنا ہی نہیں۔ قانون اوکیوپینٹ کے رشتہ دار کے عدالتی تحفظ کی بات کہتا ہے ، لیکن اسے سنتا کون ہے؟ سیما سنگھ کی ایف آئی آر بھی منظور نہیں کی جارہی ۔ منا بجرنگی کے رشتہ داروں اور اس کے گائوں والوں کے الزام تقریباً برابر ہیں۔ ان الزامات کی گردش میں جو بھی کردار سامنے آرہے ہیں، اس کے ایک کنارے پر مرکزی وزیر منوج سنہا ہیں تو دوسرے کنارے پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ۔ اس فریم میں مافیا سرغنہ کم سابق ایم پی دھنن جے سنگھ، ان کے قریبی پردیپ کمار سنگھ، منا کے ہاتھوں مارے گئے بی جے پی لیڈر کرشنا نند رائے کی بیوی ایم ایل اے الکا رائے، وارانسی جیل میں بند مافیا سرغنہ برجیش سنگھ، برجیش کا بی جے پی ایم ایل اے بھتیجا سشیل سنگھ، باندہ جیل میں بند بدنام گینگ اسٹار ایم ایل اے مختار انصاری اور بہو جن سماج پارٹی کے سابق ایم ایل اے لوکیش دیکشت کا چہرہ بار بار سامنے آتا ہے۔ اس فریم میں دیکھنے والے نوکر شاہوں کے چہرے سازش کے شطرنج کے مہرے ہیں۔ یہ ایک عجیب قسم کی صورت حال بن رہی ہے ۔ اسے ہی انگریزی میں نیکسس کہتے ہیں۔ ہم جن حقائق کی بات کہہ رہے ہیں، وہ اسی نیکسس پر روشنی ڈالتے ہیں۔یہ نیکسس سیاسی قتل کے انتقام ، سیاسی فائدے کے لالچ ،خطرے میں پڑتے سیاسی مستقبل ، دولت کے دھندے پر آتے بحران ، راز کھلنے اور جان جانے کے ڈر، ان تمام باتوں کی توثیق کرتا ہے۔

 

 

 

 

کیسے ہوا قتل ؟
باغپت جیل میں منا بجرنگی کا قتل کیسے ہوا ؟ اسے حکومت اور انتطامیہ نے جیسا بتایا، لوگوں نے ویسا ہی سنا۔ بڑے شاطرانہ طریقے سے منا کے قتل کو دہلی پولیس کے اے سی پی راج بیر سنگھ کے قتل کی انتقامی کارروائی سے بھی جوڑ کر شبہات کی لائن بدلنے کی کوشش کی گئی جبکہ راج بیر سنگھ کا قتل کس نے کیا تھا، اسے سب جانتے ہیں۔ راج بیر کا قتل کرنے والا پراپرٹی ڈیلر وشال بھاردواج عمر قید کی سزا بھگت رہا ہے۔ پھر منا بجرنگی کے قتل کس نے کیا؟قتل کا کوئی چشم دید گواہ ہے کہ نہیں؟اگر ہے تو وہ جیل سے جڑا ملازم ہے یا کوئی قیدی؟جس پستول سے قتل کیا گیا اور جس پستول کو گٹر سے برآمد دکھایا گیا، کیا وہ ایک ہے؟جس پستول سے گولی چلی اس کی کیا فارنسنک جانچ کے بعد سرکاری توثیق ہوئی کہ گٹر سے ملی پستول ہی اصلی تھی، جس کا منا بجرنگی کے قتل میں استعمال ہوا؟پستول کی اگر فارنسک جانچ کرائی گئی تو وہ کہاں سے ؟منا بجرنگی کے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مستند ہونے کی کیاگارنٹی ہے؟کیا اس کے پوسٹ مارٹم کو دستور کے مطابق (چاروں کونوں سے )ویڈیو ریکارڈنگ کرائی گئی؟منا بجرنگی کی بائیں کنپٹی سے پستول سٹا کر اس کا بھیجا اڑا ڈالنے کے بعد اس کا فوٹو کھینچا گیا۔ اس کے بعد اس کے سینے پر پھر سے گولیاں داغی گئیں اور پھر سے فوٹو کھینچا گیا۔ اتنی نفرت اور غصے سے بھرا قاتل سنیل راٹھی ہی تھا یا کوئی اور؟کیا سنیل راٹھی کی منا بجرنگی سے اتنی گہری عداوت تھی ؟منا بجرنگی کے قتل کا اسٹیج شو چلتا رہا، اس کے گرجانے کے بعد بھی اس کے جسم میں کئی کھیپ میں گولیاں اتاری جاتی رہیں۔
دھماکے پر دھماکے ہوتے رہے۔وہاں اور لوگ بھی تو رہے ہی ہوں گے؟وہ کون لوگ تھے؟قتل کے ساتھ ہی منا بجرنگی کے خون آلود جسم کا فوٹو بھی وائرل کیاجاتا رہا۔ وہ کون لوگ تھے جو فوٹو کھینچ رہے تھے اور اسے وہائٹس ایپ یا سوشل میڈیا پر وائرل کرتے جارہے تھے؟یہی وائرل ہوئے فوٹو انتظامیہ کے سرکاری ریکارڈ کا بھی حصہ بنے، لیکن انتظامیہ نے عوام کو یہ بتانے کی ضرورت نہیںسمجھی کہ شوٹ آئوٹ کے وقت وہاں موجود لوگ کون تھے جو فوٹو کھینچے جارہے تھے؟ان سوالوں کے صحیح جوابات آپ کو شاید ہی کبھی مل پائیں، لیکن ان سوالوںکے سچ آپ محسوس تو کریں گے ہی۔ آپ منا بجرنگی کے خون آلود پڑے ہوئے جسم کے ارد گرد کا سایہ دیکھیں۔ آپ کو تین چار لوگوں کا سایہ دکھائی دے گا۔ ان میںدو لوگ بڑی تسلی سے فوٹو گرافی کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ ان کے کام کرنے کا انداز دیکھ کر یہ قطعی نہیں لگتا کہ اسی جگہ پر کوئی بھیانک اور سنسی خیز واردات ہوئی ہے۔ فوٹو کھینچنے والے اتنے ٹھنڈے دماغ سے اپنا کام کر رہے تھے کہ انہوں نے منا بجرنگی کی لاش کا کئی انگل سے فوٹو کھینچا ۔ پتھرائی ہوئی کھلی آنکھ والی تصویر کھینچنے کے بعد ان لوگوں نے کھلی ہوئی آنکھ بند کی اور پھر بند آنکھ والے فوٹو بھی کھینچا اور اسے بھی وائرل کیا ۔کون تھے یہ کولڈ بلڈیڈ لوگ؟
ایسے کئی سوال سامنے ہیں۔ انہی سوالوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے ہم منا بجرنگی قتل کیس کے ان حقائق کو بھی دیکھتے چلیں جو قتل کے اسٹیٹ اسپانسرڈ سازش کی تہیں کھولتے ہیں۔ باغپت کے ایک چھوٹے ( اہم ) معاملے میں پوری سرکار منا کو باغپت بھیجنے پر اس طرح آمادہ تھی کہ قانون کا وقار تو چھوڑیئے، اس نے ’لوک لاج ‘ کی بھی فکر نہیں کی۔ منا بجرنگی کو باغپت بھیجنے کے لئے جھانسی کے کلکٹر شیو سہائے اوستھی اور ایس ایس پی ونود کمار سنگھ کی بے چینی ٹاسک پورا کرنے کا سہریٰ لینے کا اتائولا پن ظاہر کر رہی تھی۔ قتل کیس کے سرکاری ذرائع کا انتظامیہ پر کتنا دبائو تھا ، اسے آسانی سے سمجھا جاسکتاہے۔ جھانسی کے ڈی ایم اور ایس ایس پی بھی یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ منا بجرنگی کی کئی جگہ سے طلبی زیر التوا تھی۔ بنارس کے اے ڈی جی فرسٹ کے یہاں بھی 9 جولائی کو منا کی طلبی تھی۔ وہاں ویڈیو کانفرنسنگ سے سنوائی ہوئی۔ بنارس میں منا کی پیشی اس لئے نہیں ہوئی کہ اس نے ایس ٹی ایف کے آفیسر کے ذریعہ پہنچان کرائے جانے اور قتل کی سازش کئے جانے کی شکایت کی تھی لیکن اس کے برعکس جھانسی کے ڈی ایم شیو سہائے اوستھی اور ایس ایس پی ونود کمار سنگھ جھانسی جیل کے سپرنٹنڈنٹ راجیو شکلا پر لگاتار دبائو ڈال رہے تھے کہ منا بجرنگی کو پیشی پر باغپت بھیجا جائے۔
دبائو بڑھتا گیا
یہ دبائو بڑھتا گیا ۔آخر کار جھانسی کے ایس ایس پی ونود کمار سنگھ نے جھانسی جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو اپنے دفتر میں طلب کر لیا۔ ایس ایس پی نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو اپنے دبائو میں لیا اور حاکمانہ لہجے میں منا بجرنگی کو پیشی پر باغپت بھیجنے کو کہا۔ منا بجرنگی کی بیماری اور قانونی پروویژنوں کا حوالہ دینے پر ایس ایس پی نے سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ بدسلوکی کی اور گالی گلوچ بھی کیا۔ ایس ایس پی نے راجیو شکلا پر منا بجرنگی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لئے بھی دبائو ڈالا۔ ایس ایس پی کی بدسلوکی سے ناراض ہوکر جیل سپرنٹنڈنٹ چھٹی پر چلے گئے۔ 4 جولائی کو لکھنو میں جیل محکمہ کی ریویو میٹنگ میں جھانسی جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے ساری آپ بیتی جیل محکمہ کے اے ڈی جی چندر پرکاش اور میٹنگ میں موجود اعلیٰ افسروں کے سامنے رکھی۔ جھانسی جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اپنے اعلیٰ افسروں کو یہ بھی جانکاری دی کہ منا بجرنگی اپنے قتل کی سازش کا شبہ ظاہر کررہا تھااور ان سے کہہ رہا تھاکہ اس معاملے میں وہ (جیل سپرنٹنڈنٹ ) ناحق نہ پڑیں۔ یہ بات ایس ایس پی ونود کمار سنگھ سے بھی بتائی گئی تھی، تب ایس ایس پی نے منا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لئے کہا تھا۔ جھانسی جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی شکایت کے باوجود جیل محکمہ کے سینئر آفیسر نے اس مسئلے پر کوئی ضروری کارروائی نہیں کی۔اس کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ راجیو شکلا پھر چھٹی پر چلے گئے۔ شکلا منا بجرنگی کی باغپت میں قتل کے بعد ہی جھانسی لوٹے۔ منا بجرنگی کو باغپت بھیجنے کے لئے جھانسی کے ایس ایس پی ونود کمار سنگھ اتنے اتائولے کیوں تھے؟اس سنگین سوال کے پیچھے کئی خوفناک حقائق جھانکتے دکھائی دیتے ہیں۔
باغپت جیل کا سفرپورا جیل انتظامیہ اسٹیٹ اسپانسرڈ سازش کے آگے گھٹنے ٹیک گیا ۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کی غیر موجودگی میں منا بجرنگی کو باغپت روانہ کرنے کے لئے ایسا وقت چنا گیا کہ وہاں پہنچتے پہنچتے رات ہو جائے۔ اس کے لئے گاڑیاں اتنی دھیمی چلوائی گئی کہ جہاں پہنچنے میں زیادہ سے زیادہ 9 گھنٹے لگتے ہیں، وہاں تقریباً 14 گھنٹے لگے۔ منا بجرنگی کو باغپت کے لئے لے کر چلی اسکارٹ ٹیم کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ منا کو کہاں رکھا جانا ہے جبکہ قیدی کی روانگی کے پہلے ہی اسکارٹ ٹیم کے چیف کے ہاتھ میں دو حکم نامے سونپ دیئے جاتے ہیں۔ اصل جیل سے قیدی کو لے جانے اور جس جیل میں قیدی کو رکھا جانا ہے، وہاں کے حکم نامے اسکارٹ ٹیم کے پاس رہتے ہیں۔یہ دونوں حکم نامے متعلقہ جیل افسروں کو سونپے جانے کے بعد ہی قیدی کی جیل میں آمد کی کارروائی پوری کی جاتی ہے۔ منا بجرنگی کو باغپت لے جانے والی اسکارٹ ٹیم کے پاس یہ حکم نامہ نہیں تھا۔ لہٰذا منا بجرنگی کو لے کر گئے ایمبولینس اور دیگر گاڑیوں کو باغپت پولیس لائن کی طرف موڑا گیا۔ راستے میں ہی اسکارٹ کے پاس ایک فون آیا اور گاڑیوں کو باغپت جیل کی طرف موڑ دیا گیا۔
باغپت جیل کے گیٹ پر ڈیوٹی دے رہے افسروں اور جیل ملازموں نے منا بجرنگی کو رات کے ساڑھے 9 بجے لانے پر جیل میں آمد کا حکم نامہ مانگا۔ اسکارٹ کے پاس ایسا کوئی حکم نامہ نہیں تھا۔ منا بجرنگی کو لے کر آیا ایمبولینس گاڑی، دیگر گاڑیاں اور اسکارٹ ٹیم باغپت جیل کے دروازے پر کھڑی رہی۔ پھر فون بجنا شروع ہو گیا۔ انتظامیہ سے لے کر حکومت تک کئی سینئر افسروں نے جیل انتظامیہ پر منا بجرنگی کی جیل میں آمد کا دبائو ڈالا۔ لیکن حکم نامے کا مسئلہ پھنساتھا۔ آخر کار جیلر اودے پرتاپ سنگھ نے راستہ نکالا ۔ ڈی آئی جی جیل کا ایک پرانا حکم نامہ لا گیا جو کچھ مہینے پہلے منا بجرنگی کو پیشی کے لئے باغپت جیل میںرکھے جانے سے متعلق تھا۔ باغپت جیل انتظامیہ نے اسی پرانے حکم پر منا بجرنگی کی جیل میں انٹری کرائی ۔ منا کے قتل ہونے کے بعد انہی جیل افسروں اور ملازموں پر ڈیوٹی میں لا پرواہی برتنے کا الزام ڈال کر انہیں معطل کر دیا گیا۔ معطل ہونے والوں میں باغپت جیل کے جیلر اودے پرتاپ سنگھ، ڈپٹی جیلر شیوا جی یادو، جیل ہیڈوارڈر ارجندر سنگھ اور بیرک کے انچارج جیل وارڈر مادھو کمار شامل ہیں۔ ان میں جیلر کا کردار شک کے دائرے میں ہے۔
جانکار کہتے ہیں کہ جیلر جونپور کا رہنے والاہے اور مافیا سرغنہ کم رکن پارلیمنٹ کا سابق شناسا ہے۔ خوبی یہ بھی ہے کہ منا بجرنگی کے قتل کی ایف آئی آر بھی معطل جیلر اودے پرتاپ سنگھ نے ہی درج کرائی۔ محکمہ داخلہ کے ایک اعلیٰ آفیسر نے کہا کہ جیل ملازموں کا معطل کرنا اور نظم و ضبط کی باتیں سب اسپانسرڈ ڈرامے کا حصہ ہیں۔ اس میں کسی کے خلاف کچھ نہیں ہونے والاہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ باغپت جیل میں سپرنٹنڈنٹ کا عہدہ عرصے سے خالی ہے لیکن سرکار کو یہ نہیں دکھائی دیتا ۔گوتم بودھ نگر جیل کے سپرنٹنڈنٹ ویپن مشر باغپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کا بھی اضافی کام کاج سنبھال رہے ہیں۔ ایسی افراتفری کی حالت بنا کر رکھنا قتل کے اعلیٰ سطحی سازشوں کی کامیابی کے لئے ضروری ہوتاہے۔

 

 

 

متعدد قابل غور پہلو
جب منا بجرنگی کو جھانسی جیل سے باغپت کے لئے روانہ کیا گیا تب وہاں سپرنٹنڈنٹ نہیں تھے اور جب باغپت جیل سے منا بجرنگی کو زندگی سے روانہ کیا گیا تب وہاںبھی سپرنٹنڈنٹ نہیں تھے۔یہ اتفاق ہے یا منصوبہ بند؟منا بجرنگی قتل کانڈ میں ایسے کئی پہلو آپ کو دیکھنے کو ملیں گے۔ سرکار نے یا انتظامیہ نے اب تک یہ بھی نہیں بتایا ہے کہ منا بجرنگی کا بایاں ہاتھ کیسے ٹوٹا؟کیا پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ حقیقت درج کی گئی؟جیل انتظامیہ کہتاہے کہ پوسٹ مارٹم کی ویڈیو ریکارڈنگ کرائی گئی۔ کیا پوسٹ مارٹم کی ویڈیو ریکارڈنگ میںمنا بجرنگی کا بایاں ہاتھ تازہ تازہ ٹوٹے ہونے کا معاملہ پوسٹ مارٹم کے دوران پکڑ میںآیا تھا یا اس کی طرف کسی نے دھیان نہیںدیا؟ منا بجرنگی کا بایاں ہاتھ توڑا گیا یا گولی لگنے سے اس کا ہاتھ ٹوٹا، پوسٹ مارٹم میںیہ بات سامنے آنی چاہیے تھی، لیکن نہیں آئی۔
باغپت جیل میںگولی باری کا واقعہ سویرے 6 بجے ہوا لیکن دوپہر تک منا بجرنگی کی لاش جیل کے احاطے میں ہی پڑی رہی۔ لاش کو اسپتال بھیجنے کی ضرورت نہیںسمجھی گئی۔ وجہ پوچھنے پر جیل انتظامیہ نے کہا کہ جیل اسپتال کے ڈاکٹر نے منا بجرنگی کے مرنے کی تصدیق کر دی تھی، اس لیے اسپتال نہیںبھیجا گیا۔ دوپہر دو بجے کے بعد منا بجرنگی کی باڈی پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھیجی گئی لیکن پوسٹ مارٹم چار بجے شام تک نہیںہوا۔ باغپت کے سی ایم او کو رسمی اطلاع بھی کافی دیر سے بھیجی گئی۔ ضلع انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ یہ تاخیر جان بوجھ کر کی جا رہی تھی تاکہ دیر شام تک باڈی ریلیز ہو اور اسے سیدھے جون پور لے جایا جا سکے۔ایف آئی آر درج کرانے کے لیے اڑی منا بجرنگی کی بیوی سیما سنگھ کی تحریر تب لی گئی جب منابجرنگی کی لاش لے کر جارہی گاڑی باغپت کی سرحد پار کرکے ایکسپریس ہائی وے ٹول پر پہنچ گئی۔ وہیںپر سیما سنگھ سے تحریر لکھوائی گئی اور ایک پولیس افسر نے اسے ریسیو کرنے کی رسم نبھا کر انھیںروانہ کردیا۔
پہلے پیلی بھیت میںنمٹانے کی سازش تھی
جیل محکمے کے ہی افسر بتاتے ہیںکہ منا بجرنگی کو نمٹانے کی سازش لمبے عرصے سے کی جا رہی تھی۔ سال 2017 میںاسے پیلی بھیت جیل اسی ارادے سے ٹرانسفر کیا گیا تھا۔ جھانسی سے پیلی بھیت جیل ٹرانسفر کرنے کے پیچھے انتظامیہ نے یہ دلیل دی تھی کہ مافیا سرغنہ منا بجرنگی نے جھانسی جیل میںاتنی پکڑ بنالی ہے کہ وہ جیل سے اپنا دھندہ پھیلا رہا ہے۔ اسی پر لگام لگانے کے لیے اسے پیلی بھیت بھیجا گیا۔ لیکن سپریم کور ٹ نے اترپردیش سرکار کی اس کوشش پر پانی پھیر دیا۔ سپریم کورٹ نے منا بجرنگی کو جھانسی سے پیلی بھیت جیل شفٹ کرنے کے یوپی سرکار کے حکم کو غلط اور غیر واجب بتایا اور اسے فوری اثر سے واپس جھانسی جیل لے جانے کا حکم دیا تھا۔
لوکیش سے ’ڈیل ‘ کرکے نکالا باغپت کا راستہ
پیلی بھیت ’پلاٹ‘ میںناکامی ملنے کے بعد منا بجرنگی کو کسی بھی طرح باغپت جیل بھیجنے کا بہانہ تلاش کیا جا رہا تھا۔ اس کے لیے سابق بی ایس پی رکن اسمبلی لوکیش دیکشت کا ساتھ مل گیا۔ منا کے خلاف باغپت میںرنگداری کی پہلے بھی ایک ایف آئی آر تھی لیکن وہ خارج ہوگئی تھی۔ اب ایسے شخص کی تلاش کی جارہی تھی جو معاملہ درج کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت میںلمبے عرصے تک اسٹینڈ کرسکے۔ سابق رکن اسمبلی لوکیش دیکشت کے ذریعہ منا بجرنگی کے خلاف رنگداری کے لیے دھمکی دیے جانے کا معاملہ ستمبر 2017م میںدرج کرادیا گیا۔ مقدمے میںکہا گیا کہ فون پر کسی نے منا بجرنگی کے نام پر لوکیش دیکشت سے رنگداری ٹیکس مانگا تھا۔ بس سازش کے پلاٹ کو اتنا ہی بہانہ چاہیے تھا ۔ ٹیلی فون پر دی گئی دھمکی کی اندرونی جانچ کرانے کی بھی ضرورت نہیںسمجھی گئی اور منا بجرنگی کی باغپت میںپیشی کا ڈیتھ وارنٹ جاری ہوگیا۔ 2016-17 کی انکم ٹیکس ریٹرن کے مطابق جس سابق رکن اسمبلی لوکیش دیکشت کی آمدنی 4 لاکھ 24 ہزار 940 روپے ہو ، اس سے منا بجرنگی جیسے بدنام زمانہ مجرم سرغنہ کے ذریعہ رنگداری ٹیکس مانگنے کا الزام کس طرح کی سازش کا حصہ ہے، یہ واضح ہے ۔ لوکیش دیکشت سے ہوئی ’ڈیل‘ کے 2019 سے پہلے اجاگر ہونے تک اس معاملے کا راز رازرہے گا۔ حالانکہ ا س’ڈیل ‘ کی بھنک بی ایس پی سپریمو مایاوتی کو لگ گئی اور انھوں نے لوکیش دیکشت کو پارٹی سے نکال باہر کیا۔
جب بیچ سڑک پر لکھوائی گئی سیما سنگھ کی تحریر
جب منا بجرنگی کے قتل کا معاملہ دو مجرموںکے بیچ شوٹ آؤٹ کا معاملہ تھا تو پھر پولیس انتظامیہ منا کی بیوی سیما سنگھ کی تحریر پر ایف آئی آر کیوںنہیںدرج کر رہا تھا؟ باغپت پولیس بار بار سیما سنگھ کی مانگ ٹالتی رہی۔ پوسٹ مارٹم ہاؤس میں موجود سیما سنگھ سے کہا گیا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد کھیکڑا تھانے میںان کی ایف آئی آدرج کر لی جائے گی۔ لیکن پوسٹ مارٹم کے بعد جب لاش لے کر ایمبولنس گاڑی چلی تو رکنے کا نام ہی نہیںلیا۔ راستے میںبھی پولیس نے کہا کہ کھیکڑا تھانے میں ایف آئی آر لکھی جائے گی۔ لیکن گاڑی چلتی رہی۔ آخرکار جب ایکسپریس ہائی وے آگیا اور باغپت بارڈر پیچھے چھوٹ گیا تو دوسری ایک گاڑی نے راستہ جام کر دیا۔ آخر کار سڑک پر ہی سیما سنگھ کی طرف سے ایڈووکیٹ وکاس شریواستو نے تحریر لکھی ۔ رامانند کشواہا نام کے ایک پولیس افسر نے تحریر ریسیو کرنے کی رسم نبھائی اور انھیںروانہ کردیا گیا۔
منا بجرنگی کی بیوی نے اپنی تحریر میںیہ الزام لگایاہے کہ ان کے شوہر کے قتل کی سازش میںجونپور کے سابق رکن پارلیمنٹ دھننجے سنگھ ، ان کے ساتھی پردیپ سنگھ عرف پی کے، ریٹائرڈ ڈی ایس پی جی ایس سنگھ اور ساتھی راجا شامل ہیں۔ ان مجرموں نے ہی ان کے بھائی پشپ جیت سنگھ اور شوہر کے دوست طاہر کا کچھ عرصہ قبل لکھنؤ میںقتل کرایا تھا۔ اس سے پہلے سیما سنگھ نے ایس ٹی ایف کانپور میںتعینات انسپکٹر گھنشیام یادو پر بھی سازش میںشامل ہونے کا عام الزام لگایا تھا، جس نے جھانسی جیل میں منا بجرنگی کو کھانے میںزہر دینے کی کوشش کی تھی۔
جب بجرنگی نے لی تھی آرمس ڈیلر کو مارنے کی سپاری
وقت وقت کی بات ہے مجرم سرغنہ منا بجرنگی نے آرمس ڈیلر ابھیشیک ورما کو تہاڑ جیل میںہی نمٹانے کی سپاری لی تھی۔ تب منا بھی تہاڑ جیل میںبند تھا اور مشہور آرمس ڈیل گھوٹالہ معاملے میںانٹر نیشنل آرمس ڈیلر ابھیشیک ورما اور اس کی رومنیائی بیوی آنکا ماریا ورما بھی تہاڑ جیل میںقید تھی۔ ’چوتھی دنیا‘ نے پچھلے سال اگست کے پہلے ہفتے میںاسے اجاگر کیا تھا۔ دفاعی سودے سے جڑے آرمس ڈیلر اور دلالوں کے ذریعہ آپسی رقابت میںایک دوسرے کو نمٹانے کے لیے اترپردیش کے مافیا سرغنہ کو سپاری دیے جانے کا یہ پہلا معاملہ تھا۔ ’چوتھی دنیا‘ نے منا بجرنگی کے ہاتھ کا لکھا ہوا وہ خط بھی شائع کیا تھا، جو اس نے آرمس ڈیلر کے بارے میںلکھا تھا۔ یہ ایک عجیب و غریب خلاصہ تھا کہ دفاعی سودے سے جڑے آرمس ڈیلروں، دلالوں اور ان کے مددگار نوکر شاہوں نے’ روڑے ہٹانے ‘ کے لیے داؤد ابراہیم کے بھائی انیس ابراہیم تک کو’ٹھیکہ‘ دیا تھا۔ اس میں آرمس ڈیلر ابھیشیک ورما کو راستے سے ہٹانے کا ٹھیکہ منا بجرنگی کو ملا تھا۔ سپاری معاملے میںبڑے آرمس ڈیلروں،لیڈروں اور نوکر شاہوں کے نام آئے تھے لیکن سی بی آئی میںمعاملہ دب گیا۔ سی بی آئی کے کئی افسر بھی ’آرمس ڈیلر نیکسس‘ سے جڑے ہوئے تھے۔ سرکاری گواہ بننے کے بعد ابھیشیک ورما نے جن افسروںاور دلالوں کے مشکوک کردار کے بارے میںتحریری جانکاری دی تھی، اسے سی بی آئی نے ’حوالہ نہیں‘ بتاکر دبا دیا۔
سی بی آئی کے اس دور کے جوائنٹ ڈائریکٹر او پی گہلوترا نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ سرکاری گواہ اور اس کی بیوی کو جان سے مارنے کی دھمکیاںدی جارہی ہیں۔ اس بارے میںان کی اور دہلی کے پولیس کمشنر کے بیچ آفیشل بات چیت بھی ہوئی تھی۔ پھر تہاڑ جیل میںورما میاںبیوی کی حفاظت کا پختہ انتظام کیا گیا۔ لیکن اس کی جانچ ٹھنڈے بستے میںڈال دی گئی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر رہے اشوک اگروال ، سی بی آئی کے ایس ایس پی رمنیش گیر اور انسپکٹر راجیش سولنکی کے نام اس سیاق و سباق میںسامنے آئے او رسرکاری گواہ کو دھمکی دینے کے ساتھ ساتھ دفاعی سودے کے معاملے کو دوسری سمت میںموڑنے کی کوششیںکرنے کی بھی شکایتیں ہوئیں لیکن سی بی آئی نے اسے اپنی جانچ کی دائرے میںنہیںرکھا۔ حالانکہ وزارت داخلہ نے اس شکایت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سینٹرل ویجلنس کمیشن کو ضروری کارروائی کرنے کو کہا تھا۔ سی بی آئی کے اس وقت کے جوائنٹ ڈائریکٹر (پالیسی) جاوید احمد کے سامنے بھی یہ معاملہ پہنچا لیکن انھوںنے بھی اس کی جانچ کرانے کے بجائے اسے ٹال دینا ہی بہتر سمجھا۔
قابل ذکر ہے کہ تہاڑ جیل انتظامیہ کی مداخلت پر دہلی کے لودھی روڈ تھانے میںایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ اس ایف آئی آر میںیہ حقیقت درج ہے کہ دلال وکی چودھری اور ای ڈی کے اعلیٰ افسر اشوک اگروال نے کانٹریکٹ کلر‘ منا بجرنگی کو سپاری دی ہے۔ سپاری مسئلے پر تو کچھ نہیںہوا، بس منا بجرنگی کو تہا ڑ جیل سے ہٹاکر پہلے سلطانپور جیل اور پھر جھانسی جیل شفٹ کردیا گیا لیکن اس نے سپریم کورٹ سے اپنا ٹرانسفر رکوالیا۔ منا بجرنگی کی بیوی سیما سنگھ نے اپنا دل (کرشنا پٹیل) اور پیس پارٹی کے مشترکہ امیدوار کے بطور مڑیاہو اسمبلی سیٹ سے 2017 میںالیکشن لڑا لیکن ہار گئیں۔ کئی سنگین معاملوں سے دھیرے دھیرے بری ہوتے جارہے منا بجرنگی کی مستقبل میںسیاست کے میدان میںہونے والی آمد ایک ساتھ کئی مہارتھیوںکو پریشان کر رہی تھی۔

 

 

 

 

 

فون ڈس کنکٹیڈ ، کانسی پریسی کنکٹیڈ
جھانسی ضلع کے ڈاکٹر اور منا بجرنگی کے وکیل انوج یادو کی بات چیت کا آڈیو سنیںتو باغپت لے جاکر منا بجرنگی کو مار ڈالنے کی سازش کا صاف صاف اندازہ ہوجائے گا۔ منا بجرنگی کو باغپت لے جانے سے پہلے جیل ڈاکٹر اور وکیل کے بیچ ہوئی ٹیلی فونک بات چیت کا متعلقہ حصہ یہاںہو بہو پیش ہے۔
وکیل: کیا اسٹیٹس ہے ان کے ہیلتھ کا؟
ڈاکٹر: بی پی بڑھا چل رہا ہے۔ ہم دوا دے رہے ہیں۔ انجیکشن دیا ہے، دوا بھی دی ہے لیکن بی پی کم نہیںہو رہا ہے۔
وکیل:ایسی حالت میںکیا ان کی موومنٹ کی پوزیشن ہے؟
ڈاکٹر:نہیں، انھیں دیکھنے کے لیے جتنے بھی ڈاکٹر آئے ہیں، سب نے انھیںآئی سی یو میںایڈمٹ کرانے کی صلاح دی ہے۔
وکیل: لیکن مریض زندہ رہے گا تب تو اس کا علاج ہوگا۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ جیل کے اسپتال میں ہی منا بجرنگی کا علاج ہو۔ انھوںنے بھی ایسا ہی لکھ کر دے دیا ہے۔ پھر انھیں باہر کیوںبھیجا جارہا ہے؟ اس کا کوئی جواب آئے، اس سے پہلے ہی فون لائن ڈس کنکٹ ہو جاتی ہے۔

 

 

 

 

راٹھی، پستول، دھننجے، مختار اور فون
منا بجرنگی کے قتل میںسنیل راٹھی کا نام لیے جانے سے مشرق و مغرب کی ایک نئی مجرمانہ سیاسی ایکوئیشن سامنے آئی۔ سنیل کا نام لے کر کہا گیا کہ پستول منا بجرنگی کے ہاتھ میںتھا، جسے چھین کر اس نے گولی ماردی۔ پھر پستول کو لے کر ایک جیل ملازم کا بیان آیا کہ رات میںٹفن میںرکھ کر پستول بھیجا گیا۔ ایک جیل افسر نے کہا کہ یہ نہیںپتہ چل پایا کہ وہ ٹفن منا بجرنگی کے لیے آیا تھا یا سنیل راٹھی کے لیے۔ جیل افسر کو یہ پتہ تھا کہ پستول ٹفن میںچھپا کر پہنچایا گیا لیکن انھیںیہ نہیںپتہ تھا کہ ٹفن کس قیدی کے لیے آیا تھا۔ منا بجرنگی کی باغپت جیل میںآمد ساڑھے نو بجے رات کے بعد ہوئی۔ پھر دیر رات میںٹفن کس کے لیے بھیجا گیا تھا؟ ٹفن کا کھانا کس قیدی کے لیے گیا؟ یہ چیک کیے بغیر کیسے پتہ چلا کہ ٹفن میںپستول چھپاکر رکھا گیا تھا؟سب بکواس ہے۔ جیل کے ہی جانکار بتاتے ہیں کہ جب قتل کا’ پلاٹ‘ اقتدار کی اعلیٰ سطح سے ہورہا ہو تو پستول پہنچانا کون سی بڑی بات ہے؟ابھی یہ بھی تو پتہ چلے کہ منا بجرنگی کو گولی کس نے ماری؟ آپریشن پورا کرنے میں کتنے لوگ اندر بھیجے گئے تھے اور وہ کون تھے؟ جس سنیل راٹھی کو اس قتل کے معاملے میںآگے لایا گیا ، وہ کبھی منا بجرنگی کا دوست تھا۔ مشرق و مغرب میںدونوںکے گروہ آپسی سمجھداری سے جرائم کیا کرتے تھے۔ سنجیو مہیشوری جیوا اورروی پرکاش کے ذریعہ سنیل نے منا بجرنگی سے دوستی گانٹھی تھی اور مختار انصاری کے گروہ سے بھی جڑ گیا تھا۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ منا بجرنگی کے قتل میںراٹھی کا استعمال کیا گیا؟ جونپور کے سابق رکن پارلیمنٹ دھننجے سنگھ کے جیل جاکر راٹھی سے دو دو بار ملنے اورمختار انصاری کے ساتھ لگاتار بات چیت میںرہنے کو بھی منا بجرنگی کے قتل سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ ایس ٹی ایف کے ایک جانکار افسر نے کہا کہ مختار انصاری کو یہ بھی شک تھا کہ کرشنا نندرائے کے قتل کے معاملے میںمنا بجرنگی کہیںسرکاری گواہ بن کر اس کا کھیل نہ بگاڑ دے۔ منا بجرنگی پر باغپت جیل میں ہوئی گولی باری سے ٹھیک پہلے راٹھی کے پاس کس شخص کا فون آیا تھا؟ فون کہاںغائب ہوگیا؟ جب پستول برآمد ہوگیا تو فون برآمد کیوںنہیںہوا؟ یہ سوال اس شک کو پختہ کرتا ہے کہ جو پستول برآمد دکھایا گیا ، وہ اصلی نہیںہے۔ جس طرح فون غائب ہوگیا، اسی طرح قتل میںاستعمال ہتھیار بھی غائب کردیا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *