آرٹیکل 370 ہندوستان کو کشمیر سے جوڑتا ہے ، توڑتا نہیں

کشمیر پھر چرچا میں ہے۔وہاں اسمبلی انتخابات میں خراب مینڈیٹ آیا تھا۔ مینڈیٹ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کو حیران کردیتا ہے۔وہاں بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔ نظریاتی طور پر دو الگ الگ قطب پر رہنے والی پارٹیوں نے سرکار بنانے کا فیصلہ لیا۔ اس میں بی جے پی ایک ایسی پارٹی ہے جو چاہتی ہے کہ آرٹیکل 370 کو ختم کر کے کشمیر کو ہندوستان میں ملا لیا جائے تاکہ کشمیر بھی باقی ریاستوں کی طرح بن جائے۔ دوسری طرف، پی ڈی پی کے مفتی محمد سعید کشمیر کو لے کر تھوڑے ہارڈ لائنز تھے۔
مینڈیٹ ایسا تھا کہ اگر بی جے پی ، پرانی والی بی جے پی ہوتی ، اڈوانی اور اٹل بہاری واجپئی والی بی جے پی، تو سرکار نہیں بناتی ۔کیوں؟کیونکہ وہ سمجھتے کہ ہمارا جو موقف ہے، وہ اس سرکار کے سہارے کبھی پورا نہیں کر پائیں گے ،پھر سرکار بنا کر کیا فائدہ ؟دوسری طرف، مفتی صاحب سمجھدار آدمی تھے۔ انہیں سمجھ جانا چاہئے تھا کہ بی جے پی کے ساتھ کشمیر کا حل نہیں نکل سکتاہے لیکن غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ مل کر سرکار بنا لی۔ مفتی صاحب کی ایک سال کے اندر موت ہو گئی۔ ان کی موت کے بعد، محبوبہ مفتی کو بی جے پی کے ساتھ سرکار نہیں بنانی چاہئے تھی۔ مفتی صاحب کا جب جنازہ نکلا تھا تو اس میں صرف دو سے تین ہزار آدمی تھے۔ ظاہر ہے ، کشمیر کے لوگ ان سے ناراض تھے۔ ان کے اپنے گائوں میں بھی ان کے جنازے میں دو تین ہزار لوگ پہنچے۔
بی جے پی کا اصل ایشو
محبوبہ مفتی کو عوام کا یہ اشارہ سمجھ جانا چاہئے تھا لیکن رام مادھو نے محبوبہ مفتی کو سمجھا بجھا کر پھر سے سرکار بنوا دی۔ دو سال محبوبہ نے سرکار چلا لی۔ اس بیچ ہونا کیا تھا؟کسی بھی معاملے میں سرکار آگے بڑھ ہی نہیں پائی اور بی جے پی نے حمایت واپس لے کر سرکار گرا دیا۔ اب جو بی جے پی کے اندھے بھکت ہیں، وہ بڑے خوش ہیں۔کہہ رہے ہیں کہ بہت اچھا کیا۔ اس کا پورے ہندوستان میں اثر ہوگا۔ ان کو پتہ ہی نہیں ہے کہ پورے ہندوستان کو پرواہ ہی نہیں ہے کہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے اور خود بی جے پی کے اندر کشمیر کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔بی جے پی کے لئے کشمیر کی صرف ایک اہمیت ہے کہ 370 ہٹانا ہے۔
جب 26 مئی 2014 کو نریندر مودی سرکار کی حلف برداری تقریب ہوئی ،اس کے اگلے ہی دن پی ایم او کے وزیر جتندر سنگھ بیان دیتے ہیں کہ آج سے آرٹیکل 370 کو ہٹانے کا عمل شروع ہو گیاہے۔ اتنا بے تُکا اور انپڑھ بیان کوئی کیسے دے سکتاہے۔ کوئی سیاسی آدمی تو ایسا بیان دے ہی نہیں سکتا۔ وزیر اعظم دفتر نے اس بیان کو پھر کبھی دوہرایا نہیں ، لیکن یہ مائنڈ سیٹ ہے۔ یہ مائنڈ سیٹ دکھاتا ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ پاور میں آگئے تو کچھ بھی کر سکتے ہیں۔کون ہیں آپ؟ 282سیٹوں کی آپ کی اکثریت ہے ۔ راجیہ سبھا میں بل پاس کرانے میں آپ کو پسینہ آجائے گا۔
میں سمجھتا ہوں کہ آج کے عوام میں بھرم پھیلایا جارہا ہے۔ جب ملک کی تقسیم ہو رہی تھی، تب برٹش کا فیصلہ یہ تھا کہ جو علاقہ برطانیہ سرکار کے تحت تھا ، اس کی تقسیم انہوں نے لائن کھینچ کر کرا دیا اور کہہ دیا کہ یہ ہندوستان میں جائے گا اور یہ پاکستان میںجائے گا۔
بہت ساری ریاستیں تھیں، جو مہاراجائوں کے تحت تھیں۔ ان کو آزاد رہنا ہے، انڈیا میں جانا ہے یا پاکستان میں جاناہے، کا متبادل دیا گیا۔ تین ریاستوں میں جھگڑا ہو گیا۔ ایک حیدرآباد ، دوسرا جونا گڑھ اور تیسرا کشمیر۔ حیدر آباد کا راجا مسلمان تھا اور عوام ہندو۔ جونا گڑھ کا نواب مسلمان تھا اور عوام تھے ہندو اور کشمیر کا راجا ہندو تھا اور عوام تھے مسلمان۔ تو فیصلہ کچھ مشکل ہو گیا۔ جواہر لال نہرو کو آجکل برا بھلا کہنے کی بہت عادت ہے۔ انپڑھ لوگوں کو ایک آزادی ہے کہ وہ جو چاہیں بول دیں۔ ہم جیسے لوگوں پر پابندی ہے، ذمہ دار لوگوں پر پابندی ہے، لیکن غیر ذمہ دار لوگ کچھ بھی بول سکتے ہیں۔
آج کہہ رہے ہیں کہ جواہر لال نہرو نے مسائل پیدا کئے۔ جواہر لال نہرو نے تب جناح سے کہا کہ تین جگہ جھگڑا ہے، اچھی بات یہی ہوگی کہ یہاں کے عوام کا فیصلہ مان لینا چاہئے۔ اگر جناح متفق نہیں ہوتے تو کیا ہوتا؟ حیدر آباد اور جونا گڑھ ہندوستان کے پاس آجاتااور کشمیرپاکستان کے پاس چلا جاتا۔ جناح نے کہا کہ نہیں، ہمیںنہیں منظور ہے۔کیوں ؟ جناح سوچتے تھے کہ حیدرآباد میں نظام کے سہارے اپنا اختیار قائم کر لیں گے۔ سردار پٹیل اس بات کو سمجھتے تھے اور مائونٹ بیٹن سے انہوں نے کہا کہ 15اگست نزدیک ہے، اگر اس کا فیصلہ نہیں ہوا تو پورا معاملہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔ مائونٹ بیٹن نے پوچھا کہ اگر کشمیر کے مہاراجا فیصلہ کرتے ہیں کہ میںپاکستان کے ساتھ جانا چاہتا ہوں تب کیا ہوگا؟پٹیل نے کہا کہ یہ تو اگریمنٹ ہے ہم لوگوں کا۔ مہاراجا جو کہیں گے، ٹھیک ہے۔ سردار پٹیل عملی آدمی تھے ۔نہرو کشمیری پنڈت تھے۔ نہرو کو کشمیر سے لگائو تھا۔ سردار پٹیل سمجھ گئے کہ حیدرآباد اہم ہے، ہندوستان کے اندر ہے، اس لئے پہلے اس کو لے لو۔ حیدرآباد کے لئے کشمیر چھوڑنا پڑے تو چھوڑ دیں گے۔ کشمیر کے مہاراجافیصلہ کر نہیں پائے۔

 

 

 

پاکستان کی نیت میں کھوٹ
پاکستان کی نیت ٹھیک نہیں تھی۔ انہوں نے آرمی بھیج کر کشمیر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ جب وہ بالکل سری نگر کے نزدیک آگئے تو مہاراجا نے نہرو کو فون کیا کہ آپ مدد کیجئے ہماری۔ نہرو نے ان سے کہا کہ ہم کیسے مدد کریں آپ کی،آپ ہمارا حصہ تو ہیں نہیں۔ آپ آزاد ہیں، خود دیکھئے۔تو مہاراجا نے کہا کہ ہم آپ سے صلح کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے صلح کیا اکتوبر 1947 میں۔ اگلے دن وہاں انڈین آرمی پہنچ گئی اور پاکستانیوں کو روک دیا، جسے آج تک لائن آف کنٹرول کہتے ہیں۔ پاکستان اسے آزاد کشمیر کہتاہے اور ہم لوگ اسے پاک مقبوضہ کشمیر کہتے ہیں۔ باقی کشمیر ، جموں ، لداخ ہمارے پاس رہ گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا؟مہاراجا نے جو سمجھوتہ کیا، اس کے لئے کچھ شرطیں تھیں۔ ان شرطوں کو مان لیا گیا۔ ان شرطوں کو بعد میں آئین کے آرٹیکل 370 میں شامل کر دیا گیا۔لوگوں اور بی جے پی والوں کو اس قانونی پروویژن کو سمجھنا چاہئے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ آرٹیکل 370 ختم نہیں ہو سکتا ہے۔ کشمیر پر ہمارا دعویٰ ہی آرٹیکل 370 کی وجہ سے ہے۔ اگر ہم نے اپنا وعدہ توڑ دیا تو کشمیر پر ہمارا دعویٰ ایسے ہی ختم ہو جائے گا۔ آرٹیکل 370 ختم کرتے ہی کشمیر پھر آزاد ہو جائے گا۔یہ بات آج کے نوجوانوں کو سمجھنا ضروری ہے کہ 370 ہٹانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کشمیر ہمارا ہو گیا، بلکہ کشمیر پر ہمارا جودعویٰ ہے، وہ اور کمزور ہو جائے گا۔ابھی اقتدار میں جو لوگ ہیں، وہ کتنے عقلمند ہیں، سمجھ میں نہیں آتا۔
آج جو لوگ اقتدار میں ہیں، وہ ہندو -ہندو چلاتے ہیں۔ زیادہ ہندو بولنے سے آدمی ہندو نہیں ہوتا ہے۔ میںہندو ہوں۔ سناتن دھرم کا حامل ہوں۔ ہر چیز مانتا ہوں، لیکن یہ لوگ تو ہندوئوں کے ہی خلاف ہیں۔ یہ تو ہندوئوں کو آپس میں لڑوانا چاہتے ہیں۔ صرف 18فیصد ہندو ان کے ( بی جے پی ) ساتھ ہیں، جو ان کی باتوں میں پھنس جاتے ہیں۔
جب سے کشمیر میںسرکار گری ہے، ان لوگوں نے محبوبہ مفتی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا ہے۔ محبوبہ جواب میں کہتی ہیں کہ یہ چھوٹی باتیں ہیں۔ اہم بات تو پیسوں کی تھی۔ کشمیر میں بی جے پی نے اسی لئے سرکار بنائی تھی۔ ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ بی جے پی والے میری قمیض، تمہاری قمیض سے زیادہ سفید دکھانے کی کیوں کوشش کررہی ہے۔ کیا بی جے پی بغیر پیسوں کے انتخابات لڑ رہی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *