اے ایم یواقلیتی ادارہ معاملہ: پروفیسر تبسم شہاب نے قومی کمیشن برائے درج فہرست ذات کے صدر پروفیسر رام شنکر کٹھیریا کو حقائق سے روشناس کرایا

amu
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے آج واضح کیا ہے کہ یہ ادارہ اے ایم یو ایکٹ1981کے تحت منتظم ہے جس نے یونیورسٹی کو اقلیتی ادارہ کا درجہ دیا ہے۔ اس کے تحت سبھی اقلیتی اداروں کو آرٹیکل (5)15کے تحت دیگر دستوری ریزرویشنوں سے مبرّا رکھا گیا ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ اے ایم یو کے اقلیتی درجہ سے متعلق مقدمہ ملک کی عدالتِ عظمیٰ ( سپریم کورٹ) میں زیرِ سماعت ہے۔ اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر تبسم شہاب نے قومی کمیشن برائے درج فہرست ذات کے صدر پروفیسر رام شنکر کٹھیریا سے ملاقات کرکے انہیں ان حقائق سے روشناس کرایا۔یونیورسٹی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اے ایم یو نے کبھی مسلمانوں کے ریزرویشن کی پالیسی پر کام نہیں کیا ہے بلکہ یونیورسٹی میں مذہب یا ذات سے بالاتر صرف داخلی(انٹرنل) طلبہ و طالبات کو 50% ریزر ویشن دیا جاتا ہے۔
اے ایم یو نے مزید کہا ہے کہ2005کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر عدالتِ عظمیٰ نے پابندی عائد کی اور جب تک اے ایم یو کے اقلیتی کردار سے متعلق مقدمہ کا فیصلہ عدالتِ عظمیٰ سے نہیں ہوجاتا ہے اس کی داخلہ پالیسی میں ریزرویشن سے متعلق کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔پروفیسر تبسم شہاب نے کہا کہ مذکورہ کمیشن کے ذریعہ دریافت کئے گئے سوالات کا جواب اے ایم یو ضرور دے گی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *