جمعیت اہل حدیث ہند کے زیراہتمام کل ہند مسابقہ حفظ وتجوید وتفسیرقرآن کریم کا آغاز

jamiat
دہلی:قرآن کریم پوری دنیائے انسانیت کیلئے اللہ کا آخری اورابدی پیغام ہے، قرآن کی تعلیمات کو اپناکر ہی انسان دنیا وآخرت میں سرخرو ہوسکتاہے،اس کی تعلیمات ملک وملت اور انسانیت کے لیے رحمت کی ضمانت ہیں، قرآن کا سب سے بڑا اعجاز یہ ہے کہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے خود لے رکھی ہے۔ ہماری طاقت وقوت اور عزت قرآن کریم ہے جس کے لیے ہم جمع ہیں ۔ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔وہ آج صبح دس بجے اہل حدیث کمپلیکس اوکھلا،نئی دہلی میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام اٹھارویں کل ہندمسابقہ حفظ وتجوید وتفسیر قرآن کریم کے افتتاحی پروگرام میں مہمانان کرام وشرکاء مسابقہ سے خطاب فرمارہے تھے۔انہو ں نے کہاکہ سب سے کامیاب طالب علم وہ ہے جو کم نمبر پاکر ہمت نہ ہارے، اللہ کا شکر اداکرے اور اس کی نظر اپنے اصلی مقصد پر رہے۔مرکزی جمعیت کے ناظم عمومی مولانامحمدہارون سنابلی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہاکہ انتہائی مسرت کا مقام ہے کہ آج ہم جس نسبت سے یہاں جمع ہوئے ہیں وہ نسبت قرآن کی ہے جس نے پوری انسانیت کو ایک لڑی میں پرودیا۔انسان بنایا، نور کی شمع روشن کی۔
مرکزی جمعیت کے مفتی شیخ جمیل احمدنے مسابقہ سے متعلق اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہماری نسبت ایسی کتاب سے ہے کہ عرب کے بڑے بڑے اورنامورفصحاء جنہیں اپنی زبان دانی پر ناز تھا قرآن کریم کی فصاحت وبلاغت کے آگے ہیچ ہوگئے۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کتاب کو پڑھنے کے ساتھ اس پر عمل کرنے کی بھی توفیق بخشے۔دارالعلوم وقف دیوبندکے نمائندے قاری واصف نے اپنے تاثراتی کلمات میں فرمایا: جب جب ہم نے قرآن سے اپنا رشتہ جوڑاہے اللہ کی مدد آئی ہے۔صحابہ کرام کا قرآن کریم سے شغف کسی پر مخفی نہیں ۔آپ خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے لیے منتخب فرمایاہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی آمد کو قبول فرمائے اورذمہ داران مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو اجر جزیل سے نوازے۔آمین
واضح ہوکہ اٹھارہویں کل ہندمسابقہ حفظ وتجوید وتفسیرقرآن کریم کی افتتاحی نشست کا آغاز جامعہ دارالہدیٰ کولکاتاکے استاذ حافظ وقاری اشرف الحق کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اورصدارت امیرمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمدشیث ادریس تیمی نے انجام دیے۔ یہ مسابقہ کل مورخہ 29؍جولائی 2018ء کی شام تک پورے آب وتاب کے ساتھ جاری رہے گا ۔ اختتامی اجلاس بعد نماز مغرب منعقد ہوگا جس میں مسابقے کے چھ زمروں میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو اکابرین ملک وملت و جماعت کے ہاتھوں توصیفی سند اور انعامات سے نوازا جائے گا اور تمام شرکاء کو توصیفی سند اور تشجیعی انعامات دیئے جائیں گے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *