بندوق کی نوک پر کینسر متاثرہ خاتون کے ساتھ 3 سال تک ریپ کرتا رہا پولیس اہلکار

raped
سروس، سیکورٹی، تعاون کا دعویٰ کرنے والی ہریانہ پولیس کا چہرہ ایک بار پھر سے بے نقاب ہوگیا ہے۔دراصل، دہلی سے متصل فریدآباد میں پولیس اہلکار کے ذریعہ ایک کینسر سے متاثر خاتون کے ساتھ ریپکرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔پولس اہلکاروں پرالزام ہے کہ وہ گذشتہ تین سال سے اس کودھمکی دے کر بندوق کی نوک پراس کی عصمت کوتار تار کرتارہا، اتناہی نہیں پولس اہلکار نے متاثرہ خاتون کے گھرپر جا کرجان سے مارنے کی دھمکی بھی دیتاہے ،اس کا ویڈویوبھی بنایاگیاہے، جس میں ملزم پولس اہلکار ہاتھ میں پیچکس لیکر سب کودھمکاتا بھی دکھائی دے رہاہے۔ متاثرہ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ پولیس اہلکار گزشتہ 3 سالوں سے اس کو دھمکی دے کر بندوق کی نوک پر اس کے ساتھ آبروریزی کر رہا ہے۔کینسر میں مبتلا خاتون نے اب بنا ڈرے پولیس میں شکایت درج کرا ئی ہے۔فی الحال پولس نے ملزموں کے خلاف معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی ہے۔ملزم ہریانہ پولس میں کانسٹیبل کے عہدہ پرتعینات پولس اہلکارہے جس کا نام سریندرہے اورفریدآبادکے پلّا علاقے کی چوکی پرتعینات تھا۔

 

اتنا ہی نہیں ملزم پولیس اہلکار متاثرہ کے گھر جاکر اس کو جان سے مارنے کی دھمکی بھی دیتا ہے۔ کینسر میں مبتلا خاتون نے اب بنا ڈرے پولیس میں شکایت درج کرا ئی ہے۔خبروں کے مطابق، ملزم پولیس اہلکار پر عصمت دری کا معاملہ درج ہوئے 20 دن گزر چکے ہیں اور ملزم تبھی سے فرار چل رہاہے۔ پولیس آج بھی ملزم کو ڈھونڈ کر اس کی گرفتاری کی بات کہہ رہی ہی۔
متاثرہ خاتون کینسرکی مریض ہے لیکن پھریہ ملزم پولس اہلکاراسے اپنی ہوش کا شکاربناتارہاہے۔ متاثرہ خاتون کے مطابق، اس نے اپنے کام روزگارکے باعث اس پولس اہلکار سے کچھ سود پرروپے لیاتھا جس کے بعد ملزم پولس کا اس کے گھر آنا جانا شروع ہوگیا اوراس نے اس کا ناجائزفائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے ساتھ بندوق کے نوک پرریپ کرنا شروع کردیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *