بارش میں رومانس کرنے والے عاشق جوڑے کی تصویرلینا فوٹوجرنلسٹ کوپڑا مہنگا

lover-bangladesh
مانسون کی بارش میں ایک عاشق جوڑا کے رومانس کی تصویربنگلہ دیش میں اس وقت موضوع بحث بن گئی ہے۔دراصل، پورا معاملہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں مانسون کی بارش ہورہی تھی۔ بارش کا لطف لیتے ہوئے ایک عاشق جوڑے اپنے معشوقہ کے ساتھ ایک دوسرے کے تئیں پیارظاہرکررہے تھے۔یعنی عاش ومعشوق ایک دوسرے کوکسنگ (بوس وکنار) کررہے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق،صحافی نے بتایاکہ مانسون کی بارش میں یہ جوڑا کسنگ (بوسہ) کررہے تھے۔ وہ اس رومانٹک پل کودیکھ کراس نے اپنے کیمرے میں قیدکرلیا۔اس تصویرکوشائع کرنے کیلئے اسے اپنے آفس میں بھیجاتو ایڈیٹرنے منع کردیا۔ان کا کہنا تھاکہ اس کاردعمل ٹھیک نہیں ہوگا ۔تب احمدنے اپنے ایڈیٹرسے کہاکہ آپ اس تصویرمیں منفی پہلونہیں دیکھ سکتے ہیں، یہ توسچے پیارکے تئیں ہے۔فوٹوشائع نہ کرنے پر فوٹوجرنلسٹ جبان احمدنے تصویرکلک کراپنے فیس بک پیج پر شیئرکردیا۔چند گھنٹوں میں یہ تصویروائرل ہوگئی۔ کچھ لوگوں کویہ تصویرناگوارگزری، وہ اس پرمنفی تبصرہ کرنے لگے۔ یہ تصویرڈھاکہ یونیورسٹی کی ہے ۔دراصل کچھ دن پہلے ہی اسی جگہ پردھرنامظاہرہ اورجھڑپ ہوئی تھی۔ ٹھیک اسی جگہ کی کلک کی گئی اس تصویرپرلوگ اعتراض کررہے ہیں۔بنگلہ دیش کی نیوزویب سائٹ نیوز18کے مطابق، ایک قدامت پسندبلاگر نے لکھاہے کہ ’’عاشق جوڑے ڈھیٹ ہوتے جارہے ہیں۔جوچیزیں پہلے پردے میں ہوتی تھیں وہ اب عوامی وکھلے جگہوں پرکیاجارہاہے۔‘‘۔ وہیں اس فوٹوکوکلک کرنے والے جرنلسٹ احمد پر حملہ ہواہے۔ اتناہی نہیں، اس صحافی کومیڈیا کمپنی نے نوکری سے نکال دیاہے۔
اس کے بعد صحافی نے اس تصویرکواپنے انسٹگرام اورفیس بک پیج پرپوسٹ کردی۔چندگھنٹے میں ہی یہ تصویروائرل ہوگئی۔اس صحافی کے وال سے پانچ ہزارسے زیادہ بارشیئرکرلیاگیا۔اس کے بعد کچھ لوگوں نے صحافی پرحملہ کردیا۔اتناہی نہیں، جب وہ آفس پہنچا تو اس سے اس کا لیٹ ٹاپ ، آئی ڈی کارڈ وغیرہ لے لیاگیا۔صحافی نے اس پورے معاملے میں قانونی مدد لینے کی بات کررہاہے۔فوٹوجرنلسٹ کا کہنا ہے کہ اس کا منشا صرف پیاردکھانے کی ہے،نہ کہ فحش دکھانے کی۔انہو نے کہاکہ اس فوٹومیں کچھ میں بھی قابل اعتراض نہیں ہے۔
خبروں کے مطابق، فوٹوجرنلسٹ احمدنے ایڈیٹرکوجب اپنے اوپرہوئے حملے کی جانکاری دی توانہو ں نے قانونی کارروائی میں مددکا وعدہ کیا۔ایڈیٹرکی طرف سے لکھے احمدکے حمایت میں لکھے گئے ایک ای میل میں اس کی حمایت کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ ہرکوئی اس کے کام کی تعریف کررہاہے۔بہرکیف احمد اس سلوک سے کافی دکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں کچھ لوگ کاغذوں میں ہی پڑھے لکھے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ان پڑھ ہیں۔وہ اس فوٹوکے پیچھے کے پیغام کوسمجھنے میں ناکام ہوگئے ہیں اوراب مجھے اپنے بارے میں فکرہورہی ہے۔حالانکہ کئی لوگ ان کے حمایت میں آگئے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *