نئی منتظمہ میں پہلی مرتبہ ہوئی خاتون کی بھی دستار بندی

گزشتہ یکم جولائی کو تحریک آزادی کے نشان دہلی کے جامعہ رحیمیہ اور تاریخی مہندیان قبرستان کے نئے ذمہ داران کی دستار بندی عمل میں آئی۔ یہ دستار بندی اس لحاظ سے بہت اہم، غیر معمولی اور انوکھی تھی کہ ا س میںتین افراد میںایک خاتون بھی شامل تھیں۔ دراصل نئی منتظمہ کا انتخاب گزشتہ ماہ جامعہ رحیمیہ، مہندیان قبرستان اور درگاہ شاہ ولی اللہ کے متولی اور مہتمم ولی محمد کے اتنقال کے بعد عمل میںآیا تھا جس میںان کے چھوٹے بھائی اور نائب متولی عبدالعزیز کو متفقہ طور پر جامعہ رحیمیہ اور مہندیان قبرستان کا متولی و مہتمم منتخب کیا گیا جبکہ منتظمہ میںشامل مرحوم ولی محمد کی صاحبزادی ماریہ ولی اور نئے متولی کے صاحبزادے عبدالعلی کی دستار بندی کی گئی اور پھر انھیںیہاںکی اہم ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔
21 سالہ ماریہ ولی دہلی یونیورسٹی میںانگریزی آنرس کی طالبہ اور ٹرینڈ ڈائیلیسس ٹیکنیشئن ہیں۔ یہ سابق متولی مرحوم ولی محمد کی پانچ صاحبزادیوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ منتظمہ کی رکن کے طور پر مار یہ اپنے چچا عبدالعزیز کی معاونت کریںگی۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یکم جولائی کو دستار بندی سے پانچ روز قبل یہ خبر میڈیا میںعام ہوگئی تھی کہ ماضی کی تمام روایتوں کو توڑتے ہوئے ماریہ کی یکم جولائی کو متولی کے طور پر دستار بندی ہوگی۔
تب ماریہ کی سب سے بڑی بہن عائشہ نے یہاں تک کہہ دیا تھا ’’میرے والد مرحوم نے ماریہ کو اپنا جانشین نامزد کردیا تھا کیونکہ یہ اسے بے حد چاہتے تھے اور چاہنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ ان کے انتظام و انصرام کے کاموںمیںسب سے زیادہ معاونت کیا کرتی تھی۔ یوںتو وہ ہم سبھوںسے پیار کرتے تھے مگر اس سے بڑی ہم دو بہنیں شادی شدہ ہیںاور مہندیان میںنہیںرہتی ہیں۔ لہٰذا اس لحاظ سے بھی والد کی نگاہ انتخاب ماریہ پر پڑی۔ ‘‘
اس وقت ماریہ بھی بہت جوش میںتھیں، اس نئی ذمہ داری کے بارے میںسوچ کر۔ لیکن یکم جولائی کو منظرنامہ اچانک تھوڑا سا بدل گیاجب سابق مہتمم ولی محمد کے چھوٹے بھائی اور نائب مہتمم عبدالعزیز کو بغیر وجہ بتائے باضابطہ متولی و مہتمم متفقہ طور پر منتخب کرنے کا اعلان کیا گیا اور پھر ان کی بھتیجی ماریہ ولی اور بیٹے عبد العلی کی دستار بندی ان کے معاونین یعنی منتظمہ کے ارکان کے طور پر کی گئی۔

 

 

 

عیاں رہے کہ جامعہ رحیمیہ دہلی کا قدیم ترین مدرسہ ہے جسے دور مغلیہ کے معروف و جید دانشور و عالم دین شاہ عبدالرحیم (1644-1719) نے قائم کیا تھا۔ شاہ عبدالرحیم علم و تحقیق میںفتاویٰ عالمگیر کی ترتیب و تدوین میںاپنے زبردست کردار کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان سے متعلق ارشاد رحیمیہ، انفاس رحیمیہ اور مکتوبات بھی بہت مشہور ہیں۔ ان کے قائم کردہ جامعہ رحیمیہ کا تاریخ میںاس لحاظ سے خصوصیت سے ذکر ملتا ہے کہ یہ شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد العزیز جیسے دانشواران و محققین کی مادری درس گاہ اور تحریک آزادی کے متوالوں بشمول شاہ اسماعیل شہید کی آماجگاہ بنا۔ یہی وجہ ہوئی کہ انگریزوںکی نظر میںیہ کانٹے کی طرح کھٹکنے لگا۔ انگریزوں نے اقتدار میںآنے کے بعد اسے بری طرح تباہ کر دیا۔
آزادی کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد اور مفتی کفایت اللہ کی کاوشوں سے ماریہ ولی کے دادا اور نئے متولی عبدالعزیز کے والد علی محمد شیرمیوات کے ہاتھوں جامعہ رحیمیہ کو دوبارہ شروع کیا گیا اور مہندیان قبرستان کو غاصبوں و قابضوں کی تحویل سے مقدمات کرکے عدالتی احکامات کے ذریعہ آزاد کرایا گیا۔ یہ قبرستان دور وسطیٰ کے صرف ممتاز علمائ، دانشوران ومحققین بشمول شاہ عبدالرحیم ، شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز، شادہ عبدالقادر، شاہ رفیع الدین، شاہ عبدالغنی ودیگر کی ہی نہیں بلکہ اس کے بعد مشہور و معروف شخصیات مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمٰن، سابق وزیر اور بانی آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ڈاکٹر سید محمود، معروف صحافی و سہ روزہ دعوت کے چیف ایڈیٹر محمد مسلم اور ماہر تعلیم افضل حسین کی بھی آخری آرام گاہ بنا۔ کسی بھی محقق کے لیے اس قبرستان میںآ مد کا مطلب ہے کہ وہ یہاں کی اہم شخصیات سے واقف ہوجائے۔ سرسید کے’ آثار الصنادید‘میںبھی اس تاریخی قبرستان کا تذکرہ موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جامعہ رحیمیہ اور مہندیان قبرستان کو قائم و دائم رکھنے میں شیر میوات کے طور پر معروف علی محمد نے غاصبوں و قابضوں کی تحویل سے چھڑانے کے لیے لاٹھیاںکھائیں ، صعوبتیں برداشت کیں اور مقدمات لڑے اورپھر ان تاریخی مقامات کو محفوظ کرالیا۔ ایک بار شیر میوات 1980 کی دہائی کے اوائل میںراقم الحروف سے اپنی جدوجہدکی داستان بیان کرتے کرتے اشکبار ہوگئے اور کہنے لگے کہ ’’اگر یہ کوششیںنہ کی گئی ہوتیں تو آج صفحہ ہستی پر نہ جامعہ رحیمیہ ہوتا اور نہ ہی مہندیان قبرستان ۔ یہ مقامات ہمارے دینی ورثے اور تاریخ آزادی کے متوالوں کی تربیت گاہ اور آماجگاہ رہے ہیں۔ لہٰذا ان کا تحفظ بہت ضروری تھا۔ ‘‘
دراصل شیر میوات کی کوششوں سے محفوظ ہوئے جامعہ رحیمیہ اور مہندیان قبرستان کی منتظمہ میںخاتون ماریہ ولی کی شمولیت مدارس اور قبرستان کی تاریخ میںایک نیا باب ہے۔ دستار بندی کے بعد یہ ایک ایسے مدرسہ کے ذمہ داروں میںسے ایک ہوگئی ہیں جس میںطالبات کی تعلیم کی اجازت نہیںہے، یہاںصرف طلباء ہی کا داخلہ ہوتا ہے۔ انگریزی و عصری تعلیم حاصل کر رہی ماریہ یہاںکتنا مفید و مؤثر ہوسکیںگی، یہ تو آنے والے والا وقت ہی بتا پائے گا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *