2014 اور 2019 کی انتخابی مہموں میں بنیادی فرق ہے

2019 کے عام انتخابات کی وسیع مہم وزیر اعظم مودی نے شروع کردی ہے۔ پورے ملک میںوہ اور امت شاہ گھومنا شروع کر چکے ہیں۔ ہر مدعا الیکشن کو دیکھتے ہوئے اٹھا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انھوںنے 2012 سے لے کر 2014 تک کیے گئے وعدوں کے بارے میںبولنا بند کر دیا ہے ، جس کے سہارے انھیں2014 میںجیت ملی تھی۔ ان کا اس میںکوئی قصور نہیں ہے۔ جب ملک کے عوام کو ہی ان وعدوں کی فکر نہیں ہے، تو انھیں فکر کیوںہو؟
لیکن 2014اور 2019 کی انتخابی مہموں میںایک بنیادی فرق ہے۔ 2012-13 میںایک جوش تھا کہ اس بار کسی بھی قیمت پر 2014 میںسرکار بنانی ہی بنانی ہے۔ اس بار اس میںتھوڑی سی کمی دکھائی دے رہی ہے۔ اس بار کا مقصد ہے کہ اقتدار بنائے ہی بنائے رکھنا ہے۔ جو پہاڑ پر چڑھے ہیں، انھیں معلوم ہے کہ چوٹی پر چڑھنا ایک طرح کے جوش کا نتیجہ ہے اور چوٹی پر قائم رہنا خوف آمیز جوش کا نتیجہ ہے۔ ایک میںجیتنے کا جوش ہے اور دوسرے کو ہارنے کا ڈر ہے۔ شاید اسی لیے اس انتخابی مہم میںلیڈر تو ہیں لیکن پارٹی نہیں جبکہ 2012 سے 2014 کی انتخابی مہم میں لیڈر کم تھے،پارٹی اور پارٹی کے کارکن زیادہ تھے۔ کون سی جگہ تھی ، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو چاہنے والے کارکن نہیںتھے۔ بلکہ ہو یہ گیا تھا کہ کون پارٹی ہے اور کون پارٹی کا کارکن ، یہ فرق ہی مٹ گیا تھا۔ ملک میںزیادہ تر لو گ بی جے پی کے رنگ میں رنگ گئے تھے۔
ایسا اس لیے ہوا تھا ، کیونکہ لوگوںکے سامنے کانگریس حکومت سے نکلی ناراضگی تھی۔ لوگوں نے مانا تھا کہ ایک نئی پارٹی آئے گی،ایک نیا آدمی آئے گا، جو ملک میںایک نئے جوش کا سنچار کرے گا اور ہندوستان میںرہنے والے لوگوں کے سامنے امیدوں، خوشیوں اور امکانات کے نئے دروازے کھولے گا۔ اس لیے ان سب نے بھی،جنھوںنے کبھی بی جے پی کا ساتھ نہیںدیا تھا، 2012 سے 2014 تک بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اس بار انتخابی مہم کے خطابوں میںاور دعووں میںشور اُتنا ہی ہے لیکن طاقت کم ہے۔ وزیر اعظم مودی ملک میںجہاں بھی سبھاؤں میںجا رہے ہیں، وہاںبھیڑ تو ہوتی ہے لیکن بھیڑ کے ساتھ کئی کلو میٹر لمبی بسوں کی لائنیںبھی ہوتی ہیں جبکہ 2012 سے 2014 تک بسیںکم ہوتی تھیں،لوگ زیادہ ہوتے تھے۔
اب یہ لگ رہا ہے کہ اگر بسیں اور لوگوںکے لیے کھانے پینے کا شاندار انتظام نہیںکیا ہوتا تو جو بھیڑ دکھائی دے رہی ہے، وہ بھی نہیںہوگی۔ اس کے باوجود زیادہ تر جگہوںپر وزیر اعظم کی بھیڑ ساری کرسیاں بھرنے میں کامیاب نہیں ہوپاتی۔ابھی حال میںراجستھان میںوزیر اعظم گئے، جہاں سبھاؤں میں کرسیاںخالی دکھائی دیں۔ یہ بحث ہوسکتی ہے کہ کرسیاں زیادہ لگا دی گئی تھیں لیکن ایسی بحث 2012 سے 2014 کی انتخابی مہم میں نہیں تھی،جس میںبسیںنہیںآتی تھیں،لوگ آتے تھے،اپنے پیسے سے لوگ آتے تھے،اپنا کھانا کھاتے تھے اور نئے امکان والے لیڈر کے ہاتھوں میں ملک سونپنے کے لیے فکرمند دکھائی دیتے تھے۔

 

 

 

کرسیاں خالی رہیں، کوئی بات نہیںلیکن اب زیادہ تر جگہوں پر غصہ اور احتجاج بھی دکھائی دیتا ہے۔ شاید اسی لیے بی جے پی تھوڑی تناؤ میںآگئی ہے۔ اس نے یہ طے کیا ہے کہ ساری ماتحت تنظیمیںاور ان ساری ماتحت تنظیموں کا کنٹرولر، راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) اس انتخابی مہم کو اپنے ہاتھ میںلے گا۔ اتر پردیش کو لے کر سنگھ میںسب سے زیادہ تشویش ہے۔ بتانے والے بتا رہے ہیںکہ سنگھ کے اندرونی سروے میںاتر پردیش میںان کی جیت کا فیصد کافی بدلنے والا ہے۔ اس لیے پورا سنگھ او رپوری بی جے پی نہ صرف فکرمند ہے بلکہ جی جان لگاکر سبھاؤں کی تیاری کررہی ہے۔ لیکن جو کانگریس کے دنوںمیںہوتا تھا،وہی اب بی جے پی کے ساتھ بھی ہونے لگا ہے۔ ضلع افسروں کو وزیر اعظم کی سبھاؤں میں بھیڑ جٹانے کے لیے کوٹا دیا جانے لگا ہے۔ راجستھان میںوزیر اعظم مودی کی سبھا میںبھیڑ لانے کے لیے پارٹی کو ذمہ داری نہیںدی گئی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کو ذمہ داری دی گئی۔ اب وہی اترپردیش میںہو رہا ہے اور وہی ان سبھی ریاستوںمیںہو رہا ہے جہاں جہاں وزیر اعظم جا رہے ہیں۔ یہ حالت اس پارٹی کے لیے تشویشناک ہے جو پارٹی ملک کی حکمرانی 2024 تک اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔ نوکر شاہی کے سہارے یا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹوں کے سہارے تانا شاہی چلائی جا سکتی ہے،الیکشن جیتنا آسانی سے ممکن ہو جائے، یہ ظاہر نہیںکرتا۔
وزیر اعظم سماج کے ہر طبقے کو مخاطب کر رہے ہیں۔ انھوںنے اپنا ایجنڈا کسانوں کی طرف موڑ دیا ہے۔ کسانوںکی ناراضگی سرکار کی سمجھ میںآئی لیکن بہت دیر سے۔ اگر سرکار کسانوں کے مسائل کا تین سال پہلے حل نکال دیتی تو آج وزیر اعظم کو پورے ملک میں اس رفتار سے گھومنا نہیںپڑتا۔ لیکن کسان کبھی بھی کسی سرکار کی ترجیح میںنہیں رہے۔ اس لیے، کیونکہ بازار نہیںچاہتا کہ کسان خوش حال ہو، کسان کو اس کی فصل کے پورے پیسے ملیں اور لاگت سے ڈیڑھ گنا تو قطعی نہ ملیں۔ بازار یہ طے کرے گا کہ ہر گزرتے مہینے کے ساتھ کسان کی لاگت بڑھتی چلی جائے تاکہ اسے کبھی فصل کی پوری قیمت نہ ملے۔ سرکاریںاس میںکھل کر بازار کا ساتھ دیتی ہیں۔ بی جے پی کی سرکار بھی یہی کر رہی ہے ۔

 

 

 

بی جے پی کو دوبارہ جیتنے میںصرف اس لیے مشکلیں پیش آرہی ہیں کیونکہ اس بار اس کے سامنے اپوزیشن نہیںہے بلکہ عوام ہیں۔ اسے عوام کو ہی سمجھانا ہے کہ ہم نے پچھلے پانچ سالوں میںکیا کیا، جس کی وجہ سے وہ انھیںووٹ دیں اور اسے ناپنے کا پیمانہ بہت مزے دار ہے۔ وزیر اعظم صاحب ہر ریاست میںجا رہے ہیں۔ انھیںاور تیزی سے جانا چاہیے اور اپنی سبھاؤں میںموجود بھیڑ کے چہرے پڑھنے چاہئیں۔ خالی کرسیوںکا جائزہ لینا چاہیے اور تب اندازہ لگانا چاہیے کہ انھیں اور کتنی محنت کرنی ہے۔اس میںکوئی دو رائے نہیںکہ ملک میںاس وقت باحیات تمام لیڈروںمیںوزیر اعظم سب سے تیز دوڑنے والے اور 24 گھنٹے سیاست میںاپنا وقت گزارنے والے واحد لیڈر ہیں۔
انھیںابھی یہ سمجھ میں نہیںآرہا ہے کہ ہماری معیشت ابھی تک پٹری پر نہیںلوٹی ہے۔ وزیر اعظم مودی ابھی تک سمجھ نہیںپا رہے ہیں کہ انھوںنے حکومت چلانے کا جو طریقہ اپنایا ہے، وہ طریقہ سیاسی طریقہ کم نوکر شاہی والا طریقہ زیادہ ہے۔ ایک بات ملک کے لوگوںکی سمجھ میںنہیںآرہی ہے کہ کیا وزیر اعظم مودی کے پاس لوگوںکی کمی ہے۔ انھوںنے پورے چار سال میں اپنی کابینہ کو پوری طرح تشکیل نہیںکیا۔ کچھ بیورو کریٹ اور کچھ سیاسی لوگوں کے سہارے سرکار چل رہی ہے۔ پیوش گوئل ایک نظیر ہیں، جن کے پاس تین تین محکمے ہیں۔ ایسے کتنے وزیر ہیں، جن کے پاس دو سے زیادہ محکمے ہیں، کیونکہ بی جے پی کے پاس لوگ نہیںہیں۔ اور وزیر اعظم نے بی جے پی کے اندر بھی ایسے لوگوںکو تیار نہیںکیا جنھیںوہ سرکار چلانے والی ٹیم یعنی مرکزی کابینہ میںشامل کرتے۔ یہی بی جے پی کا سب سے بڑا تضاد ہے کہ کابینہ ہی پانچ سال میںپوری نہیںبنی۔ اس لیے انھیںسرکار بیورو کریسی کے ذریعہ چلانی پڑ رہی ہے، جس کا نتیجہ خالی کرسیوںکی شکل میںدکھائی دے رہا ہے۔
لیکن اچھا ہے کہ وزیر اعظم اپنی مقبولیت جانچنے کے لیے ملک کے ہر حصے میں جائیں، اپنی سبھا میںموجود بھیڑ کا جوش دیکھیں، بھیڑ کی تعداد دیکھیں اور سیاسی طور پر فیصلہ کریںکہ کہاںکمزوری ہے؟ اگر وہ خفیہ محکمے کی رپورٹ کی بنیاد پر اندازہ لگائیںگے تو ان کے سامنے بھی وہ نتیجے آئیںگے جو نتیجے نرسمہا راؤ کے سامنے، اٹل بہاری واجپی کے سامنے او رمنموہن سنگھ کے سامنے آئے تھے۔ ان سب نے خفیہ محکمے پر بھروسہ کیا تھااور انتخابی مدعے طے کیے تھے۔ یہ سارے لوگ ممکنہ جیت کی خود اعتمادی کا نتیجہ اپنی ہار کی شکل میںدیکھ چکے ہیں۔ وزیر اعظم مودی کے سامنے ایسا کچھ نہیںہوگا، ایسا ماننا چاہیے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *