کیا سیاسی پارٹیاں ضمنی انتخابات کے نتائج سے سبق لیں گی؟

لوک سبھا اور ودھان سبھا کے ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آگئے ہیں۔ ابھی پچھلے ہفتے ہم نے ’ چوتھی دنیا‘ کی لیڈ اسٹوری کی تھی، جس کی ہیڈنگ تھی ’سپریم کورٹ نے بچایا ملک کا وقار۔ ‘ ہم یہ تو نہیںکہتے کہ عوام نے سبق سکھادیا لیکن عوام نے سخت وارننگ ضرور دے دی ۔ وارننگ سرکار کے لیے زیادہ ہے اور اپوزیشن کے لیے کم ہے۔ وارننگ میڈیا کے لیے بھی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ کون سبق سیکھتا ہے یا اپنی اینٹھ میںیا اوور کانفیڈنس کے نشے میںڈوبا رہتا ہے۔ انتخابی نتائج آنے سے قبل تک ٹی وی پر پچھلے دو مہینوںسے ، جب سے کرناٹک کی الیکشن مہم شروع ہوئی، جس انداز میںبرسر اقتدار پارٹی کے ترجمان بات کرتے تھے،وہ انداز اہنکار سے بھرا ہواتھا۔ سچائی سے انکار کا ان کا طریقہ عوام پر تو اثر کرہی رہا تھا۔
کرناٹک سرکار بنانے کے دوران جس طرح کی سرگرمیاںہوئیں،اس نے بھی لوگوںکے اعتماد کو توڑ دیا۔ ضمنی انتخاب کے نتائج آنے سے ایک دن پہلے تک ٹی وی پر برسرا قتدار پارٹی کے ترجمان مدعوںکی بنیاد پر نہیں،اپنے اہنکار کی وجہ سے جیسے مذاق اڑا رہے تھے،وہ مناسب نہیںتھا۔ٹی وی بحث میںجس طرح کی زبان کا استعمال ان دنوںبرسراقتدار پارٹی کے ترجمان کر رہے ہیں، وہ مہذب ڈائیلاگ اسٹائل کے زمرے میں نہیںآتی، اہنکار کے زمر ے میںآتی ہے۔ اپوزیشن کے لوگ اسی طرح سے جواب دینے کے چکر میں بات چیت کی سطح لگاتار گرا رہے تھے۔ اس کے باوجود اپوزیشن کے ترجمانوں میںدلیلیں تھوڑی زیادہ سنجیدہ دکھائی دے رہی تھیں۔
ایک دور تھا جب ٹی وی پر ہونے والی بحثوں کو سننے کے لیے لوگ اپنے اپنے گھروں میںاکٹھا ہوجاتے تھے۔ انھیںاس بحث سے کچھ علم ملتا تھا،معلومات حاصل ہوتی تھیں۔ لیکن اب بحث نہیںہوتی،گالی گلوج ہوتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ الفاظ، جنھیںخالص گالی کہتے ہیں، استعمال نہیںہورہے ہیں، اس کے علاوہ سب کچھ استعمال ہورہا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سوچنا چاہیے کہ وہ جو بولتے ہیں یا جس طرح نیوز اینکر وزیر اعظم مودی کی تعریف کرتے ہیں، اسے ناظرین دیکھ رہے ہیں۔ انڈونیشیا میںوزیر اعظم مودی نے کہا کہ وہی افسر ہیں، وہی قانون ہیں۔ ان سے میںنے کام لیا او رہندوستان بدل گیاہے۔ اب اس کی جتنی ستائش نیوز اینکروں نے کی، اس سے تو شاید بی جے پی کی ساکھ کو کچھ چوٹ ہی پہنچی۔ لوگ اپنے آس پاس دیکھنے لگے کہ وہ دعوے کتنے سچے ہیں۔ ٹی وی پر بولنے کا لالچ کبھی بہت اچھا ہوتا ہے، کبھی بہت نقصاندہ ہوتا ہے۔ اس لیے بی جے پی کے لیے یہ سیکھ ہے کہ آپ سنبھل کر بولیں۔جب بی جے پی کہتی ہے کہ ہم نے میک اِن انڈیا کردیا، اسٹارٹ اَپ کردیا تو لوگ دیکھتے ہیں کہ کہاںہوا یہ سب؟ لوگ سچائی کو آسانی سے پکڑ لیتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ جتنا بھی وقت بچا ہے عام انتخابات میں، اتنے وقت کا ایمانداری سے استعمال کیا جائے۔ لیکن یہ شاید ہو نہیںسکتا۔ کیونکہ کام کرنے والے وزیر ہی مودی کابینہ میں نہیںہیں۔ ایک ایک شخص کے پاس دو دو تین تین محکمے ہیں۔ کابینہ ہی پوری نہیں بنی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کابینہ کا رول جمہوریہ ہندوستان میںختم ہوچکا ہے۔ افسروں کا رول سب سے اہم ہوگیا ہے اور غیر اعلانیہ طور پر امریکی حکومتی نظام ہندوستان میںلاگو ہوگیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اسی طرح سے اپوزیشن بھی الیکشن جیتنا چاہتا ہے۔ اپوزیشن اپنی کمزوریوں کو دور نہیںکرنا چاہتا اور آپس میںمذاکرات پریس کے ذریعہ کر رہا ہے۔ اس سے لوگوںکے دل میںشک پیدا ہوتا ہے کہ شاید سب کچھ ٹھیک نہیںہے اور کیا سچ مچ اپوزیشن کی حمایت کرنی چاہیے۔ سیاست کی بنیادی شرط ہے کہ سیاستدانوں کا عوام کے ساتھ بات چیت پریس کے ذریعہ نہ ہو۔ یا تو سیدھی ہو یا ان کے قابل اعتماد لوگوں کے ذریعہ ان کے پیغاموں کا تبادلہ ہو۔ لیکن آج کے لیڈر، کسی بھی پارٹی کے ہوں، خاص طور سے اپوزیشن کے، اس حقیقت کو بھول گئے ہیں۔ اسی لیے جب مایاوتی کا یہ بیان آیا کہ اگر ہمیںقابل قدر سیٹیںنہیںملیں تو ہم اتر پردیش میںاکیلے الیکشن لڑیں گے۔ اس پیغام نے اپوزیشن کی سیاست کرنے والوں کے دل میںتھوڑا ڈر پیدا کردیا۔ اچھا ہوتا مایاوتی، اکھلیش یادو کے پاس اپنامیسنجر بھیج دیتیں یا اکھلیش یادو سے ہی فون پر بات کرلیتیں تو اس بیان کی ضرورت نہیںپڑتی۔ اس بیان نے ایک طرف بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے حامیوں میںتشویش پیدا کردی اور دوسری طرف حکمراں پارٹی کے پالیسی سازوں کو یہ بھروسہ دے دیا کہ اپوزیشن اتحاد اگر ہوتا بھی ہے تو بہت آسانی سے توڑا جاسکتا ہے۔ اس پیغام کو نیوز چینلوں نے لپک لیا۔
ایک طرف بی جے پی تقریباً سارے انتخاب ہار گئی، ایک کو چھوڑ کر۔ لیکن بجائے اس کا تجزیہ کرنے کے، نیوز اینکرز اس بات پر لگ گئے کہ اپوزیشن اتحاد ہو ہی نہیںسکتا اور ہوگا تو اپوزیشن اتحاد کا چہرہ کون ہوگا یا ساری پارٹیاں متحد کیسے رہیںگی؟ اس فارمولہ کو بی جے پی کے ترجمانوں نے بھی لپک لیا۔ ایسا لگتا ہے جیسے بی جے پی کی ہار ہندوستان کی نام نہاد نیشنل نیوز چینلوں کو بہت بری لگی ہے اور انھوںنے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپوزیشن اتحاد کے تضاد کو جتنا ہوسکے، اتنا ابھاریںگے اور اپوزیشن اتحاد نہیں ہونے دیںگے۔
عوام نے بی جے پی اور اپوزیشن، دونوںکو پیغام دیا ہے کہ اگر ان کی خواہشات کے ساتھ کھیل کھیلنے کی کوئی کوشش کرے گا تو اس کا مناسب جواب دیںگے۔ اب میری سمجھ میںیہ نہیںآتا کہ بی جے پی کے صدر کیا بیان دیتے ہیں۔ انھوں نے بہار میںبھی جملہ اچھالا تھا کہ اگر نتیش کمار جیت گئے تو لاہور میںبم اور پٹاخے چلیںگے۔ انھوں نے کرناٹک الیکشن میںبھی یہی کہا کہ اگر کانگریس جیت گئی تو پاکستان میںخوشیاں منائی جائیںگی۔ ہم لگاتار پاکستان کی ویب سائٹ اور نیوز چینلوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ہمیںتو کرناٹک اور بہار میںبی جے پی کی ہار کے بعد پاکستان میں کہیںبھی ڈھول نگاڑے بجتے نہیںدکھائی دیے۔ تب کیا سوچ کر پاکستان کو ہندوستانی الیکشن میںگھسیٹنے کی ضرورت امت شاہ کو پڑ گئی۔
کیرانہ کے ضمنی انتخاب میںبھی بی جے پی نے جناح کو ہتھیار بنانے کی کوشش کی اور الیکشن کو فرقہ وارانہ موڑ دینے کی کوشش کی ۔اپوزیشن نے اسے جناح بنام گنّا بنا دیا۔ میںبی جے پی اور اپوزیشن کے لیے بھی ایک اشارہ مانتا ہوں کہ انھیں سمجھنا چاہیے کہ ملک کا کسان کتنا غصے میںہے اور شاید 2019 کے الیکشن میںکسانوںکا غصہ ، کسانوںکی خود کشی، کسانوںکو فصل کے دام نہ ملنا اور کسان کا مذاق اڑانا ،انتخابی نتائج کو کافی متاثر کرے گا۔ کسانوںکا ایک بڑا طبقہ یہ سمجھ چکا ہے کہ اسے الیکشن کے موقع پر ذات، مذہب ، فرقہ میںبانٹنے کی کوشش ہوتی ہے۔ اسی لیے جو کامیاب ہوتے ہیں، وہ کسانوں کے مسائل کو بھول جاتے ہیں کیونکہ انھیںپتہ ہوتاہے کہ کسان اپنے سوالوںپر کبھی کھڑا نہیںرہ سکتا۔ لیکن ضمنی انتخابات کے نتیجے بتاتے ہیںکہ کسان چاہے تو اپنے مدعوںکے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے۔ کسان تنظیموں کے لیے بھی ایک سیکھ ہے کہ اگر وہ الیکشن میںذات، مذہب اور فرقہ میںبنٹتے ہیں اور کسانوںکے سوالوں کو نہیںاٹھاتے ہیںتو وہ بھی کسان قیادت سے دور چلے جائیںگے۔ پھر وہ بھلے ہی خود کو کسان لیڈر کہیں، کسان انھیںاپنا لیڈر نہیںمانے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ملک کے میڈیا ،خاص طور سے نیوز چینل کوئی سیکھ نہیںلیںگے۔ نیوز چینلوں کی دلی خواہش ہے کہ بی جے پی کی یا وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت ابد تک، کم سے کم اگلے بیس سالوںتک چلتی رہے۔ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے وہ دلیل جٹاتے دکھائی دیںگے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج نے بہت سے چہروںکی ہنسی چھین لی ہے۔ مسکرا تو رہے ہیں، لیکن تناؤ کے ساتھ۔ اس میںمرد و خاتون اینکر، دونوںشامل ہیں۔ انھیںیہ مغالطہ ہوگیا ہے کہ وہ صحافی ہیں۔ ان کے پاس سوال نہیں ہیں لیکن ان کے پاس لہجہ ہے دلیل ہے۔ ایسی دلیل جو بی جے پی کی ہار کو جیت میںبدلنے کے لیے لوگوں کے دل کو متاثر کرسکے۔ہمارا مطلب بی جے پی سے زیادہ اس لیے ہے کیونکہ بی جے پی کی پالیسیاں، کام کرنے کا طریقہ ملک کے عوام کو سیدھا متاثر کرتا ہے۔
آج ملک میںپیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کو لے کر ملک کے عوام کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ انتہا تو یہ ہے کہ پہلے قیمت میںایک پیسے کی کمی کی گئی اور شور مچنے کے بعد پانچ یا سات پیسے کی کمی کی گئی۔ پیٹرولیم وزیر کا بیان آیا کہ سرکاری افسر کی غلطی سے ایسا ہوا۔ مجھے لگتا ہے کہ بی جے پی اس چیز سے بے خبر ہے کہ اسے اس طرح کی چہ میگوئیوں سے بڑا نقصان ہونے والا ہے۔ وزیر اعظم مودی ان سارے سوالوں پر کچھ کہنے کی حالت میںہیں یا نہیں، مجھے نہیں پتہ۔ لیکن ابھی تک انھوںنے کچھ کہا نہیںہے۔ اس لیے ماننا چاہیے کہ وہ کچھ کہنا نہیں چاہتے۔ ایسے میںاپوزیشن کا کیا فائدہ ہوگا، میںنہیں جانتا۔ لیکن حکمراں پارٹی کا نقصان ہوسکتا ہے۔ آنے والا وقت سیدھے الیکشن کی تیاری کا وقت ہے۔ تب ہم دیکھیںگے کہ حکمراںفریق کی دلیل اور اپوزیشن کا جواب، سننے لائق نہیں ہوگا ، سرپیٹنے لائق ہوگا۔ کیونکہ کوئی بھی مدعوں پر بات نہیں کرے گا یا مدعوں کا حل نہیںنکالے گا بلکہ لوگوںکو کیسے اپنے لفظوںکے جال میںپھنسا کر اصلی مدعوں سے دور رکھا جاسکے،اس کی کوشش ہوگی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *