آخر کیوں نہیں رک رہا ہے ماب لانچنگ کا لامتناہی سلسلہ ؟

یہ کیسی عجب بات ہے کہ نریندر مودی کی مرکز میں مضبوط و مستحکم اور ان ہی کی پارٹی کی چند ریاستوں کی سرکاروں کے راج میںآخر ماب لنچنگ کا لامتناہی سلسلہ کیوں نہیںرک رہا ہے؟ ایک بار پھر ملک میںماب لنچنگ کا خوف و ہراس دیکھا جارہا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق، جھارکھنڈ میںجانور چوری کے شک میں دو افراد کو پیٹ پیٹ کر ماب کے ذریعہ قتل کردیا گیا۔ مہاراشٹر کے اورنگ آباد میںواٹس ایپ پر فرضی میسج کے ذریعہ افواہ پھیلائی گئی ، مشتعل ماب نے دو افراد کو پیٹ پیٹ کر وہاں بھی موت کے گھاٹ اتاردیا۔ اسی طرح گجرات کے سورت میں گائے کا بچھڑا لے جارہے مسلم نوجوان کی زبردست پٹائی کی گئی۔ عیاںرہے کہ جھارکھنڈ اور گجرات میںبی جے پی کی اور مہاراشٹر میںاس کی اور شیو سینا کی مخلوط حکومتیں قائم ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ، جھارکھنڈ کے گوڈا ضلع میںمشتعل گاؤں والوں کے ذریعے جانوروں کی چوری کے شبہ میںدو افراد کو پیٹ پیٹ کر مارڈالنے کا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ دراصل دللو گاؤںکے رہنے والے 35 سالہ سہراب الدین انصاری اور 30 سالہ مرتضیٰ انصاری کی ماب نے اتنی زبردست پٹائی کی کہ دونوںکی جائے وقوع پر ہی مو ت ہوگئی۔ گاؤں والوں نے دونوں پر بھینس چرانے کا الزام لگایا تھا۔ گوڈا ضلع کے ایس پی راجیو کمار سنگھ کے مطابق، گاؤں والو ںکا دعویٰ ہے کہ انھوںنے چوری کی بھینسوں کو ان دونوںکے یہاںسے برآمد کیا۔ اس تعلق سے پولیس نے چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس علاقے میں یہ پہلا واقعہ نہیںہے۔ اس سے قبل بھی جانوروں کی چوری کا معاملہ تھانے میںدرج ہوچکا ہے۔ جہاںتک تازہ معاملہ کا سوال ہے،اس پورے معاملے میںاب تک دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ پہلا کیس ماب کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر قتل اور دوسرا کیس جانورچوری کا درج کیا گیا ہے جس کی جانچ جاری ہے۔
اسی طرح مہاراشٹر کے اورنگ آباد میںبھی دو افراد کا پیٹ پیٹ کر قتل کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ اورنگ آباد میںواٹس ایپ پر فرضی میسج کے ذریعہ پہلے جانور کے قتل کی افواہ پھیلائی گئی جس کے بعد مشتعل ماب نے دو افراد کا پیٹ پیٹ کر قتل کردیا۔مارپیٹ میںسات افراد کے زخمی ہونے کی بھی خبر ہے۔ پولیس کا موقف ہے کہ 1500 لوگوں نے ایک ساتھ 9 افراد پر حملہ کردیا۔ ماب کی پٹائی میںدو افراد کی جائے وقوع پر ہی موت ہوگئی۔ یہ واقعہ 8 جون کا ہے۔ پولیس نے اپنی روایت کے مطابق 400 افراد کے خلاف قتل اور قتل کی کوشش کا کیس درج کیا ہے۔ ویسے یہاںابھی تک کوئی گرفتاری نہیںکی گئی ہے۔

 

 

 

 

 

نریندر مودی کے گجرات کے سورت ضلع میں12 جون کو کچھ لوگو ں نے ایک مسلم نوجوان کی خوب پٹائی کی۔ مارپیٹ کے دوران وجہ بنے دو بچھڑے، جنھیںوہ وین میںلے جارہے تھے۔ پٹائی کرنے والے افراد مبینہ طور پر گایوں اور بچھڑوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ متاثرہ نوجوان کی شکایت پر پولیس نے چار افراد کے خلاف معاملہ درج کر لیا۔ متاثر نوجوان کی شناخت ولساڑ شہر کے مونا تائیوان کے رہائشی محب ابوبکر کے طور پر ہوئی۔ شکایت کے مطابق، 12 جون کو اشرولی گاؤں مہوا تعلقہ سے 6 بچھڑوںکو وین میںلے جایا جارہاتھا۔ آگے مہوا مردولی روڈ پر پٹرول پمپ کے پاس اسے 4 نوجوان ملے۔ وین کی روشنی میںان چاروںکے ہاتھوں میںڈنڈوں کو دیکھ کر محب نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن بھاگنے میںوہ کامیاب نہیںہوسکا۔ بعد ازاں چارو ں نامعلوم افراد نے اسے پکڑا اور جم کر ڈنڈوںسے پٹائی کرنے لگے۔ خیر کسی صورت سے جان بچاکر وہ بھاگااور پھر سورت کے نیو ہاسپٹل پہنچا۔ یہیںپولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 323,324اور دفعہ 114 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جائے وقوع سے متاثرہ کی گاڑی تو برآمد کر لی گئی ہے مگر بچھڑے کا کوئی پتہ نہیں کہ آخر وہ کہاں گیا؟
سوال یہ ہے کہ آخر پی ایم مودی کے ذریعہ متعدد بار تنبیہ کرنے پر بھی گئو رکشا کے نام پر بے قصور مسلمانوں و دیگر کمزور طبقات کی مسلسل ماب لنچنگ کیوںکی جارہی ہے؟ اور وہ بھی یہ لنچنگ ان ہی ریاستوں میںزیادہ ہو رہی ہے جو کہ بی جے پی کی حکمرانی میںہیں۔ ماضی میںایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت ہندسے اسے فوری طور پر روکنے کے لیے کہا ہے۔
حیرت تو اس بات پر ہے کہ سابق صدر پرنب مکھرجی نے 7 جون کو آر ایس ایس کے ناگپور میںواقع ہیڈکوارٹر میںجاکر تقریر کی اور وہاں ملک میںپھیلی ہوئی عدم رواداری اور عدم تنوع کا تو ذکر کیا لیکن انھوںنے ماب لنچنگ کے لامتناہی سلسلے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کہا جبکہ جو افراد یہ گھناؤنا کام انجام دے رہے ہیں، وہ اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جنھیںسنگھ پریوار کہا جاتا ہے۔ ایک ایسی شخصیت جو صدر جمہوریہ ہند کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز رہ چکی ہے، کی یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ رواداری پر بولتے وقت لنچنگ کی کھل کر مذمت کرتے۔
آخر لنچنگ کے یہ وہ واقعات ہیںجن سے متنفر ہوکر مہاراشٹر کے سابق سپرکاپ جولیو ریبیرو اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ناول نگار ارون دھتی رائے نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور اقلیتوں کے خلاف اس طرح کے برتاؤ کو فوری طور پر روکنے کو کہا ہے تاکہ ہندوستان کے کمزور طبقات بشمول اقلیتوں کا تحفظ ہوسکے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *