حب الوطنی کے نام پر فوج کی تنگ حالی کیوں؟

ملک کی فوج کیا واقعی فوجی سازو سامان اور ہتھیاروں کے بحران سے جوجھ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان دنوں تیزی سے ایک خبر وائرل ہو رہی ہے کہ ہماری فوج کے جوانوںکو اب اپنی وردی اور جوتے بھی اپنے پیسوںسے خریدنے ہوں گے فوج کی اس تنگ حالی پر کیاکوئی دکھی ہوگا؟ سچائی یہ ہے کہ فوج کے پاس گولہ بارود کی بھاری کمی ہے۔ مرکزی سرکار نے گولہ بارود اور سازو سامان کی ہنگامی خریداری کے لیے کوئی اضافی فنڈ نہیںدیا ہے۔ اس وجہ سے فوج کے سامنے یہ بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ فوج نے اس بحران سے نمٹنے کا جو توڑ نکالا ہے، وہ بھی کم چونکانے والا نہیںہے۔ فوج اب سرکاری آرڈیننس فیکٹریوںسے ہونے والی سپلائی گھٹائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آرڈیننس فیکٹریوںکا 94 فیصد سامان فوج ہی خریدتی ہے۔ اب اس خریداری کو گھٹاکر فوج 50 فیصدپر لائے گی۔ اس تخفیف کا سیدھا اثر یہ ہوگا کہ فوجیوں کو ملنے والی وردی ، جوتے، بیلٹ اور کامبیٹ ڈریس کی فوج میں کمی ہوجائے گی۔
فوج میں یونیفارم اور جوتوںکی اس کمی کی وجہ جوانوں کی یہ مجبوری ہوگی کہ وہ اپنی وردی اور جوتے اپنے خرچے پر کھلے باززارسے خریدیں۔ یہی نہیں فوج کی تمام گاڑیوںکے پرزوںکی سپلائی بھی کم ہو جائے گی، جس کا اثر فوج کے موومنٹ پر پڑے گا۔ پچاس سال قبل دنیا کے عظیم انقلابی چے گویرا نے کہا تھا کہ سپاہی کے لیے سب سے اہم جوتا ہے، نہیںتو وہ پکڑا جائے گا۔ ہماری فوج کے جوتوں کی کوالٹی سے سمجھوتہ ہو رہا ہے۔ کہا یہ جارہا ہے کہ مارچ 2018 میںفوج نے آرڈیننس فیکٹریوں سے ہونے والی خرید کو 11 ہزار کروڑ روپے سے گھٹاکر 8 ہزار کروڑ روپے کر دیا ہے۔ ا س بچی ہوئی رقم کا استعمال فوج گولہ بارود اور دیگر ساز و سامان خریدنے کے لیے کرے گی۔

 

 

 

 

گزشتہ دنوں وزارت دفاع کی پارلیمانی کمیٹی نے بھی فوج میںگولہ بارود کی کمی کے بارے میںکچھ ایسے خلاصے کیے تھے،جس سے پورا ملک سکتہ میںآگیا تھا۔ کمیٹی نے یہ بھی خلاصہ کیا تھا کہ ہندوستانی افواج کے پاس مکمل جنگ ہونے کی صورت میں10 دن سے زیادہ کا گولہ بارود کا اسٹاک نہیںہے جبکہ عام حالات میں 40 دنوںکا اسٹاک رہنا چاہیے۔ منموہن سنگھ کے زمانے میں اس دور کے فوجی سربراہ نے انھیں خط لکھا تھاکہ فوج کے پاس محض دس دن لڑنے لائق گولہ بارود ہے۔ وہ خط لیک ہوگیا تھا۔ آج اتنے سالوں بعد بھی ہمارے پاس صرف دس دنوں تک لڑنے لائق گولہ بارود ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل شرد چند کا کہنا ہے کہ فوج کے ماڈرنائزیشن کے لیے جو 21388 کروڑ روپے کا بجٹ الاٹ کیا گیا ہے، وہ بالکل ہی ناکافی ہے۔ اس بجٹ سے فوج کا ماڈرنائزیشن تو بہت دور، فوج کے ابھی چل رہے 125 پروجیکٹس کو پورا کر پانا بھی ناممکن ہے۔ فوج کے جو پروجیکٹ چل رہے ہیں، ان میںمیک ان انڈیاپروگرام کے تحت جدید بکتر بند گاڑیوں کے بنانے سمیت 24 دیگر پروجیکٹس بھی شامل ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ فوج کے لیے الاٹ 2018-19 کے بجٹ میںپچھلے سال کے مقابلے صرف 7.81 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔
پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ میںیہ بھی خلاصہ ہوا ہے کہ ہندوستانی افواج کے پاس جو ہتھیار ہیں، ان میںسے 68فیصد ہتھیار آؤٹ ڈیٹیڈ تکنیک والے ہیں، جبکہ پرانی ٹیکنالوجی کے ہتھیاروں کا اوسط 33 فیصد سے زیادہ نہیںہونا چاہیے۔ اب آپ خود سوچ سکتے ہیںکہ اتنے پرانے اورگھسے پٹے ہتھیاروں کے دم پر ہندوستانی افواج آپ کی کتنی اور کیسے حفاظت کرے گی؟سچائی یہ ہے کہ فوج کے پاس گولہ بارود کی کمی ہمارے سیاسی بڑبولے پن کو ہی ننگا کرتی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیںکہ فوج کے پاس 40 فیصد گولہ بارود کی کمی ہے۔ بری فوج کے پاس جنگ کے لیے بے حد ضروری 152 ہتھیاروں میں سے 61 کی بھاری کمی ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان اس وقت دنیا کا سب سے بڑا درآمد کرنے والا ملک ہے۔انٹر نیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ – اسٹاک ہوم کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میںبیچے جارہے ہتھیاروں میںسے 13 فیصد کا خریدار اکیلا ہندوستان ہے۔
حالانکہ ہتھیاروں اور گولہ بارود کی اس کمی کو دیکھتے ہوئے مودی سرکار نے ڈیفنس بجٹ کو بڑھا کر کل بجٹ کا 17 فیصد یعنی 3.60 لاکھ کروڑ کردیا ہے۔ پھر بھی دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ الاٹ بجٹ فوج کی حقیقی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ابھی بھی ناکافی ہے۔ دفاعی معاملات کی پارلیمانی کمیٹی کی دسمبر 2017 میں جاری رپورٹ میںبھی کہا گیا ہے کہ فوج کے لیے متوقع 1.96 لاکھ کروڑ کے کیپٹل ایکسپنڈیچر بجٹ کے محض 86 ہزار کروڑ کا الاٹمنٹ ہماری دفاعی تیاریوں کے لحاظ سے اونٹ کے منہ میںزیرا ثابت ہوگا۔ ا س کا سیدھا اثر میک ان انڈیا کے تحت ہونے والی دفاعی پیداوار پر پڑے گا۔اب تو سرکار کی وزارت داخلہ بھی مانتی ہے کہ ملک کی مغربی سرحد پر سیکورٹی کا بحران بڑھا ہے۔ سرحد پار سے انسپائرڈ دہشت گردی کے واقعات میںلگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ 2017میںپاکستان کی سرحد پر سیز فائر کی خلاف ورزی کی 860واقعات ہوئے ہیں۔ جنوری 2018 میںہی پاک فوج نے 124 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر میںدہشت گردانہ تشدد کے واقعات میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سال 2016 میںجہاں 267 لوگ دہشت گردی کی وارداتوں میںمارے گئے تھے، وہیں2017 میں347لوگ اس تشدد کا شکار ہوئے۔

 

 

 

 

اس میںکوئی دو ر ائے نہیں ہے کہ اس وق ہندوستانی افواج کی جنگی صلاحیت بے حد قابل رحم حالت میںہے۔ فوج کے پاس بکتر بند گاڑیوں، جدید ٹینکوں، ایڈوانس تکنیک والی رائفلوں کے علاوہ لڑاکو طیاروں، جنگی جہازوں اور جوہری پنڈبیوں کی بھی بھاری کمی ہے۔ لیکن سرکار نے فوج کے ماڈرنائزیشن کے لیے جو رقم الاٹ کی ہے،وہ سابق فوجیوں کو دی جانے والی سالانہ پنشن رقم سے بھی کم ہے۔ غور طلب ہے کہ ہندوستان کے روایتی حریف چین اور پاکستان جہاں اپنی جی ڈی پی کا دو فیصد سے زیادہ بجٹ فوج پر خرچ کرتے ہیں، وہیں ہمارے یہاںیہ رقم ملک کی جی ڈی پی کا صرف 1.58 فیصد ہی ہے۔ جو پچھلے پچاس سال میں سب سے کم ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے ملک کے اندر ڈی آر ڈی او کے ذریعہ تیاردفاعی مصنوعات کی کوالٹی کو لے کر بھی سوال کھڑے کیے ہیں۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ پچاس سال کے کاروباری تجربہ کے باوجود ہماری دفاعی اکائیوں کے ذریعہ بنائے جارہے ہتھیار عالمی معیار کے نہیںہیں۔ ہندوستانی آرڈیننس کارخانوںمیںبنی اسالٹ رائفل گزشتہ سال فوج کے ٹیسٹ میںکھری نہیں اتری۔ فوج میںرائفلوں کی کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب 3 جوانو ںکے بیچ میںاوسطاً ایک اسالٹ رائفل ہے اور اسی اسے انھیںدشمنوںکا مقابلہ کرنا ہے۔ ارجن ٹینک اور ایچ اے ایل میں بنے ہلکے لڑاکو ایئر کرافٹ تیجس کو بھی دنیا کے دوسرے ممالک کے برابر مصنوعات کے کمزور آنکا گیا ہے۔ رہی با ت برہموس میزائل کی تو اس کے 65 فیصد پرزے روس سے امپورٹ ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہماری حفاظتی تیاریوںکا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں چین میںفی ایک ہزار کی آبادی کے لیے اوسطاً 2.23 فوجی ہیں، پاکستان کے پاس 4.25 فوجیوں کی دستیابی ہے،وہیں ہندوستان میںیہ اوسط 1.25 ہی ہے۔ اس سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیسی تنگ حال فوج کے ہاتھوں میںملک کی حفاظت کی ذمہ داری ہے۔ آخر یہ حالت کیسے ہوگئی جبکہ دیش بھکتی کا نعرہ لگانے والے لوگ فیصلے لے رہے ہیں۔ ان میں کوئی تو غدار ہے جو دیش بھکتی کے نام پر مہان دیش دروہی کا کام کر رہا ہے۔ یعنی ہندوستانی افواج کو شاندار کی جگہ قابل رحم اور کمزور بنا رہا ہے۔ تکنیکی اور کمزور کوالٹی سے فوج کے سپاہیوںکی شہادت بڑھاتی ہے۔ اپوزیشن خاموش ہے، ٹیلی ویژن کی بحثیں ایسے موضوع کو نہیں اٹھاتیں ۔ دیش بھکتی کی آڑ میںدیش دروہ کا کھلا کھیل چل رہا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *