مشروط جنگ بندی کا انجام کیا ہوگا؟

رمضان کے مقدس مہینے سے دو دن قبل مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ایک حیرت انگیز اعلان کیا۔ انھوںنے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے مطلع کیا کہ جموں و کشمیر میں سرکاری فورسیز کو دہشت گردوںکے خلاف مہم روکنے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ یقینی کیا گیا کہ روزے کا مہینہ پُرامن رہے۔ ایک طرح سے یہ ایک فریقی لیکن مشروط جنگ بندی تھی، جس کے بارے میں پہلے سے ہی چرچا چل رہی تھی۔ وزیر اعظم نریندرمودی کے جموں و کشمیر کے دورے سے صرف چار دن پہلے اس کا اعلان بھی ہوا تھا۔
غیر متوقع اعلان
گزشتہ چار سالوںسے کشمیر میںسخت رخ اور طاقت کے استعمال کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ غیر متوقع تھا۔ یہاں تک کہ آل پارٹی میٹنگ میں مین اسٹریم پارٹیوں نے 9اپریل کو جنگ بندی کے لیے متفقہ طور پر پیش کش کی تھی۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اس رعایت کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں تاکہ رمضان اور آنے والی امرناتھ یاترا دونوںامن کے ساتھ گزر سکیں۔ حالانکہ جس طرح سے ان کی اقتدار کی ساتھی بی جے پی اور یہاںتک کہ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے اسے خارج کردیا تھا، اس سے اس تعلق سے امید کم ہی رہ گئی تھی۔ پی ڈی پی اور بی جے پی ، دونوںافسپا ، حریت اور پاکستان کے ساتھ بات چیت جیسے مدعوں پر الگ رائے رکھتے ہیں جبکہ ایجنڈا آف الائنز میںیہ مدعے شامل ہیں۔
تمام شبہات کے باوجود جنگ بندی کا اعلان،ان عام لوگوںکے لیے امید کی کرن کے طور پر آیا ہے جو تشدد سے لگاتار متا ثر ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں میں ملی ٹینٹ کی طرف متوجہ ہورہے نوجوان اور عام شہریوں کی موت سے ہونے والا نقصان بڑا ہے۔ کچھ طبقوں کا ماننا ہے کہ جس طرح سے عام کشمیری ہندوستانی ریاست کی مخالفت کر رہے ہیں،اس نے لڑائی کو ایک الگ سطح پر لادیاہے۔ کچھ معاملوں میںلوگ موتوںکا جشن منانے میںبھی شرمندگی محسوس نہیںکرتے ہیں۔ لیکن شاید یہ زیادہ لوگوںکا خیال نہیں ہے۔ جموں و کشمیر کو سنبھالنے میںدہلی کے خراب ٹریک ریکارڈ کے باوجود اس نئے قدم کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔
اس اعلان نے نہ صرف نومبر 2000 میںحزب المجاہدین کی جنگ بندی کے بعد رمضان کے دوران اس دورکے وزیر اعظم واجپئی کے ذریعہ کنبیٹ آپریشن کو روکے جانے کے واقعہ کی یادیں تازہ کردی ہیں۔ پچھلے سال مودی نے ریاست کے نوجوانوں سے کہا تھا کہ ان کے (نوجوانوں) پاس دو راستے ہیں ٹورزم اور ٹیررزم۔
نہ صرف بی جے پی بلکہ ان کے وزیر بھی (ریاستی سرکارکے) زمینی حقائق کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ جولائی 2016 میںحزب کمانڈر برہان وانی کے قتل کے بعد سیکڑوں دہشت گرد ہلاک ہوئے اور اسی کے ساتھ ملی ٹینٹ رینک میں کشمیری نوجوانوں کے شامل ہونے کا راستہ کھل گیا۔ جنوبی کشمیر دہشت گردوں کا ہاٹ بیڈ بن گیا۔ فوج کے آپریشن میں سویلین بھی مارے جانے لگے۔ تشدد کو سماجی منظوری مل گئی۔ا س سے بڑی تعداد میں نوجوان ملی ٹینٹ بننے لگے۔ یکم اپریل کے تشدد کے بعد سے ریکارڈ تعداد میں(آفیشل)35 نوجوان ملی ٹینٹ میںشامل ہوئے ہیں۔
مرکز کی جنگ بندی کو ایک حوالے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مڈبھیڑ کے مقامات پر شہریوں کی موت سے بچنے میںفوج ناکام رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر باقاعدہ اس کا سامنا کرنا نئی دہلی کے لیے بہت مشکل ہوگیا تھا۔ دہشت گردوں کو شہریوں کی طرف سے مل رہی حمایت کو دیکھتے ہوئے شاید اس سے نمٹنے کا واحد طریقہ یہی تھا۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے لیے اس کڑواہٹ سے باہر نکلنا مشکل ہو رہا ہے اور کشمیر میںمین اسٹریم پارٹیوںکے لیے تیزی سے جگہ گھٹ رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ مرکزی سرکار یہ سب ہلکے میںنہیںلے سکتی۔ محبوبہ مفتی کی مضبوطی بھی اس فیصلے کے آنے میں کام آئی۔ اس حالت میں اس قدم کی ضرورت تھی، جس میں ہلاکتیں عام بات ہوگئی تھیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

عمومی طور پر ردعمل
دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ نے اس اعلان کے کچھ ہی گھنٹوں کے اندر جنگ بندی کی تجویز کو خارج کردیااور حزب المجاہدین کی صدارت میں مشترکہ جہاد کونسل سے بھی اسی طرح کا ردعمل آیا۔ پاکستان نے ابھی تک اس مدعے پر کچھ نہیںکہا ہے ۔ حالانکہ سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کی مشترکہ مزاحمت قیادت، جوائنٹ ریسسٹنس لیڈرشپ (جے آر ایل) نے مستقل حل کی بات کرتے ہوئے اسے خارج کردیا۔ یہ ٹھیک نہیں ہے اور جواب دینے کا یہ اسٹریٹجک طریقہ صحیح نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ نئی دہلی پر بھروسہ نہیںکیا جاسکتالیکن اس معاملے میں تشدد کے وقت میں اس طرح کا جواب بھی ٹھیک نہیں ہے۔ یہ ایک امید کی کرن ہے۔ یہ آگے نہ صرف مستقل حل کے لیے راہ ہموار کرسکتا ہے بلکہ جیل سے رہائی، پبلک سیفٹی ایکٹ کے بے جا استعمال وغیرہ جیسے مدعے پر بھی بات ہو سکتی ہے۔جے آر ایل لوگوں اور ان کی خواہشوں کے تئیںذمہ دار ہے۔ اس کی اس بات پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے کہ لوگوںکی زندگی کو کیسے بچایا جائے۔
پچھلے کچھ مہینوں میں اسلام آباد اور وہاںکی فوج سے آنے والے اشارے مثبت رہے ہیں۔ 15 اپریل کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوا نے سبھی مدعوںکو حل کرنے کے لیے ہندوستا ن کے ساتھ بات چیت کی بات کی۔ 3 مئی کو جاری اپنی رپورٹ میںلندن میںواقع تھنک ٹینک رائل یونائٹیڈ سروسیز انسٹی ٹیوٹ (آر یو ایس آئی) نے کہا کہ دو کٹر حریفوںکے بیچ دو طرفہ تعلقات کی بات خوش آئند ہے اور جنرل باجوا گرم جوشی سے کہہ رہے ہیںکہ پاکستانی فوج ہندوستان کے ساتھ امن اور بات چیت چاہتی تھی۔
اس نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اس سال اگست میں’شنگھائی سہیوگ سنگٹھن‘ (ایس سی او) کے بینر کے تحت چین سمیت ہندوستان اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشق میںحصہ لے گا۔اس میںتازہ ترین حقیقت یہ ہے کہ میجر جنرل آصف غفور ، انٹر سروسیز کے ڈائریکٹرل جنرل، پبلک رلیشن (آئی ایس پی آر) ڈائریکٹوریٹ، ہندوستانی صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ تھے، جس میںانھوں نے کہا تھا کہ فوج ہندوستان کے ساتھ بات چیت کے عمل میںشامل ہونے کو تیار ہے۔ پاکستانی فوج نے ہندوستانی صحافیوں کو وزیر ستان تک پہنچنے کی اجازت بھی دی۔ اگر رپورٹوں کی مانیںتو دونوں فریقوں کے بیچ غیر رسمی چینل بھی سرگرم ہوئے ہیں۔
چاہے ان تعلقات کو ایک ساتھ جوڑ کر دیکھیں یا نہ دیکھیں، دونوں فریقوں کی طرف امن اور صلح کے لیے جگہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ پاکستان اس عمل میںایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔ نئی دہلی کو بھی علامتی اشارے سے آگے بڑھنا ہوگا سیاسی مدعے کے بارے میںبات کرنی شروع کرنی ہوگی۔ تبھی جنگ بندی کا صحیح مطلب سامنے آئے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *