آسارام کو سزا سے سبق ضعیف الاعتقادی اور توہم پرستی سے باہر نکلنا ہوگا

حال ہی میں جودھپور جیل میں قائم ایک خصوصی عدالت نے 77سالہ آسومل ہرپلانی جو کہ آسارام باپو کے نام سے مشہور ہیں کو ایک 16سالہ لڑکی کی عصمت تار تار کرنے کے جرم میں تاحیات عمر قید کی سزا سنائی تھی جوا یک بڑی سلطنت کے مالک اور زبردست سیاسی رسوخ کے حامل رہے ہیں ۔ دراصل یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب کسی دھرم گروکو جس نے اپنا مسلک بنایا ہے ، عدالت نے سزا سنائی ہو ۔ ایسے درجنوں واقعات ہیں ۔ اس کے باوجود ہندوستان میں ان’’ بابائوں ‘‘ کا اثر ورسوخ پایا جاتا ہے جو اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ملک میں توہم پرستی مضبوط ہے ۔ یہ ہندوستان کی بد قسمتی ہے کہ یہاں عوام کی اکثریت سادہ لوح اور کم علم ہے جس طرح سیاستداں ان کا آسانی سے استحصال کرتے ہیں اس سے زیادہ استحصال ’مذہبی تقدس ‘کا چولا اوڑھے یہ ’’بابا ‘‘لوگ کرتے ہیں۔
بی جے پی نے ملک کی آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑی ریاست یو پی میں ایک نام نہاد ’یوگی‘‘ کو وزیراعلی بنایا۔ اس سے پہلے مدھیہ پردیش میں ایک’’ سنیاسن ‘‘کو وزارت اعلی کی کرسی دی گئی وغیرہ۔ تاہم تازہ مثال مدھیہ پردیش کی ہے جہاں بی جے پی حکومت نے تین بابائوںکو کابینی وزیر کا درجہ فراہم کیا ہے ۔ اب اس سے بھی زیادہ افسوس اور تشویش کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ اسوقت کئی بابائوں کا بی جے پی کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں دبدبہ ہے۔ ان میں رام دیو ، شری شری روی شنکر وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔

 

 

 

 

 

اسلام کے خلاف مقدمہ
گرمیت رام رحیم کا بھی سزا ہونے سے پہلے ہریانہ کی بی جے پی حکومت پر خاصہ غلبہ تھا۔ اسی طرح آسا رام باپو کابھی اثر گجرات اور راجستھان کی حکومتوں پر تھا۔ بلاشبہ ، آسارام کو سزا سے بابائوں کے جرائم کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ جس کے جرائم اتنے ہیں کہ اس پر ایک دفتر تیار ہوجائے گا۔ جس معاملہ میں آسارام کو آٹھ سال کے بعد سزاہوئی ہے، وہ یو پی کے شاہجہان پور کی رہنے والی ایک 16سالہ لڑکی کی عصمت دری کا معاملہ تھا۔ اس نے 2013 میں پولیس میں ایک شکایت درج کی تھی جب وہ اپنی ماں کے ساتھ جودھپور کے منی گائوں میں واقع آسارام کے آشرم پر رہ رہی تھی ۔ لڑکی کے والدین نے کا کہنا تھا کہ وہ دس سال سے زیادہ عرصہ سے آسارام کے عقیدت مند تھے لیکن آسارام نے ہماری لڑکی کے ساتھ یہ ذلیل حرکت کرکے ثابت کردیا کہ وہ شیطان ہیں۔
آسارام پر بچوں کے جنسی زیادتی سے تحفظ کے قانون کی مختلف دفعات تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا ۔ لیکن اس مقدمہ کا سب سے نمایاں اور حوصلہ افزاء پہلو یہ رہا کہ مظلومہ اور اس کے والدین زبردست دبائو، لالچ نیز جان سے مار دینے کی دھمکیوں کے باوجود ثابت قدمی سے اپنے موقف پر قائم رہے اور مقدمہ کو منطقی انجام تک پہنچایا۔
آسارام کا مقدمہ بھی گرمیت رام رحیم اور رام پال جیسے بابائوں سے سادہ لوح لوگوں کی اندھی عقیدت کو اجاگر کرتا ہے جو زبردست اثر و رسوخ کے حامل ہوتے ہیں اور اپنے لاکھوں عقیدت مندوں کو اپنے اشاروں پر نچاتے ہیں ، ٹیکس کی چھوٹ کا فائدہ اٹھاکر بے حساب دولت جمع کرتے ہیں اور سیاستدانوں سے مراعات اور فائدے حاصل کرتے ہیں ۔ آسارام کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے کہ رام رحیم کی طرح ان کے بھی بی جے پی کے لیڈروں بالخصوص موجودہ وزیر اعظم نرنیدرمودی نیز گجرات کے بعض افسران ( ان میں فرضی انکائونٹروں میں ملوث رہے پولیس افسر دی ونجارا شامل ہیں) پر زبردست اثرات ہیں۔ یہی وجہ ہے جب آسارام کو گرفتار کیا گیا تھا تو اس نے کانگریس قیادت کو اپنی گرفتاری کے لئے نشانہ بنایا تھا۔
توہم پرستی اصل وجہ
بلاشبہ توہم پرستی کے سبب ہندوستان کی سیاست پر ان بابائوں کا خاصا اثر ہے ۔ ان میں دھریندر برہما چاری،بابا رام دیو، چندرا سوامی، سوامی نتیانند ، ستیہ سائی بابا اور گرمیت رام رحیم کے نام نمایاں ہیں ۔ ایک اور نام نرمل بابا کا ہے ۔ ایک زمانہ میں اچاریہ رجنیش کا بڑا غلغلہ تھا جن کا مسلک ’’اوشو‘‘ کے نام سے مشہور ہوا ہے اور آج بھی پونا شہر میں ان کا آشرم ہے ۔ اوشو کے رابطہ عامہ کے افسر نے ایک روز راقم کو اوشو کے فلسفہ کے بارے میں بتایا تھا کہ ’’ دماغ میں شہوانی خیالا ت کے بھرے رہنے کی وجہ سے گندی پھیلی ہوتی ہے، اس لئے ہم یہاں اس کے نکاس کا راستہ مہیا کرتے ہیں جہاں مرد اور عورت کو قدرتی لباس میں رہنے اور کسی سے بھی جسمانی تعلق بنانے کی آزادی ہوتی ہے۔‘‘
بابا رام دیو کا پس منظر بھی کوئی اچھا نہیں ہے جو بی جے پی کو اقتدار میں لانے کے لئے پیش پیش تھے جن کی طرف اپنے گرو شنکردیو کے قتل کی شک کی سوئیاں اٹھتی ہیں ۔ آج وہ ‘ شنکر دیو کے قائم کردہ ٹرسٹ پتانجلی کے مالک ہیں۔ بی جے پی کے بر سر اقتدار آنے اور نریندر مودی سے قربت کی بنا پر ان کا ستارہ اتنا بلندہوگیاہے کہ ہر چینل اور اخبار میں ان کا ہی چہرہ نظر آتا ہے ۔ واقعی رام دیو کے ’’اچھے دن‘‘ آگئے ہیں جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ اسی طرح موجودہ حکومت میں روی شنکر کا ستارہ بھی بہت بلند ہے جنہوں نے دہلی میں دریائے جمنا کے کنارے ایک پروگرام منعقد کرکے اس کے ماحولیات کو سخت نقصان پہنچایا تھا۔ اس یک پاداش میں گرین ٹریبیونل نے ان پر 40 کروڑ کا جرمانہ بھی عائید کیا لیکن روی شنکر نے اسے ابھی تک ادا نہیں کیا۔
اسی طرح ہریانہ میں گرمیت کے ڈیرا سچا سودا کا بڑا اثر ہے جس نے یہاں بی جے پی کی کامیابی میںاہم رول ادا کیا تھا ۔ اسی لئے ہریانہ کی بی جے پی حکومت گرمیت رام رحیم پربڑی مہربان تھی ، حتی کہ خود وزیر اعظم نے بھی اس’ بابا‘ کی بڑی تعریف کی تھی ۔گزشتہ سال اگست میں گرمیت کو عصمت دری کے ایک پرانے مقدمہ میں ایک عدالت نے 20 سال قید کی سزا سنائی تھی ۔ حکومت نے اسے بچانے کی پوری کوشش کی تھی ۔ اس سزا کے خلاف گرمیت کے حامیوں نے ہریانہ میں زبردست تشدد برپا کیا تھا جس میں 38 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے ۔
آسارام باپو کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ گجرات میں بی جے پی کی مدد کیا کرتے تھے۔ وہ کتنے طاقتور اور مالدار انسان ہیں، اس کا اندازہ آشرم کی ویب سائٹ سے ہوجاتا ہے۔ اس کے مطابق آسارام کے دنیا بھر میں 400 سے زائد آشرم ہیں۔ دراصل یہ آشرام اور بابائوں کے ادارے منی لانڈرنگ یعنی کالے دھن کو جائز مال بنانے کی مشینیں ہیں۔ وہ اور ان کے بیٹے نارائن سائی دونوں پر عصمت دری کے ایک اور معاملہ چل رہا ہے ۔ عصمت دری کا یہ الزام دو بہنوں نے لگایا ہے جو ان کے گجرات آشرم میں رہتی تھیں۔ تاہم آسارام کے عقیدت مند ان الزامات کو ہند و تہذیب اور دھرم پر حملہ قرار دے کر انہیں بچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔آسارام کو سزا دلانے کا معاملہ اتنا آسان نہیں تھا ۔ واقعات کی سلسلہ وار تفصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مقدمہ لڑنا کتنا مشکل کام تھا :

 

 

 

 

 

٭ 15 اگست 2013 کو مبینہ جنسی زیادتی کا معاملہ سامنے آیا۔
٭ 20 اگست کولڑکی کے والدین نے دہلی میں اس معاملہ کی شکایت درج کی ۔بعدازاں اس شکایت کو جودھپور میں منتقل کردیا گیا ۔
٭ 23 اگست کو آسارام کے حامیوں نے کملا مارکیٹ پولیس اسٹیشن پر حملہ کردیا۔
٭ لڑکی کے والد نے آسارام کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا جبکہ آسارام کے بیٹے نے نابالغ لڑکی کو ذہنی طور پر غیر متوازن قرار دیا۔
٭29 اگست کو آسارام نے اپنے بچائو کے لئے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور ان کے بیٹے راہل گاندھی کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔
٭آسارام گرفتاری سے بچنے کے لئے چھپتے رہے اوران کے بیٹے نے کہا کہ ان کے والد چھپ نہیں رہے ہیں بلکہ وہ سخت صدمہ میں مبتلا ہیں اور جیسے ہی ٹھیک ہوں گے پولیس کو خودسپرد گی دیں گے ۔
٭31, اگست کو جودھپور پولیس نے آسارام کو گرفتار کیا اور عدالت انہیں جیل بھیج دیا ۔ ان کے حامیوں نے عدالت کے حکم کے خلاف ہنگامہ آرائی کی ۔
٭نومبر 2013 میں جودھپور پولیس نے آسارام اور دیگر چار ملزموں کے خلاف چارج شیٹ دائر کی ۔
٭ مقدمہ پر سماعت کا آغاز سال 2014 کی ابتداء میں ہوا ۔ سماعت کے دوران ایک مرتبہ آسارام کے وکیل رام جیٹھ ملانی نے یہ مضحکہ خیز دلیل پیش کی کہ ایک پرانی بیماری کے تحت ’’مظلومہ کو مردوں کے پاس جانے کی عادت ہے۔‘‘
٭ فرور ی 2015 کو ایک گواہ راہل سچان کو مقامی عدالت کے باہر چاقو مار کر ہلاک کردیا گیا جو اپنا بیان دینے والے تھے۔
٭امسال 8 جولائی ایک دوسری گواہ سدھا پاٹھک مکر گئیں اور کہا کہ وہ آسارام کی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتیں۔
٭ اس کے چار دن کے بعد ایک اہم گواہ کرپال سنگھ کو موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے شاہجہان پور میں گولیاں ماریں۔
٭ 7 اپریل 2018 کومقدمہ کی آخری سماعت جودھپور جیل میں واقع ایس سی ، ایس ٹی کیسیس کی خصوصی عدالت میں مکمل ہوئی ۔
٭ 25 اپریل کو جج مدھو سدن شرما نے عدالت کی جانب سے آسارام کو مجرم قرار دیا اور انہیں تاحیات سزائے قید سنائی۔
آسارام کا اصل نام آسومل ہرپلانی ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے سندھ صوبہ سے
اجمیر میں آبسے اور وہاں تانگہ چلایا کرتے تھے۔ وہ ستمبر 2013 سے جیل میں ہیں اور انہوں نے ایک درجن سے زیادہ دفعہ ضمانت کے لئے درخواست دی تھی مگرعدالت نے اسے مسترد کردیا تھا۔ اس دوران مظلوم لڑکی اور اس کے والد اور گواہوں پر دھونس اور لالچ کے تمام حربے استعمال کئے گے ۔ ان کی ثابت قدمی اور جج موصوف کی جرات کے باعث ہی آسارام کو سزا ہو پائی۔ ‘
یہ ہندوستان کی بد قسمتی ہے کہ آج بھی وہ پوری دنیا میں توہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی کا سب سے بڑا سر چشمہ اور منبع بنا ہوا ہے جہاں حکمراں سے لے کر چپراسی تک بابائوں اور عاملوں کے پیچھے دوڑتے ہیں۔کوئی بھی کام یہاں تک کہ حلف برداری بھی ان کے بتائے ہوئے وقت کے مطابق کی جاتی ہے۔
افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ یکے بعد دیگر متعدد نام نہاد بابائوں کا سچ آجانے کے بعد بھی اس مذموم سوچ میں کوئی فرق نہیں آتا ہے اور ان کالیڈروں اور عام لوگوں کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب ایک ایسے ملک میںہو رہا ہے جہاں سوامی دیانند سرسوتی کی آریہ سماج اور سوامی رام کرشن پرم ہنس کے ساتھ ساتھ سوامی وویکانند جیسی مصلح شخصیات کی اصلاحی و انقلابی تحریکیں چلی ہیں اور اپنے جلوے بکھیرے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *