نیٹ امتحان میں اردو کا دبدبہ

نیٹ امتحان سے اردو کو ختم کرنے کی بہت کوشش کی گئی مگر ہر مرتبہ یہ کوشش ناکام ہوئی۔ گزشتہ سال سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد یہ طے ہوچکا ہے کہ نیٹ میں اردو زبان شامل رہے گی ۔اس فیصلے کا طلباء بڑی تعداد میں فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اردو کو میڈیم کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ حالیہ نیٹ امتحان کے نشیب و فراز اور اردو کے بول بالا پر اس مضمون میں روشنی ڈالی گئی ہے
حکومت کی طرف سے اردو کو نیٹ امتحان سے الگ تھلگ رکھنے کی بہت کوشش کی گئی جبکہ اس میں گیارہ دیگر زبانیں شامل تھیں۔ اس سلسلہ میں ایس آئی او کی کاوشیں کامیاب ہوئیں اور اس کی عرضی پر سپریم کورٹ سے ایک فیصلہ آیا جس میں اردو کو نیٹ میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی۔اس فیصلے کی روشنی میں امسال 1711 لڑکوں نے اردو کو اپنا میڈیم بنایا ۔
امسال نیشنل میڈیکل انٹرینس ٹیسٹ کے لئے 12.69 لاکھ طلباء نے شرکت کی تھی۔ اس مرتبہ انٹرینس میں اردو کو بطور میڈیم اختیار کرنے والے طلباء کی تعداد مراٹھی، کنڑا اور اوڑیا سے زیادہ تھی۔11 شیڈولڈ لنگویج میں سب سے زیادہ جس زبان کو بطور میڈیم اختیار کیا گیا ،وہ انگریزی تھی جبکہ سب سے کم طلباء نے اوڑیا کو اختیار کیا۔البتہ وہی اردو جس کو 2013 میں اور پھر 2017-18 میںحکومت نے بطور میڈیم اختیار کرنے پر روک لگا دی تھی ،اسی زبان کو طلباء کی ایک معتدبہ تعداد نے اختیار کیا،جس سے اس زبان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور کمپٹیشن میں شامل ہونے والے بچوں میںاس زبان سے دلچسپی کا بھی احساس ہوتا ہے ۔
کل13 لاکھ 26 ہزار 725 طلباء نے نیٹ 2018 کے لئے رجسٹریشن کرایا تھا لیکن امتحان میں صرف 12 لاکھ 69 ہزار 922 طلباء ہی شامل ہوئے ۔ان میں سے 10.6 لاکھ طلباء نے انگریزی زبان کو بطور میڈیم اختیار کیا جبکہ 1.46 لاکھ نے ہندی کو چنا ۔اس کے بعد نمبر آتا ہے گجراتی کا جس کو 57 ہزار طلباء نے چنا۔ جبکہ 1 ہزار7 سو 11 طلباء نے اردو زبان کو میڈیم کے طورپر منتخب کیا اور 1169 طلباء نے مراٹھی اور 818 نے کنڑا کو چنا۔
قابل ذکر ہے کہ امسال 7.14 لاکھ طلباء نے نیٹ کوالیفائی کیا ہے۔ ان میں 3.12 لڑکے اور 4.02 لاکھ لڑکیاں ہیں۔ان میں سے 50 ٹاپ طلباء میں دو مسلم بچے شامل ہیں۔ایک محمد انس خاں میمن گجرات اور شبستا خان مدھیہ پردیش سے۔ ان دونوں بچوں نے اخبار والوں سے بات کرتے ہوئے اپنی محنت اور لگن کے بارے میں بتایا کہ وہ 17-17 گھنٹے تک مطالعہ کرتے تھے،تب جاکر انہیں یہ کامیابی ملی ہے۔

 

 

 

 

 

 

ایس آئی او کی کامیاب کوشش
قابل ذکر ہے کہ اردو کو بطور میڈیم منتخب کرنے کا حق حکومت طلباء سے چھین لینا چاہتی تھی مگر اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او ) کی کاوشیں رنگ لائیں ۔ایس آئی او نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی اور مطالبہ کیا کہ نیٹ کے امتحان میں اردو کو شامل کیا جائے۔2017 میںعرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے 2018-19کے نیٹ امتحان یعنی میڈیکل کورسوں میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے امتحانات میں اردو زبان کو شامل کرنے کی مرکز کو ہدایت دی تھی۔
سپریم کورٹ کی اس ہدایت کے بعد یہ صاف ہوگیا تھا کہ سال 2017-18میں ہندی، انگریزی، گجراتی ، مراٹھی ، اوڈیہ، بنگلہ ، اسامی ، تیلگو ، تمل اور کنٹر میں ہی نیٹ کرائے جائیں گے اور اس بار ہونے والے امتحانات میں اردو شامل نہیں ہوگی لیکن 2018-19 سے اردو نیٹ امتحان میں شامل رہے گی۔
حالانکہ عدالت یہ چاہتی تھی کہ اردو کو2017-18 سے ہی نیٹ امتحان میں شامل کرلیا جائے مگر سی بی ایس ای نے کورٹ کے سامنے اپنے حلف نامہ میں یہ بیان داخل کردیاکہ چونکہ وقت کم ہے اور گیارہ ہزار طلباء کے لئے اردو میں سوالنامہ تیار کرنا اتنے کم وقت میں ممکن نہیں ہے، اس لئے یہ عمل آئندہ سال سے ہی ممکن ہوسکے گا۔حالانکہ سی بی ایس ای کی یہ ایک بڑی بھول تھی کہ اس نے اردو کو ہی فہرست سے غائب کردیا تھا جبکہ مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں اردو چھٹے نمبر پر آتی ہے اور مہاراشٹر، آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں گیارہویں اور بارہویں کے طلباء کی بڑی تعداد سائنس کی تیاری اردو میں ہی کرتی ہے۔اس کے باجود اردو کو خارج رکھا گیا جس سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ اردو کو جان بوجھ کر الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کی گئی ۔بہر کیف جب اردو کو سرے سے خارج کرنا ممکن نہیں ہوسکا تو پھر کم وقت کی آڑ میں گزشتہ سال اردو کو نیٹ امتحان سے الگ رکھا گیا۔
عدالت کا فیصلہ
مرکز کی دشواریوںکو دیکھتے ہوئے جسٹس دیپک مشرا، اے ایم کھنولکر اور ایم ایم شانتنو گودر پر مشتمل بنچ نے مرکزی حکومت کو 2017-18 میں مہلت دیتے ہوئے سال 2018-19 کے سیشن سے نیٹ امتحان اردو زبان میں بھی منعقد کرنے کے احکام جاری کردیئے تھے۔آج اسی حکم کا نتیجہ ہے کہ اس کا فائدہ ان 1711 بچوں نے اٹھایا اور اردو کو بطور میڈیم استعمال کرکے امتحان میںشرکت کی۔اگر ایس آئی او اس سلسلہ میں توجہ نہیں دیتا تو شاید اردو کو جس طرح سے سازش کے تحت ختم کردیا گیا تھا ،نیٹ میں پھرکبھی شامل نہیں ہوپاتا۔
حکومت نے نیٹ2013میں بھی ایسی ہی غلطی کی تھی تب مئی 2013میں سپریم کورٹ نے انصاری ماہین فاطمہ مقابل حکومت ہند(رٹ پیٹیشن (سول)نمبر168-2013)کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے نیٹ کا امتحانی پرچہ اردو میں بھی جاری کرنے کا حکم دیا تھا مگر 2014 میں نیٹ ایگزام نہ ہونے کے سبب یہ معاملہ پس پشت پڑا رہا۔2016 میں مہاراشٹر حکومت نے اردو کو شامل کیا مگر 2017-18 کے امتحان میں اردو کو شامل نہیں کیا گیا۔
حکومت کے اس رویے سے مایوس ہوکرایس آئی او نے عدالت میں ایک عرضی دائر کی اور اس میں یہ الزام لگا یا کہ چونکہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد سے اردو زبان کا تعلق ہے، اس لئے حکومت کے اہلکاروں نے اس کے تئیں متعصبانہ رویہ اختیار کیا اورجان بوجھ کر نیٹ امتحانات سے ایک میڈیم کے طور پر اردو زبان کو الگ تھلگ رکھا جس کے سبب ہزاروں بچوں کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے۔بہر کیف اب نیٹ میں اردو زبان منتخب زبانوں میں شامل ہے اور طلباء اس زبان کے ذریعہ اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔نیز یہ بھی اب صاف ہوچکا ہے کہ اردو زبان کے ساتھ چاہے جتنی ہی بے اعتنائی برتی جائے، اس کے چاہنے والے کبھی کم نہیں ہوتے۔
کس زبان میں کتنے طلبا نے رجسٹریشن کیا

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *