اے ایم یوکی فیکلٹی آف سوشل سائنسز اور آئی او ایس کے اشتراک سے دو روزہ مذاکرہ کا آغاز

Prof-Akhtarul-Wasey
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف سوشل سائنسز اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) ، نئی دہلی کے اشتراک سے آج ایک دو روزہ مذاکرہ کا آغازفیکلٹی آف سوشل سائنسز کے لاؤنج میں ہوا جس کا عنوان ہے’ بدلتی ہوئی عالمی صورت حال میں سماجی علوم کے ماہرین کا کردار: ہندوستانی مسلمانوں کے خصوصی حوالہ سے ‘ ۔ پروگرام کا مقصد ’انڈین ایسوسی ایشن آف مسلم سوشل سائنٹسٹس‘ کو مستحکم کرنا ہے۔
آئی او ایس کے سکریٹری جنرل پروفیسر زیڈ ایم خاں نے اس موقع پر کہاکہ ہندوستانی جمہوریت ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے ، جس میں ہندوستانی مسلمانوں کو دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ اہم رول ادا کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے علمی و فکری وِژن، تخلیقی صلاحیت اور اپنے اقدامات کو وسیع کرنا ہوگا۔
افتتاحی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر تبسم شہاب نے پولیو خاتمہ کے قومی پروگرام میں ڈبلو ایچ او اور یونیسیف کے نوڈل آفیسر کے طور پر اپنے تجربات بیان کئے۔ انھوں نے کہاکہ گھنی آبادی، زیادہ شرح پیدائش ، گندگی، قے دست کی عمومیت، بستیوں تک مشکل رسائی اور ایک خاص طبقہ کے اندر پائے جانے والے خدشات اور منفی ذہنیت کے سبب پولیو ٹیکہ کاری مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنا آسان نہیں تھا۔
پروفیسر تبسم شہاب نے کہاکہ پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں میں مسلم کنبوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کی تعداد زیادہ پائی گئی، تاہم پولیو مہم کے رضاکار، مسلم کنبوں کو یہ سمجھانے میں کامیاب رہے کہ پولیو کے ٹیکے کے بارے میں خدشات بے بنیاد ہیں اور پولیو کی بیخ کنی کے لئے سبھی بچوں کو ٹیکہ لگایا جانا ضروری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس میں مسلم دانشوروں نے اہم کردار ادا کیا۔
مولانا آزاد یونیورسٹی ، جودھ پور کے صدر پروفیسر اخترالواسع نے کہاکہ ہندوستانی معیشت میں رفتہ رفتہ بہتری ہورہی ہے مگر سماجی حالات ایسے ہیں جس میں منفی اور متشدد رجحانات آسانی سے سر اٹھالیتے ہیں۔ انھوں نے سماجی علوم کے ماہرین پر زور دیا کہ وہ ملک کے مفاد میں جدید تجزیاتی و تحقیقی صلاحیتوں کا استعمال کریں اور مؤثر پالیسیوں کی تیاری کے لئے ضروری معلومات فراہم کریں۔
انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) کے چیئرپرسن اور اے ایم یو کے سابق طالب علم ڈاکٹر منظور عالم نے بتایا کہ جسٹس راجندر سچر جب ہندوستانی مسلمانوں کے سماجی، اقتصادی اور تعلیمی حالات کے مطالعہ کے لئے قائم کی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سربراہ تھے تو انھیں تحقیقی رپورٹ کی تیاری میں مدد کے لئے آئی او ایس کی جانب سے 30؍کتابیں فراہم کی گئیں، جس پر جناب سچر نے آئی او ایس کی خدمات کو سراہا تھا۔ ڈاکٹر منظور عالم نے کہاکہ سماجی علوم کے مسلم ماہرین کو آگے آنا چاہئے اور ملک و سماج کی ترقی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہئے۔
فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر شمیم اے انصاری نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ پروفیسر عرشی خاں نے شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر نشید امتیاز نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ مذاکرہ میں مختلف اساتذہ اور اے ایم یو سمیت متعدد یونیورسٹیوں کے ریسرچ اسکالرس شرکت کررہے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *