امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے وہائٹ ہاوس میں افطار پارٹی

iftar-party-white-house
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سیپہلی مرتبہ بدھ کومسلم برادری کے لیے وائٹ ہاؤس میں افطار وڈنرکااہتمام کیاگیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس ٹرمپ نے امریکی صدور کی جانب سے مسلم برادری کے لیے افطار کا اہتمام کرنے کی ایک طویل روایت سے انحراف کرتے ہوئے افطار نہ دینے کا اعلان کیا تھا، کئی دہائی سے جاری سالانہ افطار پارٹی کی روایت کو ختم کر دیا تھا۔ جس کی چوطرفہ تنقید کی گئی تھی۔ خیال رہے کہ1990 کی دہائی میں بل کلنٹن نے اس کی غیر رسمی شروعات کی تھی۔

 

 

بہرکیفامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بدھ کو مسلمانوں کے لیے وائٹ ہاؤس میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔تاہم مسلم تنظیموں نے اس افطار ڈنر پارٹی کا بائیکاٹ کیا اور اس کے برعکس انہوں نے وہائٹ ہاوس کے باہر افطار پارٹی کا اہتمام کیا۔افطار ڈنر میں امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان ایک ساتھ ٹیبل پر موجود تھے۔ تقریب میں متحدہ عرب امارات، اردن، مصر، تیونس، عراق، قطر، بحرین، مراکش، الجزائر اور لیبیا کے سفیروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے افطار عشائیے میں امریکی وزراء4 اور اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کی اس افطار پارٹی میں تقریبا 52 افراد نے شرکت کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریب سے خطاب میں امریکی صدر نے مسلمانوں کو ماہ مقدس رمضان کی مبارک باد دی۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ‘آپ سب حاضرین اور دنیا بھرکے مسلمانوں کو رمضان مبارک! آج کی شام اس تقریب میں ہم سب دنیا کے عظیم ترین مذاہب کی ایک مقدس روایت کا اہتمام کر رہے ہیں۔ مسلمان پورے دن پر محیط روزے کے اختتام پر افطار کرتے ہیں جو ماہ مبارک رمضان کے دوران روحانیت کی عکاسی کرتا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *