انجمن ترقی اردو (ہند) کے زیرِ اہتمام ٹام آلٹر کی یاد میں ایک شام

tom
نئی دہلی: انجمن ترقی اردو (ہند) کے زیرِ اہتمام اردو، ہندی اور انگریزی تھیٹر کے مشہور اداکار،ڈائریکٹر اور اردو تھیٹر کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے کرنے والے ٹوم آلٹر کی زندگی اور خدمات پر ایک دستاویزی فلم اردو گھر کے آڈیٹوریم میں دکھائی گئی۔
ٹوم �آلٹر کا گزشتہ برس 29 ستمبر 2017 کو 67 برس کی عمر انتقال ہوگیا۔ وہ اردو کے نہایت خاموش خدمت گزار تھے۔انھیں اردو ادب و شاعری سے بھی گہرا لگاؤ تھا۔ وہ اردو کے ڈائیلاگ انتہائی متاثر کن اور عمدہ لب و لہجے اور صحیح تلفظ کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ یہ دستاویزی فلم playmyplay.com کے تعاون سے انجمن ترقی اردو (ہند) نے تیار کی ہے۔ اس دستاویزی فلم میں ٹوم آلٹر کی زندگی اور خدمات خاص طور سے ان کے مقبول پلیز (Plays) جن میں مولانا آزاد، لال قلعے کا آخری مشاعرہ، بابر کی اولاد، راجہ ناہر سنگھ، غالبؔ ، موہن سے مہاتما، دوزخ نامہ اور مارکس مائی ورڈمیں ٹام آلٹر کے مختلف کرداروں کی جھلکیاں پیش کی گئیں۔ اس دستاویزی فلم کو دیکھنے کے لیے ٹوم آلٹر کے مدّاحوں، عقیدت مندوں اور تھیٹر دنیا کے ان کے دوست و احباب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔واضح ہو کہ ٹوم آلٹر نے گزشتہ 15 برسوں میں اپنے زیادہ تر ڈرامے دلّی میں اور دلّی کے مختلف تھیٹرز گروپ کے ساتھ کیے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹوم آلٹر نے اپنی خود نوشت سوانح نوشتہ بماندسیہ برسفید کے عنوان سے انجمن کے سہ ماہی مجلے’اردو ادب‘ کے لیے لکھنی شروع کی تھی جس کی وہ صرف چار قسطیں ہی مکمل کرسکے۔
اس موقع پر شرکت کرنے والوں میں ٹو م الٹر کے بڑے بھائی جون الٹر، ٹوم الٹر کے بیٹے جیمی الٹر، انجمن ترقی اردو (ہند) کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی، ایم سعیدعالم، ڈاکٹر محمد کاظم، ڈاکٹر سرورالہدیٰ، زمرد مغل، فاروق انجینئراور انجمن ترقی اردو (ہند) کے میڈیاکورڈی نیٹر جاوید رحمانی، محمد عارف خان و دیگرحضرات کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *