فلم ا ور تھیٹر کی دنیا کی ایک معروف شخصیت ٹام آلٹر

tom-alter
فلمی اورتھیٹرکی دنیاکی معروف شخصیت ٹام الٹرآج ہمارے بیچ نہیں ہیں، مگران کی شخصیت، ان کی اداکاری آج بھی تروتازہ ہیں۔ٹام آلٹرکا اصلی نام ٹامس بیٹ آلٹر ہے۔ٹام الٹر کو بھلے ہی کوئی ان کے نام سے نہ جانتا ہوں لیکن بالی ووڈ مداحوں کے ذہن میں ٹام الٹر کی پہنچان ایسے اداکار کے طور پر کی جاتی ہے جوبالی ووڈ فلموں میں زیادہ تر انگریز کا کردار ادا کرتا تھا۔ان کی پیدائش 22 جون 1950 کو اتراکھنڈ کے مسوری میں ہوئی۔ٹام 18 برس کی عمر تعلیم کی غرض سے امریکی یونیورسٹی چلے گئے لیکن ان کا دل نہیں لگا اور وہ درمیان میں ہی وہاں سے واپس لوٹ آئے۔اس کے بعد انہوں نے کئی نوکریاں کیں۔انہوں نے ہریانہ کے سینٹ تھامس اسکول میں ٹیچر کی بھی چھ مہینے تک نوکری کی۔
ان کے دادا دادی سنہ 1916 میں امریکہ سے ہندوستان آئے تھے۔ سمندر کے راستے وہ پہلے پہل مدراس پہنچے پھر وہاں سے لاہور آئے۔تقسیم ہند میں ان کا خاندان بھی منقسم ہو گیا۔ ان کے دادا دادی تو پاکستان میں رہ گئے جبکہ ان کے والدین انڈیا آ گئے جہاں وہ پیدا ہوئے۔ٹام آلٹر کو عام طور پر انگریز اداکار کہا جاتا تھا لیکن انگریز نہیں بلکہ امریکی نزاد ہندوستانی تھے۔ ان کا ایک مسیحی مشنری خاندان سے تعلق تھا اور ان کے والد کی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی تھی۔
ٹام آلٹر بتاتے تھے کہ ان کی ‘پدری زبان انگریزی ہو سکتی ہے لیکن مادری زبان اردو ہی ہے،’ اور ان کے گھر میں مذہبی تعلیم بھی اردو میں ہی ہوا کرتی تھی۔انھوں نے ایک بار بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے ‘والد انجیل مقدس کی تعلیم اردو میں دیا کرتے تھے اور انجیل کی قرات بھی اردو میں ہی ہوتی تھی۔’اداکاری میں آنے سے قبل انھوں نے درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا تھا اور کھیل بطور خاص کرکٹ میں ان کی خاصی دلچسپی رہی ہے۔
سپراسٹار راجیش کھنہ کی سال 1969 میں فلم ارادھنا نے ٹام آلٹر کو اتنا متاثر کیا کہ اب بس وہ راجیش کھنہ بننا چاہتے تھے۔اسی ہفتے انہوں نے اس فلم کو تین مرتبہ دیکھا۔دوسالوں تک انکے ذہن میں راجیش کھنہ اور شرمیلا ٹیگو چلتی رہیں۔انہوں نے 2009میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ’’میں راجیش کھنہ کا بہت بڑا فین رہا اور 1970کی دہائی میں ان کے جیسا ہیروبننا چاہتاتھا ،وہ میرے ہیروتھے۔ان کا رومانی انداز دل کو چھولیتا تھا۔
بطور ہیرو بننے کا خواب لے کر ٹام الٹر نے پنے میں ہندستانی فلم اور ٹیلی ویڑن انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا۔ٹام نے 1974 میں ایف ٹی آئی آئی سے گریجویشن کے دوران گولڈ میڈل حاصل کیا۔اسی دوران انہوں نے نصیر الدین شاہ اور بنجامن گیلانی کے ساتھ ایک کمپنی موٹلی قائم کیا اور ڈرامے کی دنیا میں قدم رکھا۔اس کے علاوہ انھوں نے مولانا ابوالکلام آزاد پر مبنی ڈراما ‘آزاد کا خواب’ میں موالانا آزاد کا کردار ادا کیا تھا۔ڈرامے میں انہوں نے مرزا غالب پر اسی نام کے پلے اور مولانا عبدالکلام آزاد پر مبنی پلے مولانا میں شاندار کردارا دا کئے جس کے لئے انہیں ہمیشہ یا د رکھا جائے گا۔ٹام آلٹر نے بہادر شاہ ظفر اور ابوالکلام آزاد کا کردار بخوبی نبھایا۔ٹام الٹر کو مشہور ٹی وی شو جنون میں ان کے کردار کیشوکلسی کے لئے جانا جاتا ہے۔
1990 میں یہ شو مسلسل پانچ سال تک چلا۔اس طرح ڈرامہ ،فلم اور ٹی وی شومیں وہ چھائے رہے۔اردوکے ڈائیلاگ متاثرکن اور لب ولہجہ کے ساتھ اداکرتے تھے اور ان کا تلفظ بھی بہترین تھا ،ادب وشاعری سے بھی دلچسپی رکھتے رہے۔
انھوں نے ’شطرنج کے کھلاڑی،‘ ’کرانتی‘ اور ’رام تیری گنگا میلی‘ جیسی فلموں کے علاوہ کئی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔فلم ‘کرانتی’ میں انھوں نے انگریز کا کردار ادا کیا ہے لیکن اس میں بھی ان کی زبان اردو رہی ہے۔انھوں نے دھرمیندر کی فلم ‘چرس’ سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا تھا اور پھر ستیہ جیت رے کی فلم ‘شطرنج کا کھلاڑی’ میں نظر آئے۔ انھوں نے تقریبا تین سو ہندی فلموں میں کام کیا۔تھیئٹر میں انھوں نے اپنی پہچان قائم کی اور ان کا ڈراما ‘لال قلعے کا آخری مشاعرہ’ جس میں انھوں نے بہادرشاہ ظفر کا کردار ادا کیا، خاصا مشہور ہوا۔
ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے چار پانچ فیصد فلموں میں ہی انگریز کا کردار ادا کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘شطرنج کے کھلاڑی میں میں انگریز ضرور تھا لیکن ایسا انگریز جو شاعری کرتا تھا اور جو واجد علی شاہ کا مرید تھا اور انگریز کے سامنے واجد علی شاہ کی طرفداری کرتا تھا۔’بی بی سی کے مطابق،انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ ان کے خاندان میں لوگ یاتو شاعر ہیں یا پھر پادری اور ٹیچر۔ انھوں نے بتایا تھا: ‘میرے بڑے بھائی انگریزی میں شاعری کرتے تھے۔ سب سے بڑے چچازاد بھائی بھی شاعر اور ناول نگار ہیں میری چچازاد بہن سو ملر معروف ناول نگار ہیں جبکہ بہن اور ماں کو بھی لکھنے کا شوق رہا۔’میرے والد پادری، دادا نانا پادری، چچا بھی پادری اور میرے سسر بھی پادری ہیں۔ جن علاقوں میں وہ تھے وہاں اردو میں عبادت ہوتی تھی لیکن اب ہندی میں ہونے لگی ہے۔بہرکیف ڈرامے میں انہوں نے مرزا غالب پر اسی نام کے پلے اور مولانا عبدالکلام آزاد پر مبنی پلے مولانا میں شاندار کردارا دا کئے جس کے لئے انہیں ہمیشہ یا د رکھا جائے گا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *