حکومت اور علاحدگی پسندوں کے ڈائیلاگ کے امکانات ہنوز روشن

کشمیری علاحدگی پسند لیڈروں نے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کو مسترد نہیں کیا بلکہ مرکزی سرکار سے بات چیت کے ایجنڈے کی وضاحت کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس طرح سے مستقبل قریب میں علاحدگی پسندوں اور حکومت ہند کے درمیان بات چیت کے امکانات ہنوز روشن ہیں۔ راج ناتھ سنگھ نے 26مئی کو ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران نہ صرف حریت بلکہ پاکستان کے ساتھ بات چیت پر مرکزی سرکار کی رضامندی کا ان الفاظ میں اظہار کیا تھا ،’’اگر حریت بات چیت کے لئے تیار ہے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے،ہم کسی سے بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔یہاں تک کہ اگرپاکستان مذاکرات کیلئے آتا ہے تو ہم اسکے لئے تیار ہیں…پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے،وہ ہمارا پڑوسی ہے مگر پاکستان کو پہلے دہشت گردی کو بند کرنا ہوگا…ہمیں یقین ہے کہ کشمیر اور کشمیری،دونوں،ہمارے اپنے ہیں۔ہم انکے دل جیتنا چاہتے ہیں۔(رمضان میں)آپریشن روک دینا اسی مقصد کے حصول کا ایک قدم تھا۔‘‘
وزیر داخلہ کی جانب سے کشمیری علاحدگی پسندوں اور پاکستان کے ساتھ پات چیت پر آمادگی کا اظہار ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ، جب جموں کشمیر میں پہلے ہی بھارت سرکار ایک ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کرچکی ہے۔ظاہر ہے کہ مودی سرکار نے اگر چار سال تک کشمیر سے متعلق ایک سخت رویہ اختیار کرنے کے بعد اب جنگ بندی اور بات چیت کی پیشکش جیسے اقدامات کئے ہیں ، تو اُنہیں نئی دلی کے رویے میں ایک مثبت تبدیلی قرار دیا جاسکتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

راج ناتھ سنگھ کی جانب سے علاحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت پر رضامندی کے اظہار کے تین دن بعد سرینگر میں سید علی شاہ گیلانی کی رہائش گاہ حیدر پورہ میں گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے ایک بند کمرے میں وزیر داخلہ کی پیشکش پر غور و خوص کے بعد اپنے مشترکہ بیان میں مرکزی سرکار سے مجوزہ بات چیت کے ایجنڈے کی وضاحت کرنے کی اپیل کی ہے۔ دراصل وزیر داخلہ کی جانب سے بات چیت کی پیشکش یا بات چیت پر رضامندی کے اظہار سے پہلے اور اس کے بعد بی جے پی کے کئی لیڈروں کے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں ، جن کی وجہ سے واقعی ایک کنفوژن پیدا ہوگیا ہے۔ مثلاً وزیر داخلہ کی جانب سے حریت اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی سے متعلق بیان کے صرف ایک دن بعد ہی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے بیان میں پاکستان کے ساتھ بات چیت کے امکان کو یہ کہہ کر خارج از امکان قرار دیا کہ جب سرحدوں پر لوگ مررہے ہوں تو بات چیت کی باتیں اچھی نہیں لگتی ہیں۔ تشدد اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ، جس دن وزیر داخلہ نے بات چیت پر رضامندی کا اظہا ر کیا ، عین اسی دن بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کشمیر میں ’’جنگ بندی عام شہریوں کے لئے کی گئی ہے، دہشت گردوں کے لئے نہیں ۔‘‘ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 16مئی کو مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے جموں کشمیر میں جنگ بندی کے اعلان سے ایک دن قبل وزیر دفاع نرملا سیھتارمن نے جنگ بندی کی تجویز کی یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ جنگ بندی سے فو ج کو اب تک حاصل ہوئی کامیابیوں کو نقصان پہنچے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے ان اعلیٰ عہدیداروں کے متضاد اور متصادم بیانات کے تناظر میں اگر حریت نے مرکزی سرکار کو مزید وضاحت کرنے کی اپیل کی ہے تو وہ حق بجانب ہیں۔ گیلانی ، میر واعظ اور یٰسین ملک پر مشتمل ’’مشترکہ مزاحمتی قیادت ‘‘ کی جانب سے اس ضمن میں جو مشترکہ بیان سامنے آیا ، اس میں کہا گیا ، ’’ پچھلے کئی روز سے بھارت کے مختلف ارباب اقتدار کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے مبہم اور غیر واضح بیانات داغنے میں سبقت لینے کی کوششیں کی گئیں… مزاحمتی قیادت بھارت کے اربابِ اقتدار سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ ان کھلے تضادات کے ماحول میں مذاکرات کی آخر کونسی صورت باقی بچ پاتی ہے جس سے مسئلہ کشمیر کو حل کیا جاسکتا ہے۔ مزاحمتی قیادت مذاکرات برائے مذاکرات کی قائل نہیں ہے، بلکہ اپنے واضح موقف اور غیر مبہم طریق کار پر کاربند ہوتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ ‘‘ طویل بیان کے آخر میں کہا گیا ہے ، ’’مزاحمتی قیادت حکومت ہند کو یہ مشورہ دینا مناسب سمجھتی ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے بانت بانت کی بولیوں اور مبہم آمیز لب ولہجے میں بات کرنے کے بجائے واضح طور پر مسئلہ کشمیر کے دائمی تصفیے کے لیے سہہ فریقی مذاکرات کے لیے ماحول کو سازگار بنائے جائے تو مزاحمتی قیادت ایسے سنجیدہ مذاکرات میں شامل ہونے میں دیر نہیں کرے گی۔ ‘‘ وادی میں متحرک ملی ٹنٹ تنظیموں پر مشتمل اتحاد جہاد کونسل کے سربربراہ سید صلاح الدین نے بھی نئی دہلی کی جانب سے بات چیت پر رضامندی کے جواب میں کہا ہے کہ اگر نئی دلی یہ مانتی ہے کہ کشمیر متنازعہ ہے تو اسکے حل کے لئے مذاکرات کو ہم سپورٹ کریں گے۔
بیشتر مبصرین کا ماننا ہے کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت اور جہاد کونسل کے متذکرہ بیانات کو اگر معنوی اعتبار سے دیکھا جائے تو انہوں نے کہیں بھی وزیر داخلہ کی جانب سے بات چیت کے پیغام کو مسترد نہیں کیا ہے۔اس طرح سے کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں مذاکرات کے لئے ایک ساز گار ماحول تیار ہوسکتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا مودی سرکار کشمیری علاحدگی پسندوں کے ساتھ ایک ایسے وقت میں ایک سنجیدہ مذاکراتی عمل شروع کرنے کی متحمل ہوسکتی ہے، جب اس حکومت کی مقررہ معیاد کا ایک آخری سال باقی بچا ہے، جس میں بی جے پی کو اگلے عام انتخابات کی تیاری بھی کرنی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پچھلے انتخابات کے دوران بی جے پی کے انتخابی منشور میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا تو دور کی بات الٹا کشمیر خصوصی حیثیت فراہم کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370کو ختم کرنے کی بات کہی گئی تھی ۔ بی جے پی نے رام مندر کی تعمیر اور یکساں سیول کوڈ کے نفاذ جیسے وعدے کرکے رائے دہندگان کو اپنی طرف راغب کیا تھا۔ گزشتہ چار سال کے دور حکومت میں بھی مودی سرکار نے کشمیر اور پاکستان کے تئیں ایک سخت رویہ اختیار کیا۔ کیا اگلے انتخابات میں یہ پارٹی اپنے رویے میں لچک لانے کی متحمل ہوگی ۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ بات چیت پر آمادگی کا اظہار کرنے کے صرف چند دن بعد ہی راج ناتھ سنگھ نے لکھنو میں اپنے حلقہ انتخاب میں صحافیوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ علاحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت ہوگی ، لیکن اس کے لئے ابھی مناسب وقت نہیں ہے۔ تو کیا راج ناتھ سنگھ یہ کہنا چاہتے تھے کہ بی جے پی اگلے انتخابات میں کامیابی کی صورت میں دوبارہ حکومت سنبھالنے کے بعد ہی کشمیر پر کوئی لچک لائے گی اور بات چیت شروع کرے گی ؟بی جے پی کے مختلف لیڈروں کے متضاد بیانات کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ مودی سرکار اس کنفوژن میں ہے کہ اس وقت کشمیر سے متعلق اپنے سخت گیر رویے میں نرمی لانی چاہیے یا نہیں ۔ تاہم جنگ بندی کے اعلان اور بات چیت پر آمادگی کے اظہار کے نتیجے میں وادی میں بعض حلقوں میں اُمید کی کرن پیدا ہوگئی ہے۔ سینئر علاحدگی پسند لیڈر پروفیسر عبدالغنی بٹ نے ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں یقین ہے کہ نئی دلی کشمیرمسئلے کو پر امن طور حل کرنے پر آمادہ ہوچکی ہے اور عنقریب ہی مذاکراتی عمل شروع ہوگا۔ پروفیسر کا کہنا تھا کہ در اصل جنوبی ایشیائی خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے تمام فریقین کے پاس صرف مذاکرات ہی واحد آپشن بچا ہے۔یہ مذاکرات کب شروع ہوتے ہیں ، یہ جاننے کے لئے آنے والے دنوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *