مسئلہ کشمیر کا سیاسی پہلو نظر انداز نہیں ہونا چاہئے

وزیراعظم کا 20 مئی کا جموں و کشمیر کا ایک روزہ دورہ ان کے پچھلے دوروں سے تھوڑا الگ تھا۔ حالانکہ اس بار بھی انہوں نے کشمیر مسئلے کو سیاسی مسئلے کی طرح نہیں دیکھا،لیکن اس کے باوجود ان کا رخ پہلے سے نرم تھا۔ پہلے کشمیر کے کشیدہ ماحول سے نمٹنے کے معاملے میں ان کا رخ سیکورٹی دستوں کی طرح تھا۔ کشمیر میں فوج اور پولیس پتھر کا جواب گولی سے دینے میں یقین رکھتی ہیں۔
بہر حال نئی دہلی نے رمضان سے پہلے اپنا ٹریک بدلا اور ایک مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا، جس میں ملی ٹینسی کے خلاف چل رہے آپریشن کو روکنے، لیکن جوابی کارروائی کا متبادل کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیراعظم مودی نے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے ذریعہ جنگ بندی کے اعلان کی عوامی طور پر حمایت کرکے اس خیال کو خارج کردیا،جس کے تحت یہ مانا جارہا تھا کہ وہ اس ایشو پر خاموشی اختیار کر کے سیاست کریں گے۔ لیکن جنگ بندی کی حمایت کے ساتھ ساتھ مودی نے کشمیر میں ہزاروں پتھر باز نوجوانوں کی معافی کی بھی بات کی۔
2016 میں برہان وانی کے قتل کے بعد ہوئے تشدد نے راجناتھ سنگھ اور مودی کی کشمیر پالیسی کو اہم دوراہے پر لا دیا تھا۔ اس دوران راجناتھ سنگھ کے ذریعہ کشمیری نوجوانوں تک پہنچنے کی کوششوں کو مودی کے قریبی سمجھے جانے والے لوگوں نے ناکام بنا دیا۔اس کے بعد راجناتھ سنگھ خاموش ہو گئے تھے۔ چونکہ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جنگ بندی کی مانگ کو صرف تین دن پہلے ہی خارج کردیا تھا، لہٰذا جنگ بندی کا اعلان راجناتھ سنگھ کے ذریعہ ہی ہونا تھا۔ بہر حال مودی نے نہ صرف اس ایشو پرلگائے جارہے سبھی اٹکلوں کو خارج کردیا، بلکہ نوجوانوں سے مین اسٹریم میں واپس لوٹنے کی اپیل بھی کی۔ مین اسٹریم سے ان کا ارادہ اپنے خاندان والوں کے پاس گھر لوٹنے سے تھا۔ ان کا یہ نقطہ نظر کشمیر پر ان کے اب تک کے نقطہ نظر سے الگ تھا۔ ایک سال پہلے انہوں نے کشمیریوں کو دو متبادل دیئے تھے۔ 3 اپریل 2017 کو سری نگر-جموں ہائی وے پر بنے سرنگ کے افتتاحی تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ میں کشمیر کے نوجوانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ان کے پاس دو ہی راستے ہیں۔ ایک طرف سیاحت ہے اور دوسری طرف دہشت گردی ہے۔
لیکن اس بار انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو ترقی کی پیشکش کرتے ہوئے انہیں اپنے گھروں کو واپس لوٹنے کے لئے کہا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مودی نے اس حد تک اپنا رخ نرم کر لیا ہے؟دراصل اسے علاقائی اور عالمی سطح پر وقوع پذیر ہونے والے متعدد واقعات کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

بہر حال رخ میں نرمی کے باوجود وزیر اعظم نئی دہلی کی اس نفسیات سے باہر نہیں نکل پائے ہیں ، جو کشمیر مسئلے کو وکاس، سیکورٹی اور اسٹریٹجک کے چشمے سے دیکھتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ایک بار پھر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی کشمیریت کو ناپسند کیا۔ 2014 کے بعد کشمیریت کا یہ شاید نواں حوالہ تھا، حالانکہ اس بار انہوں نے جمہوریت اور انسانیت کو اپنے بیان سے الگ رکھا تھا۔
دراصل اس معاملے میں بھی مودی کے کہنے اور کرنے میںفرق دکھائی دیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا اکلوتا حل وکاس، وکاس اور وکاس ہے۔کشمیر میں 1990 اور اس سے پہلے سے چلے آرہی جدو جہد کی تاریخ اور یہاں ہوئے وکاس کے کاموں کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ غلط ہیں۔ اگر ترقی اور وکاس ہی مسئلے کا حل ہوتا تو خود مودی نے ہی ریاست کے لئے 7 نومبر 2015 کو 80 ہزار کروڑ روپے کا ایک بڑا پیکج کشمیر کو دینے کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ یہ بحث کا موضوع ہے کہ اس پیکج میںسے کتنا پیسہ آیا،کیونکہ اس کا بڑا حصہ مرکزی اسکیموں کے لئے تھا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وکاس کے لئے دیئے گئے اس طرح کے پیکجوں نے زمین پر مزاحمت کو ختم نہیں کیا ہے۔
یہاں ملی ٹینسی کی انتہا یعنی سال 1990 سے 1996 کے دوران ہوئی تباہی کو یاد کرنا چاہئے۔1996 میں جب فاروق عبد اللہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے ہزاروں اسکولوں ، اسپتالوں، پُلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے مشکل کام کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے لگ بھگ 1.5 لاکھ لوگوںکو نوکریاںبھی دیں۔ لیکن وہ لڑائی کی سیاست کو بدل نہیں سکے اور 2002 کا انتخاب بھی ہار گئے۔ ان کے بعد بھی وکاس کے منتر کا جاپ کیا گیا لیکن کامیابی نہیں ملی۔ اگر یہ قدم ہی لوگوں کو آزادی کی مانگ سے الگ کر سکتا تو مودی کے 80 ہزار کروڑ روپے کے پیکج اور 2015 کے بعد پیدا کی گئی نوکریوں کے بعد کشمیرمیں 2016 کا پُر تشدد مخالفانہ احتجاج نہیں دکھائی دیا ہوتا۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہزاروں نوجوان اسی فوج کے تقرری مراکز کی لائنوں میں کھڑے دکھائی دیئے جن پر انہوں نے قصبوں اور گائوں میں پتھرپھینکے ۔
کشمیریوں کی یہ کہانی دہلی کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے۔مودی کا صرف وکاس کی بات کرنا جموں و کشمیر کے ماضی، حال اور مستقبل سے میل نہیں کھاتا ہے۔وکاس کا نعرہ تب تک کارگر نہیں ثابت ہوگا جب تک کہ اس مسئلے کے سیاسی نیچر کو قبول نہیں کیا جاتا ہے۔
21 مئی کو شوپیاں کے ایک گائوں میں فوج کی جانب سے منعقد افطار میں واقع ہونے والا حادثہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کیسے کشمیری ،فوج کو اپنی فوج کی شکل میں نہیں دیکھتے ہیں۔ انہوں نے افطار کی مخالفت کی اور احتجاج کو روکنے کے لئے فوج نے فائرنگ کی جس میں کئی لوگ زخمی ہو گئے۔ یعنی دل اور دماغ جیتنے کی یہ لڑائی پہلے ہی ناکام ہو گئی ہے۔ مرکزی مذاکرات کار دنیش شرما ( جن کا تذکرہ مودی نے اپنی تقریر میں کیا تھا) اختیارات اور کردار کی حتمیت کے فقدان میں وادی میں کوئی مثبت اثر نہیں ڈال سکے۔ دراصل انہیں خراب ٹرانسفارمر بدلنے اور سڑکوں کوٹھیک کرنے کے لئے لوگوں سے ملنے کے لئے نہیں بھیجا گیا تھا۔ چونکہ انہیں سیاسی ایشو پر بات کرنے کے لئے اتھرائز نہیں کیا گیا تھا ،اس لئے ان کے ایجنڈے پہلے ہی سمٹ چکے تھے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

بہر حال کچھ ایسے واقعات ہیں جنہیں کشمیر پر مودی کے کم سخت رخ سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ وادی میں مڈبھیڑ کے دوران شہریوں کی موت پر صفائی دینا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ دوسرے حالانکہ آپریشن آل ائوٹ میں بڑی تعداد میں ملی ٹینٹ مارے جارہے ہیں، لیکن کئی معنوں میں اس کا ناقابل یقین اثر پڑ رہا ہے۔ اس لئے صورت حال کا تجزیہ کرکے اور اسے ایک سطح پرلا کر آگے بڑھنے کے لئے جنگ بندی کی گئی ہے۔ رخ میں بدلائو کی ایک اور وجہ پاکستان کے ساتھ پیس پروسیس کی سگبگاہٹ بھی ہوسکتی ہے۔یہ سگبگاہٹ سب سے پہلے دونوں ملکوں کے فوجی چیف کے میل ملاپ والے پیغامات میں سامنے آئیں۔اس کے بعد 21 مئی کو وزیر دفاع نرملا سیتا رمن سے پاکستانی فوج کے ذریعہ مسئلے کے پُرامن حل کے اشارے کے بارے میں جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ امن کی خواہش ظاہر کرنے والے کسی بھی ریمارکس کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ پچھلے مہینے نیم رانا بات چیت شرع ہونے کے بعد ٹریک 2 ڈپلومیسی اوربیک چینل کی دیگر کوششوں سے پتہ چلتا ہے کہ دہلی انٹرنیشل بارڈر پر تنائو ، جس میں کئی لوگ مارے گئے، کے باوجود بات چیت کے لئے تیار ہے۔چونکہ 2019 کے انتخابات سے پہلے مودی کو کئی مورچوں پر دبائو کا سامنا ہے، وہ چاہتے ہیںکہ سارک چوٹی کانفرنس منعقد ہو جائے ۔وہ ووٹروں کو بیان بازی کے بجائے امن پیش کرنا پسند کر سکتے ہیں۔ نیپال اور مالدیپ کے ساتھ تعلق کے تار بھی ان کے رخ کی طرف اشارے کررہے ہیں۔ سارک کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے لئے پاکستان کو شامل کرنے کے ئے یہ ضروری ہے کہ کشمیر میںاور کشمیر پر رخ نرم کیا جائے۔ اس پس منظر میں اگلے کچھ مہینوں کے واقعات پر نظر رکھنا دلچسپ ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *