بہار میں این ڈی اے کی اندرونی سیاست پردے سے باہر آگئی

بی جے پی چاہتی ہے کہ جے ڈی یو بہار میں زیادہ سے زیادہ 12 سیٹوں پرالیکشن لڑے۔ 10سے 12 سیٹوں کے بیچ یہ جے ڈی یو کو ریاست میں سمیٹنے کی تیاری ہے۔ اگر جے ڈی یو کچھ اور سیٹوں پر اڑتا ہے تو اسے بہارسے باہر کی ریاستوں میںچار سے پانچ سیٹیںدی جاسکتی ہیں۔ بی جے پی کے پالیسی ساز ابھی اس فار مولے پر تال میل کی گاڑی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔بی جے پی خیمے کے لوگ ایسی امید کر رہے ہیں کہ جے ڈی یو اپنی قومی شبیہ بنانے کے لیے بی جے پی کے اس فارمولے پر کچھ نہ کرنے کے بعد راضی ہوسکتاہے۔۔۔
جوقیاس لگائے جارہے تھے ٹھیک اسی انداز میںریاست میںاین ڈی اے کے اندر لوک سبھا سیٹوں کے بٹوار ے کو لے کر اب کھلے عام گھمسان مچنا شروع ہو گیا ہے۔ نتیش کمار نے اپنی کور ٹیم کے ساتھ غور و فکر کے بعد اشاروں ہی اشاروں میںاعلان کرا دیا کہ جے ڈی یو کم سے کم 25 سیٹوں کا حقدار ہے۔ اس کے ساتھ ہی صاف لہجوں میںیہ بھی اعلان ہوا کہ بہار میںنتیش کمار کے چہرے پر ہی الیکشن لڑا جائے گا۔ جے ڈی یو نے بی جے پی سے پرانے فارمولے کے تحت لوک سبھا کی 40 میںسے 25 سیٹیں مانگی ہیں۔ ریاست میںبی جے پی کے 22 اراکین پارلیمنٹ ہیں اور اتحادی ایل جے پی کے چھ اور آرایل ایس پی کے تین اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ 2009کے لوک سبھا الیکشن میں ریاست میںایسی صورت حال نہیںتھی۔ تب ریاست میںاین ڈی اے میں صرف جے ڈی یو اور بی جے پی کا اتحاد تھا اور دونوں نے ساتھ الیکشن لڑا تھا۔ جے ڈی یو 25 لوک سبھا سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا، جس میںسے اسے 20 سیٹوں پر جیت ملی تھی اور بی جے پی 15 سیٹوں پر لڑ کر 12 سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی۔ 2004میںجے ڈی یو اور بی جے پی کے بیچ 26-14 فارمولہ طے ہوا تھا۔ اب بہار میں این ڈی اے کی چار اتحادی پارٹیاں ہیں ، ان میں بی جے پی،جے ڈی یو، ایل جے پی اور آر ایل ایس پی شامل ہیں۔ ابھی ان کے بیچ سیٹ شیئرنگ کا فارمولہ طے نہیںہے۔ جے ڈی یو نے صاف کر دیا ہے کہ بہار میںاین ڈی اے کے لیڈر نتیش ہی ہوںگے۔ گٹھ بندھن میںپہلے سے ہی پارٹی 25 سیٹوں پر لڑ تی رہی ہے۔ اب دقت یہ ہے کہ 2019 میںاگر رام ولاس پاسوان کی ایل جے پی ، اوپیندر کشواہا کی آر ایل ایس پی اور نتیش کا جے ڈی یو این ڈی اے میں رہیںتو بی جے پی کے سامنے ریاست میں سیٹ بانٹنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔
ریاست میںبی جے پی کے ابھی 22 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ ایسے میں اگر وہ صرف اپنے سبھی موجودہ اراکین پارلیمنٹ کو ہی ٹکٹ دیتی ہے تو 18 سیٹیں بچیںگی۔ اس کے بعد ایل جے پی موجودہ چھ اور آر ایل ایس پی موجودہ تین سیٹوں پر ہی الیکشن لڑ نے کو راضی ہوئیںتو کل 31 سیٹیں ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں جے ڈی یو کے لیے صرف 9 سیٹیں ہی بچیںگی۔ بہار میںلوک سبھا کی 40 سیٹیں ہیں۔ 2014 میںجے ڈی یو، این ڈی اے سے الگ ہوکر اکیلے میدان میںاترا تھا۔ تب این ڈی اے میںبی جے پی ،آر ایل ایس پی، ایل جے پی اور جیتن رام مانجھی کی پارٹی ’ہم‘ شامل تھی۔ اس وقت بی جے پی 30، ایل جے پی 7 اور آر ایل ایس پی 3 سیٹوں پر الیکشن لڑی تھی۔ اس الیکشن میںاکیلے 40 سیٹوں پر لڑے جے ڈی یو کے صرف 2 امیدوار ہی جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ایک حقیقت اور غور کرنے والی ہے کہ 2010 کے بہار اسمبلی انتخابات میںبھی بی جے پی اور جے ڈی یو اتحادی تھے۔ اس میں بی جے پی، جے ڈی یو سے کم سیٹوں پر الیکشن لڑی تھی لیکن اس کی جیت کا اوسط جے ڈی یو سے بہتر رہا تھا۔ بی جے پی 102 سیٹوںپر الیکشن لڑی اور 91 سیٹیںجیتنے میںکا میاب رہی تھی جبکہ جے ڈی یو 141سیٹوں پر لڑکر 115 سیٹیں جیتا تھا۔ کچھ ایسا ہی 2009 کے لوک سبھا الیکشن میںہوا تھا۔

 

 

 

 

 

 

 

شروع ہوئی زبانی جنگ
جے ڈی یو کے ان دو تیروں سے این ڈی اے کی سیاست پردے سے باہر آگئی اور ہر اتحادی پارٹی کے لیڈروں نے سیٹ اور چہرے کو لے کر اپنی اپنی بات رکھنی شروع کردی۔ غور طلب ہے کہ جس دن سے جے ڈی یو کی این ڈی اے میں واپسی ہوئی ہے، ٹھیک اسی دن سے یہ خدشہ جتایا جانے لگا کہ بہار میں اس بار سیٹوں کے بٹوارے میںاین ڈی اے کہیں پھنس نہ جائے۔ لوک سبھا الیکشن جیسے جیسے نزدیک آتا جارہا ہے، اتحادی پارٹیوں کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ سبھی اتحادی بی جے پی سے جلد سے جلد سیٹوں کے بٹوارے کی مانگ کر رہے ہیں۔ اسی پس منظر میںجے ڈی یو نے اپنا تیر چلا دیا اور اب انتظار بی جے پی کے جواب کا ہے۔بات زیادہ بگڑے، اس سے پہلے ہی سشیل مودی نے ڈیمیج کنٹرول کے تحت بیان جاری کر دیا۔ سشیل مودی نے کہا کہ ہمارے بیچ میںکوئی تنازع نہیںہے۔ جب دل مل گئے ہیں تو سیٹ کون سی بڑی چیز ہے۔ ہر الیکشن کے اندر کون کتنا لڑے گا، نہیںلڑے گا، یہ سارا جس دن بیٹھیںگے ساری چیزیں طے ہوجائیںگی۔ ملک کے پی ایم نریندر مودی ہیں لیکن بہار کے لیڈر نتیش کمار ہیں۔ وہ ریاست میںہمارے چہرہ ہوں گے۔ لیکن وزیر رام کرپال سنگھ یادو دوسری بات کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ملک بھر میںنریندر مودی کے چہرے پر الیکشن لڑ ا جارہا ہے تو بہار اس سے الگ کیسے ہوسکتا ہے۔ رام کرپال یادو نے یہ بھی کہا کہ ابھی سرکار کا پورا دھیان ترقیاتی کاموں پر ہے، الیکشن کا وقت آئے گا تو مل بیٹھ کر ساری باتیںکر لی جائیںگی۔ وزیر توانائی بجیندر پرساد یادو نے فوراً ہی اس کا جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ گٹھ بندھن میں سیٹیں سنکھیا بل کے حساب سے طے ہونی چاہئیں۔ بی جے پی دہلی میں بڑ ی پار ٹی ہے لیکن بہارمیں ہم بڑی پارٹی ہیں۔ سیٹوں کا بٹوارہ بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی کی طرح ہونا چاہیے۔
بی جے پی کی حکمت عملی
بی جے پی کے ذرائع بتاتے ہیںکہ سیٹوں کے بٹوارے کو لے کر بی جے پی بہت جلدی میں نہیںہے۔ جہاںتک جے ڈی یو، ایل جے پی اور آر ایل ایس پی کے دباؤ کا سوال ہے، تو اسے بھی پارٹی بہت توجہ نہیںدینے والی ہے۔ بی جے پی کے پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ نتیش کمار کے پاس اب مہا گٹھ بندھن میں واپس لوٹنے کا متباد ل نہیں ہے۔ کانگریس کے منع کرنے کے بعد تو بی جے پی کا اعتماد اور بھی بڑھا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ جے ڈی یو بہار میں زیادہ سے زیادہ 12 سیٹوں پر الیکشن لڑ ے۔ دس سے بارہ سیٹوںکے بیچ ہی جے ڈی یو کو ریاست میںسمیٹنے کی تیاری ہے۔ اگر جے ڈی یو کچھ اور سیٹوں پر اڑتا ہے تو اسے بہار سے باہر کی ریاستوں میںچار سے پانچ سیٹیں دی جا سکتی ہیں۔ بھاجپائی پالیسی ساز ابھی اسی فارمولے پر تال میل کی گاڑی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کے خیمے کے لوگ ایسی امید کر رہے ہیں کہ جے ڈی یو اپنی قومی شبیہ بنانے کے لیے بی جے پی کے اس فارمولے پر کچھ نہ نکر کے بعد راضی ہوسکتاہے۔ بی جے پی یہ بات بھی جانتی ہے کہ رام ولاس پاسوان اور اوپیندر کشواہاسیٹوں کو لے کر بہت اڑنے والے نہیںہیں۔ اس لیے سیٹ بٹوارے کو لے کر ابھی سے بہت فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

 

 

 

 

یوں پھوٹا بہار میںتیسرے مورچے کا بلبلہ
یہاںیہ سمجھنا ضروری ہے کہ جے ڈی یو نے کوئی بات ایسے ہی نہیںکہہ دی ہے۔ این ڈی اے میںشامل ہونے کے بعد سے ہی جے ڈی یو خاص توجہ کی امید کر رہی ہے لیکن پارٹی کو ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی اور امت شاہ نے اپنا دل چھوٹا کر رکھا ہے۔ جے ی یو نے اس کے بعد دوسرا راستہ اپنایا۔ این ڈی اے کی دیگر اتحادی پارٹیوں ایل جے پی اور آر ایل ایس پی کو نتیش نے خاص توجہ دینی شروع کردی۔ انھوں نے پشو پتی پارس کو بغیر کسی ایوان کا ممبر ہوئے وزیر بنا دیا۔ اس کے بعد کہا جانے لگا کہ بی جے پی پر دباؤ بنانے کے لیے نتیش کمار اتحادی ساتھیوں کا گٹ بناکر رکھنا چاہتے ہیں۔ ایک بات اور بھی چرچا میں آئی کہ نتیش کمار اوپیندر کشواہا ، رام ولاس پاسوان او رکانگریس کے ساتھ مل کر ایک تیسرا مورچہ بنانا چاہتے ہیں۔ تیسرے مورچے کی بات کچھ آگے بڑھی بھی لیکن کانگریس نے اتنا ٹھنڈا ریسپانس دیا کہ نتیش کمار کے منصوبے پر پانی پھر گیا۔ کانگریس نے صاف کردیا کہ کہ وہ بہار میںلالو کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی ہے۔ اس لیے دوسری چرچا پر فی الحال روک لگ گئی ہے۔ ماہرین بتاتے ہیںکہ پہلے تو رام ولاس پاسوان اور اوپیندر کشواہا کو لگا کہ نتیش کا ساتھ مل جانے سے بی جے پی پر دباؤ بنے گا لیکن اب وہ محسوس کرنے لگے ہیںکہ اگر دباؤ کام کرگیا تو بی جے پی کی کم اور ایل جے پی اور آر ایل ایس پی کی سیٹیںہی زیادہ گھٹیں گی۔ چنانچہ جیسے ہی جے ڈی یو نے 25 سیٹوںپر الیکشن لڑنے کا من بنایا اور نتیش کمار کو چہرہ ڈکلیئر کیا، ویسے ہی چراغ پاسوان نے کہا کہ چہرہ تو نریندر مودی ہی ہیں۔ اگر نتیش کمار بہار میںچہرہ ہیں تو رام ولاس پاسوان اور سشیل مودی بھی چہرہ ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *