بہار کی سیاست کا اہم فیکٹر کشواہا سماج کدھر ہوگی اوپیندر کشواہا کی نظر عنایت

راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) کے چیف اوپیندر کشواہا اس وقت بہار کی سیاست میںہاٹ کیک بنے ہوئے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات کے لیے وقت جتناکم ہو رہا ہے، اوپیندر کشواہا کو اپنے ساتھ رکھنے یا پھر اپنے پالے میںلانے کی کوششیں اتنی ہی تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ زیادہ بیتاب تو تیجسوی یادو ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ تو عوامی فورموں پر بھی ا وپیندر کشواہا کو گلے لگانے کی بات کر رہے ہیں جبکہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت اس کوشش میںہے کہ لوک سبھا انتخابات تک موجودہ این ڈی اے کی ایکوئیشن میںکوئی چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔ نہیںتو 2019 کی جنگ میںپچھڑنے کا بھاری خطرہ ہے۔اس کوشش کے پیچھے مہا گٹھ بندھن اور این ڈی اے کے اپنے اپنے اعدادوشمار ہیں اور زمین سے ملے فیڈبیک سے بھی دونوں گٹھ بندھن کے لیڈروں کی یہ رائے اور بھی مضبوط ہوئی کہ آنے والے انتخابات میںکشواہا سماج کا ووٹ ہار و جیت کی سمت طے کرسکتا ہے۔ ان حقائق کے تجزیے میں جانے سے قبل موٹے طور پر یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ آخر جس کے لیے اتنی مارا ماری ہو رہی ہے، آخر اس سماج کے دل میں کیا ہے؟
کشواہا سماج کا اہم رول
بہار کی سیاست میںکشواہا سماج اہم رول ادا کرتا رہا ہے۔ عام طور پر خاموش رہنے والا یہ سماج اپنے کاروبار اور تعلیم کو لے کر بے حد سنجیدہ رہتا ہے اور اپنے حق کے لیے آئینی طریقے سے مانگ کرنے سے بھی پیچھے نہیںرہتا۔ سات سے آٹھ فیصد کشواہا ووٹر لوک سبھا کی کم سے کم 12 اور اسمبلی کی 70 سے 80 سیٹوں کے انتخابی حساب کو متاثر کرتا ہے۔ اوپیندر کشواہا کے سیاسی ’اتتھان‘ کے بعد اس سماج کو لگ رہا ہے کہ اس کے پاس اب ایک ایسا چہرہ ہے جس کے ماتھے پر تاج رکھا جاسکتا ہے اور دوسرے سماج کے لوگوں کو اس میںکوئی پریشانی نہیںہونی چاہیے کشواہا سماج سوچتا ہے کہ تقریباً ہر بڑے سماج کے لوگوں نے بہار پر راج کر لیا اور اب باری کشواہا سماج کی ہے۔ شری کرشن سنگھ، ستیندر بابو، جگن ناتھ مشرا، لالو پرساد اور نتیش کمار ان سبھی کے ماتھے پر بہار کا تاج رکھا جا چکا ہے۔ ان کی تاج پوشی میںکشواہا سماج کا اہم رول رہا ہے۔ اس لیے اب یہ سماج چاہتا ہے کہ اب کی بار اوپیندر کشواہا کو ہی چہرہ بناکر انتخابی جنگ میںکودا جائے خواہ خیمہ مہا گٹھ بندھن کا ہو یا پھر این ڈی اے کا ۔
اپنے سماج کے اس جذبے کے زمینی فیڈ بیک سے اوپیندر کشواہا بھی اچھی طرح واقف ہیں۔ اوپیندر کشواہا کو یہ اچھی طرح احساس ہے کہ ان کا سماج کیا چاہتا ہے اور اس کا احترام کرنا ان کی مجبوری بھی ہے۔ آر ایل ایس پی کی سیاست سمجھنے والے کہتے ہیںکہ اگر اوپیندر کشواہا سماج ایک طرفہ ووٹ کردے گا اور جس گٹھ بندھن کے لیے یہ ایک طرفہ ووٹ ہوگا، سرکار اسی کی بنے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اوپیندر کشواہا نے کسی کے لیے بھی دروازے بند نہیںکیے ہیں۔ وہ ویٹ اینڈ واچ میںہیں اور دونوں طرف ہو رہی سرگرمیوں پر باریک نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ آر ایل ایس پی کے ایکزیکٹو پریسیڈنٹ ناگ منی کہتے ہیں کہ نتیش کمار کوئی خدا تھوڑے ہی ہیں جو سبھی ان کو مان لیں۔ بہار میںیادووںکے بعد سب سے زیادہ آبادی کشواہا کی ہے، اس لیے اوپیندر کشواہا ہی سب سے بہتر چہرہ ثابت ہوں گے۔ ناگ منی کا صاف کہنا ہے کہ اس سے کم پر کوئی سمجھوتہ نہیںہوگا۔ اوپیندر کشواہا کو سبھی پارٹیاں سی ایم کے طور پر پیش کریںتو تبھی بہار و ملک میںاین ڈی اے کو ریکارڈ توڑ کامیابی ہاتھ لگے گی۔

 

 

 

 

 

تیجسوی اتنے بے چین کیوں؟
اب یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیںکہ آخر تیجسوی یادو اوپیندر کشواہا کو اپنے ساتھ کرنے کے لیے اتنے بے چین کیوں ہیں؟ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے پرانے لیڈروں کے الٹ کچھ معاملوں میںتیجسوی یادو کا نظریہ کچھ معاملے میںبالکل صاف ہے۔ تیجسوی یادو کا حساب کہتا ہے کہ مسلمان، یادو، کچھ سورن اور کچھ پچھڑا اور انتہائی پچھڑامل کر ان کے پاس تقریباً 31 فیصد ووٹ ہیں۔ اس میں اگر کشواہا کا سات فیصد ووٹ مل جائے تو یہ گٹھ بندھن بہار کے کسی بھی الیکشن میںغیر معمولی ہو جائے گا۔تیجسوی آر جے ڈی کے سماجی دائرے کے ساتھ ہی ساتھ ووٹ فیصد بھی بڑ ھاناچاہتے ہیں اور اس کے لیے اوپیندر کشواہا انھیں سب سے مفید اتحادی لگ رہے ہیں۔ این ڈی اے کو توڑ کر تیجسوی یادو یہ پیغام بھی دینا چاہتے ہیں کہ ہوا مہا گٹھ بندھن کی بہہ رہی ہے، اس لیے سارے لوگ ادھر آرہے ہیں۔ اوپیندر کشواہا کو ساتھ لاکر تیجسوی اپنی موجودہ اتحادی کانگریس اور ’ہم ‘کو بھی زیادہ پیر نہ پسارنے کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ مندرجہ بالا باتیں تو تیجسوی یادو کو اوپیندر کشواہا کے نزدیک لاتی رہی ہیںلیکن اصلی وجہ کچھ اور ہی دکھائی دیتی ہے۔ تیجسوی یادو کو یہ اچھی طرح دھیان ہے کہ موہن بھاگوت کے ریزرویشن کے بارے میںبیان نے بہار میںانتخابی فضا پوری طرح تبدیل کرکے رکھ دی تھی۔ ایک وقت میںبرابر کا دکھائی دینے والا الیکشن شری بھاگوت کے بیان کے بعد تقریباً ایک طرفہ ہوگیا تھا۔
تیجسوی بار بار کہہ رہے ہیںکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ ریزرویشن کو ختم کرنے میںلگے ہیں۔ اوپیندر کشواہا بھی ریزرویشن کی مانگ کو لے کر لگاتار آندولن چلا رہے ہیں۔ تیجسوی یادو کو لگتا ہے کہ اگر وہ اگلے دونوں الیکشن ’اگڑا و پچھڑا‘ کے طرز پر کرانے میںکامیاب ہوگئے تو بازی ہر حال میںان کے ہی ہاتھ لگے گی۔ اوپیندر کشواہا کو لے کر تیجسوی یادو کی دریا دلی اسی سیاست کی ایک کڑی ہے لیکن اس میںسی ایم کا پینچ ایسا پھنس رہا ہے کہ اوپیندر کشواہا اور تیجسوی یادو کے بیچ کی دوری کم ہی نہیںہونے د ے رہا ہے۔اوپیندر کشواہا یہ اچھی طرح جانتے ہیںکہ کشواہا سماج ان کے ساتھ ایک طر فہ تبھی تک کھڑا ہے جب تک کہ وہ سی ایم عہدے کے دعویدار بنے ہوئے ہیں۔ جس دن یہ دعویداری ختم ہو جائے گی، اسی دن اوپیندر کشواہا کی عوامی مقبولیت بھی ختم ہو جائے گی۔ ویسے تیجسوی نے آر ایل ایس پی کے لیے پلان بی بھی تیار کرکے رکھا ہوا ہے۔ اگر اوپیندر کشواہا نہیں آئے توپھر ان کی پارٹی کے کچھ چیف کشواہا لیڈروں کو تیجسوی اپنے پالے میںلا سکتے ہیں ۔ ذرائع پر بھروسہ کریںتو ناگ منی اور بھگوان سنگھ کشواہا جیسے لیڈروں پر ان کی نظر ہے۔ اس لیے دیر سویر اوپیندر کشواہا کو آر جے ڈی کی پیشکش پرصاف صاف فیصلہ لینا ہی پڑے گا۔ جہاںتک سوال این ڈی اے خاص کر بی جے پی کا ہے تو اس کی ہر ممکن کوشش ہے کہ موجودہ اتحادیوں کوہر حال میںساتھ رکھا جائے۔ اوپیندر کشواہا کی افطار پارٹی میںبی جے پی نے اپنی موجودگی درج کرائی جبکہ جے ڈی یو اور ایل جے پی نے جانے کے زحمت نہیںاٹھائی۔ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کو بھی پتہ ہے کہ اوپیندر کشواہا کو 2019 کی جنگ کے لیے ساتھ رکھنا کتنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ آر ایل ایس پی کی مانگ بھی ایسی نہیںہے کہ جس پر غور نہ کیا جاسکے۔ بی جے پی کے پالیسی سازوں کو پتہ ہے کہ اگر کشواہا کا ووٹ مہا گٹھ بندھن میں جٹ گیا تو پھر 2019 کی جنگ کافی مشکل ہو جائے گی۔ اس لیے لوک سبھا انتخابات تک اوپیندر کشواہا کو ساتھ لے کر چلنے میںہی بھلائی ہے۔ جب بات اسمبلی الیکشن کی آئے گی تو اس وقت کے حالات کے حساب سے فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔ اوپیندر کشواہا کے لیے بھی یہ صورت حال ٹھیک رہے گی کیونکہ ابھی تو الیکشن دہلی کا ہونا ہے اور اس میںسی ایم کا عہدہ کہیںنہیںآ رہا ہے۔
بی جے پی کے لیڈر کہہ ہی رہے ہیں کہ لوک سبھا میںپورے ملک میںایک ہی چہرہ ہے اور وہ ہیں نریندر مودی۔ کشواہا بھی یہی چاہتے ہیں کہ نتیش کمار کو لے کر جو بات ہو رہی ہے ،اس پر ابھی توجہ نہیں دی جائے اور نریندر مودی کے نام پر الیکشن لڑا جائے ۔ اگر ایسا نہیںہوا اور نتیش کمار کو بطور چہرہ پیش کیا جانے لگا تو پھر اوپیندر کشواہا کو کچھ سوچنا پڑجائے گا۔ یہ حالات نہ تو بی جے پی کے لیے ٹھیک ہوں گے اور نہ ہی این ڈی اے کے لیے۔ نتیش کمار بھی صاف کرچکے ہیںکہ این ڈی اے میں سب ٹھیک ٹھاک ہے اور سیٹوں کا جہاںتک سوال ہے، تو اسے الیکشن کے وقت دیکھ لیا جائے گا۔ مطلب اب سب وقت لے کر چل رہے ہیںمگر اتنا طے ہے کہ اندر خانہ تیاری ہر حالات سے نمٹنے کی چل رہی ہے ۔

 

 

 

 

 

رد ہوئی این ڈی اے کی میٹنگ
مانا جا رہاتھا کہ این ڈی اے کے کھانے اور میٹنگ میںان سارے گلے شکووں کو دور کر لیا جائے گا جسے لے کر اقتدار کے گلیارے میںاٹکلوں کا بازار لگاتار گرم ہو رہا تھا۔بی جے پی کے ریاستی صدر نتیانند رائے خود وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو دعوت دے آئے تھے۔ باقی اتحادیوںسے بھی ان کی بات ہوگئی تھی۔ کہا جا رہا تھا کہ جے ڈی یو کی 25 سیٹوںکی مانگ کو لے کر جو ہنگامہ برپا ہورہا ہے، اس پر روک لگ جائے گی۔ لیکن اندر خانہ ایسا بہت کچھ ہوا کہ سارے کیے کرائے پر پانی پھر گیا۔ این ڈی اے کی اتحادی پارٹی بار بار بی جے پی سے مانگ کر رہی تھی کہ جلد سے جلد میٹنگ بلاکر زیر التوا معاملوں پر غور کیا جائے۔ ذرائع بتاتے ہیںکہ بی جے پی بھی میٹنگ کرنے کو راضی ہو گئی۔ بی جے پی چاہتی تھی کہ میٹنگ کی صدارت نتیانند رائے کریں۔ اوپیندر کشواہا اور رام ولاس پاسوان کو اس میںکوئی اعتراض نہیںتھا لیکن جے ڈی یو نے اس تجویز کو سرے سے خارج کردیا۔ جے ڈی یو کا صاف کہنا تھا کہ جب نتیش کمار موجود ہیں تو این ڈی اے کی میٹنگ کی صدارت کسی دوسرے سے کرانے کا مطلب نہیںہے۔ آر ایل ایس پی کی دلیل تھی کہ بی جے پی بڑی پارٹی ہے تو صدارت اسی کے لیڈر کو کرنی چاہیے۔ بات یہیںاٹک گئی۔ یہ طے نہیں ہو پایا کہ میٹنگ کی صدارت کون کرے گا اور آخرکار یہ ہوا کہ بھوج تو ہوگا لیکن کوئی میٹنگ نہیں ہوگی۔ رہی سہی کسر اوپیندر کشواہا نے پوری کردی۔ انھوں نے اپنی مصروفیت کا واسطہ دے کر کھانے میںنہ آنے کا پیغام بھجوادیا۔ کھانے کے دوران بھی آر ایل ایس پی کے لوگ پہلے ایک ساتھ الگ بیٹھے لیکن بعد میںناگ منی جی کو بڑے لیڈروںکے ساتھ بیٹھنے کے لیے بلایا گیا۔ پارٹی کے لوگ اوپیندر کشواہا زندہ باد کے نعروں کے بیچ ناگ منی کو وہاں چھوڑآئے۔ دراصل آر ایل ایس پی یہ نہیں چاہتی ہے کہ این ڈی اے میںیہ دکھے اس کا چہرہ نتیش کمار ہیں۔ اگر یہ نہیںہوا تو پھر آر ایل ایس پی کو اپنے حامیوں کو سمجھانا مشکل ہوجائے گا۔ ناگ منی کہتے ہیں کہ اوپیندر کشواہا نتیش کمار سے بڑے لیڈر ہیں۔ ہمارے تین رکن پارلیمنٹ جیتے تھے، ان کے تو دو ہی جیتے۔ اس لیے یہ تصویر نہ بنائی جائے کہ کوئی بہت بڑا ہے اور کوئی بہت بہت چھوٹا۔ دیکھا جائے تو این ڈی اے کا یہ کھانا دوری گھٹانے کے بجائے دوری بڑھانے والا ہی ثابت ہوا۔ اوپیندر کشواہا کے افطار میںنہ تو ایل جے پی کے لوگ گئے اور نہ ہی جے ڈی یو کے۔ خانہ پری کے لیے صرف بی جے پی کے ریاستی صدر نتیانند رائے نے بس شرکت کی۔ ہوا بس یہ کہ این ڈی اے کے عہدے داروں اور اہم کارکنوں نے لذیذ کھانوں کا خوب مزہ لیا اور نریندر مودی زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنے اپنے گھر نکل لیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *