مرکر دوبارہ زندہ ہونے والی مخلوق

photo
میکسیکن ایکسولاٹل نامی ایک جاندار ایک عرصے سے سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز ہے کیونکہ اس کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ مر کر دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے۔میکسیکن ایکسولاٹل بطور خاص میکسیکو کی جھیل میں پایا جاتا ہے۔ یہ پانی کے ساتھ زمین پر بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ چھپکلی کی طرح نظر آنے والا یہ انوکھا جاندار اپنے عضو کو دوبارہ پیدا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
آپ نے چھپکلی کی دم کٹ یا ٹوٹ جانے کے بعد اس میں سے نئی دم اگتے ہوئے دیکھی ہوگی لیکن اس جاندار کے بارے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر اس کا کوئی عضو ضائع ہو جاتا ہے تو ہفتے بھر میں ہی اسی جگہ یہ ہڈیوں، نسوں اور گوشت پوست کے ساتھ اس عضو کو دوبارہ اگانے کی اہلیت رکھتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایکسولاٹل اپنی ریڑھ کی ہڈیوں میں آنے والی چوٹ کو بھی درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر وہ ٹوٹی نہیں ہوتی تو وہ معمول کے مطابق کام کرتا ہے۔ زخموں کا نشان چھوڑے بغیر یہ ریٹینا جیسے دوسرے نسبوں کا بھی علاج کر سکتا ہے۔
یہاں یہ امر توجہ طلب ہے کہ مر کر پھر سے زندہ ہونے کے امکانات کے باوجود اسے ناپید ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ دوسری جانب سائنسدان یہ بھی کہتے ہیں کہ ان میں عمل تولید بھی آسان ہے۔بہر حال تقریباً 150 سالوں سے سائنسدان لیبارٹری میں اس جاندار کی نسل تیار کرنے کے سلسلے میں کام کر رہے ہیں اور اس کی غیر معمولی حیاتیاتی صلاحیتوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے حال ہی میں اس جاندار کے متعلق ایک نئی دریافت کی ہے۔ اس جاندار میں انسانوں کے جین کے مجموعے سے بھی بڑا جینوم پایا گیا ہے۔اس جاندار میں 320 ارب ڈی این اے کی بنیادی جوڑیاں ہیں جو انسانوں کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہیں۔
سائنس کے معروف جریدے ’’نیچر میگزین‘‘ میں شائع ہونے والے ایک مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ یہ دریافت ان لوگوں کے لیے اہم ثابت ہوں گی جو اعضا کو از سر نو تیار کرنے پر سنجیدگی کے ساتھ تحقیق کر رہے ہیں۔ویانا کے تحقیقی ادارے ریسرچ انسٹیچیوٹ آف مالیکیولر پیتھالوجی کی ڈاکٹر ایلی تناکا لیب میں ایکسولاٹل کی تعداد میں اضافے پر کام کر رہی ہیں۔ سائنسدانوں نے ان خلیات کی شناخت کر لی ہے جو اعضاء کے دوبارہ پیدا ہونے کے ذمہ دار ہیں۔لیکن عضو کے دوبارہ تیار ہونے کے عمل کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے محققین کو اس خشکی اور تری دونوں جگہ رہنے کی صلاحیت رکھنے والے جاندار کے جینوم سے منسلک بہت سی معلومات کی ضرورت ہوگی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *