ترکی صدارتی انتخابات: رجب طیب اردگان دوبارہ صدر منتخب

rajab-tayyab
ترک عوام نے ایک بارپھررجب طیب اردگان کواپناصدرمنتخب کرلیاہے۔ ترکی میں اتوار(25جون)کو ہوئے صدرالیکشن میں اردگان کی پارٹی کو50فیصدسے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔گذشتہ دوسال سے ایمرجنسی جھیل رہے ترک عوام نے پھرسے رجب طیب اردگان پربھروسہ کرتے ہوئے انہیں دوبارہ اپناصدرمنتخب کیاہے۔اسٹیٹ میڈیاکے مطابق، 99فیصدووٹ کاؤنٹ ہوچکے ہیں، جس میں اردگان کی پارٹی کوسب سے زیادہ 53فیصد ووٹ ملے ہیں۔وہیں ان کے حریف محرم انجے کو31فیصدووٹ ملے ہیں۔جیت کے بعد 64سالہ اردگان اپنے گھرکی بالکنی میں باہرآئے اورفاتح تقریرکرتے ہوئے کہاکہ یہ جیت میرے 81ملین عوام کی جیت ہے۔اردگان کا کہنا ہے کہ ملک سنوارنے کا وقت آگیا ہے۔بہرکیف ترک عوام نے رجب طیب اردوغان کو دوبارہ 5 برس کے لیے صدر منتخب کرلیا۔
واضح ہو کہ اردوغان 2014ء میں صدر بننے سے قبل مسلسل 3بار یعنی 11 سال تک ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ ترک میڈیا کے مطابق رجب طیب اردوغان نے 53 فیصد ووٹ لے کر سب کو پیچھے چھوڑ دیاجب کہ ان کے مدمقابل سیکولر ری پبلکن پارٹی کے امیدوار31 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ صدارتی امیدوار وں میں میرل ایکسینر، سلاحیتن دیمارتس، تیمل، دوگو پرینسک بھی شامل تھے۔
ترک میڈیا کے مطابق اتوار کو ڈالے جانے والے ووٹ میں ایک ووٹ صدر کے لیے جبکہ دوسرا ووٹ رکن پارلیمان کے لیے تھا۔ پارلیمانی انتخابات میں بھی طیب اردوغان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے کامیابی کے جھنڈے گاڑدیے۔انتخابی نتائج کے مطابق جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی 43 فیصد ووٹ لے کر سب سے آگے رہی جبکہ اہم حزبِ اختلاف کی پارٹی سی پی ایچ نے 23فیصد ووٹ حاصل کیے۔
انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 87 فیصد رہا۔یاد رہے کہ یہ انتخابات نومبر 2019ء4 میں ہونے تھے لیکن صدر اردوغان نے بڑا اور حیران کن فیصلہ کرتے ہوئے قبل از وقت الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا جو درست ثابت ہوا۔جسٹس اینڈ دیولپمنٹ پارٹی کی کامیابی کا اعلان ہوتے ہی اس کے حامی لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور جشن منانا شروع کردیا۔ ان میں بڑی تعداد خواتین کی تھی۔انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگاکرمبارک بادیں دیں اور اربعہ کا نشان بناتے رہے۔نوجوانوں نے اردوان کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ باآسانی جیت گئے ہیں اور ترک عوام نے مجھے بڑا مینڈیٹ دے دیا ہے۔
دوسری طرف بی بی سی کے مطابق، ترکی کے الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ صدر رجب طیب اردوغان صدارتی انتخابات پہلے مرحلے میں جیت گئے ہیں۔بی بی سی اردوکے مطابق،سرکاری میڈیا کے مطابق طیب اردوغان کو 53 فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ ان کے قریبی حریف محرم انسے کو 31 فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ حتمی نتائج کا اعلان جمعے کو کیا جائے گا۔تاہم حزب اختلاف نے ابھی تک صدر اردوغان کی کامیابی کو تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے اور سرکاری نتائج سے پہلے کہا تھا کہ بھی بھی بہت سارے ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے اور نتائج جو بھی ہوں وہ ملک میں جمہوریت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *