شمالی کوریا۔امریکہ کے بیچ کچھ اہم سمجھوتوں پر دستخط 

Trump
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ نے سنگاپور کے جزیرے سینٹوسا میں منگل کو تاریخی ملاقات کی ہے۔صدر ٹرمپ نے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ یہ شاندار ملاقات تھی۔ بات بہت آگے بڑھی ہے۔دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے بعد سنگاپور کے کپیلا ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھایا۔بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ ونگ فیلڈ ہیز کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے پہلے ہی اس اجلاس کو کامیاب قرار دیا ہے۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان تاریخی بات چیت ختم ہوگئی ہے۔ میٹنگ کے بعد دونوں رہنماوں نے کچھ اہم سمجھوتوں پر دستخط کیے۔ کن مدعوں پر سمجھوتہ کیا گیا اس کی اطلاع بعد میں دی جائے گی۔ اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ، “مجھے لگتا ہے کہ شمالی کوریا اور کوریائی جزیرہ نما کے ساتھ ہمارے تعلقات بدلنے والے ہیں۔ یہ پرانے جیسے نہیں رہیں گے۔”
ٹرمپ نے نیوکلیائی ہتھیاروں کے ختم کرنے پر کم جونگ ان کے ساتھ سمجھوتہ پر دستخط کرنے کو لے کر بھی اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا، “جن دستاویزات پر دستخط کئے گئے ہیں اس سے دنیا کی خطرناک چیزوں سے لوگوں کو نجات ملے گی۔
اہم معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد جب امریکی صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ شمالی کوریائی رہنما کم جونگ ان کو وائٹ ہاؤس بلائیں گے؟ اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ انہیں ضرور بلائیں گے۔
اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ نے منگل کو سنگاپور کے سینٹوسہ جزائر میں واقع کیپیلا ہوٹل میں تاریخی سربراہی اجلاس کی شروعات کی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے یہاں سینٹوسہ جزیرے کے ?یپیلا ہوٹل میں مسکرا کر اور آپس میں ہاتھ ملا کر اس تاریخی ملاقات کا آغاز کیا۔ کم جونگ نے ٹرمپ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا، “آپ سے مل کر اچھا لگا مسٹر صدر‘‘۔ مسٹر ٹرمپ نے بھی مسکرا کر کم جونگ ان کو سلام کیا۔ امریکی صدر نے کہا، “میں بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں، ہمارے درمیان شاندار بات چیت ہونے والی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ ملاقات کافی کامیاب رہے گی۔ میرے لئے یہ بہت اعزاز کی بات ہے اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے درمیان بہترین تعلقات قائم ہوں گے‘‘۔
سنگاپور کا کہنا ہے کہ اس ملاقات پر دو کروڑ سنگاپور ڈالر کے قریب خرچ آ رہا ہے۔ یہ اخراجات زیادہ تر سکیورٹی اور تین ہزار سے زیادہ غیر ملکی صحافیوں کی مہمان نوازی کے ہیں جو اس ملاقات کی کوریج کے لیے شہر میں موجود ہیں۔
وہ ہوٹلز جہاں ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان مقیم ہیں، وہاں سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پولیس کسی بھی وقت آپ کی مکمل تلاشی لے سکتی ہے۔ آپ اپنے ساتھ کوئی بھی احتجاجی بینر یا لاؤڈ اسپیکر نہیں لے جا سکتے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *