شیخ حسینہ کا دورہ ہند ہندو بنگلہ دیش کتنے قریب ،کتنے دور؟

رابندر ناتھ ٹیگور کی شخصیت کی جاذبیت اور ان کی مدھور شاعری کا ہی کمال تھا کہ ایک ہی اسٹیج پر وزیر اعظم نریندر مودی ، بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی جلوہ افروز ہوئیں۔دراصل رابندر ناتھ ٹیگور اور قاضی نذرالاسلام دو ایسی شخصیات ہیں جو کہ معنوی اور جذباتی طور پر ہندوستان اور بنگلہ دیش کو آپس میں جوڑے ہوئے ہے ۔یہ بھی اتفاق ہے کہ دونوں ممالک کا قومی ترانہ رابندر ناتھ ٹیگور کی ہی لکھی ہوئی الگ الگ نظم ہے ۔باغی شاعر قاضی نذرالاسلام کی زندگی بڑا حصہ گرچہ ہندوستان میں گزرا مگر ان کی وفات ڈھاکہ میں ہوئی اور وہیں مدفن ہیں ۔چناں چہ 25مئی کو رابندر ناتھ ٹیگور کی قائم کردہ وشو بھارتی یونیورسٹی میں سالانہ تقسیم اسناد کی ایک تقریب میں جب یہ تینوں رہنما ایک ہی اسٹیج پر تشرف فرماہوئیں تو رابندر ناتھ ٹیگور کی وارثت کا ذکر آیااور وزیر اعظم مودی اور شیخ حسینہ دونوں نے ٹیگور کی وراثت کے آگے بڑھانے کیلئے مشترکہ کوشش کرنے کا عزم کا اظہار کیا بلکہ حسینہ نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہا کہ ’’آج ٹیگور کی دھرتی پر بیٹھ کر یہ بات کہنا چاہتی ہوں کہ ہندوستان سے زیادہ بنگلہ دیش کیلئے ٹیگور زیادہ اہم ہیں اور میں ٹیگور پر آپ سے زیادہ اپنا حق سمجھتی ہوں ، کیوں کہ ٹیگور نے زیادہ تر کام بنگلہ دیش کی سرزمین میں بیٹھ کر کیا ہے‘‘ ۔چنانچہ 1971میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سے کچھ وقفے کو چھوڑ دیا جائے تو ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان والہانہ تعلقات رہے ہیں ۔اس کی کئی تاریخی وجوہات بھی ہیں مگر بنگلہ دیش اور بنگال کی مشترکہ تہذیب و ثقافت اور اقدار کا اس میں بہت ہی اہم رول رہا ہے ۔بنگالی قوم کی ایک بڑی خاصیت یہی رہی ہے کہ و ہ دنیا کے کسی بھی حصے میں چلے جائیں اپنی تہذیب و ثقافت و کلچر کو فراموش نہیں کرتے ہیں اور اس سے جوڑے ہوئے رہتے ہیں ۔25مئی کو شیخ حسینہ کی آمد کا مقصد وشو بھارتی یونیورسٹی کے سالانہ تقسیم اسناد اور شانتی نیکتن میں وشو بھارتی یونیورسٹی اور بنگلہ دیش کے اشتراک سے بننے والے ’’بنگلہ دیش بھون‘‘کا افتتاح اور قاضی نذرالاسلام یونیورسٹی سے ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری لینا تھا اور یہ موقع سیاسی اور سفارتی بات چیت کا نہیں تھا ۔لیکن اس کے باوجود شانتی نیکتن میں واقع بنگلہ دیش بھون میں مودی اور حسینہ کے درمیان خصوصی ملاقات ہوئی جس میں علاقائی سیاست اور دوطرفہ تجارتی امور سمیت کئی اہم مسائل پرغور و فکر کیا گیا ۔
حسینہ کے ہندوستان کی طرف رجحان کے کئی وجوہات ہیں ۔ان کی تعلیم ہندوستان میں ہوئی ہیں اور ان کے والد نے بھی کلکتہ میں ہی تعلیم حاصل کی ہے اور شیخ مجیب الرحمن جب پاکستان کے خلاف مہم چلارہے تھے اورلبریشن وار میں ہندوستان نے نہ صرف مدد کی بلکہ ایک لاکھ بنگلہ دیشی شہریوں کو پنا ہ دیا ۔ چنانچہ شیخ مجیب الرحمن کے بعد شیخ حسینہ جب بھی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بنی ہیں تو ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں ۔ دوسری طرف عوامی لیگ حکومت کے تعاون اور اشتراک کی بدولت ہی ہندوستان نے شمال مشرقی ریاستوں بالخصوص آسام میں علاحدگی پسند قوتوں پر قابو حاصل کیا ہے۔الفا کے دہشت گردوں نے بنگلہ دیش میں اپنے ٹھکانے بنارکھے تھے ۔شیخ حسینہ کی حکومت نے بنگلہ دیش میں قائم الفا کے خلاف کارروائی کی اور پھر دونوں ملکوں نے مشترکہ کارروائی کے ذریعہ الفا کی کمر ہی توڑ دی ۔آپسی تعلقات اور رشتے کے باوجود کئی ایسے مسئلے ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان کڑواہٹ کے سبب بھی رہے ہیںان میں سے ایک بڑا مسئلہ تیستاندی کے پانی کی شراکت کا ہے ۔بنگلہ دیش تیستاندی میں پانی کی شراکت چاہتا ہے ۔مگر مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی تیستاندی کا پانی بنگلہ دیش کو دینا نہیں چاہتی ہیں ۔2011میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تیستاندی کے پانی کی شراکت کا مسئلے پر دستخظ ہونا طے ہوگیا تھا۔ممتا بنرجی بھی سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ بنگلہ دیش جانے کو تیار تھیں مگرآخری وقت میں ممتا بنرجی نے بنگلہ دیش کا دورہ ملتوی کردیا اور اس کے بعد سے ہی اب تک اس مسئلے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔دراصل تیستاندی کا پانی دونوں ملکوں کیلئے بہت ہی اہم ہے ۔مغربی بنگال کے کئی شمالی اضلاع کو تیستاندی کا پانی سیراب کرتا ہے اور بنگلہ دیش کے بھی کئی حصوں سے یہ تیستاندی گزرتی ہے ۔پانی میں حصہ داری دے کر ممتا بنرجی شمالی بنگال کے اضلاع کے باشندوں کو ناراض کرنے کا جوکھم لینے کو تیار نہیں ہے ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حسینہ کی پریشانی یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں اسی سال عام انتخابات ہونے والے ہیں ۔شیخ حسینہ کے ہندوستان کی طرف جھکائو ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش کی مذہبی جماعتیں حسینہ کی سخت تنقیدیں کرتی رہی ہیں ۔تیستا ندی کے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کو اپوزیشن جماعتوں بالخصوص خالدہ ضیاء کی جماعت جنہیں مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے کی طرف سے سخت تنقیدوں کا سامنا ہے اورابھی سی یہ ایک بڑا انتخابی موضوع بنتا جارہا ہے ۔چناں چہ وشو بھارتی یونیورسٹی میں وزیرا عظم مودی کی موجودگی میں شیخ حسینہ نے جہاں 1971کی لبریشن کا ذکر کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے رول اور ہندوستان کی فراخدلانہ رویہ کی تعریف کرتے کہا کہ اس وقت اندرگاندھی اور ہندوستان نے جو کچھ کیا وہ ناقابل فراموش ہے ۔وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک کروڑ بنگلہ دیشی رفیوجیوں کوپناہ دینا اور ان کے ساتھ اپنا کھانا شیئر کرنا واقعی ایک غیر معمولی قدم تھا ۔ اسی موقع پر نریندرمودی کی قیادت والی موجودہ حکومت کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’ گزشتہ 70سالوں سے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحدی معاہدہ معلق تھا، انکلیو کے تبادلے نہیں ہورہے تھے مگر موجودہ حکومت اور ہندوستانی پارلیمنٹ نے مشترکہ طور پر اس مسئلے کو حل کیا اور دونوں ممالک کے شہریوں کی پریشانیاں حل ہوئیں اور یہ ہمارے لیے 1971جیسی ہی خو شی و جشن کا موقع تھا۔اس لیے ہمیں ہندوستان سے یہ امید بے جانہیں ہے کہ وہ تیستاندی کے پانی کی شراکت میں فراخدلی کا مظاہرہ کرے۔ شیخ حسینہ گرچہ ہندوستان وشو بھارتی یونیورسٹی کے تقسیم اسناد اور بنگلہ دیش بھون کا افتتاح اور اس کے بعد آسنسول میں واقع قاضی نذرالاسلام یونیورسٹی سے ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری لینے کیلئے آئی تھیں۔مگر دونوں جگہوں پر اپنی تقریر کے ذریعہ انہوں نے بنگلہ دیشی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ انہیں بنگلہ دیش کے مفادات عزیز ہیں اور وہ ہر اسٹیج سے بنگلہ دیش کے مفادات کے ایشو بلند کرتی ہیں ۔
بنگلہ دیش میں مقیم 11لاکھ روہنگیائی پناہ گزینوں کے ایشو کو شیخ حسینہ نے اپنی تقریر اور مودی سے خصوصی ملاقات میںبھی اٹھایا ۔ہندوستان میں بھی روہنگیائی پناہ گزینوں کا ایشو ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ویسے ہندوستان میں یہ ایک سیاسی موضوع بنا ہوا ہے ۔بی جے پی حکومت فوری طور پر روہنگیائی پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنا چاہتی ہے ۔تاہم یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔مگر بنگلہ دیش میں یہ صورت حال نہیں ہے ،بنگلہ دیشی عوام کوروہنگیائی پناہ گزینوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔مگر 11لاکھ افراد کی کفالت کرنے کا بنگلہ دیش متحمل نہیں ہے ۔یہ اس کی معیشت پر بوجھ بھی ہے ۔اس لیے بنگلہ دیش حکومت چاہتی ہے کہ روہنگیائی شہریوں کی باعزت واپسی ہو اور بنگلہ دیش کا خیال ہے کہ خطے میں ہندوستان ایک بڑے ملک ہونے کے ناطے کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے ۔بنگلہ دیش حکومت چاہتی ہے کہ ہندوستان میانمارپردبائو بھی بنائے کہ وہ اپنے شہریوں کو واپس لے ۔وزیر خارجہ ششما سوراج نے میانمار دورے کے دوران یہ معاملہ اٹھا چکی ہیں ۔ظاہر ہے کہ اس معاملے میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے مسائل و مشکلات یکساں ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میانما ر میں فوج کے مظالم کے شکار صرف روہنگیائی آبادی نہیں ہے ،بلکہ کئی اور اقلیتی برادریوں پر بھی فوج ظلم کرتی رہی ہے ۔اس لیے روہنگیائی رفیوجیوں کے مسئلے کو صرف مذہبی چشمے سے نہیں بلکہ انسانی بحران کے طور پر دیکھنا چاہیے۔نوبل انعام یافتہ آن سان سوچی کی رہائی اور میانمار میں سیاسی حقوق کی بحالی سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ میانمار اب جمہوریت کی راہ پر چلے گا اور تمام شہریوں کو ترقی کے یکساں مواقع و حقوق ملیں گے ۔لیکن جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات ہوجانا نہیں ہوتا ہے ۔آن سان سوچی اقتدار میں آنے کے بعد دنیا کی امیدو ں پر کھڑا اترنے میں ناکام رہی ہیں ۔میانمار میں اب بھی جمہوری اقدار بحال نہیں ہوسکے ہیں ۔میانمار میں آج بھی فوج سب سے طاقتور ہے اور وہی ہوتا ہے جو فوج چاہتی ہے۔جس طریقے سے میانمار میں جمہوریت کی بحالی اور آن سان سوچی کی رہائی کیلئے پوری دنیا نے دبائو نایا تھا۔ اسی طرح اگر روہنگیائی شہریوں کی واپسی اور میانمار میں آباد دیگراقلیتی براداری پر مظالم بند کرانے کیلئے دبائو بنایاجائے اور اس کیلئے ہندوستان اور بنگلہ دیش کی مشترکہ کوششیں بار آور ثابت ہوسکتی ہیں۔
تیستا ندی اور روہنگیائی شہریوں کی واپسی ہی ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان صرف متنازع مسئلہ نہیں ہے ،بلکہ مودی حکومت کے آنے کے بعد آسام میں جس طریقے سے بنگلہ بولنے والوں کے خلاف محاذ آرائی ہوئی ہے اور سٹیزن بل کی آڑ میں مسلم بنگالیوں کو بے وطن کرنے کی کوشش چل رہی ہے ، اس سے بھی بنگلہ دیش کی میڈیا اور عوام میں بہت ناراضگی ہے ۔ممتا بنرجی سے بھی خصوصی ملاقات میں کوئی یقین دہانی نہیں ملنے کے بعدحسینہ کو یہ خوف ستانے لگاہے کہ کہیں تیستاندی کی پانی شراکت میں ناکامی روہنگیائی شہریوں میں واپسی میں مدد کرنے کی ہندوستان کی عدم اور آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کے ذریعہ لاکھوں بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کو ہندوستان شہری تسلیم نہیں کرنے کی کوشش اور مودی حکومت کی سٹیزن بل کی وجہ سے بنگلہ دیشی عوام کی ناراضگی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ چنانچہ بنگلہ دیش واپس جانے کے بعد حسینہ نے باضابطہ پریس کانفرنس کے ذریعہ اپنے موجودہ دورہ پر میڈیا کو بریف کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ تیستاندی کے پانی شراکت ہی بنگلہ دیش میں پانی بحرا ن کا واحد حل نہیں ہے بلکہ حکومت متبادل پر کام کررہی ہیں ۔اب دیکھنا ہوگاکہ حسینہ نے اپنے عوام کو کتنا متاثر کرپائی ہیں ؟ کیا وہ لگاتار تیسری مرتبہ اقتدار میں آتی ہے یا نہیں؟اور اگر خالدہ ضیاء کی واپسی ہوتی ہے تو ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *